بائبل کی تشریح

حزقی ایل 15

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

کوئی بڑھئی جنگل میں کھڑا ہے، ہاتھ میں انگور کی بیل کا ایک مُڑا ہوا ٹکڑا۔ خدا سوال کرتے ہیں: ”کیا یہ کسی کام آ جاتی ہے؟ کیا یہ کم از کم کھونٹیاں بنانے کے لئے استعمال ہو سکتی ہے؟“ اور جواب خود ہی دیتے ہیں: ”ہرگز نہیں!“ وہ لکڑی آگ میں جھونکی جاتی ہے، اور جب دونوں سرے جل چکے ہوں اور بیچ بھی جھلس گیا ہو، تو وہ اور بھی بےکار ہے۔ پھر چوٹ لگتی ہے: یروشلم کے باشندے بالکل اِسی لکڑی جیسے ہیں، اور خداوند قادرِ مطلق اُنہیں جنگل کے درختوں میں سے نکال کر آگ کے حوالے کر دیں گے، اور پورا ملک ویران ہو جائے گا۔

مرکزی بات

یہ تمثیل اِس لئے کاٹتی ہے کہ اسرائیل کو انگور کی بیل کہلانا ہمیشہ اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ لوگ سوچتے تھے: ہم چُنی ہوئی قوم ہیں، ہمارے اندر کچھ خاص ہے۔ حزقی ایل اِس خیال کو جڑ سے اُکھاڑ دیتے ہیں۔ بیل کی قدر اُس کی لکڑی میں نہیں، صرف اُس کے پھل میں ہے۔ بانجھ بیل بلوط سے بھی گئی گزری ہے، کیونکہ بلوط سے کم از کم شہتیر بنتا ہے۔ یعنی چناؤ کوئی ذاتی خوبی نہیں بلکہ ایک بلاہٹ ہے؛ جہاں پھل نہیں، وہاں امتیاز خود الزام بن جاتا ہے۔ خدا اپنے لوگوں کے ساتھ نرمی سے نہیں بلکہ سچائی سے پیش آتے ہیں: مذہبی شناخت کا لیبل آگ کو نہیں روکتا۔

قرآنی نہیں، کتابِ مقدّس کا تسلسل

یہ تصویر خالی نہیں چھوڑی جاتی۔ صدیوں بعد ایک شخص گلیل کے کسی کمرے میں کہتا ہے: ”مَیں انگور کا حقیقی درخت ہوں۔“ وہی لفظ، وہی استعارہ، مگر اب ایک جسم میں۔ جہاں اسرائیل بےپھل نکلا، وہاں مسیح وہ بیل بنے جو واقعی پھل لاتی ہے، اور اُس آگ کو اپنے اوپر لے لیا جو یروشلم پر آنی تھی۔ حزقی ایل کی تمثیل یوں مسیح کی طرف ایک خالی جگہ چھوڑتی ہے: اگر بےپھل ٹہنی کا انجام ایندھن ہے، تو واحد اُمید کسی اور بیل میں پیوند ہو جانا ہے۔ انجیل اِس تمثیل کو منسوخ نہیں کرتی، بلکہ اُس کے اندر ایک دروازہ کھولتی ہے۔

آئینہ

یہاں ہماری سب سے پرانی خود فریبی بےنقاب ہوتی ہے: یہ خیال کہ تعلق ہی کافی ہے۔ میں کلیسیا میں ہوں، میرے والدین ایماندار تھے، میں ہر اتوار موجود ہوتا ہوں، میں بائبل پڑھتا ہوں۔ یہ سب سچ ہو سکتا ہے اور پھر بھی لکڑی بےکار ہو سکتی ہے۔ اپنے گھر کا حساب کیجئے: کیا وہ لوگ جو آپ کے ساتھ روٹی توڑتے ہیں، آپ کے اندر صبر، سخاوت اور معافی کا پھل چکھتے ہیں؟ دفتر میں، پیسوں کے معاملے میں، اُس رشتے میں جس سے آپ کترا رہے ہیں؟ خدا نے اسرائیل سے خوبصورت پتّے نہیں، انگور مانگے تھے۔ آج ہی ایک کام کیجئے: اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھئے جس نے پچھلے ہفتے آپ کے رویّے کا کڑواہٹ چکھا، اور آج رات سے پہلے اُسے ایک جملے کا پیغام بھیج کر معافی مانگئے۔

مرکزی کردار

اِس باب میں بولنے والا صرف ایک ہے: خداوند قادرِ مطلق۔ اور وہ سوال پوچھ کر بولتے ہیں، حکم دے کر نہیں۔ ”کیا یہ کسی کام آ جاتی ہے؟“ یہ عدالت کا وہ انداز ہے جس میں مجرم کو خود فیصلہ سنانا پڑتا ہے۔ خدا یہاں جذباتی نہیں، مگر بے پروا بھی نہیں؛ اُن کے لفظوں میں ایک مالی کی تھکن ہے جس نے بار بار پھل کا انتظار کیا۔ آخری آیت میں وجہ کھل جاتی ہے: ”اِس لئے کہ وہ بےوفا ثابت ہوئے ہیں۔“ یہ طاقت کا مسئلہ نہیں، عہد کا مسئلہ ہے۔ اور ”تم جان لو گے کہ مَیں ہی رب ہوں“ عدالت کا مقصد ظاہر کرتا ہے: تباہی نہیں، پہچان۔

پس منظر

ہم تقریباً 591 قبلِ مسیح میں ہیں، بابل کی نہرِ کبار کے کنارے۔ حزقی ایل اور اُن کے سننے والے پہلی جلاوطنی میں آ چکے ہیں، مگر یروشلم ابھی قائم ہے اور ہیکل ابھی کھڑی ہے۔ جلاوطنوں میں ایک خطرناک خوش فہمی گردش کر رہی تھی: شہر بچ جائے گا، ہم جلد واپس جائیں گے، خدا اپنی ہیکل کو ہرگز گرنے نہیں دیں گے۔ آیت 7 اِسی اُمید کو توڑتی ہے: ”گو وہ آگ سے بچ نکلے ہیں توبھی آخرکار آگ ہی اُنہیں بھسم کرے گی۔“ یعنی 597 کا بچ نکلنا نجات نہیں، مہلت تھی۔ پانچ سال بعد یروشلم سچ مچ جل گیا۔ حزقی ایل جھوٹی تسلی کے خلاف بولنے والا نبی ہے۔

متوازی مقامات

یسعیاہ 5 میں وہی باغ ہے: خدا نے بہترین انگور لگائے، گوڑائی کی، بُرج بنایا، اور ”جنگلی انگور“ نکلے۔ یسعیاہ باغ کی باڑ گرانے کی بات کرتے ہیں؛ حزقی ایل ایک قدم آگے جا کر پوچھتے ہیں کہ بچی ہوئی لکڑی کا کیا کیا جائے۔ دونوں مل کر ایک ہی سچائی کے دو رُخ دکھاتے ہیں: محبت کی دیکھ بھال اور پھل کا مطالبہ ایک ساتھ چلتے ہیں۔ اور جب یوحنا 15 میں خداوند یسوع کہتے ہیں کہ بےپھل ڈالی کاٹ کر آگ میں ڈالی جاتی ہے، تو وہ کوئی نئی سختی متعارف نہیں کرا رہے؛ وہ حزقی ایل کی زبان بول رہے ہیں، مگر اِس اضافے کے ساتھ کہ اب اُن میں قائم رہنا ممکن ہو گیا ہے۔

غور و فکر

اگر کوئی آپ کی زندگی سے مذہبی عادتیں اور کلیسیائی شناخت نکال دے، تو کیا باقی بچنے والا پھل کسی کے کام آتا ہے؟

آپ کس بات کو اپنی ”مہلت“ سمجھنے کے بجائے ”نجات“ سمجھ بیٹھے ہیں؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Ezekiel 15 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

حزقی ایل 15 کا کیا مطلب ہے؟
کوئی بڑھئی جنگل میں کھڑا ہے، ہاتھ میں انگور کی بیل کا ایک مُڑا ہوا ٹکڑا۔ خدا سوال کرتے ہیں: ”کیا یہ کسی کام آ جاتی ہے؟ کیا یہ کم از کم کھونٹیاں بنانے کے لئے استعمال ہو سکتی ہے؟“ اور جواب خود ہی دیتے ہیں: ”ہرگز نہیں!“ وہ لکڑی آگ میں جھونکی جاتی ہے، اور جب دونوں سرے جل چکے ہوں اور بیچ بھی جھلس گیا ہو، تو وہ اور بھی بےکار ہے۔ پھر چوٹ لگتی ہے: یروشلم کے باشندے بالکل اِسی لکڑی جیسے ہیں، اور خداوند قادرِ مطلق اُنہیں جنگل کے درختوں میں سے نکال کر آگ کے حوالے کر دیں گے، اور پورا ملک ویران ہو جائے گا۔
حزقی ایل 15 کس بارے میں ہے؟
یہ تمثیل اِس لئے کاٹتی ہے کہ اسرائیل کو انگور کی بیل کہلانا ہمیشہ اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ لوگ سوچتے تھے: ہم چُنی ہوئی قوم ہیں، ہمارے اندر کچھ خاص ہے۔ حزقی ایل اِس خیال کو جڑ سے اُکھاڑ دیتے ہیں۔ بیل کی قدر اُس کی لکڑی میں نہیں، صرف اُس کے پھل میں ہے۔ بانجھ بیل بلوط سے بھی گئی گزری ہے، کیونکہ بلوط سے کم از کم شہتیر بنتا ہے۔ یعنی چناؤ کوئی ذاتی خوبی نہیں بلکہ ایک بلاہٹ ہے؛ جہاں پھل نہیں، وہاں امتیاز خود الزام بن جاتا ہے۔ خدا اپنے لوگوں کے ساتھ نرمی سے نہیں بلکہ سچائی سے پیش آتے ہیں: مذہبی شناخت کا لیبل آگ کو نہیں روکتا۔
حزقی ایل 15 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یہ تصویر خالی نہیں چھوڑی جاتی۔ صدیوں بعد ایک شخص گلیل کے کسی کمرے میں کہتا ہے: ”مَیں انگور کا حقیقی درخت ہوں۔“ وہی لفظ، وہی استعارہ، مگر اب ایک جسم میں۔ جہاں اسرائیل بےپھل نکلا، وہاں مسیح وہ بیل بنے جو واقعی پھل لاتی ہے، اور اُس آگ کو اپنے اوپر لے لیا جو یروشلم پر آنی تھی۔ حزقی ایل کی تمثیل یوں مسیح کی طرف ایک خالی جگہ چھوڑتی ہے: اگر بےپھل ٹہنی کا انجام ایندھن ہے، تو واحد اُمید کسی اور بیل میں پیوند ہو جانا ہے۔ انجیل اِس تمثیل کو منسوخ نہیں کرتی، بلکہ اُس کے اندر ایک دروازہ کھولتی ہے۔
حزقی ایل 15 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یہاں ہماری سب سے پرانی خود فریبی بےنقاب ہوتی ہے: یہ خیال کہ تعلق ہی کافی ہے۔ میں کلیسیا میں ہوں، میرے والدین ایماندار تھے، میں ہر اتوار موجود ہوتا ہوں، میں بائبل پڑھتا ہوں۔ یہ سب سچ ہو سکتا ہے اور پھر بھی لکڑی بےکار ہو سکتی ہے۔ اپنے گھر کا حساب کیجئے: کیا وہ لوگ جو آپ کے ساتھ روٹی توڑتے ہیں، آپ کے اندر صبر، سخاوت اور معافی کا پھل چکھتے ہیں؟ دفتر میں، پیسوں کے معاملے میں، اُس رشتے میں جس سے آپ کترا رہے ہیں؟ خدا نے اسرائیل سے خوبصورت پتّے نہیں، انگور مانگے تھے۔ آج ہی ایک کام کیجئے: اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھئے جس نے پچھلے ہفتے آپ کے رویّے کا کڑواہٹ چکھا، اور آج رات سے پہلے اُسے ایک جملے کا پیغام بھیج کر معافی مانگئے۔
حزقی ایل 15 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اِس باب میں بولنے والا صرف ایک ہے: خداوند قادرِ مطلق۔ اور وہ سوال پوچھ کر بولتے ہیں، حکم دے کر نہیں۔ ”کیا یہ کسی کام آ جاتی ہے؟“ یہ عدالت کا وہ انداز ہے جس میں مجرم کو خود فیصلہ سنانا پڑتا ہے۔ خدا یہاں جذباتی نہیں، مگر بے پروا بھی نہیں؛ اُن کے لفظوں میں ایک مالی کی تھکن ہے جس نے بار بار پھل کا انتظار کیا۔ آخری آیت میں وجہ کھل جاتی ہے: ”اِس لئے کہ وہ بےوفا ثابت ہوئے ہیں۔“ یہ طاقت کا مسئلہ نہیں، عہد کا مسئلہ ہے۔ اور ”تم جان لو گے کہ مَیں ہی رب ہوں“ عدالت کا مقصد ظاہر کرتا ہے: تباہی نہیں، پہچان۔
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Ezekiel 15 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 1

رب مجھ سے ہم کلام ہوا۔“ سخت پیغام سے پہلے بھی خدا بولتا ہے، خاموش نہیں رہتا۔ وہ انگور کی بیل کی بات کرنے والا ہے، وہ لکڑی جس سے نہ کرسی بنتی ہے نہ کھونٹی۔ اُس کی واحد قدر پھل ہے۔ کیا تُو اپنی لکڑی پر بھروسا کر رہا ہے یا بیل سے جُڑے رہنے پر؟ یہ سوال تجھ سے پیار کرنے والے نے پوچھا ہے۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟