لوقا 10
متن
یسوع مسیح بہتر (72) شاگردوں کو دو دو کر کے اُن شہروں میں آگے بھیجتے ہیں جہاں وہ خود جانے والے ہیں: بغیر بٹوے، بغیر جوتوں، بھیڑوں کی طرح بھیڑیوں کے بیچ، اِس پیغام کے ساتھ کہ ”اللہ کی بادشاہی قریب آ گئی ہے۔“ پھر وہ اُن شہروں پر افسوس کا کلمہ کہتے ہیں جنہوں نے معجزے دیکھ کر بھی توبہ نہ کی، اور لوٹنے والے شاگردوں کی خوشی کو بدروحوں کے تابع ہونے سے ہٹا کر اِس حقیقت پر جما دیتے ہیں کہ اُن کے نام آسمان پر درج ہیں۔ باب کے دوسرے حصے میں شریعت کا ایک عالِم ابدی زندگی کا سوال اُٹھاتا ہے اور جواب میں نیک سامری کی تمثیل سنتا ہے، اور آخر میں مرتھا کی مصروف خدمت اور مریم کے خاموش بیٹھنے کا فرق سامنے آتا ہے۔
اصل مرکز
یہ پورا باب ایک ہی دعوے کے گرد گھومتا ہے: خدا کی بادشاہی کوئی دُور کا مستقبل نہیں، وہ چل کر لوگوں کے دروازوں تک آ پہنچی ہے، اور اِسی لئے ہر گھر، ہر شہر اب فیصلے کی جگہ بن جاتا ہے۔ غور کیجئے کہ بادشاہی کا آنا بیک وقت نعمت بھی ہے اور عدالت بھی: جو قبول کرتے ہیں اُن پر سلامتی ٹھہرتی ہے، اور جو رد کرتے ہیں اُن کے بارے میں وہی جملہ دہرایا جاتا ہے، ”اللہ کی بادشاہی قریب آ گئی ہے“، مگر اب بطور گواہی اُن کے خلاف۔ فضل اور عدالت دو الگ خدا نہیں، ایک ہی خدا کی ایک ہی آمد کے دو رُخ ہیں۔ اور نجات کی بنیاد ہماری کارکردگی نہیں: شاگردوں کی سب سے بڑی خوشی اختیار نہیں بلکہ یہ ہے کہ اُن کے نام آسمان پر لکھے جا چکے ہیں، یعنی خدا کے انتخاب میں، نہ کہ اُن کی کامیابی میں۔
مشترکہ دھاگا
بہتر شاگردوں کا بھیجا جانا خلا میں نہیں ہوتا۔ موسیٰ نے بھی ستر بزرگوں کو مقرر کیا تھا تاکہ وہی روح جو اُس پر تھی اُن پر بھی آ جائے اور قوم کا بوجھ اکیلے ایک آدمی پر نہ رہے (گنتی ۱۱)۔ یسوع اُسی نمونے کو دہراتے ہیں، مگر اب بوجھ اسرائیل کا نہیں، دنیا کا ہے، اور بھیجنے والا وہ ہے جو خود ”فصل کا مالک“ ہے۔ اور جب وہ کہتے ہیں، ”ابلیس مجھے نظر آیا اور وہ بجلی کی طرح آسمان سے گر رہا تھا“، تو ہم پیدایش ۳ کے اُس وعدے کی گونج سنتے ہیں جہاں سانپ کا سر کچلے جانے کی بات ہوئی تھی۔ گاؤں گاؤں میں کی گئی یہ معمولی سی خدمت دراصل اُس قدیم جنگ کا فیصلہ کن موڑ ہے۔ بادشاہی تخت سے نہیں، دروازوں سے داخل ہو رہی ہے۔
آئینہ
غور کیجئے کہ عالِم کا دوسرا سوال کہاں سے آتا ہے: ”اپنے آپ کو درست ثابت کرنے کی غرض سے“۔ یہی ہماری سب سے شائستہ بیماری ہے۔ ہم محبت کے حکم سے انکار نہیں کرتے، ہم صرف اُس کی حد بندی کرنا چاہتے ہیں: کون واقعی میرا پڑوسی ہے، کس کا حق بنتا ہے، کہاں میری ذمہ داری ختم ہوتی ہے۔ امام اور لاوی بُرے لوگ نہیں تھے؛ اُن کے پاس وجوہات تھیں، وقت کی تنگی، خطرہ، شاید مذہبی پاکیزگی۔ ہمارے پاس بھی ہیں: شفٹ، بچوں کی پک اپ، تھکن، ”یہ میرا دائرہ نہیں“۔ اور دوسری طرف مرتھا ہے، جو خدمت ہی میں خداوند کو کھو بیٹھتی ہے۔ آج ایک کام کیجئے: اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھئے جس کے پاس سے آپ مہینوں سے ”راستے کی پرلی طرف ہو کر“ گزر رہے ہیں، اور ابھی، اِسی وقت، اُسے ایک مختصر پیغام بھیجئے کہ آپ اُس کا حال پوچھ رہے ہیں۔
سامعین کی پہچان
لوقا کے پہلے قاری زیادہ تر غیریہودی پس منظر کے مسیحی تھے، ایک ایسی جماعت جس کے پاس نہ مندر تھا نہ سماجی تحفظ۔ اُن کے لئے بہتر کا عدد اتفاقی نہ تھا: یہودی روایت میں دنیا کی قوموں کی گنتی تقریباً اِتنی ہی تھی۔ یعنی یہ مشن اُن کے اپنے وجود کی پیش گوئی تھا۔ اُنہوں نے سنا کہ خداوند کے مبلغ بغیر بٹوے اور بغیر جوتوں کے بھیجے گئے، اور اُنہیں اپنے سفر کرتے معلّم یاد آئے جو اُن کے گھروں میں ٹھہرتے تھے۔ اور جب تمثیل میں امام اور لاوی ناکام ہوئے اور ایک سامری، یعنی ایک مذہبی طور پر مشکوک اجنبی، رحم کا نمونہ بنا، تو غیریہودی سننے والوں کے لئے یہ کھلا دروازہ تھا: خدا کی رحمت نسب اور عہدے کے مطابق تقسیم نہیں ہوتی۔
ایک باریک بات
پانچویں اور چھٹی آیت پر رُکئے: ”اِس گھر کی سلامتی ہو۔ اگر اُس میں سلامتی کا کوئی بندہ ہو گا تو تمہاری برکت اُس پر ٹھہرے گی، ورنہ وہ تم پر لوٹ آئے گی۔“ یہ محض شائستہ آداب نہیں۔ سلامتی یہاں کوئی خواہش نہیں بلکہ ایک حقیقی عطیہ ہے، گویا ہاتھ میں رکھی ہوئی چیز جو یا تو میزبان پر ٹھہر جاتی ہے یا واپس لوٹ آتی ہے۔ یہی فضل کا طریقہ ہے: وہ پیش کیا جاتا ہے، زبردستی ٹھونسا نہیں جاتا، اور رد کئے جانے پر ضائع نہیں ہوتا بلکہ بھیجنے والے کے پاس لوٹ جاتا ہے۔ اِس لئے شاگرد نہ تو بھیک مانگنے والے ہیں نہ فاتح؛ وہ ایک ایسی نعمت کے حامل ہیں جو اُن کی اپنی نہیں، اور جس کے انکار سے وہ خالی نہیں ہوتے۔
پس منظر
یہ سارا باب اُس سفر کا حصہ ہے جس میں یسوع نے یروشلم جانے کا رُخ باندھ لیا ہے، اور تھوڑی ہی دیر پہلے ایک سامری گاؤں نے اُنہیں قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ اِس پس منظر میں سامری کو تمثیل کا ہیرو بنانا دوہرا جھٹکا ہے۔ خرازین، بیت صیدا اور کفرنحوم یسوع کے اپنے علاقے کے قصبے تھے، وہی جگہیں جہاں سب سے زیادہ معجزے ہوئے؛ اُن کا موازنہ صور اور صیدا سے، یعنی غیرقوم بندرگاہوں سے، کرنا بتاتا ہے کہ روشنی جتنی زیادہ ملے، جواب دہی اُتنی ہی بھاری ہوتی ہے۔ اور یروشلم سے یریحو کا راستہ تقریباً ستائیس کلومیٹر کی ویران، پتھریلی ڈھلان تھی، ڈاکوؤں کے لئے مشہور۔ وہاں رُکنا واقعی خطرہ مول لینا تھا۔ آخر میں ایک عورت کا خداوند کے ”پاؤں میں بیٹھ کر“ سننا شاگردی کی وہ نشست تھی جو عموماً مردوں کے لئے مخصوص سمجھی جاتی تھی۔
غور و فکر
میں کن وجوہات کے پیچھے چھپ کر اپنی ”پڑوسی“ کی تعریف تنگ کرتا ہوں، اور وہ وجوہات دوسروں کو کتنی معقول لگتی ہیں؟
اگر میری ساری خدمت اور کامیابی آج ختم ہو جائے، تو کیا یہ جان کر میرا دل واقعی خوش ہوگا کہ میرا نام آسمان پر درج ہے؟
Luke 10 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
لوقا 10 کا کیا مطلب ہے؟
لوقا 10 کس بارے میں ہے؟
لوقا 10 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا 10 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا 10 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Luke 10 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
شریعت کا عالِم عیسیٰ کے پاس سیکھنے نہیں آیا تھا۔ لکھا ہے کہ وہ "عیسیٰ کو آزمانے کے لئے" کھڑا ہوا۔ اور پھر بھی اُس کے سوال میں ایک گہری بات چھپی ہے: "مَیں کیا کروں تاکہ ابدی زندگی کا وارث بن جاؤں؟" وراثت کمائی نہیں جاتی، وہ باپ کے ساتھ رشتے سے ملتی ہے۔ کیا تُو بھی کبھی اپنے کاموں سے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے جو خدا تجھے محض محبت میں دینا چاہتا ہے؟
اے باپ، تُو جانتا ہے کہ میں کتنی چیزیں ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہوں، کیونکہ خالی ہاتھ نکلنا مجھے ڈراتا ہے۔ سکھا کہ تیرا ساتھ ہی میرا سب کچھ ہے۔ راستے کی فکروں سے آزاد کر اور جہاں تُو بھیجے، وہاں بےجھجک قدم اُٹھانے کی ہمت دے۔
یسوع اپنے شاگردوں کو بھیجتے ہوئے کہتے ہیں، ”اگر وہاں کوئی سلامتی کا فرزند ہو گا تو تمہاری سلامتی اُس پر ٹھہرے گی، ورنہ وہ تمہارے پاس واپس آئے گی۔“ سوچو، جو برکت تم دیتے ہو وہ کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ اگر کوئی اُسے قبول نہ کرے تو وہ خالی ہاتھ لوٹ کر تمہارے ہی دل میں بس جاتی ہے۔ تو پھر ڈر کس بات کا؟ دینا شروع کرو۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
