بائبل کی تشریح

متی 7:3

بائبل

متن

یسوع ایک ایسی تصویر کھینچتے ہیں جو مضحکہ خیز ہونے کی حد تک شدید ہے: ایک آدمی اپنے بھائی کی آنکھ میں پڑے ہوئے باریک تنکے کو بڑی توجہ سے دیکھ رہا ہے، جھک کر، آنکھیں سکیڑ کر، جیسے کوئی ماہر معائنہ کر رہا ہو۔ مگر اُسی وقت اُس کی اپنی آنکھ میں چھت کا شہتیر اٹکا ہوا ہے۔ ”تُو کیوں غور سے اپنے بھائی کی آنکھ میں پڑے تنکے پر نظر کرتا ہے جبکہ تجھے وہ شہتیر نظر نہیں آتا جو تیری اپنی آنکھ میں ہے؟“ سوال جواب طلب نہیں، بلکہ چوٹ لگانے کے لیے ہے۔ یہ آیت 1 اور 2 کی وضاحت ہے: جو پیمانہ تم دوسروں پر لگاتے ہو، وہی تم پر لگے گا۔

اصل بات

یہ آیت ہمیں دوسروں کی خامیاں پہچاننے سے منع نہیں کرتی؛ آیت 5 صاف کہتی ہے کہ تنکا آخر نکالا بھی جانا ہے۔ جس چیز پر یسوع انگلی رکھتے ہیں وہ گناہ کا ایک خاص طریقہ ہے: نظر کا ایک رخا ہو جانا۔ انسان کی آنکھ باہر کی طرف بہت تیز ہے اور اپنی طرف تقریباً اندھی۔ یونانی فعل جو یہاں ”غور سے نظر کرنا“ کے لیے آیا ہے (بلیپو) مسلسل تاکنے کا مفہوم رکھتا ہے، جیسے کوئی چیز آپ کی توجہ باندھ لے۔ اور یہی اصل مسئلہ ہے: دوسرے کا قصور دیکھتے رہنا ایک لذت ہے، کیونکہ جب تک میری نظر اُس کی آنکھ پر ٹکی ہے، مجھے اپنا شہتیر بھگتنا نہیں پڑتا۔ یسوع یہاں انسان کی خود فریبی کو ننگا کرتے ہیں: ہم تنقید کو روحانی بیداری سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ وہ اکثر اپنے آپ سے فرار ہوتی ہے۔ اور خدا کی بادشاہی میں یہ چل نہیں سکتا، کیونکہ وہاں سب کچھ سچائی اور رحم کے ساتھ کھلتا ہے، پہلے اپنے بارے میں، پھر دوسرے کے بارے میں۔

تانا بانا

پوری بائبل میں صرف ایک شخص ایسا ہے جس کی آنکھ میں کوئی شہتیر نہ تھا۔ یوحنا 8 میں جب لوگ پتھر ہاتھ میں لیے ایک عورت کو گھیرے کھڑے تھے، تو یسوع نے بےگناہ کو پہلا پتھر مارنے کا کہا، اور خود واحد بےگناہ ہونے کے باوجود اُنہوں نے پتھر نہیں اٹھایا۔ یہی وہ حیرت انگیز بات ہے جو اِس آیت کو محض اخلاقی نصیحت سے کہیں آگے لے جاتی ہے۔ جس کے پاس عدالت کا پورا حق تھا، اُس نے سزا دینے کے بجائے لکڑی اٹھائی، اور اُسے اپنے کندھے پر لاد کر گلگتا تک لے گئے۔ شہتیر کی لکڑی اور صلیب کی لکڑی کا یہ جوڑ محض لفظی کھیل نہیں: انجیل کی منطق یہی ہے کہ ہمارا بوجھ اُس نے اٹھایا جس پر کوئی بوجھ نہ تھا۔ اسی لیے وہ واحد ہستی ہے جو کسی کی آنکھ سے تنکا نکال سکتی ہے بغیر آنکھ کو زخمی کیے۔

آئینہ

یہ آیت اُس جگہ ہاتھ رکھتی ہے جہاں ہم سب سے زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں: اپنی درستی کے احساس پر۔ آپ اپنے شوہر یا بیوی کی اُس ایک عادت کو برسوں سے گن رہے ہیں، مگر اپنی سرد خاموشی کو ”صبر“ کہتے ہیں۔ دفتر میں آپ اُس ساتھی کی سستی پر تلملاتے ہیں، مگر اپنی حسد بھری تیزی کو ”معیار“ کا نام دیتے ہیں۔ کلیسیا میں آپ کو فوراً نظر آتا ہے کہ فلاں کی روحانیت کھوکھلی ہے، اور یہی دیکھنا آپ کو اپنی خالی دعا کی زندگی سے بچائے رکھتا ہے۔ تنقید بہت سستا سکون دیتی ہے: جب تک کوئی مجھ سے بدتر ہے، مجھے بدلنے کی ضرورت نہیں۔ یسوع اِس سکون کو توڑ دیتے ہیں۔

آج ہی ایک کاغذ پر اُس ایک شخص کا نام لکھیں جس کی خامی بار بار آپ کے ذہن میں گھومتی ہے، اور نام کے نیچے وہ ایک بات لکھیں جو اُسی معاملے میں آپ کی اپنی آنکھ کا شہتیر ہے؛ پھر کاغذ پھاڑ کر خدا سے معافی مانگیں۔

مرکزی کردار

اِس آیت کا مرکزی کردار وہ ”تُو“ ہے جو جھک کر دوسرے کی آنکھ میں جھانک رہا ہے۔ اُس کا اندرونی منظر دلچسپ ہے: وہ بےحس نہیں، بلکہ بہت باریک بین ہے۔ وہ سچ مچ دیکھتا ہے، اور جو دیکھتا ہے وہ اکثر غلط بھی نہیں ہوتا؛ تنکا واقعی موجود ہے۔ مگر اُس کی باریک بینی ایک خوف پر کھڑی ہے: اگر میں دوسروں کو ناپنا چھوڑ دوں تو میرے پاس اپنی قیمت ناپنے کا کوئی پیمانہ نہیں بچتا۔ اس لیے وہ مسلسل موازنے کے سہارے جیتا ہے۔ آیت 5 میں یسوع اُسے جو نام دیتے ہیں، ”ریاکار“، وہ محض گالی نہیں بلکہ تشخیص ہے: وہ ایک ایسا کردار ادا کر رہا ہے جو وہ ہے نہیں، معالج کا کردار، جبکہ وہ خود مریض ہے۔ اور شفا کا پہلا قدم یہی اقرار ہے۔

پہلے سننے والے

پہاڑ پر بیٹھے گلیل کے دیہاتی لکڑی اور شہتیر کا مطلب خوب جانتے تھے؛ اُن کے چھوٹے مکانوں کی چھتیں انہی بھاری کڑیوں پر ٹکی تھیں، اور بولنے والا خود بڑھئی کے گھر پلا بڑھا تھا۔ وہ ایسے گاؤں میں رہتے تھے جہاں ہر شخص ہر ایک کا حال جانتا تھا اور عزت و بےعزتی کا حساب کھلے عام چلتا تھا۔ اُن کے سامنے ایسے مذہبی رہنما بھی تھے جن کا پیشہ ہی لوگوں کو ناپنا اور درجہ دینا تھا۔ اِس پس منظر میں یسوع کی بات دھماکے کی طرح لگی ہوگی، خاص کر اِس لیے کہ وہ خود ”اختیار کے ساتھ سکھاتا تھا“ (آیت 29)۔ جس کے پاس اصل اختیار تھا، وہی اُن کے ہاتھ سے ناپنے کا پیمانہ چھین رہا تھا۔

مشکل سوال

اگر عدالت منع ہے، تو اُسی باب میں یسوع کیوں کہتے ہیں کہ جھوٹے نبیوں سے خبردار رہو اور اُنہیں اُن کے پھل سے پہچانو؟ کیونکہ پرکھنا اور حقارت سے تولنا ایک چیز نہیں۔ مگر اصل مشکل اِس سے گہری ہے: میں اپنا شہتیر دیکھوں کیسے؟ خود فریبی کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ نظر نہیں آتی۔ یہ آیت خاموش ہے کہ آنکھ خود اپنے اندر کیسے جھانکے۔ شاید اسی لیے کہ جواب ہمارے اندر ہے ہی نہیں: ہمیں کسی اَور کی نظر چاہیے، ایسے بھائیوں کی جو سچ بولنے کی ہمت رکھتے ہوں، اور اُس خداوند کی روشنی جو پطرس کو صرف ایک نگاہ سے اندر تک دکھا گئی۔ تسلی یہ نہیں کہ ہم بالآخر خود کو ٹھیک سے دیکھ لیں گے، بلکہ یہ کہ کوئی ہے جو ہمیں پوری طرح دیکھتا ہے اور پھر بھی ہمیں چھوڑتا نہیں۔

غور و فکر

پچھلے ہفتے آپ نے جس شخص پر سب سے زیادہ سخت رائے قائم کی، کیا آپ اُس کی خامی کے پیچھے اپنا کوئی چھپا ہوا خوف پہچان سکتے ہیں؟

آپ کی زندگی میں کون وہ شخص ہے جسے آپ نے یہ اجازت دے رکھی ہے کہ وہ آپ کو آپ کا شہتیر دکھائے، اور اگر کوئی نہیں، تو یہ خلا خود کیا کہہ رہا ہے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Matthew 7:3 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

متی 7:3 کا کیا مطلب ہے؟
یسوع ایک ایسی تصویر کھینچتے ہیں جو مضحکہ خیز ہونے کی حد تک شدید ہے: ایک آدمی اپنے بھائی کی آنکھ میں پڑے ہوئے باریک تنکے کو بڑی توجہ سے دیکھ رہا ہے، جھک کر، آنکھیں سکیڑ کر، جیسے کوئی ماہر معائنہ کر رہا ہو۔ مگر اُسی وقت اُس کی اپنی آنکھ میں چھت کا شہتیر اٹکا ہوا ہے۔ ”تُو کیوں غور سے اپنے بھائی کی آنکھ میں پڑے تنکے پر نظر کرتا ہے جبکہ تجھے وہ شہتیر نظر نہیں آتا جو تیری اپنی آنکھ میں ہے؟“ سوال جواب طلب نہیں، بلکہ چوٹ لگانے کے لیے ہے۔ یہ آیت 1 اور 2 کی وضاحت ہے: جو پیمانہ تم دوسروں پر لگاتے ہو، وہی تم پر لگے گا۔
متی 7:3 کس بارے میں ہے؟
پوری بائبل میں صرف ایک شخص ایسا ہے جس کی آنکھ میں کوئی شہتیر نہ تھا۔ یوحنا 8 میں جب لوگ پتھر ہاتھ میں لیے ایک عورت کو گھیرے کھڑے تھے، تو یسوع نے بےگناہ کو پہلا پتھر مارنے کا کہا، اور خود واحد بےگناہ ہونے کے باوجود اُنہوں نے پتھر نہیں اٹھایا۔ یہی وہ حیرت انگیز بات ہے جو اِس آیت کو محض اخلاقی نصیحت سے کہیں آگے لے جاتی ہے۔ جس کے پاس عدالت کا پورا حق تھا، اُس نے سزا دینے کے بجائے لکڑی اٹھائی، اور اُسے اپنے کندھے پر لاد کر گلگتا تک لے گئے۔ شہتیر کی لکڑی اور صلیب کی لکڑی کا یہ جوڑ محض لفظی کھیل نہیں: انجیل کی منطق یہی ہے کہ ہمارا بوجھ اُس نے اٹھایا جس پر کوئی بوجھ نہ تھا۔ اسی لیے وہ واحد ہستی ہے جو کسی کی آنکھ سے تنکا نکال سکتی ہے بغیر آنکھ کو زخمی کیے۔
متی 7:3 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
آج ہی ایک کاغذ پر اُس ایک شخص کا نام لکھیں جس کی خامی بار بار آپ کے ذہن میں گھومتی ہے، اور نام کے نیچے وہ ایک بات لکھیں جو اُسی معاملے میں آپ کی اپنی آنکھ کا شہتیر ہے؛ پھر کاغذ پھاڑ کر خدا سے معافی مانگیں۔
متی 7:3 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
پہاڑ پر بیٹھے گلیل کے دیہاتی لکڑی اور شہتیر کا مطلب خوب جانتے تھے؛ اُن کے چھوٹے مکانوں کی چھتیں انہی بھاری کڑیوں پر ٹکی تھیں، اور بولنے والا خود بڑھئی کے گھر پلا بڑھا تھا۔ وہ ایسے گاؤں میں رہتے تھے جہاں ہر شخص ہر ایک کا حال جانتا تھا اور عزت و بےعزتی کا حساب کھلے عام چلتا تھا۔ اُن کے سامنے ایسے مذہبی رہنما بھی تھے جن کا پیشہ ہی لوگوں کو ناپنا اور درجہ دینا تھا۔ اِس پس منظر میں یسوع کی بات دھماکے کی طرح لگی ہوگی، خاص کر اِس لیے کہ وہ خود ”اختیار کے ساتھ سکھاتا تھا“ (آیت 29)۔ جس کے پاس اصل اختیار تھا، وہی اُن کے ہاتھ سے ناپنے کا پیمانہ چھین رہا تھا۔
متی 7:3 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
پچھلے ہفتے آپ نے جس شخص پر سب سے زیادہ سخت رائے قائم کی، کیا آپ اُس کی خامی کے پیچھے اپنا کوئی چھپا ہوا خوف پہچان سکتے ہیں؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Matthew 7 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 13

تنگ دروازے سے داخل ہو، کیونکہ وہ دروازہ جو تباہی کی طرف لے جاتا ہے چوڑا ہے اور اُس کا راستہ کشادہ ہے۔" غور کر، یسوع نے یہ نہیں کہا کہ صحیح راستہ ڈھونڈنا مشکل ہے۔ اُس نے کہا کہ اُس میں سے گزرنا تنگ ہے۔ چوڑے راستے پر تُو اپنا سارا سامان ساتھ لے جا سکتا ہے، اپنی ضد، اپنی عزت، اپنے پرانے حساب۔ تنگ دروازے پر کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔ آج تُو کیا پکڑے بیٹھا ہے؟

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟