دانی ایل کی کتاب کا تعارف اور پیشین گوئیاں
تعارف
بابل کے شاہی محل کے ایک کمرے میں چار نوجوان کھڑے ہیں۔ اُن کے شہر کی دیواریں ٹوٹ چکی ہیں، ہیکل لُٹ چکی ہے، اُن کے نام بدل دیے گئے ہیں، اُن کی زبان بدل دی گئی ہے، اور اب اُن کے سامنے شاہی دسترخوان سے کھانا رکھا جاتا ہے۔ کوئی اُن پر تلوار نہیں تانے ہوئے۔ کوئی اُنہیں مجبور نہیں کر رہا۔ صرف ایک خوش گوار، آرام دہ، عزت بھری پیش کش ہے: بابل کا حصہ بن جاؤ، اور سب کچھ آسان ہو جائے گا۔ اور اُن میں سے ایک نوجوان اپنے دل میں فیصلہ کرتا ہے کہ نہیں۔
دانی ایل کی کتاب یہیں سے شروع ہوتی ہے، سلطنتوں کے نقشوں سے نہیں بلکہ ایک کھانے کی میز سے۔ اِس صفحے پر آپ دیکھیں گے کہ اِس کتاب کا مصنف کون تھا، یہ کب اور کن حالات میں لکھی گئی، اِس کی ساخت کیا ہے، اِس کی مشہور پیشین گوئیوں کا مطلب کیا ہے، اور سب سے اہم بات: یہ کتاب کیوں لکھی گئی تھی۔
اس رہنما کا زاویہ
دانی ایل کی کتاب پر لکھی گئی بہت سی تحریریں اِسے ایک معمّہ سمجھ کر پڑھتی ہیں: چار سلطنتیں، ستّر ہفتے، تاریخیں، چارٹ، حساب۔ یہ صفحہ ایک دوسرے زاویے سے چلتا ہے۔ دانی ایل کی پیشین گوئیاں تجسّس مٹانے کے لیے نہیں دی گئی تھیں بلکہ جلاوطنوں کو ہمت دینے کے لیے۔ یہ اُن لوگوں کے لیے لکھی گئیں جو ہار چکے تھے، جو اقلیت میں تھے، جن کے آس پاس کی دنیا ہمیشہ کے لیے مضبوط دکھائی دیتی تھی۔ اِس لیے ہم ہر باب میں یہ پوچھیں گے: یہ رویا اُس شخص کو کیا حوصلہ دیتی ہے جسے کل صبح دوبارہ بابل میں جاگنا ہے؟
پیشین گوئی نقشہ نہیں، لنگر ہے۔
بائبل دانی ایل کی کتاب کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
کتاب اپنا تعارف خود ایک تاریخی لمحے سے کراتی ہے: یہوداہ کے بادشاہ یہویقیم کے دنوں میں بابل کا بادشاہ نبوکدنضر یروشلیم پر چڑھ آیا اور شاہی خاندان کے چند ہونہار نوجوانوں کو اپنے ساتھ لے گیا۔ یہ تقریباً 605 قبلِ مسیح کا واقعہ ہے، یعنی یروشلیم کی مکمل تباہی سے اٹھارہ سال پہلے۔ دانی ایل اُنہی نوجوانوں میں سے ایک تھا۔ وہ ساری عمر بابل میں رہا، نبوکدنضر، بیلشضر، داراؤس اور خورس کے دربار میں خدمت کی، اور کتاب کے آخری باب تک وہ ایک بوڑھا آدمی ہے جسے کہا جاتا ہے کہ اب آرام کر۔ یعنی یہ کتاب ستّر سال کی وفاداری کی کہانی ہے، کسی ایک جذباتی لمحے کی نہیں۔
اور یہ وفاداری سب سے پہلے ایک چھوٹی سی بات میں ظاہر ہوتی ہے۔ دانی ایل 1:8 کہتی ہے: "لیکن دانی ایل نے اپنے دل میں ارادہ کیا کہ وہ اپنے آپ کو بادشاہ کی نعمتوں اور اُس کی شراب سے ناپاک نہ کرے گا۔" غور کریں کہ فیصلہ کہاں ہوا: دل میں، پہلے۔ دانی ایل نے دربار میں کھڑے ہو کر تقریر نہیں کی اور نہ کوئی احتجاجی مظاہرہ کیا؛ اُس نے خواجہ سراؤں کے سردار سے بڑے ادب سے درخواست کی۔ بابل اُس کا پتہ بدل سکتا تھا، اُس کی تعلیم بدل سکتا تھا، اُس کا نام بدل سکتا تھا، مگر اُس کا دل اُس کے خدا کا تھا۔ اِسی چھوٹے سے "نہیں" میں پوری کتاب کا بیج چھپا ہے۔
پھر خدا اِس وفادار نوجوان کو ایک ایسی بات دکھاتا ہے جو تاریخ کا رُخ سمجھا دیتی ہے۔ نبوکدنضر کے خواب میں ایک بُت ہے: سونے کا سر، چاندی کا سینہ، پیتل کا پیٹ، لوہے کی ٹانگیں اور مٹی ملے لوہے کے پاؤں۔ پھر ایک پتھر آتا ہے جو کسی انسانی ہاتھ نے نہیں تراشا، اور سب کچھ چُور چُور ہو جاتا ہے۔ دانی ایل 2:44 اِس کی تفسیر دیتی ہے: "اور اُن بادشاہوں کے ایام میں آسمان کا خدا ایک سلطنت برپا کرے گا جو کبھی فنا نہ ہو گی۔" جلاوطن سننے والے کے لیے یہ خبر سیاست نہیں، شفا تھی۔ جس سلطنت نے اُس کا گھر اُجاڑا، وہ بُت کا صرف سر ہے، اور سونے کا سر بھی گِر جاتا ہے۔
اِس یقین کا امتحان تیسرے باب میں آتا ہے۔ سونے کی مورت، بجتا ہوا باجا، اور جلتا ہوا تنور۔ تینوں عبرانی نوجوان جواب دیتے ہیں، اور دانی ایل 3:17 میں اُن کا اعتماد سنائی دیتا ہے: "ہمارا خدا جس کی ہم عبادت کرتے ہیں ہم کو آگ کے جلتے ہوئے تنور سے بچانے پر قادر ہے۔" اور اگلی آیت میں وہ جملہ آتا ہے جو ایمان کی سب سے پکی شکل ہے: اور اگر وہ نہ بچائے، تو بھی ہم تیرے دیوتاؤں کی پوجا نہ کریں گے۔ یہ اُن کے حوصلے کی جڑ ہے: نتیجہ خدا کے ہاتھ میں ہے، وفاداری ہمارے ہاتھ میں۔
چھٹا باب دکھاتا ہے کہ بوڑھا دانی ایل بھی ویسا ہی ہے جیسا جوان دانی ایل تھا۔ دانی ایل 6:10 بتاتی ہے کہ جب اُس ظالم فرمان پر دستخط ہو گئے تو وہ اپنے گھر گیا اور یروشلیم کی طرف کھلی کھڑکیوں کے سامنے "دن میں تین بار گھٹنے ٹیک کر اپنے خدا کے حضور دعا اور شکرگزاری کرتا رہا جیسا پہلے کرتا تھا۔" آخری الفاظ سب سے خوبصورت ہیں: جیسا پہلے کرتا تھا۔ بحران نے اُس کی عادت نہیں بدلی، کیونکہ اُس کی عادت بحران سے پہلے بن چکی تھی۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
دانی ایل کی کتاب خلا میں نہیں لٹکتی۔ یرمیاہ نے جلاوطنی کے بارے میں لکھا تھا کہ یہ ستّر سال رہے گی، اور دانی ایل نویں باب میں وہی طومار پڑھ رہا ہے اور حساب لگا رہا ہے کہ وقت پورا ہو رہا ہے۔ حزقی ایل اُسی زمانے میں بابل کی نہر کے کنارے رویائیں دیکھ رہا تھا۔ اِس لیے دانی ایل موسیٰ اور داؤد کی روایت میں کھڑا ہے: خدا نے یہ پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اگر میری قوم عہد توڑے گی تو جلاوطن ہو گی، مگر خدا نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اُنہیں بھولے گا نہیں۔ دانی ایل 9 کی لمبی، آنسو بھری دعا اِسی عہد پر ٹکی ہوئی ہے: ہم نے گناہ کیا، مگر رحم تیرا ہے۔
اور یہیں سے وہ لکیر شروع ہوتی ہے جو سیدھی مسیح تک جاتی ہے۔ دانی ایل 9:24 کے مطابق "تیری قوم اور تیرے مقدس شہر کے لئے ستّر ہفتے مقرر کئے گئے ہیں" تاکہ خطا کا خاتمہ ہو، بدکرداری کا کفارہ دیا جائے اور ابدی راستبازی قائم ہو۔ ستّر سال کی جلاوطنی کا جواب صرف وطن لوٹنا نہیں تھا؛ اصل مسئلہ گناہ تھا، اور اُس کا علاج کفارہ ہے۔ دانی ایل کو دکھایا گیا کہ ایک "ممسوح" آئے گا اور قتل کیا جائے گا۔ نئے عہد نامے میں یہ نقشہ صلیب پر پورا ہوتا ہے، جہاں خطا کا کفارہ ادا ہوتا ہے اور ایک ابدی راستبازی عطا کی جاتی ہے جو ہمارے اعمال سے نہیں بلکہ فضل سے ملتی ہے۔
سب سے واضح پُل ساتویں باب میں ہے۔ دانی ایل 7:13 کہتی ہے: "میں نے رات کو خواب میں دیکھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص آدم زاد کی مانند آسمان کے بادلوں کے ساتھ آیا اور قدیم الایام کے پاس پہنچا۔" اِس شخص کو ایسی سلطنت اور جلال دیا جاتا ہے جو کبھی زائل نہیں ہوتا۔ خداوند یسوع مسیح نے اپنے لیے سب سے زیادہ جو لقب استعمال کیا، وہ یہی تھا: ابنِ آدم۔ اور جب سردار کاہن نے اُن سے قسم دے کر پوچھا کہ کیا تم مسیح ہو، تو اُنہوں نے جواب میں دانی ایل کے یہی الفاظ دہرائے، کہ تم ابنِ آدم کو قدرت کی دہنی طرف بیٹھا اور آسمان کے بادلوں کے ساتھ آتے دیکھو گے۔ عدالت میں کھڑا ہوا قیدی خود کو وہی شخص کہہ رہا تھا جسے آسمان کی عدالت میں بادشاہی دی جاتی ہے۔
اِس کے بعد دانی ایل کی زبان پوری نئی کتاب میں گونجتی ہے۔ متی 24 میں خداوند یسوع مسیح "دانی ایل نبی" کا نام لے کر اُجاڑنے والی مکروہ چیز کا ذکر فرماتے ہیں۔ عبرانیوں 11 اُن ایمان داروں کو یاد کرتا ہے جنہوں نے شیروں کے منہ بند کیے اور آگ کے زور کو بجھایا۔ مکاشفہ کی کتاب تو گویا دانی ایل کی زبان میں بولتی ہے: سمندر سے نکلتے حیوان، قدیم الایام کا سفید لباس اور اُون جیسے بال، بادلوں پر آنے والا مسیح، کھلی ہوئی کتابیں۔ دانی ایل ہمیں یہ بتاتا ہے کہ تاریخ کا رُخ کہاں ہے؛ مکاشفہ ہمیں دکھاتا ہے کہ برّہ ہی تخت پر ہے۔
ساخت اور بنیادی موضوعات
کتاب کا مصنف روایتی طور پر دانی ایل خود مانا جاتا ہے، وہ یہوداہ کا ایک شریف نوجوان جو 605 قبلِ مسیح میں بابل لے جایا گیا۔ پہلے چھ باب زیادہ تر تیسرے شخص میں اُس کے بارے میں بیان کرتے ہیں، اور ساتویں باب سے وہ پہلے شخص میں بولنے لگتا ہے: "میں دانی ایل نے دیکھا۔" یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ دربار کے قصے دوسروں کے لیے گواہی ہیں اور رویائیں دانی ایل کی ذاتی ڈائری ہیں۔ خداوند یسوع مسیح نے اُسے "دانی ایل نبی" کہا، اور قُمران کے طوماروں میں اِس کتاب کی متعدد نقلیں ملی ہیں۔ جدید دور میں بعض عالم یہ تجویز کرتے ہیں کہ کتاب دوسری صدی قبلِ مسیح میں انتیوکس ایپی فینس کے زمانے میں لکھی گئی، کیونکہ گیارھویں باب کی تفصیل حیران کن حد تک درست ہے۔ مگر یہ دلیل دراصل اِس مفروضے پر کھڑی ہے کہ خدا آنے والی صدیوں کے بارے میں اِتنی باریکی سے نہیں بتا سکتا۔ ہم اِسے اُلٹ کر پڑھتے ہیں: تفصیل کی یہی درستی اُس دعوے کا ثبوت ہے جو کتاب بار بار کرتی ہے، کہ "آسمان میں ایک خدا ہے جو بھید کھولتا ہے۔"
ساخت میں دو چیزیں سب سے نمایاں ہیں۔ پہلی، کتاب دو زبانوں میں ہے: باب 1 اور 2:4 کا پہلا حصہ عبرانی میں، 2:4 سے 7:28 تک ارامی میں، اور 8 سے 12 تک دوبارہ عبرانی میں۔ ارامی اُس زمانے کی بین الاقوامی زبان تھی، عبرانی خدا کی قوم کی زبان۔ گویا کتاب کا درمیانی حصہ ساری دنیا سے بات کرتا ہے کہ تمام سلطنتوں کا مالک کون ہے، اور باہر کے حصے خدا کی قوم سے بات کرتے ہیں کہ اُن کے دُکھ کا انجام کیا ہو گا۔
دوسری، موضوعاتی تقسیم سیدھی ہے: باب 1 سے 6 دربار کے واقعات ہیں اور باب 7 سے 12 رویائیں۔ پہلے حصے میں خدا کی حکومت لوگوں کی زندگی میں دکھائی جاتی ہے؛ دوسرے حصے میں وہی حکومت تاریخ کے پردے پر دکھائی جاتی ہے۔ ارامی حصے میں تو ایک خوبصورت آئینہ نما ترتیب ہے: باب 2 کی چار سلطنتیں باب 7 کے چار حیوانوں سے جُڑتی ہیں، باب 3 کا تنور باب 6 کی شیروں کی ماند سے، اور باب 4 اور 5 دو مغرور بادشاہوں کو آمنے سامنے رکھتے ہیں، ایک جو توبہ کر لیتا ہے اور ایک جو ایک ہی رات میں سب کچھ کھو دیتا ہے۔
بنیادی موضوعات چار ہیں۔ پہلا، خدا کی حاکمیت: وہ بادشاہوں کو معزول کرتا اور مقرر کرتا ہے، اور نبوکدنضر کو یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ آسمان کا بادشاہ سب کچھ اپنی مرضی سے کرتا ہے۔ دوسرا، جلاوطنی میں دین داری: ناپاک دسترخوان، سونے کی مورت، دعا کی ممانعت، تینوں بار سوال ایک ہی ہے کہ کیا تم اپنی وفاداری کو سہولت کے بدلے بیچ دو گے۔ تیسرا، آنے والی بادشاہی: بُت کو توڑنے والا پتھر اور بادلوں پر آنے والا ابنِ آدم۔ چوتھا، قیامت اور انصاف: بارھویں باب میں مُردوں کے جی اُٹھنے کا وہ روشن وعدہ جو پرانے عہد نامے میں سب سے واضح ہے۔ اور یہ چاروں ایک ہی نتیجے پر پہنچتے ہیں، کہ جو آج مضبوط دکھتا ہے وہ عارضی ہے، اور جو آج کمزور دکھتا ہے وہ ابدی سلطنت کا وارث ہے۔
اس کتاب کی اہم آیات
دانی ایل 2:44 اِس پوری کتاب کا مرکزی اعلان ہے: "اور اُن بادشاہوں کے ایام میں آسمان کا خدا ایک سلطنت برپا کرے گا جو کبھی فنا نہ ہو گی۔" یہ آیت سیاست کے بارے میں ایک انقلابی بات کہتی ہے۔ سلطنتیں خود کو ابدی سمجھتی ہیں؛ بابل کے بارے میں کسی کے وہم میں بھی نہ تھا کہ وہ گِر جائے گا۔ مگر دانی ایل بتاتا ہے کہ ہر انسانی نظام کے پاؤں مٹی کے ہیں، اور جو پتھر سب کچھ توڑتا ہے وہ کسی انسانی ہاتھ سے نہیں تراشا گیا۔ یعنی خدا کی بادشاہی کوئی انسانی تحریک، کوئی انتخابی مہم، کوئی فوجی فتح نہیں؛ وہ اوپر سے آتی ہے۔ اِسی لیے جلاوطن کو یہ آیت سکون دیتی ہے: اُسے سلطنت بنانی نہیں، صرف اُس کی رعایا بن کر جینا ہے۔
دانی ایل 7:13 کتاب کا دھڑکتا ہوا دل ہے: "ایک شخص آدم زاد کی مانند آسمان کے بادلوں کے ساتھ آیا اور قدیم الایام کے پاس پہنچا۔" باب کے پہلے حصے میں جو طاقتیں دکھائی گئی ہیں وہ حیوان ہیں، سمندر سے نکلنے والے درندے، طاقت ور مگر وحشی۔ اور جسے ابدی بادشاہی دی جاتی ہے وہ درندہ نہیں، انسان ہے، مگر ایسا انسان جو بادلوں پر آتا ہے، یعنی جو صرف انسان نہیں۔ نئے عہد نامے میں یہ گرہ کھل جاتی ہے: خداوند یسوع مسیح نے اپنے لیے یہی لقب چنا۔ دنیا کی طاقت درندگی سے چلتی ہے؛ خدا کی بادشاہی ایک ایسے ابنِ آدم سے چلتی ہے جس نے اپنی جان دی۔
اور دانی ایل 12:3 کتاب کا آخری روشن وعدہ ہے: "اور جو دانشمند ہیں وہ نورِ فلک کی مانند چمکیں گے اور جو بہتوں کو راستبازی کی راہ پر لاتے ہیں وہ ستاروں کی مانند ابدالآباد جگمگاتے رہیں گے۔" دانی ایل اِسی کتاب میں دیکھتا ہے کہ وفادار لوگ ستائے جائیں گے، بعض گر پڑیں گے، بعض تلوار سے مریں گے۔ پھر خدا اُس کی آنکھیں اُٹھا کر آگے دکھاتا ہے: یہ کہانی قبر پر ختم نہیں ہوتی۔ جو وفاداری آج چھپی ہوئی اور بے وزن لگتی ہے، وہ ایک دن ستارے کی طرح چمکے گی۔ یہی اِس کتاب کا اصل مقصد ہے، حساب نہیں بلکہ حوصلہ۔
اِس کتاب کو پڑھنے کا عملی رہنما
دانی ایل کی کتاب کو ترتیب سے، مگر دو چشموں سے پڑھیں۔ پہلے مہینے میں صرف باب 1 سے 6 پڑھیں، ایک دن میں ایک باب، اور ہر باب کے بعد ایک ہی سوال لکھیں: اِس باب میں خدا کی حکومت کہاں دکھائی دی؟ آپ دیکھیں گے کہ ہر کہانی ایک اعتراف پر ختم ہوتی ہے، کوئی بادشاہ، کوئی دشمن، کوئی بت پرست حاکم مجبور ہو جاتا ہے کہ آسمان کے خدا کو تسلیم کرے۔ یہ چھ باب آپ کے ایمان کے پٹھے مضبوط کرتے ہیں۔
دوسرے مرحلے میں باب 7 سے 12 پڑھیں، مگر رفتار آدھی کر دیں۔ ہر رویا کو تین حصوں میں توڑیں: منظر کیا ہے، فرشتے کی تفسیر کیا ہے، اور دانی ایل کا ردِ عمل کیا ہے۔ یہ تیسرا حصہ اکثر نظرانداز ہوتا ہے، حالانکہ وہی سب سے زیادہ سکھاتا ہے۔ دانی ایل رویا دیکھ کر چارٹ نہیں بناتا؛ وہ بیمار پڑ جاتا ہے، رنجیدہ ہوتا ہے، روزہ رکھتا ہے، دعا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے یہ باتیں اپنے دل میں رکھیں۔ اگر پیشین گوئی پڑھ کر ہمارا دل دعا کی طرف نہیں جھکتا بلکہ بحث کی طرف، تو ہم نے اُسے دانی ایل کی طرح نہیں پڑھا۔
تیسرا مشورہ: باب 9 کو الگ سے، آہستہ، اور اگر ممکن ہو تو زور سے پڑھیں۔ یہ پوری بائبل کی عظیم ترین دعاؤں میں سے ایک ہے۔ دیکھیں کہ دانی ایل خود کو قوم سے الگ نہیں کرتا، وہ "ہم نے گناہ کیا" کہتا ہے، اور اپنی راستبازی کی بنیاد پر کچھ نہیں مانگتا بلکہ خدا کے رحم کی بنیاد پر۔ یہ دعا آپ کی اپنی توبہ کے لیے سانچہ بن سکتی ہے۔
ساتھ میں یرمیاہ 25 اور 29، حزقی ایل 1 سے 3، اور عزرا 1 پڑھیں تاکہ جلاوطنی کا پورا منظر سامنے آئے۔ نئے عہد نامے کی طرف پُل باندھنے کے لیے متی 24، مرقس 14 کے آخری حصے اور مکاشفہ 1 اور 13 پڑھیں۔ اور آخر میں ایک ذاتی مشق: ایک صفحے پر وہ تین جگہیں لکھیں جہاں آپ کی زندگی میں "بادشاہ کا دسترخوان" سجا ہوا ہے، یعنی وہ آسان راستے جو آپ سے خاموش سمجھوتہ مانگتے ہیں۔ پھر دانی ایل 1:8 کے ساتھ دعا کریں کہ خدا آپ کے دل میں بھی پہلے سے ارادہ باندھ دے۔
آئینہ
آپ کو غالباً کسی جلتے تنور کا سامنا نہیں۔ آپ کا امتحان اُس سے بہت زیادہ نرم اور اِسی لیے زیادہ خطرناک ہے۔ آپ کے سامنے بابل کا دسترخوان سجا ہے: وہ ترقی جو ایک چھوٹے سے جھوٹ کے بدلے ملتی ہے، وہ کاروبار جو صرف اُسی وقت چلتا ہے جب آپ حساب میں تھوڑی ہیرا پھیری کریں، وہ رشتہ جو آپ سے کہتا ہے کہ ایمان کو گھر کی دہلیز کے باہر ہی چھوڑ آؤ، وہ سکرین جو رات کو تنہائی میں آپ کو وہی پیش کرتی ہے جو آپ کا دل چاہتا ہے مگر آپ کی روح مار دیتی ہے۔ کوئی آپ کو مجبور نہیں کر رہا۔ یہ صرف پیش کش ہے۔ دانی ایل کی کتاب آپ سے پوچھتی ہے: کیا آپ نے اپنے دل میں پہلے ہی ارادہ کر لیا ہے، یا آپ فیصلہ اُس لمحے کے لیے چھوڑ رہے ہیں جب آپ تھکے ہوئے، تنہا اور کمزور ہوں گے؟
اور ایک دوسری چبھن بھی ہے۔ دانی ایل کی کھڑکیاں کھلی تھیں۔ اُس نے چھپ کر دعا نہیں کی۔ ہم میں سے کئی الٹا کرتے ہیں: ایمان رکھتے ہیں مگر پردے گرا کر۔ دفتر میں کوئی نہ جانے، خاندان میں بات نہ نکلے، دوستوں کی محفل میں ذکر نہ ہو۔ دانی ایل ہمیں شرمندہ نہیں کرتا، وہ ہمیں آزاد کرتا ہے: جس شخص کو یقین ہو کہ سلطنتیں عارضی اور اُس کا خدا ابدی ہے، اُسے پردے گرانے کی ضرورت نہیں رہتی۔
اور اگر آپ اُن لوگوں میں سے ہیں جو بچائے نہیں گئے، جن کی بیماری دور نہ ہوئی، جن کا رشتہ ٹوٹ گیا، جن کی دعا کا جواب "نہیں" میں آیا، تو دانی ایل 3 کے وہ الفاظ آپ کے لیے ہیں: ہمارا خدا بچانے پر قادر ہے، اور اگر وہ نہ بچائے تو بھی ہم اُس کے ہیں۔ یہ ایمان کی ہار نہیں، یہ ایمان کی سب سے اونچی چوٹی ہے۔ اور جو آج آپ کی چھپی ہوئی، بے گواہ وفاداری ہے، وہ اُس دن ستارے کی طرح چمکے گی۔
خدا کی خاموشی اُس کی غیر حاضری نہیں ہے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو دانی ایل کی کتاب سنانا آسان ہے، کیونکہ اِس کے پہلے چھ باب خود ہی کہانیوں کی شکل میں ہیں۔ چھوٹے بچوں کے لیے آغاز شیروں کی ماند اور آتشیں تنور سے کیجیے، مگر کہانی کا مرکز "بہادر دانی ایل" نہ بنائیے بلکہ "وفادار خدا"۔ سادہ الفاظ میں یوں کہیے: دانی ایل بہت دور ایک اجنبی ملک میں لے جایا گیا جہاں لوگ سچے خدا کو نہیں جانتے تھے۔ بادشاہ نے کہا کہ صرف میری بات مانو، مگر دانی ایل نے کہا کہ میں خدا سے دعا کرنا نہیں چھوڑوں گا۔ اُسے شیروں کے پاس ڈال دیا گیا، اور خدا نے شیروں کے منہ بند کر دیے۔ خدا اُس کے ساتھ گھر میں بھی تھا اور شیروں کی ماند میں بھی۔
بڑے بچوں کے ساتھ آپ ایک قدم آگے جا سکتے ہیں: انہیں دکھائیے کہ دانی ایل کا پہلا امتحان کھانے کی میز پر ہوا، یعنی چھوٹی باتوں میں کی گئی وفاداری ہی بڑی باتوں میں کھڑی رہنے کی تربیت دیتی ہے۔ یہ اسکول، دوستوں کے دباؤ اور سچ بولنے کی قیمت کے بارے میں بہت اچھی گفتگو بن جاتی ہے۔ اور نوجوانوں کے ساتھ آپ ساتویں باب کا ابنِ آدم اور خداوند یسوع مسیح کا اپنے لیے یہی لقب چننا کھول سکتے ہیں۔
فیتھ نیٹ ورک پر اِسی کتاب کی عمر کے لحاظ سے الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: تین سے چھ سال کے چھوٹے بچوں کے لیے، سات سے بارہ سال کے اسکول جانے والے بچوں کے لیے، اور بارہ سال سے اوپر کے نوجوانوں کے لیے، تاکہ آپ اپنے بچے کی سمجھ کے مطابق مناسب زبان چن سکیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
دانی ایل کی کتاب کس نے لکھی؟
روایتی اور کلیسیائی موقف یہ ہے کہ اِس کتاب کا مصنف دانی ایل خود ہے، وہ یہوداہ کا شریف زادہ جو 605 قبلِ مسیح میں بابل لے جایا گیا اور کئی بادشاہوں کے دربار میں اعلیٰ عہدوں پر رہا۔ ساتویں باب سے کتاب پہلے شخص میں بولنے لگتی ہے، "میں دانی ایل نے دیکھا"، جو ذاتی گواہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ خداوند یسوع مسیح نے متی 24 میں اُسے "دانی ایل نبی" کہہ کر پکارا، جو ہمارے لیے سب سے مضبوط تصدیق ہے۔
دانی ایل کی کتاب کب لکھی گئی؟
واقعات 605 قبلِ مسیح سے لے کر فارسی بادشاہ خورس کے ابتدائی برسوں تک، یعنی تقریباً 536 قبلِ مسیح تک پھیلے ہوئے ہیں، اِس لیے کتاب کی آخری شکل غالباً چھٹی صدی قبلِ مسیح کے اختتام پر مکمل ہوئی۔ بعض جدید عالم دوسری صدی قبلِ مسیح کی تاریخ تجویز کرتے ہیں کیونکہ گیارھویں باب کی تفصیل بہت درست ہے، مگر یہ دلیل پہلے سے یہ مان لیتی ہے کہ سچی پیشین گوئی ممکن نہیں۔ کتاب خود بار بار کہتی ہے کہ آسمان کا خدا بھید کھولتا ہے۔
دانی ایل کی کتاب دو زبانوں میں کیوں لکھی گئی ہے؟
باب 1 اور دوسرے باب کا شروع عبرانی میں ہے، پھر 2:4 سے 7:28 تک ارامی میں، اور آخری پانچ باب دوبارہ عبرانی میں۔ ارامی اُس زمانے کی بین الاقوامی زبان تھی، اِس لیے وہ حصہ جو تمام قوموں اور سلطنتوں پر خدا کی حکومت کا اعلان کرتا ہے ارامی میں ہے، اور وہ حصے جو خاص طور پر خدا کی قوم کے مستقبل، ہیکل اور یروشلیم سے متعلق ہیں عبرانی میں۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی ادبی ترتیب لگتی ہے۔
دانی ایل 2 میں چار سلطنتوں سے کیا مراد ہے؟
سونے کا سر خود نبوکدنضر اور بابل ہے، کیونکہ دانی ایل اُسے صاف کہتا ہے کہ "تُو ہی وہ سر ہے"۔ اِس کے بعد چاندی کی مادی فارسی سلطنت، پیتل کی یونانی سلطنت، اور لوہے کی رومی سلطنت سمجھی جاتی ہے، جس کے پاؤں میں لوہا اور مٹی ملی ہوئی ہے، یعنی طاقت اور کمزوری ایک ساتھ۔ اصل نکتہ ترتیب نہیں بلکہ انجام ہے: ایک پتھر جو کسی انسانی ہاتھ نے نہیں تراشا، سب کچھ توڑ دیتا ہے اور ایک ابدی سلطنت قائم ہوتی ہے۔
ستّر ہفتوں کی پیشین گوئی کا مطلب کیا ہے؟
دانی ایل 9:24 میں فرشتہ جبرائیل بتاتا ہے کہ قوم اور مقدس شہر کے لیے ستّر ہفتے، یعنی ستّر سات کے دور، مقرر ہوئے ہیں تاکہ گناہ کا کفارہ ہو اور ابدی راستبازی قائم ہو۔ مسیحی مفسرین اِس کی تفصیل پر مختلف رائے رکھتے ہیں، مگر تقریباً سب اِس پر متفق ہیں کہ اِس کا مرکز وہ "ممسوح" ہے جو قتل کیا جائے گا، اور یہ خداوند یسوع مسیح کی صلیبی موت میں پورا ہوا۔ تاریخوں کے حساب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کفارہ کا وعدہ صدیاں پہلے دیا گیا تھا۔
دانی ایل 7 میں "ابنِ آدم" کون ہے؟
دانی ایل 7:13 میں وہ شخص جو آسمان کے بادلوں کے ساتھ قدیم الایام کے پاس آتا ہے اور جسے ابدی سلطنت اور جلال دیا جاتا ہے، وہ کوئی عام انسان نہیں۔ بادلوں پر آنا پوری بائبل میں خدا کی آمد کی علامت ہے، مگر یہاں وہ "آدم زاد کی مانند" ہے۔ خداوند یسوع مسیح نے اپنے لیے سب سے زیادہ یہی لقب استعمال فرمایا، اور مرقس 14 میں سردار کاہن کے سامنے اِسی آیت کا حوالہ دے کر اپنی شناخت کھول دی۔
کیا دانی ایل 3 میں آگ میں چوتھا شخص خداوند یسوع مسیح تھا؟
نبوکدنضر تنور میں چار آدمی چلتے ہوئے دیکھتا ہے اور کہتا ہے کہ چوتھا دیوتاؤں کے بیٹے کی مانند ہے، بعد میں اُسے فرشتہ بھی کہا جاتا ہے۔ کلیسیا کی تاریخ میں بہت سے استادوں نے اِسے مسیح کا ظہور سمجھا ہے، اور یہ ایک قابلِ احترام رائے ہے، مگر متن اِسے صاف صاف نہیں کہتا۔ جو بات بلا شبہ سچ ہے وہ یہ ہے کہ خدا اپنے وفاداروں کو آگ سے باہر نہیں رکھتا بلکہ آگ کے اندر اُن کے ساتھ ہوتا ہے۔
دانی ایل کو شیروں کی ماند میں کیوں ڈالا گیا؟
دانی ایل مادی و فارسی حکومت میں اِتنا قابلِ اعتماد اور کامیاب تھا کہ دوسرے حاکم اُس سے حسد کرنے لگے۔ چونکہ اُس کے کام میں کوئی خرابی نہ ملی، اُنہوں نے اُس کے ایمان کو ہی جال بنایا اور بادشاہ سے ایسا فرمان منظور کرایا کہ تیس دن تک کوئی خدا یا انسان سے دعا نہ کرے۔ دانی ایل 6:10 کے مطابق دانی ایل نے اپنی روزمرہ کی عادت نہیں بدلی، وہ کھلی کھڑکیوں کے سامنے دن میں تین بار دعا کرتا رہا "جیسا پہلے کرتا تھا"۔
دانی ایل کی کتاب اور مکاشفہ کی کتاب کا کیا تعلق ہے؟
مکاشفہ کی زبان جگہ جگہ دانی ایل سے مستعار ہے: سمندر سے نکلتے حیوان، سینگ، مقرر عرصے، کھلی ہوئی کتابیں، قدیم الایام کے سفید بال، اور بادلوں پر آنے والا ابنِ آدم۔ فرق یہ ہے کہ دانی ایل ابھی مستقبل کی طرف اشارہ کرتا ہے، جب کہ مکاشفہ اُس برّہ کو دکھاتا ہے جو ذبح ہوا اور اب تخت پر بیٹھا ہے۔ دونوں کتابیں ستائے ہوئے ایمان داروں کے لیے لکھی گئیں، اور دونوں کا پیغام ایک ہے: انجام خدا کے ہاتھ میں ہے۔
"اُجاڑنے والی مکروہ چیز" سے کیا مراد ہے؟
یہ عبارت دانی ایل میں تین بار آتی ہے اور ہیکل کی بےحُرمتی اور قربانیوں کے بند ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ تاریخی طور پر اِس کی ایک واضح تکمیل 167 قبلِ مسیح میں ہوئی جب یونانی حاکم انتیوکس چہارم نے یروشلیم کی ہیکل کو ناپاک کیا۔ مگر خداوند یسوع مسیح نے متی 24 میں دانی ایل کا نام لے کر اِس کا ذکر مستقبل کے حوالے سے فرمایا، اِس لیے کلیسیا اِسے یروشلیم کی تباہی اور آخری زمانے میں خدا کے خلاف بغاوت، دونوں سے جوڑتی ہے۔
کیا دانی ایل کی کتاب میں قیامت کی تعلیم ہے؟
ہاں، اور یہ پرانے عہد نامے کی سب سے واضح عبارت ہے۔ بارھویں باب میں کہا گیا ہے کہ خاک میں سونے والوں میں سے بہت جاگ اُٹھیں گے، بعض ابدی زندگی کے لیے اور بعض ابدی شرمندگی کے لیے۔ اِس کے فوراً بعد دانی ایل 12:3 کا وعدہ آتا ہے کہ دانشمند آسمانی روشنی کی طرح چمکیں گے اور جو بہتوں کو راستبازی کی راہ پر لاتے ہیں ستاروں کی مانند ابدالآباد جگمگائیں گے۔ یہی امید پولس رسول اور خود خداوند یسوع مسیح کی تعلیم کی بنیاد بنتی ہے۔
دانی ایل کی کتاب عبرانی بائبل میں انبیا میں کیوں شامل نہیں؟
عبرانی بائبل میں دانی ایل کی کتاب "کتوبیم" یعنی تحریروں کے حصے میں رکھی گئی ہے، جب کہ مسیحی پرانے عہد نامے میں یہ بڑے انبیا کے ساتھ حزقی ایل کے بعد آتی ہے۔ اِس کی وجہ عموماً یہ بتائی جاتی ہے کہ دانی ایل کا سرکاری منصب ایک درباری دانشمند اور حاکم کا تھا، نہ کہ اُس نبی کا جو قوم کے سامنے کھڑے ہو کر کلام سناتا ہے۔ اِس سے کتاب کے اختیار پر کوئی فرق نہیں پڑتا؛ خداوند یسوع مسیح نے اُسے نبی ہی کہا۔
دانی ایل کی کتاب کے وہ اضافی حصے کیا ہیں جو بعض بائبلوں میں ملتے ہیں؟
یونانی ترجمے میں دانی ایل کے ساتھ چند اضافی تحریریں ملتی ہیں، جیسے تین نوجوانوں کا گیت، سوسنہ کی کہانی، اور بیل اور اژدہے کا قصہ۔ رومن کیتھولک اور آرتھوڈکس بائبلوں میں یہ حصے شامل ہیں، جب کہ پروٹسٹنٹ کلیسیائیں اِنہیں مستند کتبِ مقدسہ کا حصہ نہیں مانتیں کیونکہ یہ عبرانی اور ارامی متن میں موجود نہیں۔ اردو کی عام مستعمل بائبل میں آپ کو دانی ایل کے بارہ باب ہی ملیں گے۔
اختتام میں
دانی ایل کی کتاب اُن لوگوں کے لیے لکھی گئی جن کے ہاتھ میں کچھ نہ رہا تھا۔ اُن کے پاس ہیکل نہیں تھی، سلطنت نہیں تھی، آزادی نہیں تھی، اور غالباً واپسی کی امید بھی دم توڑ رہی تھی۔ اور خدا نے اُنہیں سیاسی حل نہیں دیا؛ اُس نے اُنہیں ایک نظارہ دیا۔ اُس نے دکھایا کہ سونے کے سر والا بُت گر جائے گا، کہ درندے اپنی مقرر مدت سے ایک دن آگے نہیں چل سکتے، کہ آسمان کی عدالت میں ایک ابنِ آدم کو ابدی بادشاہی سونپی جا رہی ہے، اور کہ خاک میں سونے والے جاگ اُٹھیں گے۔ اِس نظارے نے اُنہیں فرار نہیں دیا، ہمت دی، تاکہ وہ اگلی صبح دوبارہ بابل میں جاگ کر وفادار رہ سکیں۔
یہی اِس کتاب کی آپ کے لیے دعوت ہے۔ اِسے پہلے حوصلے کے لیے پڑھیں، پھر تفصیل کے لیے۔ ایک بار مکمل بارہ باب ایک ہی نشست میں پڑھ جائیے، اور پھر دانی ایل 9 کی دعا کو اپنی دعا بنائیے۔ اِس کے بعد ساتویں باب سے سیدھے مرقس کے چودھویں باب پر جائیے اور دیکھیے کہ بادلوں پر آنے والا وہ شخص کس طرح ایک عدالت میں مجرم کی حیثیت سے کھڑا ہے۔ وہاں آپ کو اِس پوری کتاب کا مرکز ملے گا: ایک ایسی بادشاہی جو کبھی فنا نہ ہو گی، اور ایک ایسا بادشاہ جو اپنے لوگوں کو تنور میں بھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔
