ناحوم 1
متن
ناحوم نبی نینوہ کے خلاف رب کا کلام سناتا ہے۔ پہلا باب دو تصویروں کے درمیان جھولتا ہے: ایک طرف وہ خدا جو غیرت مند ہے، جس کے قدموں تلے پہاڑ پگھلتے اور سمندر سوکھ جاتے ہیں؛ دوسری طرف وہی خدا جو مصیبت کے دن مضبوط قلعہ ہے اور اپنے پناہ گزینوں کو جانتا ہے۔ نینوہ کے لیے یہ قبر کی خبر ہے، یہوداہ کے لیے یہ آزادی کی خوش خبری ہے، ایک ہی کلام سے دو بالکل مختلف انجام۔
مرکزی بات
یہ باب اُس تصور کو توڑ دیتا ہے کہ خدا صرف "پیار" ہے اور اُس تصور کو بھی کہ وہ صرف "قہر" ہے۔ آیت 2 اور آیت 7 آمنے سامنے کھڑی ہیں: "رب غیرت مند اور انتقام لینے والا خدا ہے" اور "رب مہربان ہے۔ مصیبت کے دن وہ مضبوط قلعہ ہے۔" یہ تضاد نہیں ہے، یہ ایک ہی شخصیت کے دو رخ ہیں۔ جو خدا ظلم سے نفرت نہیں کرتا وہ محبت کرنے کے قابل نہیں۔ ناحوم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خدا کی مہربانی ریت پر نہیں بنی، وہ اُس کے انصاف کی چٹان پر کھڑی ہے۔ اگر خدا نینوہ کے خون آلود ہاتھوں کو نظرانداز کر دے، تو یہوداہ کے آنسو بھی اُس کی نظر میں کچھ نہیں۔
بڑا سلسلہ
نینوہ اُس سلطنت کی راجدھانی تھی جس نے سامریہ کو مٹایا اور یہوداہ کو خون بہاتے دیکھا۔ جب آیت 15 میں نبی کہتا ہے، "پہاڑوں پر اُس کے قدم چل رہے ہیں جو امن و امان کی خوش خبری سناتا ہے،" تو یہ صرف اسیریا کے زوال کی خبر نہیں۔ یہی جملہ یسعیاہ 52 میں گونجتا ہے، اور پولوس رومیوں 10 میں اسے مسیح کی بشارت پر لاگو کرتا ہے۔ ناحوم کا "امن لانے والا" اُس بڑے امن لانے والے کا سایہ ہے جو صلیب پر شیطان کی سلطنت کو توڑ کر خوش خبری کے قدموں سے پہاڑ عبور کرے گا۔ نینوہ کی قبر خالی صلیب کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
آئینہ
آیت 7 آپ کو دیکھتی ہے: "جو اُس میں پناہ لیتے ہیں اُنہیں وہ جانتا ہے۔" یہ سوال کیجیے، آپ کہاں پناہ لیتے ہیں جب دفتر کی ای میل خطرناک آتی ہے، جب بیوی کی رپورٹ ڈاکٹر سے واپس آئے، جب بینک کا بیلنس مہینے کے آخر تک نہیں پہنچتا؟ ہم قلعہ بناتے ہیں: بچت، ہنر، رشتے، عزت۔ ناحوم پوچھتا ہے، کیا آپ کا قلعہ آندھی میں کھڑا رہے گا؟
اور دوسری طرف نینوہ کا آئینہ بھی ہے۔ کیا آپ کے اندر وہ چھوٹا سا فاتح بیٹھا ہے جو کمزوروں پر رعب جماتا ہے، جو گھر میں یا واٹس ایپ گروپ میں طاقت سے دلیل جیتنا چاہتا ہے؟ رب اُن لوگوں سے بدلہ لیتا ہے جو دوسروں کو کچلتے ہیں، چاہے وہ کچلنا زبان سے ہو یا اختیار سے۔ یہ بات تسلی بھی ہے اور تنبیہ بھی۔ آپ کس طرف کھڑے ہیں؟
پہلے سننے والے
یہوداہ کے لوگ برسوں سے اسیریا کی ایڑی کے نیچے دبے تھے۔ ٹیکس، ذلت، جلاوطنی کی دھمکی، اُن کے بچے دوسری قوموں کے مندروں میں غلام۔ یروشلم کے کچھ لوگ سوچتے ہوں گے کہ رب سو گیا ہے یا اسیریا کے دیوتاؤں سے ہار گیا ہے۔ ناحوم اُن کے کان میں کہتا ہے: "بےشک مَیں نے تجھے پست کر دیا، لیکن آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔" یہ اُس قوم کے لیے تھا جس کی گردن پر جوا رکھا ہوا تھا۔ آیت 13 کا "جوا توڑنا" اور "زنجیریں پھاڑنا" اُن کانوں میں گھر کی چابی کی آواز جیسا تھا۔ اُنہوں نے سنا کہ خدا ہارا نہیں، دیر ضرور کی، لیکن بھولا نہیں۔
باریک بات
آیت 7 کے آخر میں چھوٹا سا فقرہ ہے: "اُنہیں وہ جانتا ہے۔" عبرانی میں "جاننا" صرف معلومات نہیں، یہ گہرا تعلق ہے، جیسے شوہر بیوی کو جانتا ہے۔ ناحوم آندھی، طوفان، پگھلتے پہاڑوں، بھڑکتی آگ کی زبان بولنے کے بعد اچانک اس چھوٹے سے فعل پر رُک جاتا ہے۔ کائنات کا وہ خدا جس کے قدم تلے بادل گرد ہیں، وہ اپنے پناہ گزینوں کو ذاتی طور پر پہچانتا ہے۔ آپ اُس کے لیے نمبر نہیں، فائل نہیں، آبادی کا اعداد و شمار نہیں۔ وہ جانتا ہے۔ یہی ایک لفظ اس پورے باب کی گرمی ہے۔
سوال
پھر بھی ایک سوال باقی رہتا ہے۔ نینوہ وہی شہر ہے جس نے یونس کے زمانے میں توبہ کی تھی اور خدا نے معاف کر دیا تھا۔ اب وہی شہر ناحوم کی نبوت میں مٹا دیا جائے گا۔ کیا معافی ہمیشہ کے لیے نہیں تھی؟ نہیں، معافی اُس نسل کی توبہ کے لیے تھی۔ اگلی نسلوں نے دوبارہ خون بہایا، ظلم کیا، اور رحمت کو کمزوری سمجھا۔ یہ سچائی تلخ ہے: خدا کی مہربانی کو لاپروائی سمجھنا سب سے خطرناک غلطی
Nahum 1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
ناحوم 1 کا کیا مطلب ہے؟
ناحوم 1 کس بارے میں ہے؟
ناحوم 1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
ناحوم 1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
ناحوم 1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Nahum 1 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
شکر ہے کہ آپ ظالم بادشاہوں کے نام مٹا دیتے ہیں اور ان کے مندروں کے تراشے ہوئے بُت نیست کر دیتے ہیں۔ جو طاقتیں ہمیں دبانا چاہتی ہیں، اُن کا انجام آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کے سوا کوئی ہمیشہ قائم نہیں رہتا، اور یہی ہمارے دل کا سکون ہے۔
نینوہ اُس وقت ناقابلِ شکست لگتا تھا۔ اُس کے لشکروں نے قوموں کو روندا تھا، اور یہوداہ کے لوگ سوچتے تھے کہ یہ ظلم کبھی ختم نہیں ہوگا۔ لیکن ناحوم کہتا ہے، ”مصیبت دوسری بار نہیں اُٹھے گی۔“ جو تجھے کچل رہا ہے وہ ہمیشہ نہیں رہے گا۔ خدا کے پاس ہر ظلم کی ایک آخری تاریخ ہے۔ کیا تُو آج اُس پر یہ بھروسا رکھ سکتا ہے؟
رب تحمل سے کام لیتا ہے اور اُس کی قدرت عظیم ہے، لیکن وہ قصوروار کو سزا کے بغیر نہیں چھوڑتا۔ بادل اُس کے پاؤں تلے کی گرد ہیں۔“ ناحوم یہ بات ایک ظالم سلطنت کے سائے میں کہہ رہا تھا۔ خدا کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھو۔ جو طوفان تجھے ڈرا رہا ہے، وہ اُس کے قدموں کی مٹی ہے۔ اُس کا صبر تجھے سنبھالنے کے لیے ہے، اور اُس کا انصاف کبھی دیر سے نہیں آتا۔
وہ سمندر کو ڈانٹتا ہے تو وہ سوکھ جاتا ہے۔“ بسن، کرمل اور لبنان اُس زمانے کی سب سے سرسبز جگہیں تھیں، پر اُن کی ہریالی بھی خدا کے سامنے مرجھا جاتی ہے۔ سوچ، تیری زندگی میں کون سی چیز ہے جو تجھے ہمیشہ ہری بھری لگتی ہے؟ صحت، نوکری، رشتے؟ سب اُس کے ہاتھ میں ہیں۔ اور یہی خوفناک ہاتھ ناحوم 1:7 میں پناہ گاہ بن جاتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
