لوقا 10:33
متن
راستے پر ایک آدمی پڑا ہے، لُٹا ہوا، مارا پیٹا ہوا، مرنے کے قریب۔ دو مذہبی خدمت گزار اُسے دیکھ کر دوسری طرف سے گزر جاتے ہیں۔ پھر ایک تیسرا آتا ہے: ”پھر سامریہ کا ایک مسافر وہاں سے گزرا۔ جب اُس نے زخمی آدمی کو دیکھا تو اُسے اُس پر ترس آیا۔“ یہ آیت پوری تمثیل کا قبضہ ہے: دیکھنا اور اُس دیکھنے کا دل تک اُترنا۔
مرکزی بات
فرق نظر میں نہیں تھا۔ امام نے بھی دیکھا، لاوی نے بھی دیکھا، سامری نے بھی دیکھا۔ تینوں کی آنکھیں کھلی تھیں۔ فرق یہ تھا کہ دیکھنے کے بعد کس کے اندر کچھ ہِلا۔ عیسیٰ یہاں ایک ایسی بات کہہ رہے ہیں جو شریعت کے عالِم کے سوال کو جڑ سے اُکھاڑ دیتی ہے۔ عالِم نے پوچھا تھا، ”تو میرا پڑوسی کون ہے؟“ یعنی: میری ذمہ داری کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟ آیت 33 اِس سوال کا جواب نہیں دیتی، وہ سوال کو بدل دیتی ہے۔ خدا کی بادشاہی میں محبت زمرہ بندی سے نہیں چلتی بلکہ اُس رحم سے جو تکلیف دیکھ کر پیٹ میں مروڑ کی طرح اُٹھتا ہے۔ یہی خدا کا اپنا مزاج ہے، اور اِسی لیے یہ محض اخلاقی سبق نہیں بلکہ خدا کے بارے میں انکشاف ہے۔
وحدت کا دھاگا
اِس آیت میں مسیح کی طرف اشارہ ڈھونڈنے کے لیے تمثیل کو زبردستی توڑنا نہیں پڑتا۔ صرف ترتیب دیکھیں: جو ہیکل کے قریب تھے، جو کہانت اور شریعت کے نمائندے تھے، وہ گزر گئے۔ نجات باہر سے آئی، اُس کی طرف سے جسے یہودی سماج ناپاک اور مردود سمجھتا تھا۔ لُوقا اپنی انجیل میں یہی ڈھب باربار دکھاتا ہے: خداوند یسوع مسیح کو اپنے ہی لوگوں نے قبول نہ کیا، اُنہیں شرابی، گنہگاروں کا دوست، بدروح گرفتہ کہا گیا۔ وہی مردود شخص اُس راستے پر آیا جہاں انسانیت اَدھ مُوی پڑی تھی۔ اور غور کریں کہ لُوقا نے سامری کو ”مسافر“ کہا ہے، یعنی وہ اپنے گھر میں نہیں تھا، سفر میں تھا۔ اِسی باب سے کچھ پہلے لکھا ہے کہ عیسیٰ نے یروشلم جانے کا رُخ کر لیا تھا۔ مسیح خود ایک مسافر ہے جو اُس سفر پر ہے جس کے آخر میں وہ خود لُٹا اور زخمی کیا جائے گا، تاکہ راستے پر پڑے ہوئے کو اُٹھا سکے۔
آئینہ
ہم زیادہ تر امام یا لاوی نہیں بنتے کیونکہ ہم سنگ دل ہیں۔ ہم بنتے ہیں کیونکہ ہم مصروف ہیں اور ہمارے پاس جواز ہیں۔ دفتر سے نکلتے ہوئے دیر ہو رہی ہے، بچے سکول سے لینے ہیں، مہینے کا آخر ہے اور جیب تنگ ہے، رشتہ دار کی بیماری میں شامل ہوں تو خرچ کہاں سے آئے گا۔ محلے میں وہ بیوہ ہے جس کا حال پوچھنا مہنگا پڑ سکتا ہے، کیونکہ حال پوچھنے کے بعد پھر نظرانداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم پوری مہارت سے سیکھ لیتے ہیں کہ کیسے دیکھیں مگر ٹھیک سے نہ دیکھیں۔ آیت 33 اِس ہنر کو بےنقاب کرتی ہے۔ اور ساتھ ہی ایک تیز سوال چھوڑتی ہے: کیا آپ کی خیرات آپ کی سہولت کی حد پر رُک جاتی ہے، یا وہاں تک جاتی ہے جہاں آپ کا وقت، آرام اور پیسہ سب داؤ پر لگ جائے؟
مرکزی کردار
سامری کے بارے میں تمثیل ہمیں اُس کی نیکی کی کوئی وجہ نہیں بتاتی۔ نہ اُس کا کوئی مذہبی عہدہ ہے، نہ کوئی وعدہ، نہ کوئی فرض جو اُس پر لاگو ہو۔ وہ اُس آدمی کا قوم بھائی بھی نہیں، بلکہ وہ آدمی اُس قوم کا ہے جو سامریوں سے نفرت کرتی تھی۔ اگر وہ گزر جاتا تو کوئی اُس پر انگلی نہ اُٹھاتا۔ عین اِسی لیے اُس کا رُکنا مسیح کی تصویر بن جاتا ہے: یہ رحم مجبوری نہیں، مفت انتخاب ہے۔ اور اُس کا رحم جذبات میں نہیں پھنسا رہا؛ اگلی دو آیتوں میں وہ تیل، مَے، پٹیاں، اپنا گدھا، سرائے، دو سِکے اور واپسی کا وعدہ تک لگا دیتا ہے۔ رحم جو خرچہ برداشت کرتا ہے، وہی اصل رحم ہے۔ فضل ہمیشہ کسی کو مہنگا پڑتا ہے۔
ایک مشکل سوال
اگر یہ تمثیل مسیح کے فضل کی تصویر ہے، تو عیسیٰ آخر میں کیوں کہتے ہیں، ”اب تُو بھی جا کر ایسا ہی کر“؟ سوال یہ ہے: ہم اِس کہانی میں کون ہیں، سامری یا وہ زخمی آدمی؟ اِس کا آسان جواب دینا بےایمانی ہو گی۔ متن ہمیں سامری کی جگہ کھڑا کرتا ہے، حکم دیتا ہے، اور رعایت نہیں دیتا۔ مگر جو کوئی ایمانداری سے اِس حکم کے سامنے کھڑا ہو، وہ جانتا ہے کہ اُس کا دل اِس پیمانے سے کتنا چھوٹا ہے۔ یعنی حکم ہمیں خود اُس راستے پر لے آتا ہے جہاں ہم اَدھ مُوے پڑے ہیں اور کسی اور کے رحم کے محتاج ہیں۔ دونوں سچائیاں ساتھ چلتی ہیں، اور انجیل اِس تناؤ کو ختم نہیں کرتی: ہم پہلے بچائے گئے ہیں، اور اب بھیجے گئے ہیں۔
ایک باریک تفصیل
”ترس آیا“ کے پیچھے یونانی لفظ ہے جو انسانی جسم کے اندرونی اعضا سے بنا ہے: پیٹ کے اندر کا وہ کھنچاؤ جو کسی کی تکلیف دیکھ کر محسوس ہوتا ہے۔ یہ ٹھنڈی ہمدردی نہیں، جسمانی ردِعمل ہے۔ لُوقا یہی لفظ نائین کی بیوہ کو دیکھ کر خداوند یسوع کے لیے استعمال کرتا ہے، اور اُسی باب پندرہ میں اُس باپ کے لیے جو دُور سے بیٹے کو آتا دیکھ کر دوڑ پڑتا ہے۔ یہ اتفاق نہیں۔ لُوقا ہمیں سکھا رہا ہے کہ یہ خاص لفظ خدا کے دل کی حرکت کا نام ہے۔ چنانچہ سامری کا رحم ایک اعلیٰ انسانی خوبی سے زیادہ ہے: وہ ایک لمحہ ہے جب خدا کا دل کسی بیگانے کے وجود میں سے جھلک اُٹھتا ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ نے پچھلے ہفتے کس کو ”دیکھا“ مگر ٹھیک سے دیکھنے سے گریز کیا، اور اُس گریز کے لیے آپ نے اپنے دل کو کیا جواز دیا؟
اگر رحم کی پہچان یہ ہے کہ وہ خرچہ اُٹھاتا ہے، تو اِس مہینے آپ کے وقت، پیسے یا سکون میں سے کیا چیز کسی زخمی کے لیے حقیقتاً کم ہوئی ہے؟
Luke 10:33 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
لوقا 10:33 کا کیا مطلب ہے؟
لوقا 10:33 کس بارے میں ہے؟
لوقا 10:33 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا 10:33 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا 10:33 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Luke 10 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے باپ، تُو جانتا ہے کہ میں کتنی چیزیں ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہوں، کیونکہ خالی ہاتھ نکلنا مجھے ڈراتا ہے۔ سکھا کہ تیرا ساتھ ہی میرا سب کچھ ہے۔ راستے کی فکروں سے آزاد کر اور جہاں تُو بھیجے، وہاں بےجھجک قدم اُٹھانے کی ہمت دے۔
یسوع اپنے شاگردوں کو بھیجتے ہوئے کہتے ہیں، ”اگر وہاں کوئی سلامتی کا فرزند ہو گا تو تمہاری سلامتی اُس پر ٹھہرے گی، ورنہ وہ تمہارے پاس واپس آئے گی۔“ سوچو، جو برکت تم دیتے ہو وہ کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ اگر کوئی اُسے قبول نہ کرے تو وہ خالی ہاتھ لوٹ کر تمہارے ہی دل میں بس جاتی ہے۔ تو پھر ڈر کس بات کا؟ دینا شروع کرو۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں