یوحنا 9
متن
یسوع ایک پیدائشی اندھے آدمی کو دیکھتے ہیں، اور شاگردوں کا پہلا سوال یہ ہے کہ قصور کس کا تھا۔ یسوع سوال کا رخ بدل دیتے ہیں، مٹی سان کر اُس کی آنکھوں پر لگاتے ہیں اور اُسے شِلوخ کے حوض پر بھیج دیتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہوا واپس آتا ہے، اور اِس کے بعد پورا باب ایک لمبی تحقیقات بن جاتا ہے: پڑوسی، فریسی، والدین، دوبارہ فریسی، جماعت سے اخراج، اور آخر میں یسوع سے دوسری ملاقات جس میں وہ اندھا آدمی سجدہ کرتا ہے اور دیکھنے والے اندھے ٹھہرتے ہیں۔
اصل بات
یہ باب محض ایک معجزے کی رپورٹ نہیں، بلکہ بصارت کے دو معنی کا تصادم ہے۔ ایک آدمی کی آنکھیں کھلتی ہیں اور وہ قدم بہ قدم دیکھنا سیکھتا ہے: پہلے ”وہ آدمی جو عیسیٰ کہلاتا ہے“، پھر ”وہ نبی ہے“، پھر ”اگر یہ آدمی اللہ کی طرف سے نہ ہوتا تو کچھ نہ کر سکتا“، اور آخر میں سجدہ۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیں کبھی خراب نہ تھیں مگر جو ثبوت کے سامنے کھڑے ہو کر کہتے ہیں: ”ہم تو جانتے ہیں کہ یہ آدمی گناہ گار ہے۔“ یسوع کا جملہ ”اندھے دیکھیں اور دیکھنے والے اندھے ہو جائیں“ اِسی کا خلاصہ ہے۔ نجات علم کی مقدار سے نہیں آتی بلکہ اُس عاجزی سے جو اپنی اندھے پن کو مان لے۔
سلسلۂ کلام
پیدائش کی کتاب میں خدا مٹی سے انسان کو تشکیل دیتے ہیں۔ یوحنا ۹ میں وہی ہاتھ زمین کی مٹی سانتا ہے اور ایک ادھوری پیدائش کو مکمل کرتا ہے۔ یہ محض شفا نہیں، یہ تخلیق کا کام ہے، اور اِسی لیے سبت کے دن ہونا اتفاق نہیں: خالق اپنے سبت میں کام کرتا ہے۔ ساتھ ہی یسعیاہ نبی کے وعدے یاد آتے ہیں کہ جب خدا اپنی قوم کو بحال کریں گے تو اندھوں کی آنکھیں کھولی جائیں گی۔ آدمی خود کہتا ہے: ”ابتدا ہی سے یہ بات سننے میں نہیں آئی کہ کسی نے پیدائشی اندھے کی آنکھوں کو بحال کر دیا ہو۔“ یعنی یہاں نبوّت کی تکمیل ہو رہی ہے، اور جو تکمیل کرتا ہے وہ خود ”دنیا کا نور“ ہے۔
آئینہ
ہم سب اُس پہلے سوال کے ماہر ہیں۔ بچے کی معذوری، بیوی کا کینسر، نوکری کا چھن جانا، اور فوراً ذہن حساب لگانے لگتا ہے: کس کی غلطی؟ کس گناہ کا نتیجہ؟ یسوع اِس حساب کو رد نہیں کرتے بلکہ اُسے بے کار قرار دیتے ہیں۔ دوسری طرف والدین کا ڈر بھی ہمارا ہی ڈر ہے: وہ سچ جانتے ہیں مگر خاندان، برادری اور عزت کے خوف سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں، ”اِس سے خود پتا کریں، یہ بالغ ہے۔“ کتنی بار ہم نے مسیح کو جانتے ہوئے بھی بات کو دوسروں کے کندھے پر ڈال دیا ہے؟ اور اُس آدمی کی گواہی کتنی سادہ ہے، بغیر علمِ کلام کے: ”پہلے مَیں اندھا تھا، اور اب مَیں دیکھ سکتا ہوں!“
آج ہی ایک کاغذ پر دو جملے لکھیں: پہلے مَیں کس بات میں اندھا تھا، اور اب مَیں کیا دیکھتا ہوں۔ صرف دو جملے، اپنے الفاظ میں، اور اُنہیں بلند آواز سے پڑھیں۔
کلام میں گونج
شِلوخ کا نام یوحنا خود ترجمہ کرتے ہیں: ’بھیجا ہوا‘۔ پورے یوحنا میں یسوع اپنے بارے میں یہی کہتے ہیں کہ وہ باپ کے بھیجے ہوئے ہیں، اور یہاں بھی: ”اُس کا کام کرتے رہیں جس نے مجھے بھیجا ہے۔“ اندھا آدمی حوض میں نہیں، بلکہ ’بھیجے ہوئے‘ میں دھویا جاتا ہے۔ ایک اور گونج ایوب کی کتاب سے آتی ہے: وہاں بھی دوست دکھ کا حساب گناہ سے لگاتے ہیں اور خدا اُن کے حساب کو غلط ٹھہراتے ہیں۔ تیسری گونج حزقی ایل ۳۴ ہے، جہاں خدا اُن چرواہوں پر الزام لگاتے ہیں جو بھیڑوں کی پرواہ نہیں کرتے؛ یہاں قوم کے رہنما ایک شفایاب آدمی کو باہر نکال دیتے ہیں، اور فوراً اگلے باب میں یسوع اچھے چرواہے کے طور پر سامنے آتے ہیں جو نکالے ہوئے کو خود ڈھونڈ لیتے ہیں۔ تناؤ بھی موجود ہے: نیکدیمس، جو رات کو آیا اور علم رکھتا تھا، جھجکتا رہا؛ یہ بھکاری، جو کچھ نہ جانتا تھا، سجدے تک پہنچ گیا۔
سامعین کا نقشہ
یوحنا کے پہلے قاری وہ یہودی مسیح ایمان دار تھے جنہیں عبادت خانے سے نکالا جا رہا تھا۔ آیت ۲۲ کا فقرہ اُن کے لیے تاریخ نہیں، حال تھا: ”جو بھی عیسیٰ کو مسیح قرار دے اُسے یہودی جماعت سے نکال دیا جائے۔“ اِس کا مطلب رشتہ داروں سے کٹ جانا، کاروبار کا نقصان، شادی بیاہ کے دروازے بند ہونا۔ جب اُنہوں نے سنا کہ وہ اندھا آدمی بھی نکالا گیا مگر باہر ہی مسیح نے اُسے ڈھونڈ لیا، تو یہ تسلی محض جذباتی نہ تھی۔ اُن کی قیمت ادا کی گئی تھی، مگر جس کے ساتھ اُنہیں چھوڑا گیا وہ خود ابنِ آدم تھا۔
سوال
آیت ۳ مشکل ہے۔ کیا ایک آدمی کئی سال اِس لیے اندھا رہا کہ ایک دن خدا کا کام دکھایا جا سکے؟ یسوع کا جواب اِس الجھن کو حل نہیں کرتا، وہ صرف غلط سوال کو ہٹاتا ہے۔ متن یہ نہیں کہتا کہ خدا نے اُسے اندھا کیا تاکہ تماشا ہو؛ متن یہ کہتا ہے کہ اِس زندگی کا انجام خدا کا کام ہوگا۔ فرق باریک مگر حقیقی ہے۔ اور ایمانداری یہ ہے کہ ہر اندھے پن کا انجام اِس دنیا میں شفا نہیں ہوتا۔ یسوع نے اُس دن ہر بھکاری کی آنکھیں نہیں کھولیں۔ ہمیں اِس خلا کے ساتھ جینا سیکھنا ہے، بغیر اُسے جھوٹی تسلی سے بھرے۔ جو ہم رکھتے ہیں وہ وضاحت نہیں بلکہ ایک شخص ہے جو اندھیرے میں ہمیں ڈھونڈنے آتا ہے۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں کون سا دکھ ہے جس کا آپ اب تک ”قصور کس کا؟“ کے سوال سے حساب لگا رہے ہیں، اور اگر یسوع وہاں سے یہ سوال ہٹا دیں تو کیا باقی رہے گا؟
کہاں آپ اُس آدمی کے والدین کی طرح خوف سے سچ کو دوسروں کے کندھے پر ڈال رہے ہیں، اور اِس ہفتے کس ایک شخص کے سامنے آپ خود کھڑے ہوں گے؟
John 9 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یوحنا 9 کا کیا مطلب ہے؟
یوحنا 9 کس بارے میں ہے؟
یوحنا 9 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یوحنا 9 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یوحنا 9 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی John 9 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
یسوع نے اندھے آدمی کو دیکھ کر وقت کی بات کی: ”جب تک دن ہے لازم ہے کہ ہم اُس کے کام کریں جس نے مجھے بھیجا ہے۔ وہ رات آنے والی ہے جب کوئی کام نہیں کر سکے گا۔“ شاگرد سوال پوچھ رہے تھے کہ قصوروار کون ہے، اور یسوع مٹی گوندھ رہے تھے۔ بحث کرنے کا وقت ہمیشہ ملتا ہے، محبت کرنے کا نہیں۔ آج جو ہاتھ تیرے سامنے ہے، اُسے تھام لے۔
اے خدا، لوگ اپنی رائے لے کر مجھ پر دباؤ ڈالتے ہیں، مگر جو تُو نے میرے ساتھ کیا وہ میں بھول نہیں سکتا۔ پہلے اندھیرا تھا، اب تیری روشنی ہے۔ مجھے ہمت دے کہ سادگی سے سچ کہوں، چاہے کوئی مانے یا نہ مانے۔
اے خدا، مجھے اُن لوگوں جیسا نہ بنا جو یقین سے کہتے ہیں کہ وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ میری آنکھیں اکثر بند رہتی ہیں اور مجھے خبر بھی نہیں ہوتی۔ مجھ پر رحم کر، میرے اندر کے اندھیرے کونوں کو روشن کر، اور سچ کو دیکھنے کی ہمت عطا کر۔
جس دن سب نے اُسے دھکے دے کر باہر نکالا، اُسی دن یسوع نے اُسے ڈھونڈ نکالا۔ ”عیسیٰ کو پتا چلا کہ اُنہوں نے اُسے نکال دیا ہے۔ اُس نے اُس آدمی کو ڈھونڈ کر پوچھا، کیا تُو ابنِ آدم پر ایمان رکھتا ہے؟“ وہ آدمی مسیح کو ڈھونڈنے نہیں گیا تھا، مسیح خود اُس کے پیچھے آیا۔ کیا تجھے لگتا ہے کہ تُو کسی دروازے سے باہر پھینکا گیا ہے؟ وہ جانتا ہے تُو کہاں کھڑا ہے، اور وہ تجھے ڈھونڈتے ہوئے آ رہا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
