بائبل کی تشریح

یوحنا 1

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

"ابتدا میں کلام تھا" — یوحنا اپنی انجیل کا آغاز اُسی جگہ سے کرتا ہے جہاں سے توریت شروع ہوتی ہے، لیکن اب وہ ابتدا ایک شخص کے گرد گھومتی ہے: ازلی کلام، جس کے وسیلے سے سب کچھ پیدا ہوا، جس میں زندگی اور نور ہے، اور جس پر تاریکی قابو نہ پا سکی۔ یہ کلام "انسان بن کر ہمارے درمیان رہائش پذیر ہوا"، اپنوں کے پاس آیا اور اپنوں نے اُسے قبول نہ کیا، مگر جنہوں نے قبول کیا اُنہیں اللہ کے فرزند بننے کا حق ملا۔ اِس کے بعد باب زمین پر اُتر آتا ہے: یحییٰ یردن کے پار اماموں اور لاویوں کے سامنے اپنے بارے میں چار بار نفی کرتا ہے، پھر عیسیٰ کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے، "دیکھو، یہ اللہ کا لیلا ہے"، اور دو شاگرد اُس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ باب کا اختتام نتن ایل کے اقرار اور ایک عجیب وعدے پر ہوتا ہے: کھلا آسمان اور فرشتے ابنِ آدم پر اُترتے ہوئے۔

مرکزی بات

اِس باب کی دھڑکن آیت 18 میں ہے: "کسی نے کبھی بھی اللہ کو نہیں دیکھا۔ لیکن اکلوتا فرزند جو اللہ کی گود میں ہے اُسی نے اللہ کو ہم پر ظاہر کیا ہے۔" یہ محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک پرانے زخم کا جواب ہے۔ موسیٰ نے سینا پر خدا کا جلال دیکھنا چاہا اور اُسے صرف پیٹھ دکھائی گئی؛ یہاں وہی جلال ایک چہرے میں، ایک آواز میں، ایک جسم میں ہمارے درمیان خیمہ زن ہو جاتا ہے۔ اِس لیے یوحنا شریعت کو ردّ نہیں کرتا بلکہ اُس سے آگے بڑھتا ہے: "شریعت موسیٰ کی معرفت دی گئی، لیکن اللہ کا فضل اور سچائی عیسیٰ مسیح کے وسیلے سے قائم ہوئی۔" اور اِس ظہور کا نتیجہ خاندانی ہے، تعلیمی نہیں: اللہ کے فرزند وہ بنتے ہیں جو نہ خون سے، نہ نسب سے، نہ کسی مذہبی کوشش سے، بلکہ خدا سے پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی آپ کی اصل شناخت آپ کی کارکردگی نہیں، ایک عطا ہے۔

مشترکہ دھاگا

یوحنا کی ابتدائی آیتیں پیدایش کے پہلے باب کی گونج ہیں: وہاں خدا بولتا ہے اور روشنی ہو جاتی ہے، یہاں وہی بولنے والا کلام خود روشنی بن کر تاریکی میں کھڑا ہے۔ لیکن یوحنا تخلیق پر نہیں رُکتا۔ کلام "انسان بن کر ہمارے درمیان رہائش پذیر ہوا" میں وہ سارا سفر سمٹا ہوا ہے جو سینا سے شروع ہو کر خیمۂ اجتماع اور ہیکل سے گزرتا ہے: خدا ہمیشہ اپنی قوم کے بیچ بسنا چاہتا تھا، پہلے بادل اور پردوں کے پیچھے، اب گوشت پوست میں۔ اور جب یحییٰ "اللہ کا لیلا" کہتا ہے تو مصر کی فسح کی رات اور ہیکل کی قربان گاہ دونوں ایک ساتھ سنائی دیتے ہیں، مگر ایک فرق کے ساتھ: یہ لیلا صرف ایک گھرانے کا نہیں، "دنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے"۔ تخلیق، رہائش، قربانی: پوری کہانی ایک شخص میں جمع ہو جاتی ہے۔

آئینہ

غور کیجیے کہ یحییٰ اپنے بارے میں چار بار نفی کرتا ہے: "مَیں مسیح نہیں ہوں"، الیاس نہیں، نبی نہیں، اور آخر میں صرف ایک آواز۔ یہ عاجزی کی ادا نہیں بلکہ آزادی ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ اُس بوجھ تلے دبے ہیں جو کبھی ہمارا تھا ہی نہیں: وہ باپ جو سمجھتا ہے کہ بچوں کا ایمان اُس کی کارکردگی پر منحصر ہے، وہ جماعت کا بزرگ جو ہر ٹوٹے رشتے کو خود جوڑنا چاہتا ہے، وہ عورت جو دفتر اور گھر دونوں میں ناگزیر بننے کی کوشش میں خالی ہو چکی ہے۔ اور دوسری طرف نتن ایل کا طنز، "ناصرت؟"، ہمارے اندر کی اُس فہرست کو بے نقاب کرتا ہے جس میں ہم نے طے کر رکھا ہے کہ کس قسم کے لوگوں سے کچھ اچھا نہیں نکل سکتا۔ آج دس منٹ نکالیے: ایک کاغذ پر لکھیے "مَیں مسیح نہیں ہوں"، اُس کے نیچے وہ ایک ذمہ داری لکھیے جو آپ نے نجات دہندہ کی طرح اُٹھا رکھی ہے، اور بلند آواز سے خداوند کے حوالے کر دیجیے۔

ایک باریک بات

"رہائش پذیر ہوا" کے پیچھے یونانی فعل ہے اسکینوؤ، یعنی خیمہ لگانا۔ یوحنا یہ نہیں کہتا کہ کلام نے مکان بنایا یا محل تعمیر کیا؛ اُس نے خیمہ گاڑا۔ یہ لفظ اُسی خیمے کی یاد دلاتا ہے جو بنی اسرائیل ریگستان میں اُٹھائے پھرتے تھے اور جس پر جلال کا بادل اُترا تھا۔ خیمہ عارضی ہوتا ہے، نازک، ہَوا اور دھوپ کے رحم و کرم پر؛ اور یہی اِس آیت کی چُبھن ہے۔ خدا نے ہمارے درمیان آنے کے لیے وہ طریقہ چنا جو سب سے زیادہ غیر محفوظ تھا۔ اور اِسی خیمے کے اندر، یوحنا کہتا ہے، "ہم نے اُس کے جلال کا مشاہدہ کیا"۔ جلال ہیکل کے سونے میں نہیں، ایک ناصری کے عارضی جسم میں دیکھا گیا۔

پہلے سامعین

یہ انجیل ایسے لوگوں کے لیے لکھی گئی جو اپنی ہی برادری سے کٹ چکے تھے۔ مسیح پر ایمان لانے والے یہودیوں کو عبادت خانوں سے نکالا جا رہا تھا، اور اُن کے کانوں میں آیت 11، "اُس کے اپنوں نے اُسے قبول نہ کیا"، محض تاریخ نہیں بلکہ اُن کا اپنا تجربہ تھا۔ اُن کے لیے آیت 12 ایک نیا شجرۂ نسب تھی: جو دروازہ بند ہوا، اُس کی جگہ فرزندیت کا حق کھلا۔ ساتھ ہی یحییٰ کے کچھ شاگرد اب بھی موجود تھے، اِس لیے یہ زور دینا ضروری تھا کہ "وہ خود تو نور نہ تھا"۔ اور یروشلم سے بھیجے گئے امام اور لاوی؟ وہ مرکز کی طرف سے حاشیے کی جانچ کرنے آئے تھے، جیسے ہر مذہبی ادارہ کرتا ہے جب کوئی بغیر اجازت کے خدا کا کام شروع کر دے۔

بین المتنی گونج

باب کا آخری جملہ سب سے زیادہ کھلتا ہے جب آپ پیدایش 28 کو ساتھ رکھیں۔ یعقوب، جو مکر کا آدمی تھا، بیت ایل میں خواب دیکھتا ہے: ایک سیڑھی، اور فرشتے اُس پر چڑھتے اُترتے ہوئے۔ یسوع نتن ایل سے کہتے ہیں، "تم آسمان کو کھلا اور اللہ کے فرشتوں کو اوپر چڑھتے اور ابنِ آدم پر اُترتے دیکھو گے"۔ سیڑھی اب ایک شخص ہے۔ اور یہ وعدہ اُس آدمی سے کیا گیا جسے یسوع نے ابھی "سچا اسرائیلی … جس میں مکر نہیں" کہا تھا، یعنی یعقوب کا اُلٹ۔ دوسری گونج خروج 34 کی ہے، جہاں خداوند موسیٰ کے سامنے سے گزرتے ہوئے خود کو شفقت اور وفاداری سے معمور کہتا ہے؛ یوحنا وہی جوڑا اُٹھا کر مسیح پر رکھ دیتا ہے: "فضل اور سچائی سے معمور"۔ جو خدا سینا پر صرف الفاظ میں گزرا تھا، وہ اب چل کر یردن کے کنارے سے گزرتا ہے۔

غور و فکر

یحییٰ کی نفی ("مَیں مسیح نہیں ہوں") کس طرح آپ کے لیے بوجھ نہیں بلکہ راحت بن سکتی ہے؟

اگر خدا کا جلال ایک "خیمے" میں ظاہر ہوا، تو آپ اپنی زندگی کے کس شکستہ یا عارضی حصے میں اُسے تلاش کرنے سے گریز کر رہے ہیں؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

John 1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یوحنا 1 کا کیا مطلب ہے؟
"ابتدا میں کلام تھا" — یوحنا اپنی انجیل کا آغاز اُسی جگہ سے کرتا ہے جہاں سے توریت شروع ہوتی ہے، لیکن اب وہ ابتدا ایک شخص کے گرد گھومتی ہے: ازلی کلام، جس کے وسیلے سے سب کچھ پیدا ہوا، جس میں زندگی اور نور ہے، اور جس پر تاریکی قابو نہ پا سکی۔ یہ کلام "انسان بن کر ہمارے درمیان رہائش پذیر ہوا"، اپنوں کے پاس آیا اور اپنوں نے اُسے قبول نہ کیا، مگر جنہوں نے قبول کیا اُنہیں اللہ کے فرزند بننے کا حق ملا۔ اِس کے بعد باب زمین پر اُتر آتا ہے: یحییٰ یردن کے پار اماموں اور لاویوں کے سامنے اپنے بارے میں چار بار نفی کرتا ہے، پھر عیسیٰ کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے، "دیکھو، یہ اللہ کا لیلا ہے"، اور دو شاگرد اُس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ باب کا اختتام نتن ایل کے اقرار اور ایک عجیب وعدے پر ہوتا ہے: کھلا آسمان اور فرشتے ابنِ آدم پر اُترتے ہوئے۔
یوحنا 1 کس بارے میں ہے؟
یوحنا کی ابتدائی آیتیں پیدایش کے پہلے باب کی گونج ہیں: وہاں خدا بولتا ہے اور روشنی ہو جاتی ہے، یہاں وہی بولنے والا کلام خود روشنی بن کر تاریکی میں کھڑا ہے۔ لیکن یوحنا تخلیق پر نہیں رُکتا۔ کلام "انسان بن کر ہمارے درمیان رہائش پذیر ہوا" میں وہ سارا سفر سمٹا ہوا ہے جو سینا سے شروع ہو کر خیمۂ اجتماع اور ہیکل سے گزرتا ہے: خدا ہمیشہ اپنی قوم کے بیچ بسنا چاہتا تھا، پہلے بادل اور پردوں کے پیچھے، اب گوشت پوست میں۔ اور جب یحییٰ "اللہ کا لیلا" کہتا ہے تو مصر کی فسح کی رات اور ہیکل کی قربان گاہ دونوں ایک ساتھ سنائی دیتے ہیں، مگر ایک فرق کے ساتھ: یہ لیلا صرف ایک گھرانے کا نہیں، "دنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے"۔ تخلیق، رہائش، قربانی: پوری کہانی ایک شخص میں جمع ہو جاتی ہے۔
یوحنا 1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
"رہائش پذیر ہوا" کے پیچھے یونانی فعل ہے اسکینوؤ، یعنی خیمہ لگانا۔ یوحنا یہ نہیں کہتا کہ کلام نے مکان بنایا یا محل تعمیر کیا؛ اُس نے خیمہ گاڑا۔ یہ لفظ اُسی خیمے کی یاد دلاتا ہے جو بنی اسرائیل ریگستان میں اُٹھائے پھرتے تھے اور جس پر جلال کا بادل اُترا تھا۔ خیمہ عارضی ہوتا ہے، نازک، ہَوا اور دھوپ کے رحم و کرم پر؛ اور یہی اِس آیت کی چُبھن ہے۔ خدا نے ہمارے درمیان آنے کے لیے وہ طریقہ چنا جو سب سے زیادہ غیر محفوظ تھا۔ اور اِسی خیمے کے اندر، یوحنا کہتا ہے، "ہم نے اُس کے جلال کا مشاہدہ کیا"۔ جلال ہیکل کے سونے میں نہیں، ایک ناصری کے عارضی جسم میں دیکھا گیا۔
یوحنا 1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
باب کا آخری جملہ سب سے زیادہ کھلتا ہے جب آپ پیدایش 28 کو ساتھ رکھیں۔ یعقوب، جو مکر کا آدمی تھا، بیت ایل میں خواب دیکھتا ہے: ایک سیڑھی، اور فرشتے اُس پر چڑھتے اُترتے ہوئے۔ یسوع نتن ایل سے کہتے ہیں، "تم آسمان کو کھلا اور اللہ کے فرشتوں کو اوپر چڑھتے اور ابنِ آدم پر اُترتے دیکھو گے"۔ سیڑھی اب ایک شخص ہے۔ اور یہ وعدہ اُس آدمی سے کیا گیا جسے یسوع نے ابھی "سچا اسرائیلی .
یوحنا 1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر خدا کا جلال ایک "خیمے" میں ظاہر ہوا، تو آپ اپنی زندگی کے کس شکستہ یا عارضی حصے میں اُسے تلاش کرنے سے گریز کر رہے ہیں؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی John 1 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

دعا ادارتی کو آیت 1

اے خدا، ابتدا سے پہلے بھی تُو تھا، اور تیرا کلام تیرے ساتھ تھا۔ جب میری سمجھ چھوٹی پڑ جاتی ہے اور سوال بڑے ہو جاتے ہیں، مجھے یاد دلا کہ سب کچھ تجھ سے شروع ہوا۔ میرے دل میں اپنی آواز اتنی صاف کر دے کہ میں اُسے پہچان لوں اور اُس پر بھروسا رکھوں۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں