مرقس 12
متن
یسوع بیت المقدّس کے صحن میں کھڑے ایک تمثیل سناتے ہیں: ایک مالک نے انگور کا باغ لگایا، مزارعوں کے سپرد کیا، اور جب حصہ وصول کرنے نوکر بھیجے تو اُنہیں مارا پیٹا گیا اور بعض قتل ہوئے؛ آخر میں اُس کا ”پیارا بیٹا“ بھیجا گیا، جسے مزارعوں نے مار کر باغ سے باہر پھینک دیا۔ اِس کے بعد چار سوال آتے ہیں، ٹیکس، قیامت، سب سے بڑا حکم، اور مسیح داؤد کا فرزند کیسے، اور باب کا اختتام دو منظروں پر ہوتا ہے: لمبی دعائیں مانگنے والے علما، اور تانبے کے دو سکے ڈالنے والی بیوہ۔
مرکزی بات
تمثیل کا مالک بےخبر نہیں ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اُس کے نوکروں کا کیا حال ہوا، اور پھر بھی بیٹا بھیجتا ہے۔ یہی اِس باب کا دھڑکتا دل ہے: خدا کا صبر حکمت کی کمی نہیں بلکہ فیصلہ ہے، اور یہ صبر اُس کی جان پر بن آتا ہے۔ ساتھ ہی یہ تمثیل نرم نہیں ہے؛ ”وہ جا کر مزارعوں کو ہلاک کرے گا اور باغ کو دوسروں کے سپرد کر دے گا۔“ خدا کی بادشاہی اُن سے چھن سکتی ہے جو خود کو اُس کے مالک سمجھ بیٹھے ہیں۔ اور پھر وہ عجیب موڑ: قتل کا انجام قبر نہیں، بلکہ کونے کا بنیادی پتھر ہے۔ ردّ کیا جانا خدا کے ہاتھ میں تعمیر کا آغاز بن جاتا ہے۔
سلسلۂ نجات
چاردیواری، رس نکالنے کا گڑھا، بُرج: یہ تفصیلات یسوع نے خود نہیں گھڑیں۔ یسعیاہ ۵ باب میں نبی بالکل یہی گیت گاتا ہے، اپنے محبوب کے انگور کے باغ کا گیت، اور وہاں باغ اسرائیل ہے۔ فرق غور کرنے لائق ہے: یسعیاہ میں باغ خود ناکارہ ہے اور اُجاڑ دیا جاتا ہے، یہاں باغ سلامت رہتا ہے اور مزارع بدلے جاتے ہیں۔ خدا اپنی قوم کو نہیں پھینکتا، وہ اُس کے ٹھیکےداروں کو ہٹاتا ہے۔ اور ”پیارا بیٹا“ اُس آواز کی گونج ہے جو مرقس کی ابتدا میں یردن پر سنائی دی تھی۔ جو یسوع اپنے بپتسمے میں محبوب بیٹا کہلائے، وہی یہاں آخری بھیجا ہوا ہے، جس کے بعد کوئی اَور نہیں آئے گا۔
آئینہ
مزارع بننا آسان ہے۔ آپ اپنی تنخواہ، اپنے بچے، اپنی صلاحیت، اپنے اتوار کے گھنٹے، سب کچھ نیک نیتی سے سنبھالتے ہیں، اور آہستہ آہستہ یہ خیال دل میں بیٹھ جاتا ہے کہ یہ میرا ہے، مجھے حساب کیوں دینا؟ جو نوکر حصہ مانگنے آتا ہے، ہم اُسے خالی ہاتھ لوٹا دیتے ہیں: وہ آواز، وہ نصیحت، وہ آیت جو تکلیف دیتی ہے۔ اور علما کا آئینہ خاص طور پر اُن کے لیے ہے جو کلام سکھاتے ہیں۔ ”شاندار چوغے“ آج کپڑے نہیں، عزت کی کرسی ہے، بازار کا سلام، گروپ میں وہ نظر جو کہتی ہے کہ آپ کچھ جانتے ہیں۔ یسوع اِس خواہش کو معصوم کمزوری نہیں کہتے، وہ اُسے بیواؤں کے گھر ہڑپ کرنے کے ساتھ ایک ہی سانس میں رکھتے ہیں۔
ایک تفصیل
”اُنہوں نے اُسے پکڑ کر قتل کیا اور باغ سے باہر پھینک دیا۔“ ترتیب پر رُکیں: پہلے قتل، پھر باہر پھینکنا۔ یہ لاش کی بےعزتی ہے، دفن سے انکار۔ مزارع صرف وارث سے چھٹکارا نہیں چاہتے، وہ چاہتے ہیں کہ اُس کا نشان بھی باغ میں نہ رہے۔ اور یہ لفظ ”باہر“ چند دن بعد پورا ہونے والا تھا: یسوع شہر کی دیوار کے باہر، مقدّس جگہ سے باہر، مجرموں کی جگہ پر مارے گئے۔ جو اِس باب میں بیت المقدّس کے صحن میں کھڑے پڑھا رہے ہیں، اُنہیں معلوم ہے کہ اُن کی موت باغ کے اندر عزت کے ساتھ نہیں ہوگی۔ اور بیٹا پھر بھی باغ میں داخل ہوتا ہے۔
کلام کی گونج
اِس باب میں یسوع پانچ بار کلامِ مقدّس کھولتے ہیں، اور ہر بار حکمت سے چنتے ہیں۔ صدوقیوں کے سامنے، جو صرف موسیٰ کی کتابوں کو مانتے تھے، وہ قیامت کا ثبوت دانیایل سے نہیں بلکہ جلتی جھاڑی سے دیتے ہیں: ”مَیں ابراہیم کا خدا، اسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں۔“ دلیل عہد پر ٹکی ہے، نہ کہ کسی آیت کے لفظ پر؛ جس سے خدا نے عہد باندھا، اُسے وہ موت کے حوالے نہیں کرے گا۔ شریعت کے عالِم کے ساتھ گفتگو میں شمع (سن اے اسرائیل) اور احبار کا پڑوسی سے محبت کا حکم ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتے ہیں، اور عالِم کا جواب انبیا کی پرانی صدا دہراتا ہے کہ اطاعت قربانی سے بہتر ہے۔ ایک کھلا تناؤ بھی رہ جاتا ہے: زبور ۱۱۰ کے حوالے سے یسوع ”داؤد کا فرزند“ کہلانے پر سوال اُٹھاتے ہیں، حالانکہ اندھے بھکاری نے یہی پکار کر اُنہیں بلایا تھا اور اُنہوں نے منع نہ کیا۔ وہ لقب کو رد نہیں کرتے، وہ اُسے چھوٹا ثابت کرتے ہیں۔
پہلے سننے والے
فسح کے ہفتے میں یہ بھیڑ ابھی زبور ۱۱۸ گا کر آئی تھی؛ ”جس پتھر کو مکان بنانے والوں نے رد کیا“ اُن کے کانوں میں تازہ تھا۔ ٹیکس کا سوال بھی محض نظریاتی نہیں تھا: چاندی کے سکے پر شہنشاہ کی صورت اور اُس کا الٰہی لقب کندہ تھا، اور وہ سکہ پوچھنے والوں کی جیب سے نکلا۔ جن گلیوں میں رومی فوجی گشت کرتے تھے، وہاں یسوع کا جواب نہ بغاوت کا نعرہ تھا نہ غلامی کی توجیہ۔ اور مرقس کے پہلے قاری، ایک ستائی ہوئی چھوٹی جماعت، اِس باب میں اپنی تصویر بیوہ میں دیکھتے تھے، جس کے دو معمولی سکے آسمان کے حساب میں امیروں کی بڑی رقموں سے وزنی ٹھہرے۔
غور و فکر کے سوالات
باغ کے کس حصے کو آپ خاموشی سے اپنی ملکیت سمجھ بیٹھے ہیں، اور مالک کا کون سا نوکر آپ نے حال ہی میں خالی ہاتھ لوٹایا ہے؟
آپ کا دینا اپنی کثرت سے ہوتا ہے یا اپنے گزارے سے؟ اِس فرق کو اپنے پچھلے مہینے کے حساب میں کہاں دیکھا جا سکتا ہے؟
Mark 12 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
مرقس 12 کا کیا مطلب ہے؟
مرقس 12 کس بارے میں ہے؟
مرقس 12 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
مرقس 12 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
مرقس 12 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Mark 12 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، صدوقیوں نے پوچھا کہ ”قیامت کے دن وہ کس کی بیوی ہو گی؟“ اور آپ نے اُن کے اُلجھے سوال کو رد نہیں کیا بلکہ سچائی دکھائی۔ شکر ہے کہ قیامت محض بحث کا موضوع نہیں بلکہ ہماری زندہ اُمید ہے، اور موت ہمارے رشتوں اور ہماری زندگی کا آخری لفظ نہیں۔
صدوقی موسیٰ کی شریعت خوب جانتے تھے۔ اُن کے الفاظ تھے، ”اُستاد، موسیٰ نے ہمیں حکم دیا کہ اگر کوئی شادی شدہ آدمی بےاولاد مر جائے تو اُس کا بھائی بیوہ سے شادی کرے۔“ آیت درست تھی، نیت نہیں۔ وہ سیکھنے نہیں، پھنسانے آئے تھے۔ کتنی بار ہم بھی کلام ہاتھ میں لیے یسوع کے پاس آتے ہیں، جواب پہلے سے تیار رکھ کر۔ کیا تُو واقعی سننا چاہتا ہے؟
انگور کا باغ لگانے والے نے کچھ ادھورا نہیں چھوڑا۔ اُس نے چاردیواری بنائی، رس نکالنے کا گڑھا کھودا، بُرج بھی تعمیر کیا۔ پھر "وہ اُسے مزارعوں کے سپرد کر کے بیرونِ ملک چلا گیا۔" مزارعوں کو کچھ بنانا نہیں تھا، صرف وفادار رہنا تھا۔ آپ کی زندگی بھی ایسا ہی تیار باغ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آپ کے پاس کیا ہے، بلکہ یہ کہ آپ اُسے کس کا سمجھتے ہیں۔
وہ سکہ ہاتھ میں لے کر یسوع نے سیدھا سوال کیا، ”کس کی صورت اور نام اِس پر کندہ ہے؟“ جواب آیا، ”قیصر کا۔“ سکہ اُسی کا ہے جس کی تصویر اُس پر ہے۔ اب ذرا اپنے آپ کو دیکھ۔ تجھ پر کس کی صورت کندہ ہے؟ تُو خدا کی صورت پر بنا ہے۔ پیسہ قیصر کو دے دے، لیکن اپنی جان، اپنا وقت، اپنا دل؟ وہ اُسی کا ہے جس کی مہر تجھ پر لگی ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
