گلتیوں 1
متن
پولس اپنا خط بغیر کسی نرم تمہید کے شروع کرتے ہیں: وہ رسول ہیں، مگر نہ کسی جماعت کے ووٹ سے نہ کسی بزرگ کے ہاتھ سے، بلکہ "عیسیٰ مسیح اور خدا باپ" کی طرف سے۔ سلام کے فوراً بعد وہ حیرانی میں پھٹ پڑتے ہیں کہ گلتیہ کے ایمان دار اِتنی جلدی ایک "فرق قسم کی خوش خبری" کے پیچھے لگ گئے ہیں، اور جو ایسا پیغام سنائے اُس پر دو بار لعنت کہتے ہیں۔ باقی باب اُن کی اپنی کہانی ہے: ایذا دینے والا شخص، دمشق کی راہ پر مسیح کا ظاہر ہونا، عرب کا سفر، اور یروشلم کے رسولوں سے اُن کا کم سے کم رابطہ۔
مرکزی بات
قدیم خطوں میں سلام کے بعد شکرگزاری کا ایک پیراگراف ہوتا ہی تھا؛ سننے والے اُس کے عادی تھے۔ پولس اُسے ہٹا دیتے ہیں اور اُس کی جگہ حیرانی رکھ دیتے ہیں۔ یہ ادبی بدتمیزی نہیں، الہٰیاتی خطرے کی گھنٹی ہے۔ اُن کے لیے سوال یہ نہیں کہ گلتیہ والوں کے اخلاق کیسے ہیں بلکہ یہ کہ نجات کی بنیاد کہاں ہے۔ مسیح "نے اپنے آپ کو ہمارے گناہوں کی خاطر قربان کر دیا اور یوں ہمیں اِس موجودہ شریر جہان سے بچا لیا ہے" (آیت 4)۔ اگر رِہائی وہاں سے آئی ہے، تو اُس میں کوئی چیز جوڑنا اُسے سنوارنا نہیں، اُسے منسوخ کرنا ہے۔ فضل میں تھوڑی سی شرط ملا دیں اور وہ فضل نہیں رہتا؛ وہ سودا بن جاتا ہے۔
بڑی کہانی سے جوڑ
آیت 4 پورے خط کا نقشہ ہے۔ "اِس موجودہ شریر جہان" کی زبان یہودی اُمید کی زبان ہے: ایک زمانہ ہے جو ٹوٹا ہوا ہے اور ایک آنے والا زمانہ جس میں خدا سب درست کریں گے۔ پولس کہتے ہیں کہ صلیب پر وہ نیا زمانہ پھٹ کر اِس پرانے میں داخل ہو گیا۔ اسی لیے وہ اپنی بلاہٹ کو "پیدا ہونے سے پیشتر ہی چن کر" کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں (آیت 15)، وہی الفاظ جن سے یرمیاہ اور یسعیاہ کے خادم کو بلایا گیا تھا۔ پولس اپنے آپ کو نبیوں کی اُسی قطار میں دیکھتے ہیں: خدا کا وہی مقصد جو ابرہام سے چلا آ رہا تھا، اب غیریہودیوں تک پہنچ رہا ہے، اور ایک ایذا دینے والا اُس کا اوزار بن گیا ہے۔
آئینہ
جو چیز گلتیہ والوں کو خوش خبری سے ہٹا رہی تھی وہ شک نہیں تھا، بلکہ اپنی جگہ پکی کرنے کی خواہش تھی۔ ہم بھی وہی کرتے ہیں۔ ہم مسیح پر بھروسا کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایک چھوٹی سی فہرست بھی رکھتے ہیں: کتنی صبح کی دعائیں، کتنی خیرات، بچوں کی کیسی تربیت، جماعت میں کتنی خدمت۔ یہ فہرست بُری نہیں لگتی؛ وہ محض یہ کام کرتی ہے کہ خدا کے سامنے ہماری قبولیت ہمارے ہاتھ میں رہے۔ پولس کا سوال آیت 10 میں بہت چبھتا ہے: کیا میری کوشش یہ ہے کہ مَیں لوگوں کو پسند آؤں؟ جہاں ہم دوسروں کی نظر میں دیندار دکھنے کے لیے جیتے ہیں، وہاں مسیح کی خدمت کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔
آج ہی وہ ایک کام لکھ کر سامنے رکھیں جو آپ چپکے سے خدا کی منظوری خریدنے کے لیے کرتے ہیں، اور اُس کاغذ پر بلند آواز سے آیت 4 کے یہ الفاظ پڑھیں: "مسیح وہی ہے جس نے اپنے آپ کو ہمارے گناہوں کی خاطر قربان کر دیا"۔
سامعین
تصور کریں: وسطی اناطولیہ کا ایک قصبہ، مٹی کی دیواروں والا گھر، تیل کے چراغ کی بو، تیس چالیس لوگ کھڑے ہیں کیونکہ بیٹھنے کی جگہ نہیں۔ اکثر غیریہودی ہیں، کچھ غلام، کچھ کاریگر۔ خط ایک ہی بار بلند آواز میں پڑھا جائے گا۔ اِن لوگوں کے لیے مسئلہ صرف الہٰیاتی نہیں تھا: رومی سماج میں یہودی برادری کو ایک تسلیم شدہ حیثیت تھی، اور ختنہ کے ذریعے اُس برادری میں مکمل داخلہ لینے کا مطلب تھا عزت، تحفظ، اور ایک قدیم قوم سے وابستگی۔ جو استاد اُنہیں یہ پیش کر رہے تھے وہ اُنہیں کچھ چھیننے نہیں، کچھ دینے آئے تھے۔ اِسی لیے پولس کا "لعنت" اُن کے کانوں میں دھماکے کی طرح گونجا ہو گا۔
سوال
کیا پولس کی سختی مناسب ہے؟ آیت 8 میں وہ اپنے آپ کو اور آسمان کے فرشتے کو بھی لعنت کے دائرے میں ڈال دیتے ہیں۔ یہ ذاتی غصہ نہیں، مگر یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ٹھنڈے دل سے لکھا گیا ہے۔ ہمیں اِس کے ساتھ ایمانداری سے جینا پڑے گا: کلامِ مقدّس ہمیشہ نپی تلی شریفانہ زبان میں نہیں بولتا۔ کہیں محبت کی شکل ہی یہ ہوتی ہے کہ کوئی چیخ کر کہے، رُک جاؤ۔ خطرہ یہ ہے کہ ہم اِس آیت کو اپنے چھوٹے چھوٹے کلیسیائی جھگڑوں میں ہتھیار بنا لیں۔ پولس یہاں طریقوں یا ذوق کے فرق پر نہیں لڑ رہے، بلکہ اِس پر کہ گنہگار کس بنیاد پر خدا کے سامنے قبول ہوتا ہے۔ اُس سے کم کسی چیز پر یہ لہجہ اُدھار لینا بددیانتی ہے۔
مرکزی کردار
پولس کی خود نوشت میں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہ اپنے ماضی کو چھپاتے نہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ اُن کی "پوری کوشش یہ تھی کہ یہ جماعت ختم ہو جائے" (آیت 13)۔ ایک ایسے سماج میں جہاں عزت سب کچھ تھی، یہ اعتراف خودکشی کے برابر لگتا ہے۔ مگر پولس کے لیے یہی اُن کی سب سے مضبوط دلیل ہے: ایسے آدمی کو کوئی انسان قائل نہیں کر سکتا تھا۔ اِسی لیے وہ عرب چلے گئے، اِسی لیے تین سال بعد پطرس کے ساتھ صرف پندرہ دن۔ وہ رسولوں کے مخالف نہیں، مگر اُن کی سند رسولوں سے نہیں آئی۔ اور باب کا اختتام اُن کے مزاج کو کھول دیتا ہے: یہودیہ کی جماعتوں نے اُن کی تعریف نہیں کی، "اُنہوں نے میری وجہ سے اللہ کی تمجید کی" (آیت 24)۔ پولس اِسی جملے پر خوش ہیں۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں وہ کون سی "چھوٹی سی شرط" ہے جو آپ فضل کے ساتھ جوڑ کر خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں؟
اگر لوگ آپ کی کہانی سن کر آپ کی نہیں بلکہ خدا کی تمجید کریں، تو آپ کو اپنی گواہی سنانے کا انداز کہاں بدلنا پڑے گا؟
Galatians 1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
گلتیوں 1 کا کیا مطلب ہے؟
گلتیوں 1 کس بارے میں ہے؟
گلتیوں 1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
گلتیوں 1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
گلتیوں 1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Galatians 1 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
جن لوگوں نے کبھی پولس کا نام خوف سے سنا تھا، وہی اب اُس کی وجہ سے خوش ہو رہے تھے۔ وہ اُسے جانتے تک نہ تھے، صرف خبر پہنچی تھی: ستانے والا اب منادی کر رہا ہے۔ اور اُن کا ردِعمل یہ تھا، "اُنہوں نے میری وجہ سے اللہ کی تمجید کی۔" پولس کی تعریف نہیں، خدا کی۔ سوچ، تیری بدلی ہوئی زندگی دیکھ کر لوگ کس کا نام لیتے ہیں؟
پولس اپنی زندگی کی سادہ سی تفصیل لکھ رہا تھا، کہاں گیا، کس سے ملا، اور پھر رک کر کہتا ہے، ”خدا گواہ ہے کہ جو کچھ مَیں آپ کو لکھ رہا ہوں وہ جھوٹ نہیں ہے۔“ سوچیں، اُسے اپنی صفائی دینی پڑی کیونکہ لوگ اُس پر شک کر رہے تھے۔ جب آپ کی نیت پر الزام لگے اور کوئی یقین نہ کرے، تو یاد رکھیں کہ ایک گواہ ایسا ہے جو دل کے اندر تک دیکھتا ہے۔ اُسی کے سامنے سچے رہیں۔
پولس کی زندگی کا سب سے بڑا لمحہ گزر چکا تھا، پھر بھی وہ منبر پر نہیں بلکہ ریگستان میں گیا۔ ”بلکہ مَیں سیدھا عرب چلا گیا۔“ کوئی ہجوم نہیں، کوئی گواہی کی محفل نہیں، صرف خدا اور وہ۔ شاید تیری خاموشی کا یہ موسم ضائع نہیں ہو رہا۔ جو کام خدا تجھ میں تنہائی میں کرتا ہے، وہی بعد میں لوگوں کے سامنے بولے گا۔
خداوند، تیرا شکر کہ تُو نے پولس کی وہ سرگرمی دیکھی جب وہ اپنے باپ دادا کی روایات کے لئے سب سے آگے نکل گیا تھا، اور تُو نے اُسی جوش کو اپنے فضل سے بدل کر انجیل کی خدمت میں لگا دیا۔ شکر کہ ہمارا جوش بھی تیرے ہاتھ میں بےکار نہیں جاتا۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
