مرقس 15:39
متن
صلیب کے عین سامنے، بس چند قدم کے فاصلے پر، ایک رومی افسر کھڑا ہے۔ وہ اِس کام کا عادی ہے؛ اُس نے بےشمار لوگوں کو اِسی طرح مرتے دیکھا ہے، گالیاں دیتے، گڑگڑاتے، بےہوش ہوتے۔ لیکن آج جو اُس نے دیکھا وہ اُس کے تجربے کے کسی خانے میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ یسوع کی وہ بلند چیخ، وہ اندھیرا، اور پھر یوں دم چھوڑ دینا جیسے کوئی جان لی نہ گئی ہو بلکہ دی گئی ہو۔ اور تب اُس کے منہ سے وہ جملہ نکلتا ہے جو مرقس کی پوری انجیل کا نچوڑ ہے: ”یہ آدمی واقعی اللہ کا فرزند تھا!“ کوئی معجزہ نہیں دیکھا، کوئی قیامت نہیں دیکھی۔ صرف ایک موت دیکھی، اور پہچان لیا۔
اصل بات
مرقس نے اپنی کتاب کے پہلے ہی جملے میں لکھ دیا تھا کہ یہ ”اللہ کے فرزند“ کی خوشخبری ہے، اور پھر پوری کتاب میں وہ اِس اعلان کو انسانی زبانوں سے روکے رکھتا ہے۔ شاگرد نہیں سمجھتے، بدروحیں جانتی ہیں مگر چپ کرا دی جاتی ہیں، اور یسوع بار بار کہتے ہیں کہ کسی کو نہ بتانا۔ اب، جب سب کچھ ختم ہو چکا ہے، پردہ اوپر سے نیچے تک پھٹ چکا ہے اور لاش صلیب پر لٹکی ہے، تب پہلی بار ایک انسان کھلے بندوں یہ سچ بولتا ہے۔ اور وہ انسان قابض فوج کا ایک بےنام افسر ہے۔ یہی اِس آیت کا دھماکہ ہے: خدا کی اصل شناخت طاقت کے مظاہرے میں نہیں بلکہ اُس کی خود سپردگی میں کھلتی ہے۔ جو صلیب سے نہیں اُترا، وہی پہچانا گیا۔
بڑی کہانی کا دھاگا
اسرائیل کی پوری تاریخ اِس سوال کے گرد گھومتی رہی کہ خدا کہاں دکھائی دیتا ہے۔ ستون میں، آگ میں، ہیکل کے اندرونی کمرے میں جہاں سال میں ایک بار صرف ایک آدمی جا سکتا تھا۔ اور اب مرقس ایک ہی سانس میں دو باتیں لکھتا ہے: پردہ ”اوپر سے لے کر نیچے تک دو حصوں میں پھٹ گیا“، اور ایک غیریہودی افسر بول اُٹھا۔ ترتیب اتفاقی نہیں ہے۔ جو راستہ صدیوں سے بند تھا وہ اوپر سے، یعنی خدا کی طرف سے، چیر دیا گیا؛ اور پہلا شخص جو اُس کھلے راستے میں کھڑا نظر آتا ہے وہ اسرائیل سے باہر کا آدمی ہے۔ ابرہام سے کیا گیا وعدہ کہ تمام قومیں برکت پائیں گی، یہاں ایک قاتل فوجی کی زبان پر پہلا پھل لاتا ہے۔ خوشخبری یروشلم سے نکلنے سے پہلے ہی روم تک پہنچ چکی ہے۔
آئینہ
ہم اکثر ایمان کو ثبوت کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ راہنما امام بھی یہی چاہتے تھے: ”اب صلیب پر سے اُتر آئے تاکہ ہم یہ دیکھ کر ایمان لائیں۔“ ہم بھی یہی سودا کرتے ہیں۔ رپورٹ صاف آ جائے تو مانوں گا۔ نوکری بحال ہو جائے تو مانوں گا۔ بیٹا گھر لوٹ آئے تو مانوں گا۔ لیکن اِس آیت میں ایمان وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوا؛ افسر نے کوئی معجزہ نہیں دیکھا، صرف ایک آدمی کو ایمانداری سے مرتے دیکھا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے حالات کے نہ بدلنے کے باوجود آپ خدا کو پہچان سکتے ہیں۔ آج کریں یہ: مرقس 15 کی آیات 33 سے 39 اونچی آواز میں پڑھیں، اور آخر میں افسر کے الفاظ اپنی زبان سے دہرائیں، مگر اُس ایک صورتِ حال کا نام لے کر جس میں آپ ابھی تک خدا سے ثبوت مانگ رہے ہیں۔
پہلے سننے والے
مرقس غالباً روم کی اُس کلیسیا کے لیے لکھ رہا تھا جو دباؤ میں تھی، جہاں مسیح کو ماننا سماجی خودکشی اور کبھی کبھی حقیقی موت کے برابر تھا۔ اُن لوگوں کے لیے یہ بات معمولی نہیں تھی کہ انجیل کا سب سے واضح اقرار ایک رومی صوبیدار کے منہ میں رکھا گیا ہے۔ اُن کے کانوں میں ”اللہ کا فرزند“ ایک اور آواز میں بھی گونجتا تھا: قیصر کے سکّوں اور مندروں پر یہی لقب لکھا ہوتا تھا۔ یعنی ایک شہنشاہ کا آدمی، شہنشاہ کے لقب کو اُٹھا کر ایک مصلوب یہودی کے سر پر رکھ دیتا ہے۔ ستائے ہوئے مسیحیوں کے لیے یہ خاموش تسلی تھی: جس تخت سے تمہیں ڈرایا جاتا ہے، اُسی تخت کا سپاہی سچ بول چکا ہے۔
مرکزی کردار
ہم اُس افسر کا نام نہیں جانتے۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ وہ ”عیسیٰ کے مقابل کھڑا“ تھا، بالکل سامنے، اُتنے قریب کہ سانس کی ہر ٹوٹتی لہر اُس نے سنی ہوگی۔ ممکن ہے اُسی نے کوڑے لگوائے ہوں، اُسی نے کیلوں کا حکم دیا ہو۔ یہ آدمی معصوم تماشائی نہیں، قاتل ٹولی کا سربراہ ہے۔ اور یہی اِس اقرار کو اِتنا وزنی بناتا ہے: پہچان اُس کے پاس آئی جس کے ہاتھ خون میں رنگے تھے۔ اُس کے جملے میں فتح کا شور نہیں، ایک قسم کا سناٹا ہے، جیسے کوئی آدمی اپنی زندگی کے سب سے واقف منظر کو پہلی بار غیرمانوس نظروں سے دیکھ رہا ہو۔ مرقس ہمیں نہیں بتاتا کہ آگے اُس کا کیا ہوا۔ کہانی وہیں چھوڑ دی گئی ہے، شاید اِس لیے کہ ہم اُس کی جگہ کھڑے ہو سکیں۔
پس منظر
جمعہ کی دوپہر، تین بجے کے قریب، یروشلم کے باہر گلگتا نامی جگہ پر۔ فسح کا موسم، شہر زائرین سے بھرا ہوا، اور روم کا اصول یہ کہ بغاوت کی ہر بو کو سرِعام کچل دو تاکہ باقی سب دیکھ لیں۔ صلیب سزا سے زیادہ ایک اشتہار تھی۔ صلیب پر لگی تختی ”یہودیوں کا بادشاہ“ اِسی مقصد کے لیے تھی: دیکھو، تمہارے بادشاہوں کا انجام یہ ہے۔ ایک صوبیدار عموماً سو سپاہیوں کا افسر ہوتا تھا، پیشہ ور، سخت جان، مقامی لوگوں سے نفرت کرنے کا عادی۔ اُس کی موجودگی کا مقصد نظم برقرار رکھنا اور موت کی تصدیق کرنا تھا؛ آیت 44 اور 45 میں پیلاطس اُسی سے تصدیق کراتا ہے۔ یعنی وہ آدمی جو موت کا سرکاری گواہ تھا، وہی زندگی کا پہلا گواہ بن گیا۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سی جگہ ہے جہاں آپ ابھی تک خدا سے ”صلیب پر سے اُتر آنے“ کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور اگر وہ نہ اُترے تو کیا آپ پھر بھی اُسے پہچانیں گے؟
افسر نے یسوع کو مرتے دیکھ کر پہچانا۔ آپ کے مرنے کے انداز میں، یعنی روز مرہ کی چھوٹی موتوں میں، آپ کے حق چھوڑنے اور معاف کرنے میں، کون آپ کے مقابل کھڑا دیکھ رہا ہے؟
Mark 15:39 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
مرقس 15:39 کا کیا مطلب ہے؟
مرقس 15:39 کس بارے میں ہے؟
مرقس 15:39 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
مرقس 15:39 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
مرقس 15:39 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Mark 15 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں