لوقا 19
متن
یسوع یریحو سے گزرتے ہیں، ٹیکس لینے والوں کا امیر افسر زکائی اُنہیں دیکھنے کے لیے درخت پر چڑھ جاتا ہے، اور یسوع اُسی کے گھر مہمان بنتے ہیں؛ زکائی اپنا آدھا مال غریبوں کو اور چار گُنا واپسی کا اعلان کرتا ہے۔ پھر ایک تمثیل آتی ہے: ایک نواب بادشاہت پانے دُور جاتا ہے، نوکروں کو سِکے دیتا ہے، اور لوٹ کر حساب لیتا ہے۔ آخر میں یسوع گدھے پر یروشلم میں داخل ہوتے ہیں، شہر کو دیکھ کر روتے ہیں، اور بیت المُقدّس کو سوداگروں سے صاف کرتے ہیں۔
اصل بات
اِس پورے باب میں ایک ہی لفظ دھڑکتا ہے: وقت۔ زکائی نے وہ لمحہ پہچان لیا جب خداوند اُس کی گلی سے گزرے، اور یروشلم نے نہیں پہچانا۔ یسوع کے آنسوؤں کی وجہ یہی ہے: ”تُو نے وہ وقت نہیں پہچانا جب اللہ نے تیری نجات کے لئے تجھ پر نظر کی۔“ نجات یہاں کوئی مبہم روحانی کیفیت نہیں بلکہ ایک تاریخی ملاقات ہے جو قبول بھی کی جا سکتی ہے اور گنوائی بھی۔ اور یہ ملاقات ہمیشہ خدا کی پہل سے شروع ہوتی ہے: زکائی درخت پر چڑھا ضرور، مگر نام یسوع نے پکارا۔ ”ابنِ آدم گم شدہ کو ڈھونڈنے اور نجات دینے کے لئے آیا ہے“ اِس باب کی کلید ہے۔ ڈھونڈنے والا مسیح ہے، ملنے والے ہم ہیں۔
سلسلہ کلام
یسوع کا گدھے پر یروشلم میں داخل ہونا کوئی اتفاق نہیں؛ یہ زکریاہ نبی کی اُس پیش گوئی کا جان بوجھ کر کیا گیا اظہار ہے جس میں بادشاہ حلیم ہو کر گدھے پر آتا ہے۔ گھوڑا فاتح کی سواری تھی، گدھا صلح کے وقت کی۔ یعنی مسیح شہر میں تلوار لے کر نہیں، سلامتی لے کر داخل ہوتے ہیں، اور وہی شہر اُنہیں مسترد کرتا ہے۔ دوسری طرف زکائی کو ”ابراہیم کا بیٹا“ کہنا پرانے عہد کے وعدے کو کھول دیتا ہے: ابراہیم کی اولاد ہونا نسب سے نہیں، اُس ایمان سے طے ہوتا ہے جو خدا کی آواز پر گھر کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ یوں گم شدہ بھیڑ کی تلاش کا وہ سلسلہ جو حزقی ایل میں خدا نے خود اپنے ذمے لیا تھا، یہاں جسم پہن کر یریحو کی سڑک پر چل رہا ہے۔
آئینہ
آپ بھی بھیڑ کے پیچھے کھڑے ہیں، اور قد چھوٹا ہے۔ شاید آپ کا قد وہ ہے جو آپ نے عمر بھر چھپایا: آمدنی کا وہ حصہ جس کی کہانی آپ نے کبھی کسی کو نہیں سنائی، وہ ترقی جو کسی اَور کے کام کا کریڈٹ لے کر ملی، وہ رشتہ جس میں آپ ہمیشہ لینے والے رہے۔ زکائی امیر تھا اور تنہا؛ دولت نے اُسے حفاظت دی تھی مگر عزت نہیں۔ پورا شہر بڑبڑایا، ”اِس کے گھر میں جا کر وہ ایک گناہ گار کے مہمان بن گئے ہیں“، مگر یسوع اُسی گھر میں بیٹھ گئے۔ یہی آپ کا سب سے بڑا ڈر بھی ہے اور سب سے بڑی اُمید بھی: کہ وہ آپ کے اصل گھر میں آنا چاہتے ہیں، سجے ہوئے ڈرائنگ روم میں نہیں۔ اور نوٹ کیجیے: زکائی کی توبہ حساب کتاب کے ساتھ آئی، جذبات کے ساتھ نہیں۔ اُس نے رقم بتائی۔ تیسرے نوکر کی طرح خدا کو ”سخت آدمی“ سمجھ کر محتاط زندگی گزارنا آسان ہے؛ کپڑے میں لپٹا ہوا سِکہ محفوظ تو ہے مگر مُردہ ہے۔ آج ہی ایک نام کاغذ پر لکھیں جس سے آپ نے ناجائز طور پر کچھ لیا ہے، پیسہ، وقت، نیک نامی یا سچائی، اور اُسی وقت اُسے ایک پیغام بھیجیں جس میں وہ ایک چیز نام لے کر مان لیں۔ دس منٹ کافی ہیں۔
سوال
آیت 27 کو نرم کرنا بے ایمانی ہو گی: ”اُنہیں میرے سامنے پھانسی دے دو۔“ وہی مسیح جو شہر کے لیے روتے ہیں، وہی ایسی تمثیل سناتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ محبت اور عدالت میں سے ایک کو چن لیں، مگر یہ باب دونوں کو ایک ہی سانس میں رکھتا ہے۔ تمثیل کا پس منظر حقیقی تھا: اُس زمانے کے لوگ جانتے تھے کہ بادشاہت کی سند لینے روم جانے والے حکمران واپس آ کر مخالفوں سے کیا سلوک کرتے تھے۔ یسوع یہ تصویر مانگی ہوئی لیتے ہیں تاکہ کہیں: بادشاہی مذاق نہیں۔ پھر بھی تناؤ باقی رہتا ہے، اور شاید باقی رہنا ہی چاہیے۔ جو خدا آپ کے انکار پر روتا ہے، وہی اُس انکار کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ محبت جو عدالت کے بغیر ہو، لاتعلقی ہے۔
پس منظر
یریحو ایک دولت مند سرحدی شہر تھا، بلسان اور کھجور کی تجارت کا مرکز، اور رومی ٹیکس وصولی کا اہم مقام۔ زکائی محض ایک عملہ نہیں، ”ٹیکس لینے والوں کا افسر“ تھا، یعنی ٹھیکیدار جو دوسروں سے وصولی کرواتا اور اوپر کی کمائی رکھتا۔ اپنی قوم کی نظر میں وہ قابض سلطنت کا آلۂ کار اور ناپاک تھا۔ اُس کے گھر کھانا کھانا اُس زمانے کے سماجی ضابطے کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ یہ سب فسح کے موقع پر ہوتا ہے، جب ہزاروں زائرین یریحو سے یروشلم کی چڑھائی چڑھتے تھے اور آزادی کی اُمیدیں آسمان چھو رہی تھیں۔ اِسی ماحول میں مسیح گدھے پر داخل ہوتے ہیں اور بیت المُقدّس کے صحن میں قربانی کے جانوروں کے کاروبار کو اُلٹ دیتے ہیں، یعنی مذہبی قیادت کی آمدنی پر ہاتھ ڈالتے ہیں۔ قتل کی سازش اِسی لمحے پکتی ہے۔
مرکزی کردار
اِس باب کا مرکز وہی ہیں جو دیکھتے ہیں۔ یسوع نظر اُٹھاتے ہیں اور درخت پر چھپے آدمی کو نام لے کر پکارتے ہیں؛ پھر نظر اُٹھا کر شہر کو دیکھتے ہیں اور رو پڑتے ہیں۔ یونانی میں یہاں وہ لفظ ہے جو بلند آواز میں رونے کے لیے آتا ہے، شائستہ آنسو نہیں بلکہ ماتم۔ یہی شخص چند لمحوں بعد میزیں اُلٹ دیتا ہے اور کہتا ہے، ”تم نے اُسے ڈاکوؤں کے اڈّے میں بدل دیا ہے۔“ آنسو اور غصہ ایک ہی محبت کے دو چہرے ہیں۔ وہ تعریف سے بہکتے نہیں، ”مبارک ہے وہ بادشاہ“ کے نعروں کے باوجود وہ جانتے ہیں کہ یہی ہجوم جمعہ کو خاموش ہو گا۔ اور پھر بھی وہ آگے آگے چلتے ہیں، رُکے بغیر، شہر کی طرف جو اُنہیں قبول نہیں کرے گا۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ ”درخت“ کیا ہے جس پر چڑھ کر آپ مسیح کو دُور سے دیکھنا چاہتے ہیں، مگر اُنہیں گھر میں بلانے سے کتراتے ہیں؟
تیسرے نوکر نے خوف کی وجہ سے سِکہ لپیٹ کر رکھا۔ خدا کے بارے میں آپ کا کون سا خیال آپ کو محتاط بنا رہا ہے، بجائے اِس کے کہ سخی بنائے؟
Luke 19 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
لوقا 19 کا کیا مطلب ہے؟
لوقا 19 کس بارے میں ہے؟
لوقا 19 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
لوقا 19 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
لوقا 19 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Luke 19 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
