مرقس 15
متن
پَو پھٹتے ہی عدالتِ عالیہ فیصلہ کر چکی ہے: عیسیٰ کو باندھ کر رومی گورنر کے حوالے کیا جاتا ہے۔ پیلاطس جانتا ہے کہ الزام حسد کی پیداوار ہے، پھر بھی ”ہجوم کو مطمئن کرنے کی خاطر“ برابا کو چھوڑ دیتا ہے اور عیسیٰ کو کوڑوں کے بعد صلیب کے لئے سونپ دیتا ہے۔ فوجی اُسے ارغوانی لباس اور کانٹوں کا تاج پہنا کر بادشاہ ہونے کا مذاق اُڑاتے ہیں، شمعون کو زبردستی صلیب اُٹھوائی جاتی ہے، اور گلگتا پر نو بجے صبح اُسے دو ڈاکوؤں کے درمیان مصلوب کیا جاتا ہے۔ دوپہر کو تین گھنٹے اندھیرا چھا جاتا ہے، عیسیٰ ”ایلی، ایلی، لما شبقتنی؟“ پکار کر دم چھوڑ دیتا ہے، بیت المُقدّس کا پردہ پھٹ جاتا ہے، ایک رومی افسر اُسے اللہ کا فرزند مانتا ہے، عورتیں فاصلے سے دیکھتی ہیں، اور یوسف ہمت کر کے لاش مانگ کر اُسے قبر میں رکھ دیتا ہے۔
اصل مرکز
مرقس اِس باب میں ایک ہی سوال بار بار دہراتا ہے: بادشاہ کون ہے اور بادشاہی کیسی دکھتی ہے؟ لفظ ”بادشاہ“ یہاں چھ بار آتا ہے، ہر بار طنز کے طور پر، اور ہر بار سچ کے طور پر۔ تختی پر لکھا الزام دراصل اعلان ہے۔ یہی اِس متن کی اخلاقی دھار ہے: خدا کی حکومت اُس شخص میں ظاہر ہوتی ہے جو اپنے آپ کو بچانے سے انکار کرتا ہے۔ ”اِس نے اَوروں کو بچایا، لیکن اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا“ مذاق تھا، مگر یہ انجیل کی سب سے صاف تعریف ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے فیصلوں کی کسوٹی بدل جاتی ہے: دفتر میں، پیسے میں، خاندان کے جھگڑوں میں سوال یہ نہیں رہتا کہ میں کیسے محفوظ نکلوں، بلکہ یہ کہ کس کی قیمت مَیں اُٹھانے کو تیار ہوں۔ پیلاطس نے سچائی جانتے ہوئے ہجوم کو خوش کیا؛ یہی ہمارا روزمرہ کا آزمائشی مقام ہے۔
سلسلۂ کلام
فسح کی عید کے موقع پر ایک قیدی رِہا کیا جاتا تھا، اور یہ تفصیل مرقس یونہی نہیں لکھتا۔ برابا قاتل ہے اور آزاد ہو جاتا ہے؛ بےقصور باندھا جاتا ہے اور مرتا ہے۔ یہ فسح کے برّے کی وہی پرانی منطق ہے: کسی اَور کی جگہ خون بہتا ہے تاکہ گھر بچ جائے۔ صلیب پر آویزاں دو ڈاکوؤں کے درمیان اُس کا مقام یسعیاہ کے اُس خادم کی تصویر مکمل کرتا ہے جسے ”مجرموں میں شمار کیا گیا“۔ اور جب وہ ”ایلی، ایلی، لما شبقتنی؟“ پکارتا ہے تو وہ زبور 22 کی پہلی سطر بولتا ہے، اُس دُعا کی جس میں کپڑوں پر قرعہ اور سر ہلاتے تمسخر کرنے والے پہلے سے موجود ہیں۔ یعنی یہ حادثہ نہیں؛ یہ وہ راستہ ہے جو خدا نے اپنی نجات کے لئے صدیوں پہلے چُنا تھا۔ پردے کا اوپر سے نیچے تک پھٹ جانا اِس کا نتیجہ ہے: رسائی اب کھلی ہے، اور یہ چیرنے والا ہاتھ اوپر سے آیا ہے۔
آئینہ
پیلاطس کا جرم یہ نہیں کہ وہ سچ نہیں جانتا تھا؛ وہ جانتا تھا۔ اُس کا جرم یہ ہے کہ اُس نے ہجوم کے شور کو سچ سے زیادہ وزنی سمجھا۔ ہم اُسے دفتر میں دہراتے ہیں جب کسی ساتھی پر غلط الزام لگتا ہے اور ہم خاموش رہتے ہیں کیونکہ بولنے کی قیمت ترقی ہے۔ ہم اُسے خاندان میں دہراتے ہیں جب رشتہ داروں کی رائے ہمارے ضمیر سے بڑی ہو جاتی ہے۔ ہم اُسے پیسے میں دہراتے ہیں جب کوئی کاغذ ہم اِس لئے دستخط کر دیتے ہیں کہ سب یہی کرتے ہیں۔ اور دوسری طرف یوسف ہے، عدالتِ عالیہ کا نامور ممبر، جو ”ہمت کر کے“ لاش مانگتا ہے، یعنی اپنی عزت داؤ پر لگا دیتا ہے جب سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ آج ہی دس منٹ نکالیں اور اُس شخص کو ایک پیغام بھیجیں جس کے سامنے آپ نے صرف لوگوں کے ڈر سے سچ نہیں کہا تھا، اور جو آپ نہیں کہہ سکے وہ ایک سیدھے جملے میں لکھ دیں۔
مشکل سوال
اِس باب میں عیسیٰ صلیب پر سے صرف ایک بار بولتے ہیں، اور وہ ایک سوال ہے: ”تُو نے مجھے کیوں ترک کر دیا ہے؟“ آسمان جواب نہیں دیتا۔ کوئی آواز نہیں آتی جیسے بپتسمے یا پہاڑ پر آئی تھی؛ صرف تین گھنٹے کا اندھیرا ہے۔ ہم جلدی سے کہہ دیتے ہیں کہ زبور 22 آخر میں فتح پر ختم ہوتا ہے، اور یہ سچ ہے، مگر مرقس نے وہ حصہ نہیں لکھا۔ اُس نے چیخ کو کھلا چھوڑ دیا۔ یہاں کوئی صاف فارمولا نہیں کہ باپ اور بیٹے کے درمیان اُس لمحے کیا ٹوٹا؛ کلام ہمیں اِس بھید کے دروازے پر لا کر کھڑا کر دیتا ہے۔ جو باقی بچتا ہے وہ سستی تسلی نہیں بلکہ یہ حقیقت ہے کہ آپ کی سب سے تاریک، بےجواب دُعا اُس سے پہلے خود خدا کے بیٹے کے منہ سے نکل چکی ہے۔
پہلے سننے والے
مرقس کے پہلے پڑھنے والے صلیب کو کتاب کا موضوع نہیں، شہر کی سڑک کا منظر سمجھتے تھے۔ اُنہوں نے مصلوب لوگ دیکھے تھے: غلام، باغی، ناکام لوگ۔ اُن کے لئے یہ کہنا کہ ہمارا نجات دہندہ اِسی طرح مرا، شرمندگی کی حد تک بےوقوفانہ تھا۔ رومی سلطنت میں ”اللہ کا فرزند“ قیصر کا لقب تھا، اور یہاں یہ اعتراف قیصر کے اپنے افسر کے منہ سے نکلتا ہے، محل میں نہیں بلکہ ایک پھانسی کے تختے کے سامنے، جب اُس نے دیکھا ”کہ وہ کس طرح مرا“۔ ایسے ایمانداروں کے لئے جو خود مقدمے، بہتان اور موت کے خطرے میں تھے، یہ باب حوصلہ نہیں بلکہ نقشہ تھا: تمہارا بادشاہ اِسی راستے سے گیا، تم کسی اجنبی راہ پر نہیں ہو۔
ایک باریک تفصیل
شمعون کے بارے میں لکھا ہے کہ ”فوجیوں نے اُسے صلیب اُٹھانے پر مجبور کیا“۔ یونانی میں یہ اُس سرکاری اختیار کا لفظ ہے جس کے تحت رومی سپاہی کسی بھی راہ گیر کو پکڑ کر بوجھ اُٹھوا سکتا تھا۔ شمعون منصوبہ بنا کر نہیں آیا تھا؛ وہ دیہات سے شہر آ رہا تھا، شاید عید کے لئے، اور اُس کا دن کسی اَور کے خون میں لتھڑ گیا۔ مرقس کی انجیل میں عیسیٰ نے کہا تھا کہ جو میرے پیچھے آنا چاہے وہ اپنی صلیب اُٹھائے (مرقس 8)، اور واحد شخص جو لفظی طور پر صلیب اُٹھاتا ہے وہ ایک باہر کا آدمی ہے جسے زبردستی پکڑا گیا۔ ہماری اطاعت اکثر یونہی شروع ہوتی ہے: کسی بیمار ماں باپ کی ذمہ داری، کوئی رشتہ جو ہم نے نہیں چُنا، کوئی بوجھ جو راستے میں ہمارے کندھے پر رکھ دیا گیا۔ اور اُس کے بیٹوں کے نام کلیسیا جانتی تھی، یعنی مجبوری کا وہ دن اُس گھرانے کے ایمان کا آغاز بن گیا۔
غور و فکر
کس شخص یا گروہ کی منظوری اِس وقت آپ کے فیصلوں پر پیلاطس کے ہجوم جیسا اختیار رکھتی ہے؟
آپ کے کندھے پر اِس وقت کون سا بوجھ زبردستی رکھا گیا ہے، اور اگر وہ آپ کے ایمان کا راستہ نکلا تو آپ اُسے کس نظر سے دیکھیں گے؟
Mark 15 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
مرقس 15 کا کیا مطلب ہے؟
مرقس 15 کس بارے میں ہے؟
مرقس 15 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
مرقس 15 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
مرقس 15 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Mark 15 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں