یوحنا 8:12
متن
پتھر زمین پر گرے ہوئے ہیں، الزام لگانے والے ایک ایک کر کے کھسک چکے ہیں، اور صحن میں وہ عورت کھڑی ہے جسے ابھی ابھی زندگی واپس ملی ہے۔ اُسی لمحے، اُسی ہجوم کے سامنے، عیسیٰ دوبارہ بولتے ہیں: ”دنیا کا نور مَیں ہوں۔ جو میری پیروی کرے وہ تاریکی میں نہیں چلے گا، کیونکہ اُسے زندگی کا نور حاصل ہو گا۔“ یہ کوئی عمومی مذہبی جملہ نہیں بلکہ ایک دعویٰ ہے: روشنی کوئی تعلیم، اصول یا نظامِ شریعت نہیں، بلکہ ایک شخص ہے۔ اور اِس روشنی کے ساتھ چلنے کا نتیجہ محض بہتر معلومات نہیں، بلکہ زندگی ہے۔ بیت المُقدّس کے صحن میں، ہدیہ ڈالنے کی جگہ کے قریب، ایک آدمی خود کو وہ چیز کہتا ہے جو اب تک صرف خدا کے لیے مخصوص تھی۔
اصل مرکز
اِس ایک فقرے میں خدا کی پوری کہانی سمٹ آتی ہے۔ تخلیق کا پہلا کلام روشنی کے بارے میں تھا؛ جہاں خدا بولتے ہیں، وہاں اندھیرا پیچھے ہٹتا ہے۔ عیسیٰ یہ نہیں فرماتے کہ ”مَیں روشنی لاتا ہوں“ بلکہ ”مَیں ہوں“، یعنی وہ اُسی خالق کلام کے ساتھ اپنی شناخت جوڑتے ہیں جس سے دنیا وجود میں آئی۔ یہی بات اِس آیت کو نجات کے پورے منصوبے سے باندھ دیتی ہے: گناہ محض غلط کام نہیں، وہ تاریکی میں چلنا ہے، ایسی حالت جس میں انسان نہ راستہ دیکھتا ہے نہ اپنا چہرہ پہچانتا ہے۔ اور نجات محض معافی کا اعلان نہیں بلکہ روشنی میں داخل ہونا ہے۔ غور کریں کہ یہ دعویٰ عدالت کے ایک منظر کے فوراً بعد آتا ہے۔ جس نے ابھی کہا، ”مَیں بھی تجھ پر فتویٰ نہیں لگاتا“، وہی اب خود کو نور کہتا ہے۔ یعنی یہ روشنی پردہ فاش کرنے کے لیے نہیں، بچانے کے لیے چمکتی ہے، مگر وہ بچاتی اُسی کو ہے جو اُس کے پیچھے چلنے کو تیار ہو۔
مشترکہ دھاگا
جو لوگ اُس صحن میں کھڑے تھے، اُنہیں یہ الفاظ خلا میں نہیں سنائی دیے۔ عیدِ خیام کے دنوں میں بیت المُقدّس کے اُسی حصے میں بڑے بڑے چراغ جلائے جاتے تھے جن کی روشنی سارے یروشلم پر پڑتی تھی، اور وہ چراغ اُس آگ کے ستون کی یاد دلاتے تھے جو بیابان میں اسرائیل کے آگے آگے چلتا تھا۔ خروج کی وہ قوم روشنی کو دیکھتی نہیں تھی، اُس کے پیچھے چلتی تھی؛ ٹھہر جاتی تو اندھیرے میں رہ جاتی۔ عیسیٰ اِسی تصویر کو اپنے اوپر لے لیتے ہیں: ”جو میری پیروی کرے۔“ یسعیاہ نبی نے وعدہ کیا تھا کہ خدا کا بندہ قوموں کے لیے نور ٹھہرے گا، یعنی روشنی صرف اسرائیل کی ملکیت نہ رہے گی۔ اِس لیے عیسیٰ ”دنیا کا نور“ کہتے ہیں، نہ کہ صرف اپنی قوم کا۔ عہد کی تکمیل یہی ہے: خدا اب ستونِ آتش میں نہیں، ایک انسانی چہرے میں اپنی قوم کے آگے چلتا ہے۔
آئینہ
تاریکی کوئی مبہم روحانی حالت نہیں۔ وہ وہ ای میل ہے جو آپ نے ایسے لکھی کہ سچ تو ہو مگر پورا سچ نہ ہو۔ وہ رقم ہے جس کا حساب آپ نے گھر میں کسی کو نہیں بتایا۔ وہ عادت ہے جو رات کو موبائل کی نیلی روشنی میں زندہ رہتی ہے اور صبح شرمندگی بن جاتی ہے۔ وہ رائے ہے جو آپ اپنے کسی رشتے دار کے بارے میں دل میں پالتے ہیں اور کبھی اُس کے منہ پر نہیں کہتے۔ ہم اندھیرے کو اِس لیے پسند کرتے ہیں کہ وہاں ہمیں خود کو سنبھالنا نہیں پڑتا۔ مگر اُس عورت کو دیکھیے: اُسے انسانوں نے زبردستی روشنی میں گھسیٹا، اور وہ روشنی قاتل تھی۔ مسیح کی روشنی مختلف ہے؛ وہ آپ کو ننگا کرنے کے لیے نہیں، چلانے کے لیے جلتی ہے۔ آج ہی ایک کاغذ پر وہ ایک بات لکھیے جسے آپ اندھیرے میں رکھے ہوئے ہیں، اُسے بلند آواز میں خداوند کے سامنے پڑھیے، پھر وہ کاغذ پھاڑ دیجیے۔
مرکزی کردار
غور کیجیے کہ عیسیٰ یہ دعویٰ کہاں کرتے ہیں۔ یوحنا بتاتا ہے کہ وہ ہدیہ ڈالنے کی جگہ کے قریب تعلیم دے رہے تھے، یعنی بیت المُقدّس کے اُس حصے میں جہاں مذہبی اختیار کا پہرہ سب سے سخت تھا۔ وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے کوئی لفظ نرم نہیں کرتے۔ تھوڑی دیر بعد وہ خود فرماتے ہیں: ”مَیں جانتا ہوں کہ مَیں کہاں سے آیا ہوں اور کہاں کو جا رہا ہوں۔“ یہی اُن کی اندرونی دنیا کا نقشہ ہے۔ وہ ہجوم کی تالی یا فریسیوں کے فتوے سے اپنی شناخت نہیں بناتے؛ اُن کی بنیاد باپ کے ساتھ اُس رشتے میں ہے جو وقت سے پہلے کا ہے۔ اِسی لیے وہ جھک کر زمین پر لکھ سکتے ہیں، خاموش رہ سکتے ہیں، اور پھر کھڑے ہو کر وہ جملہ کہہ سکتے ہیں جس پر آخرکار لوگ پتھر اُٹھا لیں گے۔ جو خدا کے سامنے محفوظ ہے، وہ انسانوں کے سامنے بےخوف ہوتا ہے۔
سوال
اگر وہ واقعی دنیا کا نور ہیں، تو دنیا اب بھی اتنی تاریک کیوں ہے؟ اور ایمان دار لوگ، جو برسوں سے اُن کے پیچھے چل رہے ہیں، ڈپریشن، نشے، بےوفائی اور ناانصافی کے اندھیرے میں کیوں گرتے ہیں؟ متن اِس سوال کو نرم نہیں کرتا۔ وعدہ یہ نہیں کہ اندھیرا ختم ہو گیا، بلکہ یہ کہ جو چلتا رہے گا وہ اندھیرے میں نہیں چلے گا۔ روشنی ملکیت نہیں، ساتھ ساتھ چلنا ہے؛ ستون رُک جانے والوں کے لیے بھی چمکتا تھا، مگر اُن سے آگے نکل جاتا تھا۔ اور ایک اور سختی باقی رہتی ہے: اِسی باب میں عیسیٰ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ ”اپنے گناہ میں مر جاؤ گے“۔ روشنی کو ٹھکرایا جا سکتا ہے۔ کیوں کوئی دیکھتا ہے اور کوئی آنکھیں بند کر لیتا ہے، اِس کا پورا جواب یوحنا نہیں دیتا، اور ہمیں بھی اِس بھید کو زبردستی کھولنا نہیں چاہیے۔
بین المتون
پیدایش کے پہلے باب میں خدا کا پہلا حکم روشنی کو ہے، اور وہ روشنی سورج کی تخلیق سے بھی پہلے آتی ہے؛ یعنی اصل نور کوئی جسمِ فلکی نہیں بلکہ خدا کا بولا ہوا کلام ہے۔ عیسیٰ خود کو اُسی کلام کے ساتھ جوڑتے ہیں، اور یوحنا اپنی انجیل کے آغاز ہی میں یہی اشارہ دے چکا ہے۔ دوسری گواہی اگلے باب سے آتی ہے: ٹھیک اِس دعوے کے بعد یوحنا ایک پیدائشی اندھے کی شفا بیان کرتا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں؛ وہ معجزہ اِس آیت کا عملی مظاہرہ ہے۔ جو شخص کبھی روشنی جانتا ہی نہ تھا، وہ دیکھنے لگتا ہے، جبکہ وہ لوگ جو خود کو دیکھنے والا سمجھتے تھے، اندھے ثابت ہوتے ہیں۔ دعویٰ اور نشان ایک دوسرے کی تشریح کرتے ہیں۔
غور و فکر
آپ کی زندگی کا کون سا حصہ اِس وقت ایسا ہے جہاں آپ روشنی تو مانگتے ہیں مگر چلنا نہیں چاہتے؟
جب آپ دوسروں کے گناہ پر روشنی ڈالتے ہیں، تو کیا وہ بچانے والی روشنی ہوتی ہے یا پتھر مارنے والی؟
John 8:12 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یوحنا 8:12 کا کیا مطلب ہے؟
یوحنا 8:12 کس بارے میں ہے؟
یوحنا 8:12 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یوحنا 8:12 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یوحنا 8:12 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی John 8 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اگر اللہ تمہارا باپ ہوتا تو تم مجھ سے محبت رکھتے۔“ عیسیٰ نے دین داری کا پیمانہ عبادت یا نسب نہیں، بلکہ محبت بتایا۔ وہ لوگ اللہ کو باپ کہتے تھے، مگر اُس کے بھیجے ہوئے بیٹے کے لیے دل میں کچھ نہ تھا۔ ذرا ٹھہر کر سوچ: کیا میرا ایمان صرف عادت ہے، یا مسیح کے لیے سچی محبت بھی میرے اندر دھڑکتی ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں