ایوب 11
متن کا خلاصہ
ایوب کے تیسرے دوست ضوفر نعماتی کا پہلا کلام شروع ہوتا ہے، اور وہ بغیر کسی تمہید کے وار کرتا ہے: کیا اِن "خالی باتوں" کا جواب نہ دیا جائے؟ وہ ایوب پر بےمعنی بکواس اور خود کو پاک سمجھنے کا الزام لگاتا ہے، اور پھر خدا کی ناقابلِ پیمائش حکمت کا ایک شاندار بیان پیش کرتا ہے: وہ آسمان سے بلند، پاتال سے گہرا، زمین سے لمبا، سمندر سے چوڑا ہے۔ آخر میں وہ ایک صاف شرط رکھتا ہے: دل خدا کی طرف مائل کر، گناہ کو خیمے سے نکال، تب تیری تاریکی صبح کی مانند روشن ہو جائے گی۔
اصل بات
ضوفر کی تقریر کا المیہ یہ ہے کہ اُس کی تقریباً ہر بات درست ہے۔ ہاں، خدا کا علم انسان کی پہنچ سے باہر ہے؛ ہاں، گناہ کو خیمے سے نکالنا چاہئے؛ ہاں، توبہ کرنے والے کو سلامتی ملتی ہے۔ مگر درست بات غلط آدمی پر لگائی جائے تو وہ جھوٹ بن جاتی ہے۔ ضوفر خدا کی ناقابلِ فہم عظمت کو ایک ہتھیار بناتا ہے: چونکہ تُو خدا کا راز نہیں کھول سکتا، اِس لئے مان لے کہ تُو قصوروار ہے۔ یہ الٰہیات کی سب سے خطرناک قسم ہے، وہ جو خدا کے بھید کا نام لے کر دراصل اپنی سادہ سی سزا و جزا کی مشین چلاتی ہے۔ آیت 6 میں تو وہ حد ہی کر دیتا ہے: "اللہ تیرے گناہ کا کافی حصہ درگزر کر رہا ہے۔" یعنی ایوب جو کچھ بھگت رہا ہے، وہ دراصل رعایت ہے۔
سلسلۂ نجات کی ڈور
ضوفر ایک ایسی خواہش کرتا ہے جو کتاب کے آخر میں پوری ہو جائے گی: "کاش اللہ خود تیرے ساتھ ہم کلام ہو۔" باب 38 میں بالکل یہی ہوتا ہے، خدا آندھی میں سے بولتے ہیں، اور حیرت یہ کہ وہ ضوفر کے ہی سوالات دہراتے ہیں: کیا تُو ناپ سکتا ہے؟ کیا تُو جانتا ہے؟ مگر اُن سوالوں کا مقصد ایوب کو مجرم ثابت کرنا نہیں بلکہ اُسے ایک بہت بڑی دنیا میں کھڑا کرنا ہے۔ اور اُسی باب 42 میں خدا ضوفر سے ناراض ہوتے ہیں، ایوب سے نہیں۔ یہاں سے مسیح تک کی ڈور صاف ہے: ضوفر چاہتا ہے کہ خدا بولیں تاکہ ایوب چپ ہو جائے؛ انجیل میں خدا کا کلام جسم بن کر آیا تاکہ دکھی انسان کے ساتھ بیٹھے۔ ضوفر دُور سے تشخیص کرتا ہے، خداوند یسوع مسیح قریب آ کر دُکھ میں شریک ہوتے ہیں۔
آئینہ
ضوفر ہم میں سے بہت سوں کے اندر بیٹھا ہے، خاص کر اُن میں جو بائبل اچھی طرح جانتے ہیں۔ جب کسی کے ساتھ کوئی بڑا سانحہ ہوتا ہے، کینسر کی تشخیص، بیٹے کی خودکشی، نوکری کا اچانک ختم ہونا، تو ہمارے اندر ایک آواز فوراً وجہ ڈھونڈنے لگتی ہے۔ وجہ مل جائے تو ہم محفوظ ہو جاتے ہیں: اُس نے کچھ کیا ہو گا، میں ویسا نہیں کرتا، لہٰذا میرے ساتھ ایسا نہیں ہو گا۔ تشخیص دراصل ہمدردی نہیں، اپنے خوف کا علاج ہے۔ ضوفر کا "اپنے خیمے میں بُرائی بسنے نہ دے" ایک ایسے آدمی سے کہا جا رہا ہے جس کے خیمے میں دس قبریں ہیں۔
آج ہی کسی ایک ایسے شخص کا نام کاغذ پر لکھیں جو اِس وقت تکلیف میں ہے، اور اُسے ایک پیغام بھیجیں جس میں کوئی نصیحت، کوئی وضاحت، کوئی آیت نہ ہو، صرف یہ کہ آپ اُس کے ساتھ ہیں۔
بین المتون
آیت 8 کی زبان زبور 139 سے عجیب طور پر ملتی ہے: وہاں بھی آسمان کی بلندی اور پاتال کی گہرائی کا ذکر ہے۔ مگر داؤد اُس گہرائی کو تسلی کے طور پر گاتا ہے، کہ کہیں بھی چلا جاؤں خدا وہاں ہیں؛ ضوفر وہی گہرائی ایوب کے سر پر پتھر کی طرح گراتا ہے، کہ تُو کچھ نہیں جان سکتا، لہٰذا چپ ہو جا۔ ایک ہی سچائی، دو بالکل مختلف دل۔ پولس رسول رومیوں 11 کے آخر میں خدا کی حکمت کی گہرائی پر جو حمد گاتا ہے، وہ بھی اِسی کنارے پر کھڑا ہے، مگر وہ گہرائی اُسے رحم کے سامنے سجدہ کراتی ہے، کسی کو مجرم ٹھہرانے کے لئے استعمال نہیں ہوتی۔ آیات 15 سے 19 تک کے وعدے تو استثنا 28 کی برکتوں کی گونج ہیں، مگر ضوفر اُنہیں برکت کے بجائے سودا بنا دیتا ہے: اتنی توبہ دو، اتنی سلامتی لو۔
پس منظر
یہ گفتگو ایوب کے خاکستر کے ڈھیر پر ہو رہی ہے، جہاں تینوں دوست سات دن خاموش بیٹھ چکے ہیں۔ قدیم مشرق میں ایسی مجلس محض ہمدردی نہیں، ایک عوامی عدالت بھی تھی: عزت اور شرم کی دنیا میں یہ طے ہونا ضروری تھا کہ آیا ایوب اب بھی قابلِ احترام آدمی ہے یا خدا کا مردود۔ ضوفر تینوں میں سب سے کم رعایت برتنے والا ہے، اور وہ آخر میں بولتا ہے، یعنی جب الیفز اور بِلدد کی نرم تر کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ اُس کے لہجے میں ایک ایسے آدمی کی جھنجھلاہٹ ہے جو سمجھتا ہے کہ معاملہ صاف ہے اور صرف ملزم ماننے سے انکاری ہے۔
ایک تفصیل
آیت 12 پر رکیں: "یہ اُتنا ہی ناممکن ہے جتنا یہ کہ جنگلی گدھے سے انسان پیدا ہو۔" یہ ایک ضرب المثل ہے، اور اِس میں ضوفر نے ایوب کو انسان کے درجے سے ہی نکال دیا ہے۔ جنگلی گدھا بیابان کا بےلگام، بےکار جانور ہے۔ ضوفر کہہ رہا ہے: تجھ جیسے سے عقل کی توقع رکھنا فطرت کے خلاف ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ باب 39 میں خدا خود اِسی جنگلی گدھے کا ذکر فخر سے کرتے ہیں، اپنی مخلوق کے طور پر، جسے اُنہوں نے آزاد بنایا۔ ضوفر جس جانور کو گالی بناتا ہے، خالق اُسے اپنی حکمت کا نمونہ کہتے ہیں۔ یہی اِس پورے باب کا خلاصہ ہے: ضوفر خدا کی عظمت کا نام لیتا ہے مگر اُس عظمت کو پہچانتا نہیں۔
غور و فکر
کیا میں نے کبھی کسی دکھی شخص کو دی گئی اپنی "درست" بات کے پیچھے چھپے اپنے خوف کو پہچانا ہے؟
خدا کی ناقابلِ فہم عظمت میرے لئے تسلی ہے یا دوسروں کو خاموش کرانے کا ہتھیار؟
Job 11 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
ایوب 11 کا کیا مطلب ہے؟
ایوب 11 کس بارے میں ہے؟
ایوب 11 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
ایوب 11 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
ایوب 11 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Job 11 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو فریب دہ لوگوں کو جانتا ہے اور جب تجھے بدی نظر آتی ہے تو تُو اُس پر دھیان دیتا ہے۔ مجھے اپنی صفائی پیش کرنے کی فکر میں گھلنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ جو کچھ لوگوں سے چھپا ہے وہ تیری نظر سے چھپا نہیں۔ تیرا انصاف میرا سکون ہے۔
ضوفر کی خواہش تھی، "کاش اللہ خود بات کرے، کاش وہ اپنے ہونٹوں کو کھول کر تجھ سے ہم کلام ہو۔" مگر وہ چاہتا تھا کہ خدا اُس کے دوست کے خلاف بولے۔ اور جب خدا واقعی بولا، تو اُس نے ایوب کو نہیں، اِن دوستوں کو جھڑکا۔ ذرا سوچ، کیا تُو بھی کبھی خدا کو دلیل کی طرح کسی کے سر پر مارنا چاہتا ہے؟ اُس کی آواز ہمیں توڑنے نہیں، شفا دینے آتی ہے۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں کا گناہ دُور کریں اور ناانصافی کو اپنے خیموں میں بسنے نہ دیں۔ شکریہ کہ تُو ہمارے گھروں کو صاف کرنے کی طاقت بھی خود عطا کرتا ہے اور ہمیں اپنے حضور کھڑا ہونے کی ہمت دیتا ہے۔
خداوند، تیرا شکر کہ تیری موجودگی میں مَیں "آرام سے لیٹ" سکتا ہوں اور کوئی مجھے ڈرا نہیں سکتا۔ رات کے اندھیرے میں جب فکریں جاگتی ہیں، تُو میرے دل کو تسلی دیتا اور نیند بخشتا ہے۔ شکر کہ میری حفاظت تیرے ہاتھ میں ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
