بائبل کی تشریح

یرمیاہ 9

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

یرمیاہ اپنے سر کو پانی کا منبع اور آنکھوں کو آنسوؤں کا چشمہ بنانا چاہتا ہے، اور ساتھ ہی ریگستان میں کوئی سرائے ڈھونڈتا ہے تاکہ اِس قوم سے بھاگ جائے۔ خداوند اُس کے رونے کی تصدیق کرتے ہیں: زبانیں جھوٹ کے تیر بن چکی ہیں، بھائی بھائی پر بھروسا نہیں کر سکتا، اور اِس لئے یروشلم ملبے کا ڈھیر بنے گا۔ باب کے آخر میں، لاشوں اور نوحہ گر عورتوں کے درمیان، ایک عجیب چمکتی ہوئی آواز اُٹھتی ہے: فخر صرف اِس بات پر ہو کہ کوئی خداوند کو جانتا ہے۔

مرکزی بات

غور کیجئے کہ یرمیاہ کے دو خواب ایک ہی سانس میں آتے ہیں: مَیں دن رات روؤں، اور مَیں یہاں سے چلا جاؤں۔ یہی تضاد خدا کے دل کا نقشہ ہے۔ خداوند فرماتے ہیں، ”مَیں اپنی قوم، اپنی بیٹی کے ساتھ اَور کیا کر سکتا ہوں؟“ یہ کسی جلاد کا لہجہ نہیں، یہ ایک باپ کی بےبسی ہے جو اپنی بیٹی کو کھو رہا ہے۔ اور پھر بھی وہی باپ پوچھتے ہیں، ”کیا مجھے اُنہیں اِس کی سزا نہیں دینی چاہئے؟“ یہاں گناہ بتوں کی مورتیوں سے زیادہ روزمرہ کی زبان میں چھپا ہے، ہمسائے سے صلح کی باتیں اور اندر ہی اندر گھات۔ خدا کو جاننا، جیسا آیت 24 کہتی ہے، کوئی نظریہ نہیں بلکہ مہربانی، انصاف اور راستی میں شریک ہونا ہے۔ جو یہ نہیں کرتا، وہ اُسے جانتا ہی نہیں۔

سنہری تار

آیت 25 اور 26 پورے باب کا تالا کھول دیتی ہیں: ختنہ ظاہری طور پر ہوا، باطنی طور پر نہیں۔ عہد کا نشان جسم پر تھا، دل پر نہیں۔ یہی وہ خلا ہے جس کے گرد پوری بائبل گھومتی ہے، اور یہی وہ خلا ہے جسے یرمیاہ آگے چل کر نئے عہد کے وعدے میں بھرتا دیکھے گا، جب شریعت پتھر پر نہیں بلکہ دلوں پر لکھی جائے گی۔ مسیح اُس وعدے کو پیالہ اُٹھا کر اپنے خون سے باندھتے ہیں۔ اور آیت 24 کا فخر پولس رسول کے قلم میں دوبارہ گونجتا ہے، جہاں فخر صرف صلیب پر رہ جاتا ہے۔ گویا یرمیاہ کے آنسو بےمقصد نہیں تھے؛ وہ اُس دن کی طرف بہہ رہے تھے جب خدا خود آ کر ٹوٹے عہد کی قیمت اپنے جسم پر اُٹھائیں گے۔

آئینہ

یہ باب زبان پر ہاتھ رکھتا ہے، اور یہی سب سے تکلیف دہ جگہ ہے۔ دفتر کی وہ بات جو آپ نے ”فکرمندی“ کے لہجے میں کسی تیسرے کو بتائی۔ خاندان کا وہ گروپ چیٹ جہاں مسکراہٹ کے ایموجی کے پیچھے حساب برابر ہو رہا ہے۔ وہ سلام جو آپ ہر اتوار ایک شخص کو کرتے ہیں جس کے بارے میں آپ کے دل میں فیصلہ پہلے سے لکھا ہوا ہے۔ آیت 5 کا جملہ کاٹتا ہے: ”اُنہوں نے اپنی زبان کو جھوٹ بولنا سکھایا ہے۔“ یہ عادت ہے، ہنر ہے، مشق سے آئی ہوئی مہارت۔ اور آیت 23 آپ کی حکمت، آپ کی قوت اور آپ کے بینک بیلنس کو ایک ہی جھٹکے میں فخر کے تخت سے اُتار دیتی ہے۔

آج ہی وہ ایک بات یاد کیجئے جو آپ نے پچھلے ہفتے کسی کی غیرحاضری میں کہی اور جو آپ اُس کے منہ پر نہ کہتے۔ اُس شخص کا نام کاغذ پر لکھیں، اُس کے لئے بلند آواز میں دعا کریں، اور کاغذ پھاڑ دیں۔

سامعین کا خاکہ

یہ پیغام یروشلم کے اُن لوگوں نے سنا جو ابھی اپنے گھروں میں بیٹھے تھے، ہیکل ابھی کھڑی تھی، فصلیں ابھی کٹ رہی تھیں۔ اُن کے کانوں میں آیت 17 کی ہدایت ایک شدید صدمہ تھی: نوحہ گر عورتوں کو بلاؤ۔ اُس معاشرے میں یہ پیشہ ور خواتین جنازوں پر بلائی جاتی تھیں؛ اُن کا آنا ہی اعلان تھا کہ کوئی مر چکا ہے۔ خداوند اُنہیں ایسے جنازے کے لئے بلوا رہے ہیں جو ابھی ہوا نہیں۔ اور پھر مائیں اپنی بیٹیوں کو یہ نوحہ سکھائیں، یعنی ماتم اگلی نسل کا نصاب بن جائے۔ ادوم، موآب، عمون کا ذکر بھی چبھتا تھا: یہودیؔ خود کو اُن سے الگ سمجھتے تھے، اور خدا نے اُنہیں اُسی فہرست میں لکھ دیا۔

سوال

سب سے مشکل سوال آیت 22 میں ہے: ”نعشیں کھیتوں میں گوبر کی طرح اِدھر اُدھر بکھری پڑی رہیں گی۔“ خدا اپنے ہی لوگوں کی موت کو اِس بےرحم تشبیہ میں کیوں بیان کرتے ہیں؟ اِسے نرم کرنا بےایمانی ہو گی۔ ایک جواب یہ ہے کہ فصل کی تصویر خود بتاتی ہے کہ یہ اندھی تباہی نہیں بلکہ کاٹنے والے کا عمل ہے، بےترتیب نہیں۔ مگر یہ پورا جواب نہیں۔ باب ہمیں یہ نہیں سمجھاتا کہ جو بچے گلیوں میں مارے گئے اُن کا قصور کیا تھا۔ گناہ کی فصل صرف بونے والے پر نہیں گرتی، اور بائبل اِس بھیانک حقیقت کو چھپاتی نہیں۔ ہم یہاں تسلی کے بجائے صرف اُس باپ کے سوال کے ساتھ کھڑے رہ جاتے ہیں: ”مَیں اَور کیا کر سکتا ہوں؟“

کلام کی گونج

استثنا 30 میں موسیٰ وعدہ کرتے ہیں کہ خداوند اُن کے دلوں کا ختنہ کریں گے؛ یرمیاہ 9 اُس وعدے کی خالی جگہ دکھاتا ہے، عہد کا نشان جسم پر موجود مگر دل بنجر۔ اِس لئے یہ باب مایوسی نہیں بلکہ ایک تڑپتا ہوا انتظار ہے۔ دوسری گونج نئے عہد میں ہے: جب پولس رسول لکھتے ہیں کہ فخر کرنے والا خداوند پر فخر کرے، تو وہ لفظاً یرمیاہ 9:24 اُٹھا رہے ہیں اور اُسے مسیح مصلوب پر لگا دیتے ہیں۔ یعنی جس ”جاننے“ کا مطالبہ یرمیاہ کر رہا تھا، وہ اب ایک شخص کا نام رکھتا ہے۔

غور و فکر

آیت 24 کے مطابق خدا کو جاننے کی پہچان مہربانی، انصاف اور راستی ہے؛ آپ کے پچھلے ہفتے میں اِن تینوں میں سے کون سی سب سے کمزور تھی، اور کس کے ساتھ؟

اگر یرمیاہ آپ کی زندگی کے بارے میں روتا، تو وہ کس بات پر روتا، اور کیا آپ اُس رونے کو سنجیدگی سے لیتے یا اُسے مبالغہ کہہ کر ٹال دیتے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Jeremiah 9 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یرمیاہ 9 کا کیا مطلب ہے؟
یرمیاہ اپنے سر کو پانی کا منبع اور آنکھوں کو آنسوؤں کا چشمہ بنانا چاہتا ہے، اور ساتھ ہی ریگستان میں کوئی سرائے ڈھونڈتا ہے تاکہ اِس قوم سے بھاگ جائے۔ خداوند اُس کے رونے کی تصدیق کرتے ہیں: زبانیں جھوٹ کے تیر بن چکی ہیں، بھائی بھائی پر بھروسا نہیں کر سکتا، اور اِس لئے یروشلم ملبے کا ڈھیر بنے گا۔ باب کے آخر میں، لاشوں اور نوحہ گر عورتوں کے درمیان، ایک عجیب چمکتی ہوئی آواز اُٹھتی ہے: فخر صرف اِس بات پر ہو کہ کوئی خداوند کو جانتا ہے۔
یرمیاہ 9 کس بارے میں ہے؟
آیت 25 اور 26 پورے باب کا تالا کھول دیتی ہیں: ختنہ ظاہری طور پر ہوا، باطنی طور پر نہیں۔ عہد کا نشان جسم پر تھا، دل پر نہیں۔ یہی وہ خلا ہے جس کے گرد پوری بائبل گھومتی ہے، اور یہی وہ خلا ہے جسے یرمیاہ آگے چل کر نئے عہد کے وعدے میں بھرتا دیکھے گا، جب شریعت پتھر پر نہیں بلکہ دلوں پر لکھی جائے گی۔ مسیح اُس وعدے کو پیالہ اُٹھا کر اپنے خون سے باندھتے ہیں۔ اور آیت 24 کا فخر پولس رسول کے قلم میں دوبارہ گونجتا ہے، جہاں فخر صرف صلیب پر رہ جاتا ہے۔ گویا یرمیاہ کے آنسو بےمقصد نہیں تھے؛ وہ اُس دن کی طرف بہہ رہے تھے جب خدا خود آ کر ٹوٹے عہد کی قیمت اپنے جسم پر اُٹھائیں گے۔
یرمیاہ 9 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
آج ہی وہ ایک بات یاد کیجئے جو آپ نے پچھلے ہفتے کسی کی غیرحاضری میں کہی اور جو آپ اُس کے منہ پر نہ کہتے۔ اُس شخص کا نام کاغذ پر لکھیں، اُس کے لئے بلند آواز میں دعا کریں، اور کاغذ پھاڑ دیں۔
یرمیاہ 9 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
سب سے مشکل سوال آیت 22 میں ہے: ”نعشیں کھیتوں میں گوبر کی طرح اِدھر اُدھر بکھری پڑی رہیں گی۔“ خدا اپنے ہی لوگوں کی موت کو اِس بےرحم تشبیہ میں کیوں بیان کرتے ہیں؟ اِسے نرم کرنا بےایمانی ہو گی۔ ایک جواب یہ ہے کہ فصل کی تصویر خود بتاتی ہے کہ یہ اندھی تباہی نہیں بلکہ کاٹنے والے کا عمل ہے، بےترتیب نہیں۔ مگر یہ پورا جواب نہیں۔ باب ہمیں یہ نہیں سمجھاتا کہ جو بچے گلیوں میں مارے گئے اُن کا قصور کیا تھا۔ گناہ کی فصل صرف بونے والے پر نہیں گرتی، اور بائبل اِس بھیانک حقیقت کو چھپاتی نہیں۔ ہم یہاں تسلی کے بجائے صرف اُس باپ کے سوال کے ساتھ کھڑے رہ جاتے ہیں: ”مَیں اَور کیا کر سکتا ہوں؟“
یرمیاہ 9 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
آیت 24 کے مطابق خدا کو جاننے کی پہچان مہربانی، انصاف اور راستی ہے؛ آپ کے پچھلے ہفتے میں اِن تینوں میں سے کون سی سب سے کمزور تھی، اور کس کے ساتھ؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Jeremiah 9 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 6

تُو دھوکے سے گھرا رہتا ہے، اور دھوکے ہی کے سبب سے وہ مجھے جاننے سے انکار کرتے ہیں۔“ غور کر: خدا نے یہ نہیں کہا کہ وہ اُس سے ناواقف ہیں، بلکہ یہ کہ وہ جاننا نہیں چاہتے۔ جھوٹ صرف زبان کا گناہ نہیں، وہ دل کو ایسا عادی بنا دیتا ہے کہ سچائی بوجھ لگنے لگتی ہے۔ جو چھوٹی چھوٹی باتیں تُو دوسروں سے چھپاتا ہے، وہی پردے آہستہ آہستہ خدا کے اور تیرے درمیان بھی تن جاتے ہیں۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟