نوحہ 1
متن
پہلا باب ایک ماتمی گیت ہے جو کھنڈر بنے یروشلم پر گایا جا رہا ہے۔ جو شہر پہلے اقوام میں سرفہرست اور "ممالک کی رانی" تھا، وہ اب بیوہ کی طرح تنہا بیٹھا ہے، اُس کے دروازے سنسان ہیں، عیدیں بند ہیں، اُس کے بیٹے بیٹیاں دشمن کے آگے آگے جلاوطن ہو رہے ہیں۔ مگر بیچ میں ایک جملہ سب کچھ بدل دیتا ہے: یہ محض سیاسی شکست نہیں، "رب نے شہر کو اُس کے متعدد گناہوں کا اجر دے کر اُسے دُکھ پہنچایا ہے۔" آخر میں شہر خود بولنے لگتا ہے، اپنی سرکشی مانتا ہے، اور خدا سے فریاد کرتا ہے کہ وہ اُس کی تذلیل پر نظر ڈالے۔
بنیادی بات
اِس باب کا مرکزی اعتراف آیت 18 میں ہے: "رب حق بجانب ہے، کیونکہ مَیں اُس کے کلام سے سرکش ہوئی۔" یہی جملہ اِس ماتم کو محض غم سے نکال کر الٰہیات بنا دیتا ہے۔ یہاں دو باتیں ایک ساتھ مانی جا رہی ہیں جنہیں ہم عموماً الگ رکھنا چاہتے ہیں: خدا کی راستی اور انسان کا لامحدود درد۔ یروشلم یہ نہیں کہتا کہ میرے ساتھ زیادتی ہوئی، اور نہ یہ کہ میرا رونا بےجا ہے۔ وہ دونوں کو تھامے رکھتا ہے۔ عہد کا خدا محبت کرنے والا ہے، مگر وہ ایسا محبت کرنے والا نہیں جو بےوفائی کو نظرانداز کر دے۔ آیت 15 کی تصویر ہولناک ہے: "رب نے کنواری یہوداہ بیٹی کو انگور کا رس نکالنے کے حوض میں پھینک کر کچل ڈالا۔" قدوسیت مہربانی کا مخالف نہیں، بلکہ اُس کی سنجیدگی ہے۔
سلسلۂ کلام
پورے باب میں ایک لفظ بار بار گونجتا ہے: عبرانی میں مِنَحیم، یعنی "تسلی دینے والا"۔ چار بار کہا جاتا ہے کہ کوئی نہیں ہے جو تسلی دے۔ عاشق بےوفا نکلے، پڑوسی دشمن بن گئے، امام آہیں بھر رہے ہیں۔ یہ خالی جگہ اتفاقاً خالی نہیں چھوڑی گئی؛ یہی خلا آگے چل کر یسعیاہ کی اُس آواز کو جگہ دیتا ہے جو یروشلم کو تسلی دینے آتی ہے، اور بالآخر اُس کو جو خود روتے ہوئے اِس شہر کے سامنے کھڑا ہوا۔ لوقا لکھتا ہے کہ خداوند یسوع نے یروشلم کو دیکھ کر آنسو بہائے۔ نوحہ 1 میں شہر اکیلا روتا ہے؛ انجیل میں خدا خود شہر کے ساتھ روتا ہے۔ اور آیت 15 کا کچلا جانے والا حوض بعد میں ایک اَور کے لیے تیار ہو گا، جو بےگناہ ہو کر غضب کا پیالہ پیے گا تاکہ سرکش بیٹی کو تسلی مل سکے۔
آئینہ
آیت 9 آپ کے اور میرے بارے میں ہے: "گو اُس کے دامن میں بہت گندگی تھی، توبھی اُس نے اپنے انجام کا خیال تک نہ کیا۔" یہی وہ بےخبری ہے جس میں ہم برسوں گزار دیتے ہیں۔ کاروبار میں چھوٹی بےایمانی جو معمول بن جاتی ہے، وہ رشتہ جسے ہم "بس دوستی" کہتے ہیں، وہ غصہ جو گھر میں معافی مانگے بغیر سو جاتا ہے۔ ہم انجام کا حساب نہیں لگاتے۔ اور جب گراوٹ آتی ہے تو ہم پہلے اُنہی "عاشقوں" کو پکارتے ہیں جن پر بھروسہ رکھا تھا: بینک بیلنس، اثر و رسوخ، وہ دوست جو خوشحالی میں ساتھ تھے۔ آیت 19 صاف کہتی ہے کہ اُنہوں نے بےوفا ہو کر ترک کر دیا۔ اِس باب کی سب سے صحت بخش چیز یہی ہے کہ یہ ہمیں اپنی ذمہ داری سے آنکھیں چرانے نہیں دیتی، اور ساتھ ہی رونے سے بھی نہیں روکتی۔
پہلے سننے والے
یہ گیت اُن لوگوں نے سنا جن کی ساری الٰہیات جل کر خاک ہو گئی تھی۔ اُنہیں سکھایا گیا تھا کہ صیون خدا کا چنا ہوا مقام ہے اور ہیکل ناقابلِ تسخیر۔ اب آیت 10 اُن کے زخم پر ہاتھ رکھتی ہے: "اُسے دیکھنا پڑا کہ غیراقوام اُس کے مقدِس میں داخل ہو رہے ہیں، گو تُو نے ایسے لوگوں کو اپنی جماعت میں شریک ہونے سے منع کیا تھا۔" یہ بابل کی فوجوں کی محض بےادبی نہیں تھی، یہ اُن کے لیے کائنات کے مرکز کی بےحرمتی تھی۔ سوال یہ نہیں تھا کہ ہم بچیں گے یا نہیں، بلکہ یہ کہ کیا ہمارا خدا ہار گیا؟ اور جواب جو یہ باب دیتا ہے، وہ کڑوا مگر بچانے والا ہے: خدا ہارا نہیں، وہ خود ہمارے خلاف اُٹھا ہے۔ اِس جواب میں امید کا بیج چھپا تھا، کیونکہ جو خدا سزا دے سکتا ہے وہ بحال بھی کر سکتا ہے۔
مشکل سوال
باب کا اختتام آسان نہیں: "اُن سے یوں نپٹ لے جس طرح تُو نے میرے گناہوں کے جواب میں مجھ سے نپٹ لیا ہے۔" یہ دعا ہمیں بےچین کرتی ہے، اور کرنی بھی چاہیے۔ کیا یہ دشمن سے محبت کے حکم کے خلاف نہیں؟ ایک لحاظ سے ہاں۔ مگر غور کریں کہ یہ آدمی خود بدلہ نہیں لے رہا؛ وہ انصاف خدا کے ہاتھ میں دے رہا ہے۔ اور اُس کی دلیل حیران کن ہے: چونکہ خدا نے میرے گناہ کو سنجیدگی سے لیا، اِس لیے اُن کے ظلم کو بھی سنجیدگی سے لے۔ یہاں ایک تلخ منطق ہے جسے ہم صاف نہیں کر سکتے۔ کلام ہمیں یہ دعا سنانے کے بعد کوئی وضاحت نہیں دیتا۔ شاید یہی سکھانا مقصود ہے: زخمی انسان کی دعا ہمیشہ خوبصورت نہیں ہوتی، اور خدا اُسے پھر بھی سنتا ہے۔
کلام کی گونج
استثنا 28 میں موسیٰ نے عہد کی برکتوں کے ساتھ لعنتیں بھی گنوائی تھیں: جلاوطنی، بھوک، اقوام کے درمیان عبرت بننا۔ نوحہ 1 اُس فہرست کا آنکھوں دیکھا احوال ہے، اور یہی اِس باب کو محض حادثہ نہیں بلکہ عہد کے اندر کا واقعہ بناتا ہے۔ خدا نے جو کہا تھا وہی کیا؛ اُس کی بات ہر حال میں سچی ہے۔ دوسری گونج آیت 12 سے آتی ہے: "اے یہاں سے گزرنے والو، کیا یہ سب کچھ تمہارے نزدیک بےمعنی ہے؟" صدیوں بعد یہی سوال ایک اَور جگہ سے اُٹھے گا، جہاں گزرنے والے سر ہلا رہے تھے اور صلیب پر لٹکا ہوا شخص خدا کے ترک کیے جانے کا تجربہ کر رہا تھا۔ مسیح میں یروشلم کا نوحہ بےمعنی نہیں رہتا؛ وہ سنا جاتا ہے اور اُٹھا لیا جاتا ہے۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سے "عاشق" ہیں جنہیں آپ مصیبت کے وقت خدا سے پہلے پکارتے ہیں، اور اُن کی بےوفائی آپ نے کہاں دیکھی ہے؟
آیت 18 کہتی ہے "رب حق بجانب ہے" اور آیت 20 کہتی ہے "باطن میں مَیں تڑپ رہی ہوں"۔ کیا آپ اپنی دعا میں یہ دونوں باتیں ایک ساتھ کہنے کی جرأت رکھتے ہیں، یا ایک کو دبا دیتے ہیں؟
Lamentations 1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
نوحہ 1 کا کیا مطلب ہے؟
نوحہ 1 کس بارے میں ہے؟
نوحہ 1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
نوحہ 1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوحہ 1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Lamentations 1 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
یروشلم ملبے میں بیٹھی ہے اور راہ گیروں کو پکارتی ہے: "اے یہاں سے گزرنے والو، کیا تمہیں کوئی پروا نہیں؟" سب سے بڑا زخم تباہی نہیں، بلکہ یہ کہ لوگ دیکھے بغیر گزر جاتے ہیں۔ آج بھی کوئی تمہارے قریب ایسے ہی بیٹھا ہے۔ ذرا رُک کر پوچھو۔ اور اگر تم خود وہ بیٹھنے والے ہو، تو جان لو کہ صلیب پر ایک ایسا تھا جس نے یہی درد سہا، اور وہ تمہیں دیکھے بغیر نہیں گزرتا۔
اُس کے بزرگ ہرنوں کی مانند ہیں جنہیں کہیں بھی چراگاہ نہیں ملتی۔“ جو لوگ قوم کو راہ دکھاتے تھے، اب خود بھوکے اور نڈھال ہو کر بھاگ رہے ہیں۔ شان و شوکت ایک دن میں نہیں گئی، اندر ہی اندر چراگاہ ختم ہوتی گئی اور کسی نے دھیان نہ دیا۔ ذرا سوچ، تیری روح آخری بار کب سیر ہوئی تھی؟ خالی پیٹ دوڑتے رہنا بہادری نہیں، خطرے کی گھنٹی ہے۔
صیون اپنے ہاتھ پھیلائے کھڑی ہے، مگر "کوئی نہیں ہے جو اُسے تسلی دے۔" یہ بھیک مانگنے والے ہاتھ ہیں، بچے کے اُٹھے ہوئے بازو، جو کسی گود کے منتظر ہیں۔ کبھی سوچا ہے کہ ایک اَور نے بھی صلیب پر یونہی ہاتھ پھیلائے تھے، اور اُس وقت اُسے بھی کسی نے تسلی نہ دی؟ تیرے خالی ہاتھ اُس سے اجنبی نہیں۔ وہ اُس جگہ سے گزر چکا ہے۔
ہاں، رب نے کنواری بیٹی یہوداہ کو حوض میں انگور کی طرح کچل دیا ہے۔“ یرمیاہ اپنے درد کو چھپاتا نہیں، اور نہ کسی اور کو الزام دیتا ہے۔ وہ سیدھا خدا سے بات کرتا ہے، اُسی خدا سے جس کا ہاتھ اُسے بھاری لگ رہا ہے۔ کیا تُو بھی اپنی سب سے کڑوی شکایت اُس کے سامنے رکھ سکتا ہے؟ جو دل ٹوٹ کر بھی مخاطب رہتا ہے، وہ ابھی ایمان میں کھڑا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
