یوحنا اصطباغی کی زندگی اور خدمت
تعارف
دریائے یردن کے کنارے صبح کا سُورج ابھی گرم نہیں ہوا تھا۔ ریت پر لوگوں کے قدموں کے نشان تھے، یروشلیم سے آنے والوں کے، گلیل کے مچھیروں کے، محصول لینے والوں کے، حتیٰ کہ رومی فوجیوں کے۔ اور پانی میں کھڑا ہوا ایک آدمی، اُونٹ کے بالوں کا لباس پہنے، جس کے پاس نہ کوئی ہَیکل تھی، نہ کوئی عہدہ، نہ کوئی سفارش۔ صرف ایک آواز۔ لوگ اُس سے پوچھتے ہیں: "تُو کون ہے؟" اور وہ جواب میں اپنے بارے میں کچھ نہیں بتاتا؛ وہ صرف کسی اَور کی طرف اُنگلی اُٹھا دیتا ہے۔
یہی یوحنا اصطباغی ہے، بائبل کا وہ کردار جس کی عظمت اِس میں نہیں کہ وہ کتنا بڑا ہوا، بلکہ اِس میں کہ وہ کتنے سلیقے سے چھوٹا ہوا۔ اِس رہنما میں ہم اُس کی پیدائش سے قید کی کوٹھری تک، اُس کے یقین سے اُس کے شک تک، اور اُس کی آواز سے اُس کی خاموشی تک کا سفر کریں گے، اور دیکھیں گے کہ خدا اپنے فضل کی کہانی میں ایسے لوگوں کو کیوں استعمال فرماتے ہیں جو خود کو مرکز نہیں بناتے۔
اس رہنما کا زاویہ
بہت سے مضامین یوحنا اصطباغی کو "مسیح کا پیش خیمہ" کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہم ایک قدم اَور اندر جائیں گے۔ اِس صفحے کا زاویہ یہ ہے: یوحنا کی پوری زندگی کو اُس کے اپنے ایک جملے کی روشنی میں پڑھنا، "ضرُور ہے کہ وہ بڑھے اور مَیں گھٹُوں" (یوحنا 3:30)۔ یعنی ہم اُس کی خدمت کو کامیابی کی داستان کے طور پر نہیں، بلکہ گھٹنے کے فن کے طور پر دیکھیں گے، ایک ایسی زندگی جو جان بوجھ کر خود کو خالی کرتی گئی تاکہ مسیح دکھائی دیں۔ یہ زاویہ اہم ہے، کیونکہ ہم ایک ایسے زمانے میں جیتے ہیں جہاں ہر شخص اپنی آواز بلند کرنا سیکھتا ہے، اور کوئی ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ اپنی آواز کسی اَور کے لیے کیسے وقف کی جائے۔
بائبل یوحنا اصطباغی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
یوحنا اصطباغی کی کہانی اُس کی پیدائش سے پہلے شروع ہوتی ہے، ایک بوڑھے کاہن کی خاموش دعا سے۔ زکریاہ ہَیکل میں بخور جلا رہا تھا جب خداوند کا فرشتہ اُس پر ظاہر ہوا: "مگر فرشتہ نے اُس سے کہا اَے زکریاہ! خَوف نہ کر کیونکہ تیری دُعا سُن لی گئی اور تیرے لِئے تیری بیوی الِیشبع کے بیٹا ہو گا۔ تُو اُس کا نام یُوحنّا رکھنا" (لوقا 1:13)۔ غور کریں کہ خدا نے اِس بچّے کا نام خود مقرّر فرمایا۔ "یوحنا" کا مطلب ہے "یاہوِہ مہربان ہے"۔ جس بچّے کا کام یہ ہو گا کہ لوگوں کو گناہ سے توبہ کے لیے پکارے، اُس کے نام میں خدا نے پہلے ہی اپنا فضل لکھ دیا۔ یہ اتفاق نہیں ہے۔ توبہ کی پکار کبھی خدا کی مہربانی سے الگ نہیں ہوتی۔
فرشتے نے یہ بھی فرمایا کہ یہ بچّہ "خُداوند کے حضُور بزُرگ ہو گا" اور "اپنی ماں کے پیٹ ہی سے رُوحُ القُدس سے بھر جائے گا" (لوقا 1:15)۔ ایک ایسے خاندان میں جہاں بانجھ پن کے سبب برسوں کی مایوسی تھی، خدا نے نجات کی تاریخ کا اگلا باب رکھ دیا۔ اور جب وقت آیا تو زکریاہ کی زبان کھلی اور اُس نے اپنے بیٹے کے بارے میں نبوت کی کہ وہ "خُداوند کے آگے آگے" چلے گا۔
پھر تیس برس کی خاموشی۔ لوقا صرف اِتنا لکھتا ہے کہ وہ لڑکا بڑھتا اور رُوح میں قوّت پاتا گیا اور بیابان میں رہا (لوقا 1:80)۔ اور اُس خاموشی کے بعد وہ لمحہ آتا ہے جسے متی نہایت سادگی سے بیان کرتا ہے: "اُن دِنوں میں یُوحنّا بپتِسمہ دینے والا آ کر یہودیہ کے بیابان میں یہ اِعلان کرنے لگا" (متی 3:1)۔ اور اُس کا پیغام کیا تھا؟ "توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے۔" یہ ایک عجیب مقام سے شروع ہونے والی تحریک تھی۔ بیابان، یعنی وہ جگہ جہاں کوئی سہولت نہیں، کوئی رُتبہ نہیں، کوئی مذہبی نظام نہیں۔ خدا نے اپنی آواز ہَیکل کے صحن سے نہیں بلکہ ریت اور پتھر سے اُٹھائی۔
جب لوگوں نے اُس سے پوچھا کہ تُو کون ہے، تو اُس نے یسعیاہ نبی کی زبان میں جواب دیا۔ اور یہ وہ آیت ہے جو یوحنا اصطباغی کی شناخت کی بنیاد ہے: "ایک پُکارنے والے کی آواز! بیابان میں خُداوند کی راہ درُست کرو۔ صحرا میں ہمارے خُدا کے لِئے شاہراہ ہموار کرو" (یسعیاہ 40:3)۔ یوحنا نے یہ نہیں کہا کہ میں پیغام ہوں؛ اُس نے کہا کہ میں آواز ہوں۔ آواز فضا میں گونجتی ہے اور مٹ جاتی ہے، مگر جو بات وہ پہنچاتی ہے وہ باقی رہتی ہے۔ یہ اُس شخص کی خود شناسی تھی جس کے پیچھے بھیڑ چلتی تھی۔
آواز اپنے لیے نہیں گونجتی؛ وہ کسی اَور کے لیے راہ بناتی ہے۔
اُس کی خدمت کا نقطۂ عروج اُس دن آیا جب اُس نے یسوع کو آتے دیکھا: "دُوسرے دِن اُس نے یِسُوع کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا دیکھو یہ خُدا کا برّہ ہے جو دُنیا کا گُناہ اُٹھا لے جاتا ہے" (یوحنا 1:29)۔ یہ بائبل کی سب سے گہری تشریحی جست ہے۔ یوحنا نے مسیح کو نہ فاتح بادشاہ کہا، نہ عالم، نہ معلّم، بلکہ برّہ۔ فسح کا برّہ، قربانی کا برّہ، وہ جس کا خون آزادی کی رات دروازوں پر لگایا گیا تھا۔ ایک نبی جو صحرا میں انصاف کی گرج سنا رہا تھا، اُس نے پہچان لیا کہ گناہ کا اصلی حل عدالت سے پہلے کفّارہ ہے۔
اور آخر میں، اُس کی خدمت کا خلاصہ اُس کے اپنے الفاظ میں: "ضرُور ہے کہ وہ بڑھے اور مَیں گھٹُوں" (یوحنا 3:30)۔ یہ اُس وقت کہا گیا جب اُس کے شاگرد شکایت لے کر آئے تھے کہ لوگ اب یسوع کے پاس جا رہے ہیں۔ یوحنا نے اِسے نقصان نہیں سمجھا؛ اُس نے اِسے مقصد کی تکمیل سمجھا۔ وہ دُلہا نہیں تھا، دوستِ دُلہا تھا، اور دوستِ دُلہا کی خوشی یہی ہے کہ دُلہا کی آواز سُنی جائے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
یوحنا اصطباغی آسمان سے اچانک نہیں ٹپکا۔ وہ ایک ہزار سالہ اُمید کا آخری سِرا ہے۔
پُرانے عہد نامے میں خدا نے بار بار ایسے لوگ کھڑے کیے جو راستہ صاف کرتے تھے۔ موسیٰ نے بیابان میں قوم کو خدا کی طرف بلایا۔ ایلیاہ نے کرمل کے پہاڑ پر لوگوں کو دو راستوں کے درمیان فیصلہ کرنے کو کہا۔ نبی آتے رہے، للکارتے رہے، اور ہر بار ایک اَور دن کی طرف اشارہ کرتے رہے۔ یسعیاہ 40 باب اُس دن کی سب سے خوبصورت تصویر ہے۔ اُس باب کا آغاز تسلّی سے ہوتا ہے، اور پھر آواز آتی ہے: "بیابان میں خُداوند کی راہ درُست کرو۔" مشرق میں جب بادشاہ سفر کرتا تھا تو اُس کے آگے مزدور بھیجے جاتے تھے جو گڑھے بھرتے، پتھر ہٹاتے اور سڑک ہموار کرتے تھے۔ یسعیاہ نے کہا کہ خدا خود آ رہے ہیں، اور کوئی اُن کے آگے سڑک بنائے گا۔ سات سو برس بعد ایک آدمی یردن کے کنارے کھڑا ہو کر کہتا ہے، وہ مزدور میں ہوں۔
پُرانے عہد نامے کی آخری کتاب اِس اُمید کو مزید واضح کر دیتی ہے: "دیکھو مَیں اپنے رسُول کو بھیجُوں گا اور وہ میری راہ درُست کرے گا اور خُداوند جِس کے تُم طالِب ہو یعنی عہد کا رسُول جِس کے تُم آرزُومند ہو ناگہاں اپنی ہَیکل میں آ موجُود ہو گا" (ملاکی 3:1)۔ اِس آیت میں دو شخص ہیں: ایک رسُول جو راہ بناتا ہے، اور خود خداوند جو آتے ہیں۔ اور یہی سلسلہ ملاکی کے آخری باب میں ایلیاہ کے آنے کی نبوت پر ختم ہوتا ہے۔ اِس کے بعد صحیفوں میں تقریباً چار سو برس کی خاموشی ہے۔ کوئی نبی نہیں، کوئی نئی وحی نہیں، صرف انتظار۔
اور پھر خاموشی ٹوٹتی ہے، ایک بوڑھے کاہن کے کان میں فرشتے کی آواز سے۔ نیا عہد نامہ جان بوجھ کر یوحنا کو پُرانے عہد نامے کے لباس میں پیش کرتا ہے: اُونٹ کے بالوں کا لباس اور چمڑے کا کمربند، بالکل ایلیاہ کی طرح۔ یہ محض ظاہری مشابہت نہیں، یہ اعلان ہے کہ ملاکی کی نبوت پوری ہو رہی ہے۔
مگر سلسلہ یہاں رُکتا نہیں۔ یوحنا آخری نبی ہے جو مسیح کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور پہلا شخص ہے جو اُنہیں انگلی سے دکھا سکتا ہے۔ باقی سب نبیوں نے دُور سے دیکھا؛ یوحنا نے پانی میں کھڑے ہو کر کہا، "دیکھو یہ خُدا کا برّہ ہے۔" یہی وجہ ہے کہ خداوند یسوع مسیح نے اُس کے بارے میں فرمایا: "مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو عَورتوں سے پَیدا ہُوئے ہیں اُن میں یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہُوا لیکن جو آسمان کی بادشاہی میں چھوٹا ہے وہ اُس سے بڑا ہے" (متی 11:11)۔ یوحنا پُرانے عہد کی چوٹی ہے اور نئے عہد کی دہلیز۔ وہ دروازے تک لے آتا ہے، مگر خود دروازے کے اِس طرف رہ جاتا ہے، کیونکہ صلیب اور خالی قبر کے بعد ملنے والی مکمل نجات ہر ایمان دار کو ایک ایسی جگہ دے دیتی ہے جو یوحنا کی خدمت سے بھی زیادہ برکت والی ہے۔
پورا سلسلہ ایک نقطے پر جا کر جُڑ جاتا ہے: تمام آوازیں مسیح کی طرف اشارہ کرتی ہیں، اور جب مسیح آ جاتے ہیں تو آوازوں کا کام یہ نہیں کہ اپنی گونج بڑھائیں بلکہ یہ کہ گھٹ جائیں۔
اُن کی زندگی کا مرکز
یوحنا کی پوری زندگی کو تین لمحوں میں سمیٹا جا سکتا ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں لمحوں میں وہ خود پیچھے ہٹتا ہے۔
پہلا لمحہ یردن میں ہے، جب وہ خداوند یسوع مسیح کو بپتسمہ دیتا ہے۔ یہ اُس کی خدمت کا وہ مقام تھا جہاں ہر چیز اُلٹ گئی۔ یوحنا لوگوں کو توبہ کا بپتسمہ دے رہا تھا، یعنی گناہ کے اقرار کا بپتسمہ۔ اور پھر وہ آیا جس کے پاس کوئی گناہ نہ تھا۔ یوحنا نے انکار کیا، "مَیں تُجھ سے بپتِسمہ لینے کا محتاج ہُوں"، مگر مسیح نے فرمایا کہ ایسا ہی ہونا مناسب ہے تاکہ ساری راستبازی پوری ہو۔ یہاں یوحنا کو ایک سبق ملا جو ہم سب کے لیے ہے: خدا کے منصوبے میں ہمارا کردار ہمیشہ ہماری سمجھ سے بڑا ہوتا ہے، اور بعض اوقات فرمانبرداری کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی خوبصورت دلیل چھوڑ کر خداوند کی مرضی مان لیں۔ اُسی لمحے آسمان کھلا، رُوح اُترا، اور باپ کی آواز آئی۔ یوحنا کی سب سے بڑی خدمت یہ تھی کہ وہ اُس منظر میں کیمرے کے سامنے نہیں، پیچھے کھڑا تھا۔
دوسرا لمحہ اُس کی زبان پر ہے، جب اُس نے کہا: "دیکھو یہ خُدا کا برّہ ہے جو دُنیا کا گُناہ اُٹھا لے جاتا ہے" (یوحنا 1:29)۔ اِس ایک جملے نے یوحنا کی تحریک کا رُخ موڑ دیا۔ اُس نے اپنے بہترین شاگردوں کو خود مسیح کی طرف بھیج دیا۔ اندریاس اُس دن یوحنا کی جماعت چھوڑ کر یسوع کے پیچھے چلا گیا، اور یوحنا نے اُسے روکا نہیں۔ کون سا رہنما اپنے وفادار پیروکاروں کو کسی اَور کے حوالے کرتا ہے؟ صرف وہ جس نے پہلے سے طَے کر لیا ہو کہ وہ دُلہا نہیں بلکہ دوستِ دُلہا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یوحنا 3:30 پیدا ہوتی ہے، شکایت کے جواب میں: "ضرُور ہے کہ وہ بڑھے اور مَیں گھٹُوں۔" یہ رضامندی سے کی گئی کمی ہے، مجبوری سے نہیں۔
تیسرا لمحہ قید کی کوٹھری میں ہے، اور یہ سب سے زیادہ انسانی لمحہ ہے۔ ہیرودیس انتپاس نے اُسے قید کر دیا کیونکہ یوحنا نے اُس کے بھائی کی بیوی سے شادی کو گناہ کہا تھا۔ اندھیرے میں، زنجیروں میں، جب اُس کی خدمت رُک گئی اور آسمان کی بادشاہی اُس کی توقّع کے مطابق ظاہر نہ ہوئی، تو یوحنا نے اپنے شاگردوں کے ذریعے یسوع سے پوچھوایا: "آنے والا تُو ہی ہے یا ہم دُوسرے کی راہ دیکھیں؟" (متی 11:3)۔ وہی شخص جس نے آسمان کھلتے دیکھا تھا، اب سوال کر رہا ہے۔ بائبل نے اِسے چھپایا نہیں۔ اور خداوند نے اُسے جھڑکا نہیں۔ اُنہوں نے یسعیاہ کی نبوتوں کے مطابق اپنے کاموں کی فہرست بھیجی، اور پھر مجمع سے مُڑ کر یوحنا کی سب سے بڑی تعریف کی۔
مسیح کی تعریف یوحنا کے شک کے بعد آئی، پہلے نہیں۔
اُس کا انجام ایک محل کی دعوت میں ایک بےوقوف قسم کے سبب ہوا۔ سر قلم، طشتری میں پیش، ایک نوجوان لڑکی کے ہاتھوں سے اُس کی ماں تک۔ دنیاوی حساب سے یہ ایک ضائع شدہ زندگی تھی۔ آسمان کے حساب سے یہ ایک مکمل زندگی تھی۔
یوحنا اصطباغی سے ہم کیا سیکھتے ہیں
پہلا سبق یہ ہے کہ ہماری شناخت ہمارے کام سے پہلے ہماری بلاہٹ میں ہے۔ یوحنا کا نام اُس کے پیدا ہونے سے پہلے خدا نے مقرّر فرمایا (لوقا 1:13)۔ اُس نے تیس برس بیابان میں گزارے جہاں کوئی تالیاں بجانے والا نہ تھا۔ ہم اپنی قیمت اپنے نتائج سے ناپتے ہیں، اپنی تنخواہ سے، اپنے فالوورز سے، اپنے بچّوں کی کامیابی سے۔ یوحنا ہمیں سکھاتا ہے کہ خدا کے حضور آپ کی حیثیت اُس دن طَے ہو گئی تھی جب اُنہوں نے آپ کو اپنا کہا۔ خدمت اُس شناخت سے نکلتی ہے، اُسے پیدا نہیں کرتی۔
دوسرا سبق گھٹنے کے فن کا ہے، اور یہی اِس صفحے کا اصل زاویہ ہے۔ "ضرُور ہے کہ وہ بڑھے اور مَیں گھٹُوں" (یوحنا 3:30) ایک مایوس آدمی کا آہ بھرنا نہیں، ایک آزاد آدمی کا اعلان ہے۔ گھٹنا کوئی خود کو حقیر جاننا نہیں ہے؛ خود کو حقیر جاننا بھی ایک قسم کی خود پرستی ہے جس میں انسان مسلسل اپنے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ گھٹنا یہ ہے کہ ہم اپنی نظر خود سے ہٹا کر مسیح پر جما دیں، اور جب ہماری اہمیت کم ہو، ہماری خوشی کم نہ ہو۔ گھر میں، کلیسیا میں، دفتر میں، یہ سب سے مشکل اور سب سے آزاد کرنے والی مشق ہے۔
تیسرا سبق شک کے بارے میں ہے۔ یوحنا کی قید میں پوچھی گئی بات نے اُس کی عظمت کم نہیں کی۔ خداوند یسوع مسیح نے اُس کے سوال کے فوراً بعد فرمایا: "جو عَورتوں سے پَیدا ہُوئے ہیں اُن میں یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہُوا" (متی 11:11)۔ اِس سے ہم دو باتیں سیکھتے ہیں۔ ایک، کہ ایمان کا مطلب ہر وقت جذباتی یقین نہیں؛ ایمان اپنے سوال کو خداوند کے پاس لے جانا ہے، اُن سے دُور نہیں۔ دوسری، کہ مسیح ہمارے کمزور دنوں میں ہماری فہرست بنانے کے بجائے ہماری وکالت فرماتے ہیں۔ اگر آپ نے کبھی بیماری کے بستر پر، بےروزگاری کے مہینوں میں، یا کسی قبر کے کنارے کھڑے ہو کر یہ سوچا ہو کہ "کیا خدا واقعی وہی ہیں جو مَیں سمجھتا تھا؟"، تو جان لیجیے کہ آپ ایک ایسے آدمی کی صف میں کھڑے ہیں جس کی تعریف خود خداوند نے کی۔
آئینہ
آپ کے لیے سب سے مشکل جملہ کون سا ہے؟ ممکن ہے یہی ہو: "ضرُور ہے کہ وہ بڑھے اور مَیں گھٹُوں۔"
سوچیے آپ کے دفتر میں وہ لمحہ جب کسی اَور کو وہ ترقی مل گئی جس کے لیے آپ نے سالوں محنت کی۔ اُس رات آپ کے دل میں جو کچھ چلا، وہ صرف مایوسی نہیں تھی، وہ ایک سوال تھا: میری قیمت کیا ہے اگر مجھے پہچانا نہ جائے؟ سوچیے اُس رشتے دار کے بارے میں جس کی تعریف ہر خاندانی تقریب میں ہوتی ہے، اور آپ مسکرا کر چائے بانٹتے رہتے ہیں۔ سوچیے اپنی کلیسیا کے بارے میں، جہاں ممکن ہے آپ برسوں سے وفاداری سے کوئی کام کر رہے ہوں اور کسی نے کبھی آپ کا نام سٹیج سے نہ لیا ہو۔
یوحنا آپ سے یہ نہیں کہتا کہ اپنی خواہش کو دبا دو۔ وہ کچھ زیادہ گہری بات کہتا ہے: اپنی نظر بدل لو۔ جب تک ہماری خوشی اِس پر منحصر ہے کہ لوگ ہمیں کتنا بڑا سمجھتے ہیں، ہم ہمیشہ کسی نہ کسی سے ہارتے رہیں گے۔ مگر جس دن ہم دوستِ دُلہا بن جاتے ہیں، دوسروں کی کامیابی ہمارا زخم نہیں رہتی۔
اور یہ صرف عزت کا معاملہ نہیں۔ آپ کا وقت کہاں جاتا ہے؟ آپ کا پیسہ کس چیز کو بڑا بناتا ہے؟ آپ کے فون کی سکرین پر جو تصویریں آپ بناتے ہیں، وہ کس کو دکھاتی ہیں؟ آپ کے جسم کے بارے میں آپ کے خیالات، آپ کے تنہا شاموں کی بےچینی، آپ کی وہ خواہش کہ کوئی آپ کو دیکھے اور کہے "تُم اہم ہو"، یہ سب اُسی ایک سوال کے گرد گھومتے ہیں۔
خوشخبری یہ ہے کہ مسیح آپ کو گمنامی میں پھینک نہیں دیتے۔ وہی جس نے کہا کہ گھٹنا ضروری ہے، اُسی کے بارے میں خداوند نے فرمایا کہ عورتوں سے پیدا ہونے والوں میں اُس سے بڑا کوئی نہیں ہوا۔ جو مسیح کے لیے چھوٹا ہونے کو قبول کرتا ہے، آسمان اُس کا نام یاد رکھتا ہے۔ آپ کو بڑا ہونے کے لیے لڑنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ برّہ نے آپ کا گناہ اُٹھا لیا اور آپ کو قبول کر لیا۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچّوں کو یوحنا اصطباغی کی کہانی بہت پسند آتی ہے، کیونکہ اِس میں صحرا ہے، شہد ہے، دریا ہے اور ایک عجیب لباس والا آدمی ہے۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ اُنہیں یہ سمجھ آئے کہ یوحنا نے کیا کام کیا۔
سب سے آسان تصویر یہ ہے: تصوّر کریں کہ کوئی بہت خاص مہمان آپ کے گھر آ رہا ہے، اور ایک بچّہ دروازے پر کھڑا ہو کر سب کو بتا رہا ہے، "وہ آ گئے! وہ آ گئے! جلدی تیار ہو جاؤ!" یوحنا خدا کا وہ پیغام پہنچانے والا تھا جو خداوند یسوع مسیح کے آنے سے پہلے لوگوں کو تیار کر رہا تھا۔ جب یسوع آئے تو یوحنا نے اُنہیں دیکھا اور خوش ہو کر کہا، "دیکھو، یہ خدا کا برّہ ہے!" یعنی یہی وہ ہیں جو ہمارے گناہ اُٹھا لے جائیں گے۔ اور یوحنا نے یہ نہیں چاہا کہ لوگ اُس کی طرف دیکھیں؛ وہ چاہتا تھا کہ سب یسوع کی طرف دیکھیں۔
بچّوں کے لیے یہاں ایک نہایت خوبصورت سبق چھپا ہے: ہم بھی اُنگلی اُٹھانے والے بن سکتے ہیں، اپنی طرف نہیں بلکہ یسوع کی طرف۔ اپنے بچّے سے پوچھیں کہ وہ کس طرح کسی دوست کو یسوع کے بارے میں بتا سکتا ہے۔
مختلف عمروں کے بچّوں کو مختلف انداز کی ضرورت ہوتی ہے۔ فیتھ نیٹ ورک پر آپ کو اِسی موضوع پر الگ الگ وضاحتیں ملیں گی: چھوٹے بچّوں کے لیے (تین سے چھ سال) ایک سادہ کہانی جس میں تصویریں اور دہرائے جانے والے جملے ہوں؛ سکول جانے والے بچّوں کے لیے (سات سے بارہ سال) نقشے، تاریخی پس منظر اور سوال جواب؛ اور نوجوانوں کے لیے (بارہ سال سے اُوپر) یوحنا کی جرأت، اُس کی قید، اور اُس کے شک پر ایمانداری سے بات چیت، کیونکہ نوجوانوں کے دل میں یہی سوال سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
یوحنا اصطباغی کون تھے؟
یوحنا اصطباغی زکریاہ کاہن اور الیشبع کے بیٹے تھے، جن کی پیدائش کا اعلان خدا کے فرشتے نے ہَیکل میں کیا (لوقا 1:13)۔ وہ خداوند یسوع مسیح سے تقریباً چھ ماہ بڑے تھے اور اُن کے آنے سے پہلے لوگوں کے دل تیار کرنے کے لیے مقرّر کیے گئے تھے۔ اُنہوں نے یہودیہ کے بیابان میں توبہ کی منادی کی، دریائے یردن میں لوگوں کو بپتسمہ دیا، اور یسوع کو "خُدا کا برّہ" کہہ کر پہچانا۔ آخرکار ہیرودیس انتپاس نے اُنہیں قید کیا اور اُن کا سر قلم کروا دیا۔
اُنہیں "بپتسمہ دینے والا" یا اصطباغی کیوں کہا جاتا ہے؟
اُردو میں "اصطباغی" اور "بپتسمہ دینے والا" ایک ہی بات ہے، یعنی وہ جو بپتسمہ دیتا ہے۔ اُن کی خدمت کی سب سے نمایاں علامت یہ تھی کہ وہ توبہ کرنے والوں کو دریائے یردن کے پانی میں ڈبو کر ایک ظاہری نشان دیتے تھے کہ اُنہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا اور دل بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اُس زمانے میں انقلابی بات تھی، کیونکہ یہ بپتسمہ صرف غیر قوموں کے لیے نہیں بلکہ خود مذہبی یہودیوں کے لیے بھی تھا۔
یوحنا اصطباغی اور یسوع مسیح میں کیا رشتہ تھا؟
وہ رشتے دار تھے۔ لوقا کے پہلے باب میں الیشبع کو مریم کی "رشتہ دار" کہا گیا ہے، اِس لیے یوحنا اور یسوع خاندانی طور پر جُڑے ہوئے تھے، اگرچہ بائبل یہ نہیں بتاتی کہ وہ بچپن میں ایک دوسرے کے قریب رہے یا نہیں۔ روحانی طور پر رشتہ اِس سے بھی گہرا تھا: یوحنا آواز تھے اور مسیح کلام؛ یوحنا راہ بنانے والے تھے اور مسیح آنے والے خداوند۔ خود یوحنا نے کہا کہ وہ مسیح کی جوتی کا تسمہ کھولنے کے لائق بھی نہیں۔
یوحنا اصطباغی نے یسوع کو بپتسمہ کیوں دیا جبکہ یسوع بےگناہ تھے؟
یہ سوال یوحنا نے خود بھی کیا تھا، اور اُنہوں نے انکار کرنے کی کوشش کی۔ خداوند یسوع مسیح نے جواب دیا کہ ایسا ہونا مناسب ہے تاکہ ساری راستبازی پوری ہو۔ مسیح نے اپنے گناہوں کے لیے بپتسمہ نہیں لیا بلکہ اُن گنہگاروں کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے جن کی جگہ وہ آخرکار صلیب پر مریں گے۔ یردن میں پانی میں اُترنا اُن کے اُس سفر کا آغاز تھا جو گلگتا پر ختم ہوا۔ اُسی موقع پر آسمان کھلا، رُوحُ القُدس اُترا اور باپ کی گواہی سنائی دی۔
کیا یوحنا اصطباغی ایلیاہ نبی تھے؟
جسمانی طور پر نہیں۔ جب کاہنوں نے پوچھا "کیا تُو ایلیاہ ہے؟" تو یوحنا نے صاف انکار کیا۔ مگر خداوند یسوع مسیح نے فرمایا کہ اگر لوگ قبول کریں تو یوحنا وہی ایلیاہ ہے جس کے آنے کا وعدہ تھا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ یوحنا نے ایلیاہ کی رُوح اور قوّت میں خدمت کی، ملاکی کی نبوت کے مطابق راہ درست کرنے کا وہی کام کیا، اور اُس کے لباس اور جرأت میں بھی وہی انداز نظر آیا۔ نبوت شخص کی واپسی سے نہیں، خدمت کی تکمیل سے پوری ہوئی۔
یوحنا اصطباغی بیابان میں کیا کھاتے اور پہنتے تھے؟
انجیل بتاتی ہے کہ اُن کا لباس اُونٹ کے بالوں کا تھا، کمر پر چمڑے کا پٹکا، اور اُن کی خوراک ٹڈیاں اور جنگلی شہد تھی۔ یہ کوئی بےمقصد سادگی نہیں تھی۔ ایک طرف یہ ایلیاہ نبی کے حُلیے کی یاد دلاتا تھا، جس سے سننے والے فوراً سمجھ جاتے کہ یہ آدمی نبی کی حیثیت سے آیا ہے۔ دوسری طرف یہ خود ایک پیغام تھا: جو شخص دنیا سے کچھ نہیں مانگتا، وہ دنیا کے بادشاہوں کے سامنے سچ بول سکتا ہے۔
یوحنا اصطباغی کی موت کیسے ہوئی؟
ہیرودیس انتپاس نے اپنے بھائی فلپّس کی بیوی ہیرودیاس سے شادی کر لی تھی، اور یوحنا نے کھلے عام کہا کہ یہ جائز نہیں۔ اِس پر ہیرودیس نے اُنہیں قید کر دیا، اگرچہ وہ اُن سے ڈرتا اور اُن کی باتیں دلچسپی سے سنتا تھا۔ اپنی سالگرہ کی دعوت پر ہیرودیس نے ہیرودیاس کی بیٹی کے رقص سے خوش ہو کر قسم کھائی کہ جو مانگے گی ملے گا؛ ماں کے کہنے پر اُس نے یوحنا کا سر مانگا۔ یوں ایک نبی کی جان ایک شرابی وعدے کی بھینٹ چڑھ گئی۔
متی 11:11 کا کیا مطلب ہے کہ آسمان کی بادشاہی میں چھوٹا اُس سے بڑا ہے؟
خداوند نے فرمایا: "جو عَورتوں سے پَیدا ہُوئے ہیں اُن میں یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہُوا لیکن جو آسمان کی بادشاہی میں چھوٹا ہے وہ اُس سے بڑا ہے" (متی 11:11)۔ یہ یوحنا کی توہین نہیں بلکہ نئے عہد کی برکت کی وضاحت ہے۔ یوحنا نے مسیح کو دیکھا مگر صلیب، قیامت اور پنتِکُست کے بعد ملنے والی مکمل نجات اور رُوحُ القُدس کی سکونت کا تجربہ نہیں کیا۔ سب سے کمزور ایمان دار بھی آج اُس عہد میں کھڑا ہے جس کی طرف یوحنا صرف اشارہ کر سکتا تھا۔
یوحنا اصطباغی نے قید میں شک کیوں کیا؟
قید میں اُنہوں نے شاگردوں کے ذریعے پوچھا کہ آنے والا تُو ہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ دیکھیں۔ ممکنہ وجہ یہ تھی کہ اُنہوں نے عدالت اور صفائی کی توقّع کی تھی، اور مسیح بیماروں کو شفا دے رہے تھے، گنہگاروں کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے، اور یوحنا خود زنجیروں میں تھے۔ خداوند نے اُنہیں جھڑکا نہیں بلکہ یسعیاہ کی نبوتوں کی گونج میں اپنے کاموں کی گواہی بھیجی۔ یہ ہمارے لیے بڑی تسلّی ہے کہ ایمان کے لوگ بھی اندھیرے میں سوال کرتے ہیں، اور خداوند اُن سوالوں کو دھیان سے سنتے ہیں۔
یوحنا 3:30 کا مطلب کیا ہے؟
"ضرُور ہے کہ وہ بڑھے اور مَیں گھٹُوں" (یوحنا 3:30) اُس وقت کہا گیا جب یوحنا کے شاگرد پریشان تھے کہ لوگ اب یسوع کے پاس جا رہے ہیں۔ یوحنا نے اپنے آپ کو دوستِ دُلہا کہا، یعنی وہ شخص جو شادی کا انتظام کرتا ہے مگر دُلہن اُس کی نہیں ہوتی۔ اُس کی خوشی دُلہا کی آواز سننے میں ہے۔ اِس آیت کا مطلب خود کو حقیر جاننا نہیں بلکہ اپنی نظر اور اپنی خوشی کا مرکز بدل دینا ہے، تاکہ مسیح کی بڑائی میں ہماری کمی بھی ہمیں تنگ نہ کرے۔
یوحنا اصطباغی کا بپتسمہ اور مسیحی بپتسمہ میں کیا فرق ہے؟
یوحنا کا بپتسمہ توبہ کا بپتسمہ تھا، یعنی آنے والے مسیح کے لیے تیاری اور گناہوں کا اقرار۔ خود یوحنا نے کہا کہ وہ پانی سے بپتسمہ دیتے ہیں مگر ایک آنے والا ہے جو رُوحُ القُدس سے بپتسمہ دے گا۔ مسیحی بپتسمہ مسیح کی موت اور قیامت میں شرکت کا نشان ہے اور اُن کے نام میں دیا جاتا ہے۔ اعمال 19 باب میں ہم پڑھتے ہیں کہ اِفسس کے کچھ شاگردوں نے، جنہوں نے صرف یوحنا کا بپتسمہ لیا تھا، بعد میں خداوند یسوع کے نام پر بپتسمہ لیا۔
یوحنا اصطباغی کے شاگردوں کا کیا ہوا؟
بعض شاگرد فوراً مسیح کے پیچھے چلے گئے، جیسے اندریاس، جو یوحنا کی گواہی سُن کر یسوع کے ساتھ ہو لیا اور پھر اپنے بھائی شمعون پطرس کو لے آیا۔ کچھ اُن کے ساتھ قید تک وفادار رہے اور اُن کا پیغام یسوع تک پہنچایا۔ اُن کی موت کے بعد اُن کے شاگردوں نے اُن کی لاش لے جا کر دفن کی اور یسوع کو خبر دی۔ تاہم بعض علاقوں میں یوحنا کے پیروکاروں کا حلقہ کچھ عرصہ باقی رہا، جس کا اشارہ اعمال کی کتاب میں اپلّوس اور اِفسس کے شاگردوں کے واقعے سے ملتا ہے۔
کیا یوحنا اصطباغی آخری نبی تھے؟
پُرانے عہد کی طرز کے نبیوں میں وہ آخری تھے۔ خداوند یسوع مسیح نے فرمایا کہ شریعت اور نبی یوحنا تک تھے اور اُس کے بعد آسمان کی بادشاہی کی خوشخبری سنائی جا رہی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ یوحنا وہ آخری سِرا ہیں جس پر ہزاروں سال کی نبوت آ کر مکمل ہوتی ہے، اور وہ پہلے شخص ہیں جو انگلی اُٹھا کر کہہ سکے، "دیکھو یہ خُدا کا برّہ ہے" (یوحنا 1:29)۔ نئے عہد میں نبوت کی نعمت جاری رہی، مگر یوحنا کا منصب بےمثال تھا۔
اختتام میں
یوحنا اصطباغی کی زندگی ہمیں ایک ایسی عظمت کا نقشہ دیتی ہے جو ہمارے زمانے کے پیمانوں سے بالکل اُلٹ ہے۔ اُس کے پاس نہ عمارت تھی، نہ عہدہ، نہ لمبی عمر۔ اُس کی خدمت غالباً ایک یا دو سال چلی، پھر قید، پھر خاموشی۔ مگر یسعیاہ 40:3 کی نبوت اُس میں پوری ہوئی، ملاکی 3:1 کا وعدہ اُس میں سچ نکلا، اور خود خداوند نے متی 11:11 میں اُس کے بارے میں جو کہا، وہ کسی بادشاہ کو نصیب نہ ہوا۔
اِس کی وجہ یہی ایک بات ہے: اُس نے اپنی زندگی کو ایک اُٹھی ہوئی اُنگلی بنا دیا جو مسیح کی طرف اشارہ کرتی رہی، اور جب مسیح دکھائی دینے لگے تو وہ خوشی سے پیچھے ہٹ گیا۔
اگر یہ صفحہ آپ کے دل میں ایک ہی چیز چھوڑے، تو یہ ہو: یوحنا 3:30 کو اپنی روز کی دعا بنا لیجیے۔ اپنے کام میں، اپنے گھر میں، اپنی خدمت میں پوچھیے کہ آج کہاں مسیح کو بڑا اور خود کو چھوٹا ہونے دینا ہے۔ اِس کے ساتھ یوحنا کی اُس آواز پر بھی غور کیجیے جو اُس کی سب سے بڑی گواہی تھی، یوحنا 1:29، اور اُس برّہ کو دیکھیے جو آپ کا گناہ اُٹھا لے گیا۔ آگے کے مطالعے کے لیے لوقا کے پہلے باب کو آرام سے پڑھیے، اور پھر متی 11 باب کو، تاکہ آپ ایک ہی شخص کے یقین اور اُس کے سوال، دونوں کے ساتھ خداوند کی نرمی دیکھ سکیں۔