بائبل کی تشریح

یسعیاہ 55:1

پڑھیں
یہ آیت Agape Light Network کی جانب سے منسوب ہے

متن

بازار کا شور تصور کیجیے: ایک پھیری والا اپنی جگہ پر کھڑا آواز لگا رہا ہے، اور اُس کی صدا باقی سب صداؤں سے الگ ہے۔ وہ اپنے مال کی تعریف نہیں کر رہا، وہ گاہک کی حالت پوچھ رہا ہے: ”کیا تم پیاسے ہو؟ آؤ، سب پانی کے پاس آؤ!“ پھر وہ ایسی بات کہتا ہے جو کسی سوداگر کے منہ سے کبھی نہیں نکلتی: ”کیا تمہارے پاس پیسے نہیں؟ اِدھر آؤ، سودا خرید کر کھانا کھاؤ۔“ یعنی خالی جیب کوئی رکاوٹ نہیں، بلکہ داخلے کی شرط بن گئی ہے۔ مَے اور دودھ، وہ چیزیں جو غریب کی میز پر کبھی نہیں آتیں، یہاں مفت رکھی ہیں۔ اور آخری فقرہ کان میں کھٹکتا ہے: ”آؤ، اُسے پیسے دیئے بغیر خریدو۔“ خریدنا، مگر قیمت کے بغیر۔

مرکزی بات

یہ آیت خدا کے بارے میں ایک ایسی بات کہتی ہے جو ہمارے پورے معاشی شعور کے خلاف ہے: وہ اپنی نعمتیں بیچتا نہیں، بانٹتا ہے، اور پھر بھی اصرار کرتا ہے کہ تم آ کر لو۔ فعل ”خریدو“ اتفاق نہیں ہے۔ خدا مفت دیتا ہے، مگر بےپروا ہاتھوں میں نہیں ڈالتا؛ اُٹھنا، چلنا، اور جھولی پھیلانا پڑتی ہے۔ فضل مفت ہے، سستا نہیں۔

اور دعوت کی بنیاد قابلیت نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ خدا نہیں پوچھتا کہ تم نے کیا کمایا؛ وہ پوچھتا ہے کہ تم کتنے پیاسے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اگلی آیت میں وہ ہمارے اُس محنت مشقت پر افسوس کرتا ہے ”جو سیر نہیں کرتا“۔ انسان کی اصل مصیبت گناہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ وہ غلط دکان پر اپنی زندگی خرچ کر رہا ہے۔

سلسلۂ نجات

یہ صدا خلا میں نہیں لگ رہی۔ اِس سے دو باب پہلے وہ خادم کھڑا ہے جو کچلا گیا، جس نے اپنی جان دی، اور اُس کے فوراً بعد یہ اعلان آتا ہے کہ سودا مفت ہے۔ ترتیب اتفاقی نہیں: مفت اُس لیے ہے کہ قیمت کہیں اَور ادا ہوئی۔ اور آیت 3 میں دعوت کا انجام ظاہر ہوتا ہے: ”مَیں تمہارے ساتھ ابدی عہد باندھوں گا“۔ یعنی پانی کا یہ گھونٹ ایک وقتی خیرات نہیں، عہد میں داخلے کا دروازہ ہے۔ صدیوں بعد ایک آدمی یروشلم کے تہوار میں کھڑا ہو کر بلند آواز سے پیاسوں کو اپنے پاس بلائے گا، اور بائبل کے آخری صفحے پر روح اور دلہن ایک بار پھر بغیر قیمت پانی کی پیشکش کریں گی۔ ایک ہی صدا، تین بار: نبی، مسیح، اور کلیسیا کے منہ سے۔

آئینہ

ہم میں سے اکثر لوگ تحفہ لینے میں بےآرام ہوتے ہیں۔ ہم حساب رکھنا چاہتے ہیں: کچھ دیا، کچھ لیا، برابر۔ اسی لیے یہ آیت ہمیں کھٹکتی ہے۔ آپ کے پاس ملازمت ہے، تنخواہ ہے، بلوں کی ادائیگی ہے، اور جمعرات کی شام تک ایک ایسی تھکن ہے جو نیند سے نہیں جاتی، کیونکہ آپ اُس چیز کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ”جو سیر نہیں کرتا“۔ کبھی یہ ترقی ہے، کبھی بچوں کی کامیابی، کبھی یہ خواہش کہ لوگ آپ کو قابلِ اعتماد سمجھیں۔ اور اکثر ایماندار بھی سوچتے ہیں کہ پہلے اپنی زندگی درست کر لیں، پھر خدا کے پاس جائیں گے۔ مگر یہاں شرط پیسہ نہیں، پیاس ہے۔

آج ایک کاغذ پر وہ ایک چیز لکھیے جس پر آپ نے اِس مہینے سب سے زیادہ وقت یا پیسہ خرچ کیا اور جو آپ کو سیر نہ کر سکی۔ پھر اُس کاغذ کو ہاتھ میں لے کر بلند آواز سے کہیے: ”خداوند، میں پیاسا ہوں، میں خالی ہاتھ آیا ہوں۔“

پس منظر

یہ آواز بابل میں گونج رہی ہے، جلاوطنی کی دوسری پیڑھی کے کانوں میں۔ بابل نہریں اور منڈیاں رکھنے والا شہر تھا، سوداگری اور سود کا مرکز؛ وہاں ہر چیز کی قیمت تھی اور ہر معاہدے پر مہر لگتی تھی۔ یہودی جلاوطن اُس نظام میں محکوم مزدور تھے: کچھ نے کاروبار جما لیا، بہت سے پیچھے رہ گئے۔ نہ ہیکل، نہ زمین، نہ بادشاہ۔ ایسے لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک نئے بازار میں آئیں جس کا مالک بابل کا خدا نہیں بلکہ اسرائیل کا قدوس ہے۔ اُس بازار میں قیمت کی زبان ہی منسوخ ہے۔ ایک ایسی قوم کے لیے جو خود کو بِکا ہوا محسوس کرتی تھی، یہ اعلان محض تسلی نہیں، بغاوت تھا۔

ایک باریک نکتہ

غور کیجیے کہ کیا پیش کیا جا رہا ہے۔ پانی، ٹھیک؛ زندہ رہنے کے لیے لازم ہے۔ مگر پھر مَے اور دودھ۔ بابل کی نہروں میں پانی کی کمی نہ تھی؛ کمی اُس چیز کی تھی جو صرف امیر کی میز پر آتی ہے۔ مَے شادی اور عید کی چیز ہے، خوشی کی علامت؛ دودھ پرورش اور فراوانی کا نشان، اُس ملک کی یاد جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہاں دودھ اور شہد بہتا ہے۔ خدا محض بقا نہیں دے رہا، وہ جشن دے رہا ہے۔ یہ فرق اہم ہے: بہت سے ایماندار خدا سے صرف اِتنا مانگتے ہیں کہ سانس چلتی رہے۔ یہ آیت کہتی ہے کہ اُس کی میز پر روزے کی خوراک نہیں، دعوت کا سامان رکھا ہے۔

کلام کی گونج

آیت 2 کا سوال، ”اُس پر پیسے کیوں خرچ کرتے ہو جو روٹی نہیں ہے؟“، انجیل میں ایک کنویں پر دہرایا جاتا ہے، جب یسوع ایک سامری عورت سے کہتے ہیں کہ اُس کے پاس ایسا پانی ہے جس کے بعد پیاس نہیں رہتی۔ وہ عورت بھی خالی جیب اور خراب ساکھ کے ساتھ آئی تھی، اور یہی اُس کی اہلیت بن گئی۔ اور بائبل کا اختتام یسعیاہ 55 کی صدا کے ساتھ ہوتا ہے: مکاشفہ کے آخری باب میں پیاسے کو مفت زندگی کا پانی پیش کیا جاتا ہے۔ درمیان میں پوری تاریخ ہے، مگر دعوت کے الفاظ نہیں بدلے۔ خدا نے اپنی شرائط کبھی سخت نہیں کیں۔

غور و فکر کے سوال

آپ کی زندگی میں وہ کون سی دکان ہے جہاں آپ برسوں سے پیسے دے رہے ہیں اور پیاس پھر بھی باقی ہے؟

اگر خدا کی نعمت واقعی مفت ہے، تو آپ کے اندر کون سی بات آپ کو خالی ہاتھ اُس کے پاس جانے سے روکتی ہے: شرم، فخر، یا حساب رکھنے کی عادت؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Isaiah 55:1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یسعیاہ 55:1 کا کیا مطلب ہے؟
بازار کا شور تصور کیجیے: ایک پھیری والا اپنی جگہ پر کھڑا آواز لگا رہا ہے، اور اُس کی صدا باقی سب صداؤں سے الگ ہے۔ وہ اپنے مال کی تعریف نہیں کر رہا، وہ گاہک کی حالت پوچھ رہا ہے: ”کیا تم پیاسے ہو؟ آؤ، سب پانی کے پاس آؤ!“ پھر وہ ایسی بات کہتا ہے جو کسی سوداگر کے منہ سے کبھی نہیں نکلتی: ”کیا تمہارے پاس پیسے نہیں؟ اِدھر آؤ، سودا خرید کر کھانا کھاؤ۔“ یعنی خالی جیب کوئی رکاوٹ نہیں، بلکہ داخلے کی شرط بن گئی ہے۔ مَے اور دودھ، وہ چیزیں جو غریب کی میز پر کبھی نہیں آتیں، یہاں مفت رکھی ہیں۔ اور آخری فقرہ کان میں کھٹکتا ہے: ”آؤ، اُسے پیسے دیئے بغیر خریدو۔“ خریدنا، مگر قیمت کے بغیر۔
یسعیاہ 55:1 کس بارے میں ہے؟
اور دعوت کی بنیاد قابلیت نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ خدا نہیں پوچھتا کہ تم نے کیا کمایا؛ وہ پوچھتا ہے کہ تم کتنے پیاسے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اگلی آیت میں وہ ہمارے اُس محنت مشقت پر افسوس کرتا ہے ”جو سیر نہیں کرتا“۔ انسان کی اصل مصیبت گناہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ وہ غلط دکان پر اپنی زندگی خرچ کر رہا ہے۔
یسعیاہ 55:1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
ہم میں سے اکثر لوگ تحفہ لینے میں بےآرام ہوتے ہیں۔ ہم حساب رکھنا چاہتے ہیں: کچھ دیا، کچھ لیا، برابر۔ اسی لیے یہ آیت ہمیں کھٹکتی ہے۔ آپ کے پاس ملازمت ہے، تنخواہ ہے، بلوں کی ادائیگی ہے، اور جمعرات کی شام تک ایک ایسی تھکن ہے جو نیند سے نہیں جاتی، کیونکہ آپ اُس چیز کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ”جو سیر نہیں کرتا“۔ کبھی یہ ترقی ہے، کبھی بچوں کی کامیابی، کبھی یہ خواہش کہ لوگ آپ کو قابلِ اعتماد سمجھیں۔ اور اکثر ایماندار بھی سوچتے ہیں کہ پہلے اپنی زندگی درست کر لیں، پھر خدا کے پاس جائیں گے۔ مگر یہاں شرط پیسہ نہیں، پیاس ہے۔
یسعیاہ 55:1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یہ آواز بابل میں گونج رہی ہے، جلاوطنی کی دوسری پیڑھی کے کانوں میں۔ بابل نہریں اور منڈیاں رکھنے والا شہر تھا، سوداگری اور سود کا مرکز؛ وہاں ہر چیز کی قیمت تھی اور ہر معاہدے پر مہر لگتی تھی۔ یہودی جلاوطن اُس نظام میں محکوم مزدور تھے: کچھ نے کاروبار جما لیا، بہت سے پیچھے رہ گئے۔ نہ ہیکل، نہ زمین، نہ بادشاہ۔ ایسے لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک نئے بازار میں آئیں جس کا مالک بابل کا خدا نہیں بلکہ اسرائیل کا قدوس ہے۔ اُس بازار میں قیمت کی زبان ہی منسوخ ہے۔ ایک ایسی قوم کے لیے جو خود کو بِکا ہوا محسوس کرتی تھی، یہ اعلان محض تسلی نہیں، بغاوت تھا۔
یسعیاہ 55:1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
آیت 2 کا سوال، ”اُس پر پیسے کیوں خرچ کرتے ہو جو روٹی نہیں ہے؟“، انجیل میں ایک کنویں پر دہرایا جاتا ہے، جب یسوع ایک سامری عورت سے کہتے ہیں کہ اُس کے پاس ایسا پانی ہے جس کے بعد پیاس نہیں رہتی۔ وہ عورت بھی خالی جیب اور خراب ساکھ کے ساتھ آئی تھی، اور یہی اُس کی اہلیت بن گئی۔ اور بائبل کا اختتام یسعیاہ 55 کی صدا کے ساتھ ہوتا ہے: مکاشفہ کے آخری باب میں پیاسے کو مفت زندگی کا پانی پیش کیا جاتا ہے۔ درمیان میں پوری تاریخ ہے، مگر دعوت کے الفاظ نہیں بدلے۔ خدا نے اپنی شرائط کبھی سخت نہیں کیں۔

Isaiah 55 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟

اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟