یسعیاہ 57
متن
باب کا آغاز ایک عجیب مرثیے سے ہوتا ہے: راست باز مر رہے ہیں اور کسی کو پروا نہیں، حالانکہ اُنہیں آنے والی آفت سے بچانے کے لئے اُٹھا لیا جا رہا ہے۔ پھر لہجہ بدلتا ہے اور خدا قوم پر بےرحم الزام لگاتا ہے: جادوگری، بُت پرستی، درختوں کے سائے میں مستی، وادیوں میں بچوں کی قربانی، اونچے پہاڑ پر بچھایا ہوا بستر۔ اور آخر میں، جہاں ہم سزا کی توقع کرتے ہیں، وہاں سے ایک راستہ بنانے کا حکم آتا ہے اور اُس بلند و بالا قدوس خدا کا اعلان جو شکستہ دلوں کے ساتھ رہتا ہے، شفا دیتا ہے، دُور اور قریب والوں کو سلامتی دیتا ہے، مگر بےدینوں کو نہیں۔
مرکزی بات
اِس باب کا مرکزی جھٹکا آیت 18 میں ہے: ”گو مَیں اُس کے چال چلن سے واقف ہوں مَیں اُسے پھر بھی شفا دوں گا۔“ اسرائیل نے توبہ نہیں کی؛ آیت 17 صاف کہتی ہے کہ سزا کے بعد بھی ”وہ اپنے دل کی برگشتہ راہوں پر چلتا رہا۔“ فضل یہاں انسان کی تبدیلی کا انعام نہیں بلکہ اُس سے پہلے آتا ہے۔ اور اِس فضل کی بنیاد خدا کی اپنی ذات ہے: وہ ابد تک ناراض نہیں رہ سکتا کیونکہ جس روح سے وہ جھگڑ رہا ہے وہ اُسی کی خلق کی ہوئی ہے۔ لیکن یہی باب آخری آیت میں کہتا ہے کہ ”بےدین سلامتی نہیں پائیں گے۔“ فضل مفت ہے، سستا نہیں۔
سلسلۂ نجات
آیت 14 کا ”راستہ بناؤ، راستہ بناؤ!“ باب 40 کی اُس آواز کی گونج ہے جو بیابان میں راستہ تیار کرنے کا حکم دیتی ہے، اور انجیل نویس اِسی آواز میں یوحنا بپتسمہ دینے والے کو سنتے ہیں۔ مگر اِس باب میں رکاوٹ کوئی پہاڑ یا صحرا نہیں، بلکہ قوم کا اپنا دل ہے۔ اور آیت 19 کی ”سلامتی … اُن کی جو دُور ہیں اور اُن کی جو قریب ہیں“ کو پولس رسول افسیوں 2 میں سیدھا صلیب پر لے جاتا ہے: مسیح آ کر دُور والی غیریہودی قوموں اور قریب والے اسرائیل، دونوں کو سلامتی کی خوش خبری سناتا ہے۔ یسعیاہ 57 کا وعدہ افسیوں میں اپنی تعمیل پاتا ہے۔
آئینہ
آیت 10 پر رُکیں: ”گو تُو سفر کرتے کرتے بہت تھک گئی توبھی تُو نے کبھی نہ کہا، ’فضول ہے!‘“ یہ بُت پرستی کی سب سے ایماندار تصویر ہے۔ ہم اپنے بُتوں کے پیچھے تھک جاتے ہیں مگر ہار نہیں مانتے۔ ایک اَور پروموشن، ایک اَور قرض، بچوں کی کامیابی کا دباؤ جو ہم اُن پر ڈالتے ہیں، وہ عزت جو کسی رشتے دار کی نظر میں چاہیے۔ پیسہ، وقت، صحت خرچ ہوتی رہتی ہے اور ہم کبھی نہیں کہتے: یہ سب فضول ہے۔ اور آیت 11 ہماری اصل بیماری کھول دیتی ہے: ہم خدا کی خاموشی کو اُس کی غیرحاضری سمجھ لیتے ہیں، اور یہ سمجھ کر بےخوف ہو جاتے ہیں۔
پہلے سننے والے
یہ الفاظ اُس برادری کے لئے ہیں جو ملکِ موعود میں ہے مگر کھنڈرات میں، جہاں انصاف کرنے والے مر رہے ہیں اور کوئی نوٹ نہیں لیتا (آیت 1)۔ اُن کے ارد گرد پڑوسی قومیں تھیں جن کے دیوتا زرخیزی، بارش اور تحفظ کا وعدہ کرتے تھے۔ ایسے حالات میں خدا کے ساتھ ساتھ اُن کی بھی خوشامد کرنا ”سمجھ داری“ لگتا تھا، بیمے کی ایک اضافی پالیسی۔ ”مقدّس پہاڑ اُس کی موروثی ملکیت بنے گا“ (آیت 13) اُن کانوں کے لئے زمین کے قبضے کا حقیقی سوال تھا: یہ ملک بُتوں سے ملے گا یا خداوند سے؟ اور جلاوطنی میں بکھرے ہوئے رشتے داروں کے لئے ”دُور“ والوں کی سلامتی کا وعدہ ایک زندہ اُمید تھی۔
ایک تفصیل
آیت 8 کی ایک بات پر جلدی سے نہ گزریں: ”اپنے گھر کے دروازے اور چوکھٹ کے پیچھے تُو نے اپنی بُت پرستی کے نشان لگائے۔“ ہر اسرائیلی جانتا تھا کہ چوکھٹ پر کیا لگنا چاہیے۔ استثنا 6 کا حکم تھا کہ خداوند کے کلام کو گھر کی چوکھٹوں پر لکھو، اور فسح کی رات خون دروازے کی چوکھٹ پر لگایا گیا تھا۔ یعنی جس جگہ خدا کے نام اور نجات کی یادگار ہونی چاہیے تھی، وہاں اب معشوق کی نشانی ہے۔ بُت پرستی گھر کی دہلیز تک نہیں رُکی، وہ دہلیز کی جگہ لے چکی ہے۔ اِسی لئے آگے بستر کی زبان آتی ہے: یہ عہد کی بےوفائی ہے، اور بےوفائی ہمیشہ گھر کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔
بین المتون
باب 3 سے 9 کی زناکاری کی زبان ہوسیع اور حزقی ایل 16 سے سیدھی جُڑی ہے: خدا اپنی قوم کے ساتھ رشتے کو شادی سمجھتا ہے، اِس لئے بُت پرستی محض غلط عقیدہ نہیں، دھوکا ہے۔ وادیوں میں بچوں کے ذبح کا ذکر یرمیاہ کی اُس شکایت کی گونج ہے جو ہِنّوم کی وادی پر ماتم کرتی ہے: خدا کہتا ہے کہ ایسا حکم اُس کے دل میں کبھی آیا ہی نہیں۔ اور آیت 15 کا وہ خدا جو ”شکستہ حال اور فروتن روح کے ساتھ“ سکونت کرتا ہے، زبور 51 کی اُس دعا کا جواب ہے جس میں داؤد کہتا ہے کہ ٹوٹا ہوا دل ہی اصل قربانی ہے۔ آخری تصویر، بےدین کا متلاطم سمندر جو ”تھم نہیں سکتا“، اُسی کتاب کے آخری باب تک جاتی ہے جہاں نئی سرشت میں سمندر باقی نہیں رہتا۔
غور و فکر
کس چیز کے پیچھے آپ تھک چکے ہیں مگر پھر بھی نہیں کہتے: ”فضول ہے“؟
خدا کی خاموشی کو آپ کیسے پڑھتے ہیں: اُس کی غیرحاضری کے طور پر، یا اُس کے صبر کے طور پر؟
Isaiah 57 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یسعیاہ 57 کا کیا مطلب ہے؟
یسعیاہ 57 کس بارے میں ہے؟
یسعیاہ 57 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یسعیاہ 57 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یسعیاہ 57 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Isaiah 57 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اسرائیل نے بُتوں کے پیچھے دوڑتے ہوئے بھی اپنی دین داری پر بھروسا رکھا۔ اِسی پر خدا فرماتا ہے، ”مَیں تیری راست بازی اور تیرے کاموں کا پول کھول دوں گا، اور وہ تجھے کوئی فائدہ نہ پہنچائیں گے۔“ سوچ، وہ کون سے کام ہیں جن کے پیچھے تُو اپنا اصل دل چھپاتا ہے؟ خدا اُنہیں گنتا نہیں، وہ تجھے چاہتا ہے۔
اے میرے خدا، جن چیزوں پر میں نے بھروسا کیا وہ ہوا کے ایک جھونکے سے اُڑ جاتی ہیں۔ میں اُنہیں چھوڑ کر تیری پناہ میں آتا ہوں، کیونکہ صرف تُو ہی میری چٹان اور میری میراث ہے۔ مجھے اپنے مقدس پہاڑ پر تھامے رکھ۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
