بائبل کی تشریح

یسعیاہ 66

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

باب کا آغاز ایک ایسے سوال سے ہوتا ہے جو ہر عمارت کو چھوٹا کر دیتا ہے: ”آسمان میرا تخت ہے اور زمین میرے پاؤں کی چوکی، تو پھر وہ گھر کہاں ہے جو تم میرے لئے بناؤ گے؟“ اِس کے بعد خداوند دو گروہوں کو الگ کرتا ہے: ایک طرف وہ لوگ جو قربانیاں چڑھاتے ہیں مگر جن کی جان ”اپنی گھنونی چیزوں سے لطف اندوز“ ہوتی ہے، دوسری طرف وہ جو ”مصیبت زدہ اور شکستہ دل“ ہیں اور کلام کے سامنے کانپتے ہیں۔ پھر صیون کی اچانک پیدائش، ماں جیسی تسلی، اقوام میں جلال کا اعلان، نیا آسمان اور نئی زمین، اور آخر میں سرکشوں کی لاشوں کا وہ منظر جس سے کلام ختم ہوتا ہے۔

مرکزی بات

آیت ۳ جان بوجھ کر ٹھیس پہنچاتی ہے۔ بَیل ذبح کرنے والا قاتل کے برابر، بخور جلانے والا بُت پرست کی مانند۔ یہ قربانی کے نظام پر حملہ نہیں ہے؛ یہ اُس آدمی پر حملہ ہے جو ہیکل میں ٹھیک وہی کرتا ہے جو مقرر ہے اور باغ میں جا کر خفیہ رسمیں بھی نبھاتا ہے (آیت ۱۷)۔ خدا کے نزدیک درست عمل غلط دل کے ساتھ مل کر عمل کو پاک نہیں کرتا، بلکہ عمل کو بھی آلودہ کر دیتا ہے۔ اور اِس کے مقابل خدا کی نظر کہاں ہے؟ اُس شخص پر ”جو مصیبت زدہ اور شکستہ دل ہے، جو میرے کلام کے سامنے کانپتا ہے“۔ کائنات کا مالک جگہ نہیں مانگتا، وہ ایسا دل مانگتا ہے جو اُس کی بات سن کر ہل جائے۔

سلسلۂ کلام

یسعیاہ کی پوری کتاب یہیں آ کر دم لیتی ہے: خدا اپنے لوگوں کو تسلی دیتا ہے اور قوموں کو اپنے جلال میں شامل کرتا ہے۔ آیت ۱۹ میں بچے ہوئے لوگ ترسیس، لُدیہ، یونان اور دُوردراز جزیروں تک بھیجے جاتے ہیں تاکہ وہاں خدا کے جلال کا اعلان کریں۔ یہ مشن کی وہ پہلی لکیر ہے جو بعد میں رسولوں کے قدموں میں پوری ہوتی ہے۔ اور آیت ۲۱ حیران کن ہے: اِن غیریہودیوں میں سے بعض کو امام اور لاوی کا عُہدہ ملے گا۔ نسب نہیں، فضل تقسیم کرتا ہے۔ مسیح میں یہی ہوا: جو دُور تھے وہ نہ صرف اندر آئے بلکہ خدمت کے لیے مقرر کیے گئے۔ ساتھ ہی آیت ۱۵-۱۶ یاد دلاتی ہے کہ وہی خداوند عدالت کے لیے بھی آتا ہے۔

آئینہ

یہ باب اُس مذہبیت پر انگلی رکھتا ہے جو ناپ تول کر برتی جاتی ہے۔ آپ اتوار کو حاضر ہیں، ہدیہ دیتے ہیں، گروپ کی قیادت کرتے ہیں، اور ساتھ ہی دفتر میں وہ سمجھوتے بھی چل رہے ہیں جن کا نام آپ کسی کو نہیں بتاتے: حسابوں میں معمولی ہیرا پھیری، ماتحت کے ساتھ وہ لہجہ جو گھر میں کبھی برداشت نہ ہو، فون پر وہ عادت جس سے ”جان لطف اندوز“ ہوتی ہے۔ آیت ۳ کہتی ہے کہ عبادت اِن چیزوں کو ڈھانپتی نہیں، صرف ڈھٹائی بڑھاتی ہے۔ اور آیت ۵ ایک اور چبھن رکھتی ہے: بعض اوقات مذاق اُڑانے والے ”تمہارے اپنے بھائی“ ہوتے ہیں، یعنی وہی جماعت کے لوگ۔ خدا کی نظر مگر وہیں ہے جہاں ہم دیکھنا نہیں چاہتے: ٹوٹے ہوئے پر۔ تو آج دس منٹ نکالیں اور اُس ایک شخص کو، جس کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ وہ اِن دنوں ٹوٹا ہوا ہے، پیغام نہ بھیجیں بلکہ فون کریں اور صرف یہ پوچھیں: ”سچ بتائیں، آپ کیسے ہیں؟“ اور سنیں۔

پس منظر

یہ کلام جلاوطنی کے بعد کی فضا میں سانس لیتا ہے۔ یروشلم کھنڈر سے اُٹھ رہا ہے، ہیکل کی تعمیر کا سوال زندہ ہے، اور قوم اندر سے بٹی ہوئی ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو عمارت اور رسم کو بحالی کا ثبوت سمجھتے ہیں؛ دوسری طرف باغوں کی خفیہ عبادتیں، سؤر اور چوہے کا گوشت، یعنی وہ رسمیں جو پڑوسی قوموں سے اُدھار لی گئی تھیں اور خدا کی شریعت کے بالکل خلاف تھیں۔ اِس ماحول میں ”شکستہ دل“ اقلیت ہے، طاقت اُن کے پاس نہیں۔ اُن کا مذاق اُڑانے والے اُن سے زیادہ مضبوط اور زیادہ مذہبی دکھتے ہیں۔ آیت ۶ کا شور اِسی لیے اہم ہے: انصاف باہر سے نہیں، ”رب کے گھر سے“ شروع ہوتا ہے۔

پہلے سننے والے

جنہوں نے یہ پہلی بار سنا، اُن کے لیے آیات ۷-۹ کسی خواب سے کم نہ تھیں: ایک قوم ایک ہی دن میں، دردِ زہ سے پہلے ہی پیدا ہو جائے؟ وہ سست، مشکل، ناکافی بحالی کے عادی تھے۔ خدا اُن سے کہتا ہے کہ وہ ایسا بچہ پیدا ہونے سے نہیں روکے گا جسے وہ خود یہاں تک لایا ہے۔ اور آیت ۱۳ کا استعارہ اُن مردوں کے کانوں میں کتنا نرم لگا ہوگا جو خدا کو صرف فوجی سردار کے روپ میں سوچتے تھے: ”مَیں تمہیں ماں کی سی تسلی دوں گا۔“ مگر باب کا اختتام اُنہیں راحت میں سونے نہیں دیتا۔ سجدہ کرنے والے شہر سے نکل کر سرکشوں کی لاشیں دیکھیں گے۔ بحالی سستی نہیں ہے؛ اُس کی قیمت عدالت ہے۔

کلام سے کلام کی تفسیر

آیت ۲۴ کا نہ بجھنے والی آگ اور نہ مرنے والے کیڑے کا منظر خداوند یسوع نے مرقس ۹ میں خود دہرایا، جب اُس نے گناہ کے ساتھ رعایت برتنے کے خلاف سخت ترین بات کہی۔ یعنی جہنم کا سب سے تیز بیان محبت کرنے والے نجات دہندہ کے منہ سے آیا، اور وہ اِسی صحیفے سے لیا گیا۔ دوسری طرف آیت ۲۲ کا ”نیا آسمان اور نئی زمین“ مکاشفہ ۲۱ میں مکمل ہوتا ہے، جہاں خدا کے آنسو پونچھنے کی وہی مادرانہ تصویر لوٹ آتی ہے۔ دونوں حوالے مل کر بتاتے ہیں کہ یسعیاہ ۶۶ کوئی پرانی دھمکی نہیں: یہ وہی دو راستے ہیں جن پر آج بھی ہم کھڑے ہیں۔

غور و فکر کے سوالات

میری زندگی میں وہ کون سی ”درست“ مذہبی عادت ہے جو دراصل کسی ایسی چیز کو ڈھانپ رہی ہے جس کا نام میں کسی کے سامنے نہیں لیتا؟

اگر خدا کی نظر خاص طور پر شکستہ دل پر ہے، تو اِس ہفتے میری نظر کہاں تھی، اور کس کو مَیں نے دیکھنے سے گریز کیا؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Isaiah 66 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یسعیاہ 66 کا کیا مطلب ہے؟
باب کا آغاز ایک ایسے سوال سے ہوتا ہے جو ہر عمارت کو چھوٹا کر دیتا ہے: ”آسمان میرا تخت ہے اور زمین میرے پاؤں کی چوکی، تو پھر وہ گھر کہاں ہے جو تم میرے لئے بناؤ گے؟“ اِس کے بعد خداوند دو گروہوں کو الگ کرتا ہے: ایک طرف وہ لوگ جو قربانیاں چڑھاتے ہیں مگر جن کی جان ”اپنی گھنونی چیزوں سے لطف اندوز“ ہوتی ہے، دوسری طرف وہ جو ”مصیبت زدہ اور شکستہ دل“ ہیں اور کلام کے سامنے کانپتے ہیں۔ پھر صیون کی اچانک پیدائش، ماں جیسی تسلی، اقوام میں جلال کا اعلان، نیا آسمان اور نئی زمین، اور آخر میں سرکشوں کی لاشوں کا وہ منظر جس سے کلام ختم ہوتا ہے۔
یسعیاہ 66 کس بارے میں ہے؟
یسعیاہ کی پوری کتاب یہیں آ کر دم لیتی ہے: خدا اپنے لوگوں کو تسلی دیتا ہے اور قوموں کو اپنے جلال میں شامل کرتا ہے۔ آیت ۱۹ میں بچے ہوئے لوگ ترسیس، لُدیہ، یونان اور دُوردراز جزیروں تک بھیجے جاتے ہیں تاکہ وہاں خدا کے جلال کا اعلان کریں۔ یہ مشن کی وہ پہلی لکیر ہے جو بعد میں رسولوں کے قدموں میں پوری ہوتی ہے۔ اور آیت ۲۱ حیران کن ہے: اِن غیریہودیوں میں سے بعض کو امام اور لاوی کا عُہدہ ملے گا۔ نسب نہیں، فضل تقسیم کرتا ہے۔ مسیح میں یہی ہوا: جو دُور تھے وہ نہ صرف اندر آئے بلکہ خدمت کے لیے مقرر کیے گئے۔ ساتھ ہی آیت ۱۵-۱۶ یاد دلاتی ہے کہ وہی خداوند عدالت کے لیے بھی آتا ہے۔
یسعیاہ 66 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یہ کلام جلاوطنی کے بعد کی فضا میں سانس لیتا ہے۔ یروشلم کھنڈر سے اُٹھ رہا ہے، ہیکل کی تعمیر کا سوال زندہ ہے، اور قوم اندر سے بٹی ہوئی ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو عمارت اور رسم کو بحالی کا ثبوت سمجھتے ہیں؛ دوسری طرف باغوں کی خفیہ عبادتیں، سؤر اور چوہے کا گوشت، یعنی وہ رسمیں جو پڑوسی قوموں سے اُدھار لی گئی تھیں اور خدا کی شریعت کے بالکل خلاف تھیں۔ اِس ماحول میں ”شکستہ دل“ اقلیت ہے، طاقت اُن کے پاس نہیں۔ اُن کا مذاق اُڑانے والے اُن سے زیادہ مضبوط اور زیادہ مذہبی دکھتے ہیں۔ آیت ۶ کا شور اِسی لیے اہم ہے: انصاف باہر سے نہیں، ”رب کے گھر سے“ شروع ہوتا ہے۔
یسعیاہ 66 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
آیت ۲۴ کا نہ بجھنے والی آگ اور نہ مرنے والے کیڑے کا منظر خداوند یسوع نے مرقس ۹ میں خود دہرایا، جب اُس نے گناہ کے ساتھ رعایت برتنے کے خلاف سخت ترین بات کہی۔ یعنی جہنم کا سب سے تیز بیان محبت کرنے والے نجات دہندہ کے منہ سے آیا، اور وہ اِسی صحیفے سے لیا گیا۔ دوسری طرف آیت ۲۲ کا ”نیا آسمان اور نئی زمین“ مکاشفہ ۲۱ میں مکمل ہوتا ہے، جہاں خدا کے آنسو پونچھنے کی وہی مادرانہ تصویر لوٹ آتی ہے۔ دونوں حوالے مل کر بتاتے ہیں کہ یسعیاہ ۶۶ کوئی پرانی دھمکی نہیں: یہ وہی دو راستے ہیں جن پر آج بھی ہم کھڑے ہیں۔
یسعیاہ 66 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر خدا کی نظر خاص طور پر شکستہ دل پر ہے، تو اِس ہفتے میری نظر کہاں تھی، اور کس کو مَیں نے دیکھنے سے گریز کیا؟

Isaiah 66 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟

اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟