لوقا 19:27
متن
تمثیل کا آخری جملہ کسی تلوار کی طرح گرتا ہے: ”اب اُن دشمنوں کو لے آؤ جو نہیں چاہتے تھے کہ مَیں اُن کا بادشاہ بنوں۔ اُنہیں میرے سامنے پھانسی دے دو‘۔“ جو نواب دُوردراز ملک گیا تھا، وہ بادشاہ بن کر لوٹ آیا ہے، اُس نے اپنے نوکروں کا حساب لے لیا ہے، اور اب اُن رعایا کی باری ہے جنہوں نے وفد بھیج کر کہلوا بھیجا تھا: ”ہم نہیں چاہتے کہ یہ آدمی ہمارا بادشاہ بنے۔“ کہانی کسی نرم نصیحت پر ختم نہیں ہوتی بلکہ ایک عدالتی حکم پر، اور یہ حکم عیسیٰ نے یریحو سے یروشلم کی طرف بڑھتے ہوئے، اپنی موت سے چند دن پہلے، سنانے والوں کے کانوں میں چھوڑ دیا۔
اصل بات
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بادشاہی محض ایک دلکش تصویر نہیں، ایک حقیقی اختیار ہے، اور اختیار کے ساتھ ہمیشہ فیصلہ جُڑا ہوتا ہے۔ لوگ سمجھ رہے تھے کہ ”اللہ کی بادشاہی ظاہر ہونے والی ہے“ اور اُس ظہور کا مطلب اُن کے نزدیک صرف رومی قبضے کا خاتمہ اور اسرائیل کی سرفرازی تھا۔ عیسیٰ اُن کے تصور کو توڑتے نہیں، اُسے اُن کے اپنے دروازے کی طرف موڑ دیتے ہیں: بادشاہ واقعی آ رہا ہے، مگر پہلا سوال یہ نہیں کہ رومی کیا کریں گے، بلکہ یہ کہ تم اُس کی حکمرانی قبول کرتے ہو یا نہیں۔ جو فضل ٹھکرایا جائے، وہ غائب نہیں ہو جاتا؛ وہ عدالت بن کر سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ اِسی لئے یہ آیت زکائی کی خوشی کے فوراً بعد آتی ہے: وہی خداوند جو گم شدہ کو ڈھونڈنے آیا ہے، اُس کی تلاش کو ٹھکرا دینا معمولی بات نہیں۔
مشترکہ دھاگہ
اسرائیل کی کہانی میں یہ جملہ نیا نہیں کہ ”ہم نہیں چاہتے کہ یہ آدمی ہمارا بادشاہ بنے۔“ سموئیل کی کتاب میں قوم نے خدا کی بادشاہی کو ٹھکرا کر ایک انسانی بادشاہ مانگا تھا، اور رب نے سموئیل سے کہا تھا کہ لوگوں نے تجھے نہیں بلکہ مجھے رد کیا ہے۔ یہاں وہی پرانا دھاگہ اپنے آخری موڑ پر پہنچتا ہے: خدا کا مسیح خود سامنے کھڑا ہے اور رد کیا جا رہا ہے۔ چند ہی دن بعد یہی شہر پیلاطُس کے سامنے چیخے گا کہ قیصر کے سوا ہمارا کوئی بادشاہ نہیں۔ لیکن تمثیل کا نقشہ الٹ بھی جاتا ہے: جو بادشاہ اپنے دشمنوں کو اپنے سامنے مروانے کی بات کرتا ہے، وہ اصل کہانی میں خود اپنے دشمنوں کے سامنے صلیب پر لٹکایا جائے گا۔ عدالت کا اعلان کرنے والا پہلے خود عدالت کی جگہ لیتا ہے، اور یہی انجیل کا دل ہے۔
آئینہ
ہم میں سے کم لوگ وفد بھیج کر خدا کی حکمرانی کا انکار کرتے ہیں۔ ہماری بغاوت زیادہ تر تیسرے نوکر جیسی ہے: سِکہ کپڑے میں لپیٹ کر رکھ دینا اور خاموشی سے زندگی کے کچھ کمرے بادشاہ کے لئے بند رکھنا۔ تنخواہ کا فیصلہ، بچوں کی تربیت کے بارے میں آپ کی ضد، وہ رشتہ جس میں آپ نے معافی کا دروازہ برسوں سے بند کر رکھا ہے، وہ کاروباری معاملہ جس پر آپ نے کبھی دعا میں غور نہیں کیا؛ یہ سب چھوٹے چھوٹے علاقے ہیں جہاں ہم نے عملاً کہہ دیا ہے کہ یہاں آپ بادشاہ نہیں۔ یہ آیت اُس خوش فہمی کو توڑتی ہے کہ ایسی خاموشی غیرجانبدار ہوتی ہے۔ بادشاہ کی واپسی ہر خاموشی کو ایک جواب میں بدل دیتی ہے۔ آج ہی ایک کاغذ پر وہ ایک فیصلہ لکھیں جو آپ نے پچھلے مہینے خداوند سے پوچھے بغیر کیا، اور اُسے بلند آواز میں پڑھ کر کہیں: ”خداوند یسوع، اِس پر بھی آپ ہی بادشاہ ہیں۔“
سامعین کا نقشہ
یہ تمثیل یریحو میں سنائی گئی، اور یریحو میں ہر سننے والا اُس محل کو جانتا تھا جو ہیرودیس نے وہاں بنایا اور جسے اُس کے بیٹے ارخلاؤس نے سنوارا تھا۔ ہیرودیس کی موت کے بعد ارخلاؤس بادشاہی کی سند لینے روم گیا تھا، اور یہودیوں کا ایک وفد اُس کے پیچھے روم پہنچا تھا تاکہ قیصر سے کہے: یہ آدمی ہم پر حکومت نہ کرے۔ ارخلاؤس کو اختیار مل گیا اور واپسی پر اُس نے حساب برابر کیا۔ یہ کوئی افسانہ نہیں تھا؛ یہ دادا نانی کی زندہ یاد تھی، خون کی بو کے ساتھ۔ چنانچہ جب عیسیٰ نے نواب، دُوردراز ملک اور وفد کا ذکر کیا تو سامعین کے ذہن میں فوراً کھجوروں کے باغ، محل کی دیواریں اور وہ ڈر اُبھر آیا جو تخت کے سائے میں جینے والوں کو ہوتا ہے۔ کہانی مانوس تھی؛ بادشاہ کی شناخت غیرمانوس تھی۔
ایک تفصیل
سب سے چبھنے والا لفظ سزا نہیں، جگہ ہے: ”میرے سامنے“۔ قدیم دنیا میں سزائے موت اکثر عوامی ہوتی تھی، مگر بادشاہ کی اپنی موجودگی میں سزا کا مطلب اَور تھا: یہ بغاوت کا نجی، ذاتی جواب تھا۔ بادشاہ نے یہ کام کسی افسر کے سپرد نہیں کیا، وہ خود دیکھ رہا ہے۔ یہاں تمثیل ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عدالت کوئی خودکار نظام نہیں جو دور کہیں چل رہا ہو؛ وہ ایک شخص کے سامنے کھڑے ہونا ہے، اُسی شخص کے سامنے جس کی حکمرانی ہم نے ٹھکرائی تھی۔ اور یہی بات امید کا دروازہ بھی کھولتی ہے: اگر عدالت آمنے سامنے ہے، تو معافی بھی آمنے سامنے ہے۔ زکائی نے یہی چہرہ دیکھا تھا اور اُس کے گھرانے کو نجات مل گئی۔
سوال
کیا عیسیٰ واقعی خدا کو ارخلاؤس جیسا دکھا رہے ہیں؟ یہ سوال ٹالنا بددیانتی ہو گی۔ تمثیل کا بادشاہ سخت ہے، اُس کے نوکر بھی اُسے سخت کہتے ہیں، اور آخری حکم بےرحم ہے۔ ایک جواب یہ ہے کہ عیسیٰ ایک واقف نقشہ ادھار لے رہے ہیں تاکہ ایک بات سنائیں: تخت خالی نہیں رہے گا اور انکار بےنتیجہ نہیں رہے گا۔ لیکن یہ کہہ کر آیت کی دھار کند کرنا بھی ٹھیک نہیں۔ عہدنامہ ہمیں ایک ایسے خدا سے متعارف کراتا ہے جو محبت میں سنجیدہ ہے، اور سنجیدہ محبت لاتعلق نہیں رہ سکتی جب اُسے ٹھکرایا جائے۔ ہمیں یہ تناؤ اُٹھانا پڑتا ہے: وہی خداوند جو چند آیتوں بعد یروشلم کو دیکھ کر رو پڑے، وہی یہ حکم سناتے ہیں۔ آنسو اور عدالت ایک ہی سینے میں ہیں، اور ہم اُس سینے کی پوری گہرائی نہیں ناپ سکتے۔
غور و فکر
آپ کی زندگی کا کون سا حصہ ایسا ہے جہاں آپ نے کبھی صاف انکار تو نہیں کیا، مگر عملاً بادشاہ کو داخل بھی نہیں ہونے دیا؟
اگر آج آپ کو معلوم ہو جائے کہ بادشاہ کل لوٹ رہا ہے، تو آپ کے آنے والے چوبیس گھنٹے کس بات میں مختلف ہوتے؟
Luke 19:27 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
لوقا 19:27 کا کیا مطلب ہے؟
لوقا 19:27 کس بارے میں ہے؟
لوقا 19:27 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا 19:27 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا 19:27 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Luke 19 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں