یوحنا 9:6
متن
بات ابھی ہوا میں معلق ہے: ”جتنی دیر تک مَیں دنیا میں ہوں اُتنی دیر تک مَیں دنیا کا نور ہوں۔“ ایسے بلند دعوے کے بعد آپ کسی آسمانی روشنی کی توقع کریں گے۔ مگر عیسیٰ جھک جاتے ہیں۔ گلی کی خاک پر تھوکتے ہیں، انگلی سے گارا بناتے ہیں، اور وہ گیلی مٹی اُس بھکاری کی بند پلکوں پر پھیر دیتے ہیں: ”یہ کہہ کر اُس نے زمین پر تھوک کر مٹی سانی اور اُس کی آنکھوں پر لگا دی۔“ نہ کوئی دعا سنائی دیتی ہے، نہ کوئی حکم، نہ ہجوم کے لئے کوئی تماشا۔ صرف ایک جھکی ہوئی کمر، ایک اجنبی کا لعاب، اور ایک ایسے آدمی کا چہرہ جو دیکھ نہیں سکتا کہ اُس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ وہ صرف محسوس کرتا ہے: ٹھنڈی، کھردری مٹی۔
بنیادی نکتہ
اِس ایک حرکت میں پوری انجیل کا مزاج کھل جاتا ہے۔ جو خدا پیدائش کے پہلے باب میں انسان کو زمین کی مٹی سے گھڑتا ہے، وہی یہاں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر مٹی سان رہا ہے۔ یہ اتفاق نہیں: ادھوری تخلیق کو مکمل کرنے والا کاریگر اپنے ہاتھ گندے کرنے سے نہیں ہچکچاتا۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں یہ آیت ہمیں کھٹکتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ نجات صاف ستھری ہو، بےجسم ہو، محض ایک لفظ۔ مگر خداوند لعاب اور خاک کے ذریعے کام کرتے ہیں، کیونکہ وہ خود جسم بن کر آئے ہیں۔ فضل مادّے سے گھن نہیں کھاتا۔ جو خدا آپ کے بیمار جسم، آپ کے قرض، آپ کے تھکے ہوئے ہاتھوں کو چھونے سے کترائے، وہ اِس آیت کا خدا نہیں ہے۔
سلسلۂ کلام
مٹی بےمقصد نہیں چنی گئی۔ پیدائش کی کتاب میں خدا زمین کی خاک سے آدم کو گھڑتے ہیں اور اُس میں دم پھونکتے ہیں؛ یہاں وہی ہاتھ ایک نامکمل جسم پر خاک رکھتے ہیں۔ یوحنا اپنی انجیل کا آغاز ”ابتدا میں کلام تھا“ سے کرتا ہے، اور اب ہمیں دکھاتا ہے کہ وہی کلام گلی کی دھول میں گھٹنے ٹیکے بیٹھا ہے۔ یہ نئی تخلیق کا پہلا لمس ہے۔ اور اگلی ہی آیت میں حوض کا نام کھلتا ہے: ”شِلوخ کا مطلب ’بھیجا ہوا‘ ہے۔“ یوحنا یہ وضاحت بلاوجہ نہیں دیتا۔ جو بھیجا گیا ہے وہ حوض نہیں، وہ خود مسیح ہیں۔ مٹی اُن کے ہاتھ کی ہے، پانی اُن کے نام کا ہے، اور بینائی اُس مصلوب ہونے والے کی طرف اشارہ کرتی ہے جو مٹی میں اُترے گا تاکہ ہم اُٹھیں۔
آئینہ
غور کیجئے کہ اِس لمحے میں وہ آدمی پہلے سے زیادہ اندھا ہو جاتا ہے۔ آنکھوں پر گارا لگا ہے، چہرہ لتھڑا ہوا ہے، اور اُسے حوض تک ٹٹولتے ہوئے جانا ہے۔ خدا کا کام اکثر یوں ہی شروع ہوتا ہے: آسانی سے نہیں، بلکہ ایک ایسی صورتِ حال سے جو پہلے سے زیادہ اُلجھی ہوئی لگتی ہے۔ نوکری جو چھوٹ گئی، رپورٹ جو ٹھیک نہ آئی، وہ رشتہ جو سنبھلنے کے بجائے مزید بگڑ گیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ خداوند صاف لفظ سے شفا دیں؛ وہ ہمارے چہرے پر مٹی مل دیتے ہیں اور کہتے ہیں، چل، اب چل کر دھو لے۔ ایمان یہی ہے کہ گارا لگی آنکھوں کے ساتھ اُٹھ کھڑے ہوں۔ آج ہی ایک کاغذ پر وہ ایک بات لکھئے جو اِس وقت آپ کی زندگی میں سب سے زیادہ بےڈھنگی اور شرمناک لگتی ہے، اور اُس کے نیچے یہ دعا لکھ کر بلند آواز میں پڑھئے: ”خداوند، اپنے ہاتھ کی مٹی اِس پر لگا دیں۔“
بین المتون
پرانے عہدنامے میں نعمان سپہ سالار کو بھی ایک ذلیل سا حکم ملا تھا: جا، دریائے یردن میں سات بار غوطہ لگا۔ وہ ناراض ہوا، کیونکہ اُس نے شان دار معجزے کی توقع کی تھی۔ خدا کا طریقہ انسان کی عزتِ نفس کو ہمیشہ کھٹکتا ہے۔ یہاں بھکاری اعتراض نہیں کرتا؛ وہ چلا جاتا ہے، اور دیکھنے لگتا ہے۔ اور اِسی باب کے آخر میں عیسیٰ اِس پورے واقعے کا مطلب کھول دیتے ہیں: ”مَیں عدالت کرنے کے لئے اِس دنیا میں آیا ہوں، اِس لئے کہ اندھے دیکھیں اور دیکھنے والے اندھے ہو جائیں۔“ مٹی دو کام کرتی ہے: ایک آدمی کی آنکھیں کھولتی ہے اور اُن لوگوں کی اندھا پن بےنقاب کرتی ہے جو سمجھتے تھے کہ اُنہیں سب دکھائی دیتا ہے۔
سوال
پھر مٹی کی ضرورت کیا تھی؟ عیسیٰ نے دوسری جگہوں پر محض لفظ سے شفا دی ہے، بلکہ فاصلے سے بھی۔ اور یہ کوئی معمولی دن نہیں تھا: چودھویں آیت بتاتی ہے کہ وہ سبت کا دن تھا، اور گارا سانْنا اُن کاموں میں شمار ہوتا تھا جو سبت پر منع تھے۔ یعنی عیسیٰ نے جان بوجھ کر ایسا طریقہ چنا جو تصادم پیدا کرے۔ کیوں؟ متن جواب نہیں دیتا۔ ہمیں یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ اُس آدمی سے پہلے اجازت لی گئی یا نہیں۔ ہم صرف اتنا دیکھتے ہیں کہ خداوند شفا اور تنازع کو ایک ہی حرکت میں باندھ دیتے ہیں۔ شاید سبق یہی ہے کہ خدا کا کام کبھی سہولت کے مطابق نہیں آتا؛ وہ ہمارے نظام کو توڑ کر آتا ہے، اور یہ بات آرام دہ نہیں، صرف سچ ہے۔
سیاق و سباق
منظر یروشلیم ہے، غالباً ہیکل کے احاطے سے نکلتے ہوئے، عیدِ خیام کے دنوں کے فوراً بعد جب اُس عید میں شِلوخ کے حوض سے پانی لا کر قربان گاہ پر اُنڈیلا جاتا تھا اور ہیکل روشنیوں سے جگمگاتا تھا۔ اِسی پس منظر میں ”دنیا کا نور“ کا دعویٰ بجلی کی طرح گرتا ہے۔ اندھا آدمی معاشرے کے سب سے نچلے درجے پر ہے: بھکاری، بےنام، اور عام خیال کے مطابق کسی گناہ کی سزا بھگتنے والا۔ فریسیوں کا اثر اتنا تھا کہ اُس کے اپنے ماں باپ گواہی دینے سے کترا گئے، کیونکہ ”وہ فیصلہ کر چکے تھے کہ جو بھی عیسیٰ کو مسیح قرار دے اُسے یہودی جماعت سے نکال دیا جائے۔“ اُس دنیا میں یہ سماجی موت تھی۔ اور عیسیٰ اِسی آدمی کے سامنے جھک کر مٹی سانتے ہیں۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ ”مٹی“ کیا ہے، یعنی وہ ناپسندیدہ، بےڈھنگا ذریعہ جس کے بارے میں آپ اب سمجھنے لگے ہیں کہ خداوند نے اُسی سے آپ کی آنکھیں کھولیں؟
کیا آپ ایسے خدا کے ساتھ رہ سکتے ہیں جو آپ کی مشکل کو پہلے آسان کرنے کے بجائے پہلے اور اُلجھا دے، اور پھر کہے: ”جا، نہا لے“؟
John 9:6 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یوحنا 9:6 کا کیا مطلب ہے؟
یوحنا 9:6 کس بارے میں ہے؟
یوحنا 9:6 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یوحنا 9:6 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یوحنا 9:6 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی John 9 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، مجھے اُن لوگوں جیسا نہ بنا جو یقین سے کہتے ہیں کہ وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ میری آنکھیں اکثر بند رہتی ہیں اور مجھے خبر بھی نہیں ہوتی۔ مجھ پر رحم کر، میرے اندر کے اندھیرے کونوں کو روشن کر، اور سچ کو دیکھنے کی ہمت عطا کر۔
جس دن سب نے اُسے دھکے دے کر باہر نکالا، اُسی دن یسوع نے اُسے ڈھونڈ نکالا۔ ”عیسیٰ کو پتا چلا کہ اُنہوں نے اُسے نکال دیا ہے۔ اُس نے اُس آدمی کو ڈھونڈ کر پوچھا، کیا تُو ابنِ آدم پر ایمان رکھتا ہے؟“ وہ آدمی مسیح کو ڈھونڈنے نہیں گیا تھا، مسیح خود اُس کے پیچھے آیا۔ کیا تجھے لگتا ہے کہ تُو کسی دروازے سے باہر پھینکا گیا ہے؟ وہ جانتا ہے تُو کہاں کھڑا ہے، اور وہ تجھے ڈھونڈتے ہوئے آ رہا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں