بائبل کی تشریح

مرقس 13

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

شاگرد ہیکل کے تراشے ہوئے پتھروں پر حیران کھڑے ہیں، اور یسوع ایک ہی جملے میں اُس ساری شان کو ملبہ قرار دے دیتے ہیں: ”پتھر پر پتھر نہیں رہے گا۔“ پھر زیتون کے پہاڑ پر، ہیکل کے عین مقابل بیٹھ کر، وہ چار شاگردوں کے اُس سوال کا جواب دیتے ہیں کہ ”یہ کب ہو گا؟“ جواب لمبا ہے: جھوٹے مسیح، جنگیں، زلزلے، کال، عدالتیں اور کوڑے، بھائی کا بھائی کو موت کے حوالے کرنا، وہ بےحرمتی کی چیز جو وہاں کھڑی ہو گی جہاں اُسے نہیں ہونا چاہئے، سورج کا تاریک ہونا، اور آخر میں ابنِ آدم کا بادلوں میں آنا۔ مگر تاریخ کا نقشہ کہیں نہیں ملتا۔ جو لوٹ لوٹ کر آتا ہے وہ صرف ایک لفظ ہے: چوکس رہو۔

مرکزی بات

غور کیجئے کہ یسوع نے کیا نہیں دیا۔ اُن سے وقت پوچھا گیا، اور اُنہوں نے صاف کہہ دیا: ”آسمان کے فرشتوں اور فرزند کو بھی علم نہیں بلکہ صرف باپ کو۔“ یہ جملہ ہمیں بےچین کرتا ہے، اور شاید اِسی لئے دیا گیا ہے۔ خدا نے وقت کا علم اپنے پاس رکھا، اور یہ کنجوسی نہیں بلکہ عنایت ہے: اگر تاریخ معلوم ہوتی تو ہم حساب لگاتے، انتظار نہ کرتے؛ تیاری کو آخری ہفتے تک ملتوی کر دیتے۔ نامعلوم وقت ہمیں ہر گھڑی وفادار رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ ساتھ ہی خدا تاریخ کے باہر نہیں: وہی ہے جس نے ”اپنے چنے ہوؤں کی خاطر“ مصیبت کا دورانیہ مختصر کر دیا۔ زمین ہل سکتی ہے، آسمان جا سکتا ہے، مگر ”میری باتیں ہمیشہ تک قائم رہیں گی۔“ یہی وہ زمین ہے جس پر کھڑے ہو کر انتظار کیا جا سکتا ہے۔

مشترکہ سلسلہ

ہیکل کا گرنا محض ایک عمارت کا گرنا نہیں تھا۔ وہ جگہ تھی جہاں خدا اپنے نام کو بسانے کا وعدہ کر چکا تھا؛ قربانیاں، کفارہ، حضوری، سب اُسی چوکھٹے میں۔ اور مسیح اُس کے مقابل بیٹھ کر کہتے ہیں کہ سب ڈھا دیا جائے گا۔ سوال یہ بنتا ہے: تو حضوری کہاں جائے گی؟ جواب اِسی باب میں چھپا ہے، مگر اشارے میں۔ جو باقی رہے گا وہ پتھر نہیں، ایک آواز ہے: ”میری باتیں ہمیشہ تک قائم رہیں گی۔“ جو جمع کرے گا وہ کاہن نہیں، ابنِ آدم ہو گا، جو اپنے فرشتوں کو ”دنیا کے کونے کونے سے“ بھیجے گا۔ نجات کی پوری کہانی اِسی طرف بہتی ہے: عمارت سے شخص کی طرف، مرکز سے قوموں کی طرف، اور مصلوب ہونے والے سے بادلوں میں آنے والے کی طرف۔

آئینہ

یہ باب ہماری اُس خواہش پر ہاتھ رکھتا ہے جو ہم مانتے نہیں: ہم جاننا چاہتے ہیں تاکہ قابو میں رہیں۔ خبریں دیکھتے ہوئے، ڈاکٹر کی رپورٹ کھولتے ہوئے، بچوں کے مستقبل کا حساب لگاتے ہوئے، ہم نقشہ مانگتے ہیں اور مسیح ہمیں ذمہ داری دیتے ہیں۔ ”ہر ایک کو اُس کی اپنی ذمہ داری سونپ دی۔“ یہ کم تسلی بخش ہے، مگر زیادہ سچا۔ اور غور کیجئے کہ سوتے پائے جانے کا خطرہ بدکاری سے نہیں، غفلت سے آتا ہے: وہ نیند جو تھکن اور مصروفیت سے آتی ہے، جس میں ہم نے کچھ برا نہیں کیا، بس دروازے سے نظر ہٹا لی۔ آج ایک کام کیجئے: جو ذمہ داری آپ کو سونپی گئی ہے اور جسے آپ نے ٹال رکھا ہے، اُس کا نام ایک کاغذ پر لکھ کر کہیں سامنے چپکا دیجئے۔

مرکزی کردار

اِس باب میں بولنے والا وہ شخص ہے جو دو دن بعد پکڑا جائے گا، اور وہ اپنے پکڑے جانے کی بات نہیں کر رہا بلکہ اپنے شاگردوں کے پکڑے جانے کی۔ یہ عجیب سکون ہے۔ وہ اُنہیں کوڑوں، عدالتوں اور گھر کے اندر کی غداری سے آگاہ کرتے ہیں، اور پھر بھی ایک لفظ گھبراہٹ کا نہیں: ”مت گھبرانا۔“ وہ اُس مصیبت کو ”دردِ زہ“ کہتے ہیں، یعنی درد جو موت کی نہیں بلکہ پیدائش کی طرف لے جاتا ہے۔ اور پھر وہ جملہ جو ہمیں رکنے پر مجبور کرتا ہے: ”فرزند کو بھی علم نہیں۔“ یہاں ہم مسیح کو اُس مقام پر دیکھتے ہیں جہاں وہ خود باپ کے بھروسے پر جیتے ہیں۔ وہ ہمیں اندھیرے میں تنہا نہیں چھوڑتے؛ وہ ہمارے ساتھ اُس میں کھڑے ہیں۔

سیاق و سباق

یہ ہفتہ آخری ہفتہ ہے۔ یسوع یروشلم میں داخل ہو چکے ہیں، ہیکل کو صاف کر چکے ہیں، اور اب اُس سے نکل رہے ہیں۔ ہیرودیس کی وہ عمارت اُس زمانے کی عجوبوں میں شمار ہوتی تھی، بعض پتھر کئی ٹن وزنی؛ شاگردوں کی حیرت سیاح کی نہیں، ایک قوم کے فخر کی حیرت تھی۔ ہیکل معیشت، سیاست اور شناخت، سب کا مرکز تھا۔ اُسے ملبہ کہنا مذہبی بیان نہیں، بغاوت جیسا لگتا تھا۔ زیتون کا پہاڑ وادی کے پار ہیکل کے عین سامنے ہے، یعنی مسیح اُس شان کو دیکھتے ہوئے اُس کا انجام سناتے ہیں۔ اور تقریباً چالیس برس بعد، ۷۰ء میں، رومی فوج نے وہی کیا جو اُنہوں نے کہا تھا۔

بین المتون

”بےحرمتی اور تباہی کا باعث“ دانی ایل کی کتاب کی زبان ہے، جہاں مقدِس کی بےحرمتی کا ذکر ہے؛ مرقس کا وہ جملہ ”قاری اِس پر دھیان دے!“ بتاتا ہے کہ پہلے سننے والے اِس اشارے کو سمجھتے تھے اور ہم سے زیادہ ڈرتے تھے۔ اور ابنِ آدم کا ”بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ بادلوں میں آتے“ ہوئے دیکھا جانا بھی دانی ایل ۷ سے آتا ہے، جہاں ایک انسانی شکل کو قدیم الایام سے بادشاہی ملتی ہے۔ دونوں حوالے ایک ہی نکتہ بناتے ہیں: تاریخ کا سب سے تاریک لمحہ اور سب سے روشن لمحہ ایک ہی ہاتھ میں ہیں۔ اِسی لئے مسیح ہمیں تشریح کے بجائے جاگنے کی دعوت دیتے ہیں۔

غور و فکر

اگر مسیح نے مجھے تاریخ نہیں بلکہ ”اپنی ذمہ داری“ سونپی ہے، تو اِس وقت میری سونپی ہوئی ذمہ داری کیا ہے، اور کیا میں اُس پر جاگ رہا ہوں؟

میری زندگی میں وہ نیند کیسی دکھتی ہے جس سے مسیح خبردار کرتے ہیں: گناہ کی نیند، یا مصروفیت اور تھکن کی وہ نیند جسے میں جائز سمجھ کر قبول کر چکا ہوں؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Mark 13 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

مرقس 13 کا کیا مطلب ہے؟
شاگرد ہیکل کے تراشے ہوئے پتھروں پر حیران کھڑے ہیں، اور یسوع ایک ہی جملے میں اُس ساری شان کو ملبہ قرار دے دیتے ہیں: ”پتھر پر پتھر نہیں رہے گا۔“ پھر زیتون کے پہاڑ پر، ہیکل کے عین مقابل بیٹھ کر، وہ چار شاگردوں کے اُس سوال کا جواب دیتے ہیں کہ ”یہ کب ہو گا؟“ جواب لمبا ہے: جھوٹے مسیح، جنگیں، زلزلے، کال، عدالتیں اور کوڑے، بھائی کا بھائی کو موت کے حوالے کرنا، وہ بےحرمتی کی چیز جو وہاں کھڑی ہو گی جہاں اُسے نہیں ہونا چاہئے، سورج کا تاریک ہونا، اور آخر میں ابنِ آدم کا بادلوں میں آنا۔ مگر تاریخ کا نقشہ کہیں نہیں ملتا۔ جو لوٹ لوٹ کر آتا ہے وہ صرف ایک لفظ ہے: چوکس رہو۔
مرقس 13 کس بارے میں ہے؟
ہیکل کا گرنا محض ایک عمارت کا گرنا نہیں تھا۔ وہ جگہ تھی جہاں خدا اپنے نام کو بسانے کا وعدہ کر چکا تھا؛ قربانیاں، کفارہ، حضوری، سب اُسی چوکھٹے میں۔ اور مسیح اُس کے مقابل بیٹھ کر کہتے ہیں کہ سب ڈھا دیا جائے گا۔ سوال یہ بنتا ہے: تو حضوری کہاں جائے گی؟ جواب اِسی باب میں چھپا ہے، مگر اشارے میں۔ جو باقی رہے گا وہ پتھر نہیں، ایک آواز ہے: ”میری باتیں ہمیشہ تک قائم رہیں گی۔“ جو جمع کرے گا وہ کاہن نہیں، ابنِ آدم ہو گا، جو اپنے فرشتوں کو ”دنیا کے کونے کونے سے“ بھیجے گا۔ نجات کی پوری کہانی اِسی طرف بہتی ہے: عمارت سے شخص کی طرف، مرکز سے قوموں کی طرف، اور مصلوب ہونے والے سے بادلوں میں آنے والے کی طرف۔
مرقس 13 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اِس باب میں بولنے والا وہ شخص ہے جو دو دن بعد پکڑا جائے گا، اور وہ اپنے پکڑے جانے کی بات نہیں کر رہا بلکہ اپنے شاگردوں کے پکڑے جانے کی۔ یہ عجیب سکون ہے۔ وہ اُنہیں کوڑوں، عدالتوں اور گھر کے اندر کی غداری سے آگاہ کرتے ہیں، اور پھر بھی ایک لفظ گھبراہٹ کا نہیں: ”مت گھبرانا۔“ وہ اُس مصیبت کو ”دردِ زہ“ کہتے ہیں، یعنی درد جو موت کی نہیں بلکہ پیدائش کی طرف لے جاتا ہے۔ اور پھر وہ جملہ جو ہمیں رکنے پر مجبور کرتا ہے: ”فرزند کو بھی علم نہیں۔“ یہاں ہم مسیح کو اُس مقام پر دیکھتے ہیں جہاں وہ خود باپ کے بھروسے پر جیتے ہیں۔ وہ ہمیں اندھیرے میں تنہا نہیں چھوڑتے؛ وہ ہمارے ساتھ اُس میں کھڑے ہیں۔
مرقس 13 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
”بےحرمتی اور تباہی کا باعث“ دانی ایل کی کتاب کی زبان ہے، جہاں مقدِس کی بےحرمتی کا ذکر ہے؛ مرقس کا وہ جملہ ”قاری اِس پر دھیان دے!“ بتاتا ہے کہ پہلے سننے والے اِس اشارے کو سمجھتے تھے اور ہم سے زیادہ ڈرتے تھے۔ اور ابنِ آدم کا ”بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ بادلوں میں آتے“ ہوئے دیکھا جانا بھی دانی ایل ۷ سے آتا ہے، جہاں ایک انسانی شکل کو قدیم الایام سے بادشاہی ملتی ہے۔ دونوں حوالے ایک ہی نکتہ بناتے ہیں: تاریخ کا سب سے تاریک لمحہ اور سب سے روشن لمحہ ایک ہی ہاتھ میں ہیں۔ اِسی لئے مسیح ہمیں تشریح کے بجائے جاگنے کی دعوت دیتے ہیں۔
مرقس 13 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
میری زندگی میں وہ نیند کیسی دکھتی ہے جس سے مسیح خبردار کرتے ہیں: گناہ کی نیند، یا مصروفیت اور تھکن کی وہ نیند جسے میں جائز سمجھ کر قبول کر چکا ہوں؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Mark 13 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

دعا ادارتی کو آیت 32

اے باپ، وہ دن اور وہ گھڑی صرف تُو ہی جانتا ہے۔ مجھے سب کچھ جاننے کی خواہش سے آزاد کر دے اور اتنا بھروسا دے کہ نامعلوم کل بھی تیرے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ آج کے دن کو وفاداری سے جینے میں میری مدد کر، جاگتا ہوا، ڈرتا ہوا نہیں۔

دعا ادارتی کو آیت 33

اے خدا، مجھے جاگتے رہنا سکھا۔ میں اکثر اپنی مصروفیت میں تیری آواز کھو دیتا ہوں۔ وقت تیرے ہاتھ میں ہے، اور مجھے نہیں معلوم کب تو آئے گا، اس لیے میرا دل ہر روز تیرے لیے تیار رکھ۔ آج بھی مجھے ہوشیار اور اُمید سے بھرا رکھ۔

بصیرت ادارتی کو آیت 8

یسوع نے تباہی کی خبروں کو ایک عجیب نام دیا: ”یہ سب کچھ پیدائش کے دردِ زہ کی ابتدا ہی ہو گا۔“ دردِ زہ کا مطلب ہے کہ کچھ مر نہیں رہا بلکہ کچھ جنم لے رہا ہے۔ جب تُو خبریں دیکھ کر ڈر جاتا ہے، یاد رکھ کہ تیرا خدا اِس شور کے بیچ بھی کچھ نیا پیدا کر رہا ہے۔ کیا تُو اِتنا انتظار کر سکے گا کہ اُسے دیکھ لے؟

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟