یوحنا 1:33
متن
یحییٰ اپنی گواہی میں ایک بات دو بار دہراتا ہے، اور وہ بات اُس کے حق میں نہیں جاتی: ”مَیں تو اُسے نہیں جانتا تھا۔“ صحرا کا یہ سخت جان نبی، جو ہجوم کو توبہ کے لئے پانی میں اُتار رہا تھا، خود اُس شخص کو نہیں پہچانتا تھا جس کے لئے وہ راستہ سیدھا کر رہا تھا۔ پھر وہ بتاتا ہے کہ پہچان کہاں سے آئی: جس نے اُسے بپتسمہ دینے کے لئے بھیجا، اُسی نے اُسے ایک نشان دیا۔ ”تُو دیکھے گا کہ روح القدس اُتر کر کسی پر ٹھہر جائے گا۔ یہ وہی ہو گا جو روح القدس سے بپتسمہ دے گا۔“ یعنی: تُو خود سے نہیں جان پائے گا؛ تجھے دکھایا جائے گا۔ اور جو دکھایا جائے گا وہ محض ایک اُترتا ہوا کبوتر نہیں، بلکہ ایک وعدہ ہے کہ پانی کا کام یہاں ختم اور روح کا کام یہاں شروع ہوتا ہے۔
مرکزی بات
اِس آیت کا دل ایک چھوٹے سے لفظ میں دھڑکتا ہے: ٹھہرنا۔ روح القدس اُترتا ہے، یہ عجیب نہیں؛ پرانے عہد میں روح جج، بادشاہ اور نبی پر آتی رہی، مگر آ کر چلی بھی جاتی تھی۔ یونانی فعل جو یہاں استعمال ہوا ہے، مینو، کا مطلب ہے قیام کرنا، بس جانا، رہ پڑنا۔ نشان یہ نہیں تھا کہ روح اُترے گی بلکہ یہ کہ وہ ٹھہر جائے گی۔ خدا کی معرفت انسانی ذہانت کی کامیابی نہیں، اُس کے دکھانے کا تحفہ ہے: یحییٰ کو بتایا گیا، تب اُس نے دیکھا۔ اور جس پر روح ٹھہرتی ہے وہی وہ ہے جو دوسروں کو روح میں ڈبو سکتا ہے۔ یہاں نجات کا پورا نقشہ کھل جاتا ہے: مسیح صرف گناہ کی معافی کا اعلان نہیں کرتا، وہ اپنی وہی روح ہم میں بسانے آیا ہے جو اُس پر ٹھہری تھی۔
بڑی کہانی کا سلسلہ
روح کا ”ٹھہرنا“ بائبل میں ایک پرانی آرزو ہے۔ تخلیق کے آغاز میں روح پانیوں پر منڈلا رہی تھی، مگر انسانوں کی تاریخ میں وہ کبھی ٹھہری نہیں: سموئیل کے زمانے میں بادشاہ پر آ کر اُترتی اور پھر اُٹھ جاتی، نبیوں پر لمحہ بھر کے لئے دبدبہ ڈالتی۔ یسعیاہ نے اُس شاخ کا خواب دیکھا جس پر رب کی روح ٹھہری رہے گی، اور حزقی ایل نے وہ دن دیکھا جب خدا اپنی روح لوگوں کے اندر رکھے گا۔ یحییٰ کو دیا گیا نشان اِن دونوں وعدوں کو ایک جسم میں جوڑ دیتا ہے۔ جس پر روح ٹھہرتی ہے وہی روح بانٹنے والا ہے۔ پانی باہر سے دھوتا ہے؛ روح اندر بستی ہے۔ لیلا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے، اور جہاں گناہ ہٹتا ہے وہیں خدا رہائش پذیر ہو سکتا ہے، ویسے ہی جیسے کلام ”ہمارے درمیان رہائش پذیر ہوا۔“
آئینہ
ہم پہچاننے کے کاروبار میں ماہر ہونا چاہتے ہیں۔ چالیس سال کی عمر تک آپ نے سیکھ لیا ہے کہ لوگوں کو کیسے پرکھنا ہے، کون سا امیدوار قابلِ بھروسا ہے، کون سا رشتہ دار پیسے مانگنے آیا ہے۔ اور پھر کوئی ایسا دن آتا ہے جب سب اندازے ناکام ہو جاتے ہیں: تشخیص جو کسی نے نہیں سوچی تھی، بیٹا جو راستہ بدل لیتا ہے، دعا جس کا جواب برسوں سے نہیں آیا۔ یحییٰ کا اعتراف اِسی لمحے کے لئے ہے۔ اُس نے یہ نہیں کہا کہ میں نے تحقیق کر لی؛ اُس نے کہا، ”مَیں تو اُسے نہیں جانتا تھا۔“ نہ جاننا اُس کی ناکامی نہیں تھی، وہ اُس جگہ تھی جہاں خدا بولتا ہے۔ آج ایک کاغذ پر یہ الفاظ لکھیں، ”مَیں تو اُسے نہیں جانتا تھا“، اور نیچے ایک ایسی بات لکھیں جو آپ مسیح یا اپنی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں سمجھ نہیں پا رہے۔ پھر بلند آواز میں کہیں: مجھے دکھائیے۔
مرکزی کردار
یحییٰ کے بارے میں سب سے حیران کن بات یہ نہیں کہ وہ صحرا میں رہتا تھا، بلکہ یہ کہ وہ اندھیرے میں کام کرتا رہا۔ اُس نے برسوں پانی میں لوگوں کو ڈبویا بغیر یہ جانے کہ وہ کس کے لئے راستہ بنا رہا ہے۔ ”مَیں اِس لئے آ کر پانی سے بپتسمہ دینے لگا تاکہ وہ اسرائیل پر ظاہر ہو جائے“ اور اِسی جملے کے ساتھ وہ تسلیم کرتا ہے کہ ظاہر کرنے والا وہ نہیں، خدا ہے۔ یہ ایک ایسے آدمی کا روحانی نقشہ ہے جو اپنی تمام مقبولیت کے باوجود اپنے آپ کو دوسرے درجے پر رکھتا ہے: ”مَیں اُس کے جوتوں کے تسمے بھی کھولنے کے لائق نہیں۔“ اُس میں نہ حسد ہے نہ خود ترسی، صرف ایک لمبا انتظار اور پھر آنکھ کھلنے کا شکر۔ ایسا ایمان بغیر ثبوت کے اطاعت کرتا ہے اور ثبوت ملنے پر خاموشی سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
پہلے سننے والے
یوحنا کی انجیل جن لوگوں کے لئے لکھی گئی، اُن میں کچھ ایسے تھے جو ابھی تک یحییٰ کے حلقے سے جڑے ہوئے تھے؛ اُس کی یاد اُن کے لئے مقدس تھی۔ اُن کے کان میں یہ آیت ایک نرم مگر فیصلہ کن بات کہتی ہے: تمہارے اُستاد نے خود کہا کہ وہ صرف پانی دے سکتا ہے۔ دوسرے سننے والے وہ یہودی مسیحی تھے جو عبادت خانوں سے نکالے جا رہے تھے اور اپنی شناخت کھو بیٹھے تھے۔ اُنہیں یہ سننا تھا کہ اُن کے پاس رسمی طہارت سے کہیں بڑی چیز ہے: وہ خدا جو کبھی ہیکل میں بستا تھا اب اُن کے اندر ٹھہرتا ہے۔ جو چیز ہم سے اکثر چھوٹ جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ”روح القدس سے بپتسمہ“ اُن کے لئے کوئی جذباتی تجربہ نہیں بلکہ ایک نئے دور کا اعلان تھا۔
پس منظر
یہ سب یردن کے پار بیت عنیاہ میں ہوتا ہے، یروشلم سے ایک دن کا سفر، شہری اقتدار سے باہر مگر اُس کی نظروں میں۔ اماموں اور لاویوں کا وفد اِسی لئے بھیجا گیا تھا: بغیر اجازت کے بھیڑ اکٹھی کرنے والا آدمی رومی حکومت اور ہیکل کی اشرافیہ دونوں کے لئے خطرہ تھا۔ اُس زمانے میں دھونا اور غسل کرنا عام تھا؛ لوگ خود کو پاک کرتے تھے۔ یحییٰ کا انوکھا پن یہ تھا کہ وہ دوسروں کو ڈبوتا تھا، اور اسرائیلیوں کو ڈبوتا تھا، گویا وہ باہر والے ہوں۔ ایسے ماحول میں، جہاں ہر کوئی پوچھ رہا تھا ”آپ کون ہیں؟“، خدا کا دیا ہوا نشان ایک اور طرح کا سوال کھڑا کرتا ہے: نہ کہ یہ آدمی کون ہے، بلکہ وہ کون ہے جس پر خدا خود ٹھہرنے کو تیار ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں وہ کون سی جگہ ہے جہاں آپ ایمانداری سے کہہ سکتے ہیں، ”مَیں تو اُسے نہیں جانتا تھا“، اور کیا آپ اُس نہ جاننے میں ٹھہرنے کو تیار ہیں جب تک خدا خود نہ دکھائے؟
اگر روح آپ پر آ کر گزر نہیں جاتی بلکہ ٹھہرتی ہے، تو آپ کے گھر، کام اور خاموش لمحوں میں اِس مہمان کی موجودگی کس چیز سے پہچانی جا سکتی ہے؟
John 1:33 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یوحنا 1:33 کا کیا مطلب ہے؟
یوحنا 1:33 کس بارے میں ہے؟
یوحنا 1:33 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یوحنا 1:33 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یوحنا 1:33 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
John 1 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں