یسعیاہ 60:22
متن
باب کے آخری جملے میں نبی اچانک گنتی کی زبان بولنے لگتے ہیں: خاندان، کنبہ، تعداد، ہزار۔ خدا فرماتے ہیں کہ جو خاندان اِس وقت سب سے چھوٹا ہے، وہ بڑھتے بڑھتے ہزار افراد پر مشتمل ہو جائے گا، اور جو کنبہ سب سے کمزور اور بےوزن ہے، وہ ایک طاقت ور قوم بن جائے گا۔ پھر ایک دستخط کی طرح آخری فقرہ آتا ہے: ”مقررہ وقت پر مَیں، رب یہ سب کچھ تیزی سے انجام دوں گا۔“ یعنی وعدہ صرف بڑھوتری کا نہیں، بلکہ اُس گھڑی کا بھی ہے جو خدا کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ نہ قوم اپنی گنتی خود بڑھا سکتی ہے، نہ وہ گھڑی مقرر کر سکتی ہے؛ دونوں کام بولنے والے کے ذمے ہیں۔
بنیادی بات
یہ آیت اُن لوگوں کے لیے ہے جو اپنی چھوٹی سی تعداد سے شرمندہ ہیں۔ جلاوطنی سے لوٹنے والوں کے پاس نہ فوج تھی، نہ بادشاہ، نہ ایسی آبادی جسے دیکھ کر پڑوسی قومیں سنجیدگی سے لیتیں۔ اُن کی سب سے بڑی اذیت یہ سوال تھا: کیا ہم بچے کھچے ٹکڑے ہیں یا واقعی خدا کی قوم؟ اور جواب یہ ہے کہ خدا کمی کو رکاوٹ نہیں سمجھتے۔ وہ چھوٹے پن سے شروع کرنا جانتے ہیں، کیونکہ اِس سے پہلی آیت میں وہ قوم کو ”میرے ہاتھ سے لگائی ہوئی پنیری“ کہہ چکے ہیں۔ پنیری کی طاقت اُس کے سائز میں نہیں، لگانے والے کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اور آخری الفاظ ”مَیں، رب“ ضمانت دیتے ہیں: یہ نمو انسانی کوشش کا حساب نہیں، خدا کے کردار کا اعلان ہے۔
سنہری دھاگا
اسرائیل کی پوری کہانی اِسی اصول پر چلتی ہے: خدا چھوٹے سے شروع کرتے ہیں۔ ایک بےاولاد بوڑھا جوڑا، ایک غلام قوم، ایک چرواہا لڑکا، اور آخر میں ایک ایسی بستی کا بچہ جس کے بارے میں کسی نے سنجیدگی سے سوچا بھی نہ تھا۔ اِس آیت کا وعدہ ایک بیج کے پھیلنے کا وعدہ ہے، اور یسوع مسیح نے یہی تصویر اُٹھا کر بادشاہی پر لگا دی: رائی کا دانہ، سب بیجوں سے چھوٹا، جو بڑھ کر درخت بن جاتا ہے اور پرندے اُس کی شاخوں میں بسیرا کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب گنتی کسی ایک قوم کے نسب ناموں تک محدود نہیں رہی۔ صلیب اور قیامت کے بعد ”ہزار افراد“ کی توسیع ہر زبان اور قوم تک پھیل گئی۔ صیون کی چھوٹی سی باقی بچی جماعت واقعی ایک طاقت ور قوم بنی، مگر تلوار سے نہیں، خالی قبر سے۔
آئینہ
آپ کے پاس بھی کوئی نہ کوئی عدد ہے جو آپ کو چھوٹا محسوس کراتا ہے۔ اتوار کو حاضری کا عدد۔ بائبل اسٹڈی میں بیٹھنے والے پانچ لوگ جبکہ کرسیاں پندرہ ہیں۔ بینک اکاؤنٹ کا ہندسہ، یا وہ برس جو آپ نے دعا کرتے کرتے گن لیے ہیں۔ ہمارا زمانہ بھی گنتی کا پجاری ہے: فالوورز، نتائج، ترقی کی رفتار۔ اور اِسی لیے یہ آیت کھٹکتی ہے، کیونکہ یہ گنتی کو رد نہیں کرتی بلکہ اُسے خدا کے ہاتھ میں دے دیتی ہے۔ آپ کی وفاداری کا وزن آپ کے اعداد سے نہیں ناپا جائے گا۔ آج ہی ایک کاغذ پر وہ ایک عدد لکھیے جو آپ کو شرمندہ کرتا ہے، اُس کے نیچے یہ الفاظ لکھیے، ”مقررہ وقت پر مَیں، رب یہ سب کچھ تیزی سے انجام دوں گا،“ اور اُنہیں بلند آواز سے ایک بار پڑھ لیجیے۔
سوال
مگر ایمانداری سے پوچھیں: ”تیزی سے“ کہاں تھی؟ جو لوگ یہ کلام پہلی بار سن رہے تھے، وہ اِسی ادھوری بستی میں دفن ہوئے۔ اُن کے پوتے بھی رومی فوج کے سائے تلے جیے۔ کیا ایسا وعدہ ظالمانہ نہیں جو سننے والے کی زندگی میں پورا نہ ہو؟ متن اِس کا آسان جواب نہیں دیتا۔ وہ صرف دو لفظ ساتھ ساتھ رکھ دیتا ہے: ”مقررہ وقت“ اور ”تیزی سے“۔ خدا کا وقت طے شدہ ہے، اور جب وہ آتا ہے تو دیر نہیں لگاتا؛ لیکن اُس کے آنے تک کا فاصلہ ہماری عمر سے لمبا ہو سکتا ہے۔ ایمان کا مطلب یہی ہے کہ ہم اُس فصل میں شامل ہونے پر راضی ہوں جسے شاید ہم خود نہ کاٹیں۔ یہ تسلی نہیں، تربیت ہے۔
تفصیل
عبرانی میں یہ آخری فقرہ دو لفظوں پر ٹِکا ہے: عِتّاہ یعنی ”اُس کا اپنا مقررہ وقت“، اور اَحیشِنّاہ یعنی ”میں اُسے جلد لاؤں گا“۔ بظاہر یہ ایک دوسرے کی نفی کرتے ہیں۔ مقررہ وقت کا مطلب انتظار ہے، جلدی کا مطلب فوراً۔ لیکن یہاں تضاد نہیں، بلکہ خدا کی حکمرانی کا نقشہ ہے۔ فصل کی کٹائی کا دن پہلے سے طے ہوتا ہے، مگر جب وہ آتا ہے تو درانتی ایک لمحہ نہیں رُکتی۔ اور غور کیجیے کہ فقرے کے بیچ میں ”مَیں، رب“ کھڑا ہے، جیسے کوئی دستاویز پر مہر لگا دے۔ سارے وعدے کا وزن نہ قوم کی صلاحیت پر ہے، نہ حالات کے رخ پر، بلکہ اُس نام پر جو خود بولتا ہے۔
پس منظر
تصور کیجیے: فارسی سلطنت کے دور کا یروشلم، ایک چھوٹا سا صوبہ جس کا نام یہود ہے۔ فصیل کے پتھر ابھی ملبے میں پڑے ہیں، ہیکل دوبارہ بن تو گئی مگر بوڑھے لوگ اُسے دیکھ کر روتے ہیں کیونکہ پہلی والی یاد ہے۔ گلیوں میں مٹی، بکریوں کی بو، آدھے خالی محلے۔ شہر میں لوگ اِتنے کم کہ آبادی بڑھانے کے لیے قرعہ ڈالنا پڑا۔ اُس دنیا میں کنبے کی عزت اُس کے مردوں کی تعداد سے ناپی جاتی تھی؛ نسب نامے صرف کاغذی کارروائی نہیں، بقا کا سرٹیفکیٹ تھے۔ اور اِسی ماحول میں نبی نے سونے سے لدے اونٹوں، ترسیس کے جہازوں اور جھکتے ہوئے بادشاہوں کی تصویریں کھینچی تھیں۔ باب کا اختتام اِس شاندار خواب کو اُس جگہ لے آتا ہے جہاں سننے والا اصل میں کھڑا ہے: چھوٹے خاندان، کمزور کنبے، اور ایک ایسا خدا جو گنتی کے پیچھے سے بول رہے ہیں۔
غور و فکر
آپ کی زندگی کا کون سا ”چھوٹا خاندان“ ہے جسے آپ نے ناکامی کا نام دے دیا ہے، حالانکہ شاید وہ خدا کے ہاتھ سے لگائی ہوئی پنیری ہو؟
اگر آپ کو یقین ہو جائے کہ وقت مقرر کرنا آپ کا کام نہیں، تو آج آپ کس چیز کے لیے زور لگانا چھوڑ دیں گے، اور کس چیز میں وفادار رہیں گے؟
Isaiah 60:22 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یسعیاہ 60:22 کا کیا مطلب ہے؟
یسعیاہ 60:22 کس بارے میں ہے؟
یسعیاہ 60:22 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یسعیاہ 60:22 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یسعیاہ 60:22 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Isaiah 60 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں