لوقا 10:42
متن
مرتھا کی شکایت ہوا میں لٹکی رہ جاتی ہے، اور خداوند کا جواب اُس شکایت کو رد نہیں کرتا بلکہ اُسے کہیں اَور لے جاتا ہے۔ وہ اُس کا نام دو بار پکارتے ہیں، جیسے کوئی کسی کو نیند سے نہیں بلکہ بےچینی سے جگا رہا ہو، اور کہتے ہیں: ”تُو بہت سی فکروں اور پریشانیوں میں پڑ گئی ہے۔ لیکن ایک بات ضروری ہے۔ مریم نے بہتر حصہ چن لیا ہے اور یہ اُس سے چھینا نہیں جائے گا۔“ نہ مہمان نوازی کی مذمت، نہ خدمت کا انکار؛ صرف ایک جملہ جو ”بہت سی“ چیزوں کے مقابل ”ایک“ چیز رکھ دیتا ہے، اور پھر خاموش ہو جاتا ہے۔ ہمیں یہ تک نہیں بتایا جاتا کہ مرتھا نے کیا کہا، کیا وہ بیٹھ گئی یا باورچی خانے میں لوٹ گئی۔ کہانی وہیں کٹ جاتی ہے۔
مرکزی نکتہ
”ایک بات ضروری ہے“ اِس جملے کی سب سے عجیب بات یہ ہے کہ یسوع اُس ایک بات کا نام نہیں لیتے۔ وہ اُسے کھلا چھوڑ دیتے ہیں، اور یہی کھلاپن ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم مریم کی طرف دیکھیں: وہ کچھ کر نہیں رہی، وہ صرف قدموں میں بیٹھی ہے اور سن رہی ہے۔ گویا نجات کی جڑ ہماری پیشکش میں نہیں بلکہ اُس کی موجودگی کو قبول کرنے میں ہے۔ یہاں فضل کی پوری منطق ایک روزمرہ کے گھریلو منظر میں سما جاتی ہے۔ اور پھر وہ لفظ ”حصہ“ آتا ہے، جو پرانے عہدنامے میں لاویوں کی میراث کے لیے استعمال ہوتا تھا: اُن کا حصہ زمین نہیں، خود رب تھا۔ مریم نے وہی حصہ چنا۔ اور جو چیز چھینی نہیں جا سکتی، وہ اِس دنیا میں شاید واحد چیز ہے جس پر ہاتھ رکھنے کے قابل ہے۔
سلسلۂ کلام
لوقا نے یہ منظر اتفاقاً یہاں نہیں رکھا۔ چند ہی آیتوں پہلے شریعت کے عالِم نے پوچھا تھا کہ ابدی زندگی کیسے ملے، اور جواب میں وہ حکم آیا: ”رب اپنے خدا سے اپنے پورے دل، اپنی پوری جان، اپنی پوری طاقت اور اپنے پورے ذہن سے پیار کرنا۔“ پھر سامری کی تمثیل آئی، جو کہتی ہے: اُٹھ اور جا، ایسا ہی کر۔ اور فوراً بعد یہ گھر، جہاں ایک عورت بیٹھی رہتی ہے اور اُسے سراہا جاتا ہے۔ کیا لوقا خود کو کاٹ رہا ہے؟ نہیں۔ وہ دو پہلوؤں کو جوڑ رہا ہے جو الگ ہو کر بگڑ جاتے ہیں: خدمت جو سننے سے نہ نکلے، تھکن بن جاتی ہے؛ اور سننا جو خدمت میں نہ ڈھلے، محض ذوق بن جاتا ہے۔ مسیح کی پوری کہانی اِسی ترتیب پر چلتی ہے: پہلے وہ آتے ہیں، پھر ہم چلتے ہیں۔ فضل پہلے، پھر عمل۔
آئینہ
یہ آیت اُس چیز پر ہاتھ رکھتی ہے جسے ہم اپنی خوبی سمجھتے ہیں۔ آپ ذمہ دار ہیں۔ لوگ آپ پر بھروسا کرتے ہیں۔ گھر آپ کے بغیر نہیں چلتا، کلیسیا کی وہ خدمت آپ کے بغیر رُک جاتی ہے، اور رات کو جب سب سو جاتے ہیں تو آپ کے ذہن میں فہرست چلتی رہتی ہے۔ اور کہیں اندر ایک باریک سی ناراضی پلتی ہے: باقی لوگ کیوں نہیں دیکھتے؟ مرتھا کی شکایت میں یہی زہر ہے، اور یسوع اُسے ڈانٹتے نہیں، بس نام لے کر پکارتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ آپ بہت کچھ کر رہے ہیں یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو چھینی نہ جا سکے۔ نوکری جا سکتی ہے، صحت جا سکتی ہے، لوگوں کی قدردانی تو سب سے پہلے جاتی ہے۔ آج شام، سونے سے پہلے، دس منٹ کے لیے فون دوسرے کمرے میں رکھ دیں، آیت 39 کھول کر بلند آواز میں پڑھیں، اور پھر کچھ کہے بغیر بیٹھے رہیں۔
کلام میں گونج
زبور 27 میں داؤد کہتا ہے کہ اُس نے رب سے ایک ہی چیز مانگی ہے: رب کے گھر میں رہنا اور اُس کے جمال کو دیکھنا۔ وہی ”ایک چیز“ یہاں ایک گاؤں کے کچے فرش پر بیٹھی عورت میں مجسم ہو جاتی ہے؛ ہیکل کی زیارت اب ایک مہمان کے قدموں تک آ پہنچی ہے۔ اور اِسی باب کے اندر ایک اَور گونج ہے: ”مبارک ہیں وہ آنکھیں جو وہ کچھ دیکھتی ہیں جو تم نے دیکھا ہے۔“ یسوع یہ بات شاگردوں سے علیٰحدگی میں کہتے ہیں، اور مریم اُسی برکت میں شامل ہو جاتی ہے، بغیر کسی سند کے، بغیر بھیجے جانے کے۔ نبی اور بادشاہ ترستے رہے؛ ایک گھریلو عورت بیٹھ کر سن رہی ہے۔ خدا کی بادشاہی ہمیشہ اِسی طرح غلط دروازے سے داخل ہوتی ہے۔
پس منظر
یسوع یروشلم کی طرف جا رہے ہیں، اور یہ سفر لوقا میں صلیب کی طرف بڑھتا ہوا سفر ہے۔ راستے میں ایک گاؤں، ایک گھر، اور مرتھا وہ ہے جو اُنہیں ”خوش آمدید“ کہتی ہے، یعنی گھر کی مالکن اور میزبان وہی ہے۔ اُس زمانے کی مہمان نوازی رسمی شائستگی نہیں بلکہ عزت کا معاملہ تھی: مہمان کی خاطر تواضع میں کوتاہی پورے خاندان کی سبکی تھی۔ اِس لیے مرتھا کی شکایت جائز ہے، سماجی لحاظ سے بالکل درست۔ غیر معمولی حرکت مریم کی ہے۔ ”قدموں میں بیٹھنا“ شاگرد کی جگہ تھی، اور وہ جگہ مردوں کی سمجھی جاتی تھی۔ مریم نے چولہا چھوڑ کر شاگردی کی چوکھٹ پر قدم رکھا ہے، اور یسوع اُسے وہاں سے ہٹاتے نہیں۔
مرکزی کردار
یسوع اِس منظر میں مہمان ہیں، مگر آخر میں وہی میزبان نکلتے ہیں: وہ طے کرتے ہیں کہ اِس گھر میں کیا بانٹا جا رہا ہے۔ اُن کے لہجے میں سختی نہیں؛ نام کی تکرار میں نرمی ہے، جیسے کوئی کسی کا بازو تھام لے۔ وہ مرتھا کو حکم نہیں دیتے کہ بیٹھ جا، اور یہ خاموشی معنی خیز ہے: انتخاب اُسی کا رہتا ہے۔ ایک آدمی جو جانتا ہے کہ اُس سے سب کچھ چھینا جانے والا ہے، کپڑے، آزادی، جان، وہ ایک عورت سے کہتا ہے کہ تجھ سے یہ نہیں چھینا جائے گا۔ کیا وہ اپنی ہی محرومی کی قیمت پر یہ ضمانت دے رہے ہیں؟ متن جواب نہیں دیتا۔ وہ صرف اتنا کہتا ہے کہ اِس گھر میں جو کچھ پکایا جا رہا تھا، وہ ٹھنڈا ہو جائے گا؛ جو سنا جا رہا تھا، وہ نہیں۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سی چیز ہے جو ”چھینی نہیں جائے گی“، اور آپ آخری بار کب اُس کے پاس خالی ہاتھ بیٹھے تھے؟
یسوع اُس ”ایک بات“ کا نام کیوں نہیں لیتے؟ اگر آج آپ کو اُس کا نام لینا پڑے تو آپ کیا کہیں گے، اور کیا آپ کی روزمرہ ترتیب اُس نام کی تصدیق کرتی ہے؟
Luke 10:42 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
لوقا 10:42 کا کیا مطلب ہے؟
لوقا 10:42 کس بارے میں ہے؟
لوقا 10:42 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا 10:42 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا 10:42 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Luke 10 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
شریعت کا عالِم عیسیٰ کے پاس سیکھنے نہیں آیا تھا۔ لکھا ہے کہ وہ "عیسیٰ کو آزمانے کے لئے" کھڑا ہوا۔ اور پھر بھی اُس کے سوال میں ایک گہری بات چھپی ہے: "مَیں کیا کروں تاکہ ابدی زندگی کا وارث بن جاؤں؟" وراثت کمائی نہیں جاتی، وہ باپ کے ساتھ رشتے سے ملتی ہے۔ کیا تُو بھی کبھی اپنے کاموں سے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے جو خدا تجھے محض محبت میں دینا چاہتا ہے؟
اے باپ، تُو جانتا ہے کہ میں کتنی چیزیں ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہوں، کیونکہ خالی ہاتھ نکلنا مجھے ڈراتا ہے۔ سکھا کہ تیرا ساتھ ہی میرا سب کچھ ہے۔ راستے کی فکروں سے آزاد کر اور جہاں تُو بھیجے، وہاں بےجھجک قدم اُٹھانے کی ہمت دے۔
یسوع اپنے شاگردوں کو بھیجتے ہوئے کہتے ہیں، ”اگر وہاں کوئی سلامتی کا فرزند ہو گا تو تمہاری سلامتی اُس پر ٹھہرے گی، ورنہ وہ تمہارے پاس واپس آئے گی۔“ سوچو، جو برکت تم دیتے ہو وہ کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ اگر کوئی اُسے قبول نہ کرے تو وہ خالی ہاتھ لوٹ کر تمہارے ہی دل میں بس جاتی ہے۔ تو پھر ڈر کس بات کا؟ دینا شروع کرو۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں