متی 5:30
متن
پہاڑ کی ڈھلان پر بیٹھے لوگ ابھی چند لمحے پہلے یہ سن چکے ہیں کہ آنکھ بھی دل کو ملزم بنا سکتی ہے۔ اب خداوند یسوع مسیح آنکھ سے ہاتھ کی طرف بڑھتے ہیں، اور اُن کی نظر شاید سامنے بیٹھے کسی مزدور کے کھردرے دہنے ہاتھ پر ٹھہر جاتی ہے، اُسی ہاتھ پر جس سے وہ روٹی توڑتا، ہل چلاتا اور سلام کرتا ہے۔ اور وہ فرماتے ہیں: ”اور اگر تیرا دہنا ہاتھ تجھے گناہ کرنے پر اُکسائے تو اُسے کاٹ کر پھینک دے۔“ پھر وہ ایک سرد سا حساب پیش کرتے ہیں: ”اِس سے پہلے کہ تیرا پورا جسم جہنم میں جائے بہتر یہ ہے کہ تیرا ایک ہی عضو جاتا رہے۔“ ایک عضو کھونا، یا سب کچھ کھونا۔ درمیان کا کوئی راستہ وہ پیش نہیں کرتے۔
بنیادی بات
یہاں مسئلہ ہاتھ نہیں ہے، اور خداوند یہ خوب جانتے ہیں؛ اندھا آدمی بھی ہوس کر سکتا ہے اور کٹے ہاتھ والا بھی لالچ کر سکتا ہے۔ لیکن وہ جان بوجھ کر ایسی تصویر چنتے ہیں جو کلیجے میں اُترتی ہے، کیونکہ ہم گناہ کے بارے میں ہمیشہ نرم زبان استعمال کرتے ہیں: کمزوری، عادت، مزاج۔ مسیح اُس نرمی کو توڑ دیتے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ گناہ کی قیمت اُس نقصان سے کہیں زیادہ ہے جو اُسے چھوڑنے میں اُٹھانی پڑتی ہے۔ اور غور کیجیے: دہنا ہاتھ وہ ہاتھ ہے جو سب سے زیادہ کارآمد ہے، جس کے بغیر زندگی مفلوج لگتی ہے۔ یعنی وہ چیز جسے چھوڑنا واقعی مہنگا پڑے، نہ کہ کوئی سستی قربانی۔ بادشاہی کی راست بازی دل تک جاتی ہے، اور دل کا علاج کبھی بے درد نہیں ہوتا۔
مشترکہ دھاگہ
شریعت میں ہاتھ کاٹنا سزا تھی، مجرم پر عدالت کا فیصلہ۔ یہاں مسیح وہی زبان اُٹھا کر شاگرد کے اپنے ہاتھ میں دے دیتے ہیں: تُو خود اپنے اوپر فیصلہ سنا۔ لیکن پہاڑ سے یروشلم تک کا راستہ یاد رکھیے۔ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک عضو کا جانا پورے جسم کے ہلاک ہونے سے بہتر ہے، وہی آگے چل کر اپنا پورا جسم دے دیتے ہیں، اور اُن کے دہنے ہاتھ میں کیل ٹھونکی جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ سخت حکم انجیل بن جاتا ہے: ہم اپنے اعضا کاٹ کر بھی خود کو نہیں بچا سکتے، مگر وہ اپنے آپ کو کٹوا کر ہمیں بچا سکتے ہیں۔ اِس لیے یہ آیت مایوسی نہیں، بلکہ اُس نجات دہندہ کی طرف دھکیلتی ہے جو خود قیمت ادا کرتے ہیں، اور پھر ہمیں سنجیدگی سے جینے کی طاقت بخشتے ہیں۔
آئینہ
آپ جانتے ہیں کہ آپ کا دہنا ہاتھ کیا ہے۔ وہ ایپ جسے آپ رات کو ”بس تھوڑی دیر“ کہہ کر کھولتے ہیں۔ وہ دوستی جو ہر بار آپ کو ذرا سا نیچے لے جاتی ہے مگر جس کے بغیر آپ کو تنہائی کا خوف ہے۔ وہ کاروباری تعلق جس میں پیسہ ہے اور بددیانتی بھی۔ وہ عادت جسے آپ نے مذاق کا لباس پہنا رکھا ہے۔ ہم عموماً یہ کہتے ہیں: اِسے چھوڑ دوں تو زندگی کیسے چلے گی؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب مسیح دے رہے ہیں: ہاں، اپاہج ہو جاؤ گے، اور پھر بھی زندہ رہو گے۔ آج ہی، اِسی گھنٹے میں، ایک عملی کٹائی کیجیے: وہ ایک ایپ، وہ ایک نمبر، وہ ایک رابطہ اپنے فون سے حذف کر دیجیے جو آپ کو بار بار گرنے کے دروازے تک لے جاتا ہے۔ صرف ایک۔ ابھی۔
سیاق و سباق
منظر گلیل کی پہاڑی ڈھلان ہے، سامنے بھیڑ اور قریب شاگرد۔ سننے والے وہ کسان اور مچھیرے ہیں جن کا جسم ہی اُن کا سرمایہ ہے؛ ہاتھ گیا تو روزی گئی، اور معذور آدمی کی سماجی حیثیت بھی گر جاتی تھی۔ یہ آیت اُس سلسلے کا حصہ ہے جو ”تم نے سنا ہے… لیکن مَیں تم کو بتاتا ہوں“ سے چلتا ہے، اور اِس سے پہلے آیت 28 میں بُری خواہش سے دیکھنے کی بات ہو چکی ہے۔ یعنی ہاتھ کا ذکر خلا میں نہیں، شہوت اور بےوفائی کے تناظر میں ہے، اور اُس کے فوراً بعد طلاق کا حکم آتا ہے۔ مسیح ایک ایسی دنیا میں بول رہے ہیں جہاں مرد آسانی سے طلاق نامہ لکھ کر خود کو بےگناہ سمجھ لیتا تھا۔
سامعین کا خاکہ
فریسیوں کی تربیت میں پلے ہوئے لوگ عادی تھے کہ دین باہر کی چیز ہے: کیا کھایا، کہاں گئے، کس کو چھوا۔ اُن کے کان میں یہ جملہ بم کی طرح گرا ہو گا، کیونکہ اُنہوں نے کبھی کسی ربی سے یہ نہیں سنا تھا کہ نیت اور نگاہ بھی عدالت میں گھسیٹی جائیں گی۔ ساتھ ہی وہ مبالغے کی زبان سے واقف تھے؛ کسی نے اُٹھ کر چھری نہیں ڈھونڈی۔ لیکن وہ یہ ضرور سمجھ گئے کہ یہ استاد سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑ رہا۔ آیت 20 اُن کے کانوں میں گونج رہی تھی: علما اور فریسیوں سے زیادہ راست بازی۔ اُن کے لیے یہ خبر بیک وقت خوفناک اور آزاد کرنے والی تھی: خدا کو ظاہری صفائی سے دھوکا نہیں دیا جا سکتا، مگر وہ دل کو بھی دیکھتے ہیں۔
مرکزی کردار
اِس منظر میں بولنے والا صرف ایک ہے، اور اُس کا لہجہ حیران کن ہے۔ وہی مسیح جو ماتم کرنے والوں کو تسلی کا وعدہ دیتے ہیں، وہی یہاں جہنم کا لفظ دو بار استعمال کرتے ہیں۔ یہ تضاد نہیں، محبت کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ڈاکٹر جو مریض سے پیار کرتا ہے، رسولی کو ”کوئی بات نہیں“ نہیں کہتا۔ مسیح کی سختی اُن کی نرمی کے خلاف نہیں، اُس کا ثبوت ہے: وہ آپ کے آخری انجام کی اِس قدر پروا کرتے ہیں کہ آپ کی سہولت قربان کرنے کو تیار ہیں۔ اور یہ الفاظ کہنے کا اُنہیں پورا حق ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اِس تقریر کے کچھ ہی برس بعد یہی ہاتھ اُن کے لیے پھیلائے جائیں گے اور چھیدے جائیں گے۔
غور و فکر
آپ کا ”دہنا ہاتھ“ کیا ہے، یعنی وہ کون سی چیز ہے جسے چھوڑنا آپ کو واقعی مہنگا پڑے گا، اور آپ اُس کے لیے کون سا نرم نام استعمال کرتے آئے ہیں؟
اگر مسیح کی سختی اُن کی محبت کی صورت ہے، تو آپ کی زندگی میں وہ کون سا شعبہ ہے جہاں آپ خدا سے تسلی تو مانگتے ہیں مگر سرجری سے بھاگتے ہیں؟
Matthew 5:30 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
متی 5:30 کا کیا مطلب ہے؟
متی 5:30 کس بارے میں ہے؟
متی 5:30 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
متی 5:30 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
متی 5:30 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Matthew 5 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
What strikes me most about the Sermon on the Mount is not the content but the listeners. No rabbis, no scribes, just fishermen and beggars and the sick. Jesus gave his deepest teaching to people nobody took seriously. That comforts me whenever I feel too small for the Kingdom again.
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں