یسعیاہ 64:8
متن
ماتم کی ایک لمبی فریاد کے آخر میں، جہاں سب کچھ ٹوٹ چکا ہے، بولنے والے اچانک رُخ بدلتے ہیں۔ ابھی ابھی اُنہوں نے مانا تھا کہ اُن کی نیکیاں "گندے چیتھڑوں کی مانند" ہیں اور وہ خود مُرجھائے ہوئے پتوں کی طرح ہوا میں اُڑے جا رہے ہیں؛ اور پھر، بغیر کسی عذر کے، بغیر کسی صفائی کے، وہ کہتے ہیں: "اے رب، تاہم تُو ہی ہمارا باپ، ہمارا کمہار ہے۔ ہم سب مٹی ہی ہیں جسے تیرے ہاتھ نے تشکیل دیا ہے۔" یہ دلیل نہیں، رشتے کی یاد دہانی ہے۔ گنہگار قوم اپنے جرم سے نظر ہٹائے بغیر اُس ہاتھ کی طرف اشارہ کرتی ہے جس نے اُنہیں بنایا۔ آیت ۹ میں درخواست آتی ہے، مگر یہاں صرف ایک اقرار ہے: ہم تیرے بنائے ہوئے ہیں۔
مرکزی بات
یروشلم کے جلے ہوئے مکانوں کی بو ابھی اُن کے کپڑوں میں بسی ہوئی ہے۔ مندر راکھ ہے، شہر ویران، اور سب سے خوف ناک بات یہ کہ خدا نے "اپنا چہرہ ہم سے چھپا" لیا ہے۔ ایسے لمحے میں انسان کے پاس کیا بچتا ہے؟ کارکردگی نہیں، کیونکہ وہ ناکام ہو چکی۔ قربانیاں نہیں، کیونکہ قربان گاہ جل چکی۔ بچتا ہے صرف یہ: تخلیق کا رشتہ۔ "باپ" اور "کمہار" دو تصویریں ہیں جو ایک ہی بات کہتی ہیں، تُو نے ہمیں وجود بخشا، اور بنانے والا اپنے بنائے ہوئے کو یوں ہی نہیں چھوڑتا۔ یہی فضل کی جڑ ہے: نجات انسان کی لیاقت پر نہیں بلکہ خدا کی ملکیت اور محبت پر کھڑی ہے۔ مٹی اپنی صفائی پیش نہیں کرتی؛ وہ صرف کمہار کے ہاتھ میں پڑی رہتی ہے، اور یہی اُس کی واحد اُمید ہے۔
مشترکہ دھاگا
کمہار کی تصویر اسرائیل کے لیے نئی نہیں تھی۔ یرمیاہ کو کمہار کے گھر بھیجا گیا تھا تاکہ وہ دیکھے کہ بگڑا ہوا برتن دوبارہ چاک پر رکھا جاتا ہے، نہ کہ کوڑے میں پھینکا جاتا ہے۔ جلاوطنی کے بعد کی اس نسل کے لیے یہ یاد دہانی زندگی اور موت کا فرق تھی: جو ہاتھ توڑ سکتا ہے، وہی نئے سرے سے گوندھ سکتا ہے۔ اور یہی دھاگا مسیح تک جاتا ہے۔ آیت ۱ کی فریاد، "کاش تُو آسمان کو پھاڑ کر اُتر آئے"، بغیر جواب کے نہیں رہی؛ خدا واقعی اُترا، مگر پہاڑوں کو ہلانے والی آگ کے طور پر نہیں بلکہ اُس بڑھئی کے بیٹے کے طور پر جس کے ہاتھ مٹی سے واقف تھے۔ کمہار خود مٹی میں اُترا تاکہ ٹوٹے ہوئے برتن کو نئے سرے سے تشکیل دے۔
آئینہ
ہم میں سے اکثر خدا کے سامنے وکیل بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم اپنی خدمت، اپنی دیانت، اپنی قربانیاں گنواتے ہیں، جیسے دعا ایک انٹرویو ہو جس میں اپنا سی وی پیش کرنا ضروری ہے۔ یہ آیت وہ سی وی ہاتھ سے لے لیتی ہے۔ جب آپ کی نوکری ختم ہو جائے، جب بیماری آپ کی کارکردگی چھین لے، جب آپ کے بچے وہ راستہ چنیں جس کے لیے آپ نے دعا نہیں کی تھی، اُس وقت آپ کے پاس پیش کرنے کو کچھ نہیں بچتا۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں یہ آیت سانس دیتی ہے: آپ کی قیمت آپ کی پیداوار میں نہیں، بنانے والے کے ہاتھ میں ہے۔ آج ایک کام کریں: اپنی ہتھیلیاں کھول کر، بلند آواز میں یہ جملہ دہرائیں، "تُو ہی میرا کمہار ہے، میں تیری مٹی ہوں"، اور اُس کے بعد کوئی وضاحت، کوئی عذر پیش نہ کریں۔
باریک بات
اردو ترجمے کا چھوٹا سا لفظ "تاہم" پوری آیت کا قبضہ ہے جس پر دروازہ گھومتا ہے۔ اِس سے پہلے سات آیتیں اندھیری ہیں: ناپاکی، گندے چیتھڑے، مُرجھائے پتے، چھپا ہوا چہرہ، اور یہ خوف ناک جملہ کہ خدا نے "ہمیں ہمارے قصوروں کے حوالے چھوڑ دیا ہے"۔ پھر یہ ایک لفظ آتا ہے اور سب کچھ موڑ دیتا ہے۔ یہ لفظ گناہ کو جھٹلاتا نہیں، اُس کے باوجود بولتا ہے۔ ایمان اکثر یہی ہوتا ہے: حقیقت کو پورا تسلیم کرنا اور پھر بھی خدا کا دامن نہ چھوڑنا۔ یہ لفظ بتاتا ہے کہ دعا اُس وقت بھی ممکن ہے جب ہر دلیل خاموش ہو چکی ہو۔ صرف رشتہ باقی رہے، تو وہ کافی ہے۔
سوال
اگر خدا کمہار ہے اور ہم محض مٹی، تو کیا ہمارے گناہ کی ذمہ داری بھی اُسی کی نہیں؟ کیا یہ تصویر ایک چالاک بہانہ نہیں کہ برتن اپنی ٹیڑھ کا الزام بنانے والے پر ڈال دے؟ متن اِس سوال کو کھلا چھوڑتا ہے، اور ایمان داری یہی ہے کہ ہم اُسے بند نہ کریں۔ کیونکہ وہی لوگ جو اپنے آپ کو مٹی کہتے ہیں، آیت ۵ میں صاف اقرار کرتے ہیں: "ہم شروع سے تیرا گناہ کر کے تجھ سے بےوفا رہے ہیں"۔ وہ ذمہ داری سے بھاگ نہیں رہے؛ وہ ذمہ داری اُٹھا کر کمہار کے پاس آ رہے ہیں۔ ہم کیوں بگڑے، اِس کا پورا جواب کلام نہیں دیتا۔ وہ صرف اتنا کہتا ہے کہ چاک ابھی رُکا نہیں۔
پس منظر
یہ الفاظ بابل کی جلاوطنی کے سائے میں بولے گئے، ایک ایسی قوم کی طرف سے جس کی ہر علامت چھن چکی تھی۔ قدیم مشرق میں ہر دیوتا کی طاقت اُس کے مندر سے ناپی جاتی تھی؛ مندر جل جائے تو دنیا کہتی تھی کہ دیوتا ہار گیا۔ اسرائیل کے لوگ یہ طعنہ سن رہے تھے: "ہمارا مُقدّس اور شاندار گھر … نذرِ آتش ہو گیا ہے"۔ وہ بےوطن، بےعزت، اور شکست خوردہ تھے۔ ایسے ماحول میں "باپ" کہنا سیاسی بیان کے برابر تھا، کیونکہ باپ کا مطلب تھا وراثت، تحفظ اور نام۔ اور "کمہار" وہ کاریگر تھا جسے وہ روز بازار میں پاؤں سے چاک گھماتے دیکھتے تھے، مٹی پر جھکا ہوا، صبر سے ایک ناکام برتن کو دوبارہ گوندھتا ہوا۔
غور و فکر
جب آپ دعا میں خدا کے سامنے آتے ہیں، تو سب سے پہلے کیا پیش کرتے ہیں: اپنی کارکردگی، اپنی صفائی، یا صرف یہ کہ آپ اُس کے بنائے ہوئے ہیں؟
آپ کی زندگی کا کون سا حصہ اِس وقت "گندے چیتھڑوں" جیسا محسوس ہوتا ہے، اور کیا آپ اُسے چھپانے کے بجائے چاک پر رکھنے کو تیار ہیں؟
Isaiah 64:8 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یسعیاہ 64:8 کا کیا مطلب ہے؟
یسعیاہ 64:8 کس بارے میں ہے؟
یسعیاہ 64:8 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یسعیاہ 64:8 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یسعیاہ 64:8 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Isaiah 64 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں