نحمیاہ 11
متن
قرعہ ڈال کر ہر دسویں خاندان کو یروشلم میں بسنے کے لیے چنا گیا، اور جو اپنی خوشی سے آ بسے اُنہیں لوگوں نے مبارک باد دی۔ پھر باب اُن لوگوں کی فہرست دیتا ہے جو یہوداہ اور بن یمین کے قبائل میں سے، اماموں، لاویوں اور دربانوں سمیت مُقدّس شہر میں آباد ہوئے، اور اُن قصبوں کا ذکر ہے جہاں باقی لوگ اپنی موروثی زمین پر بسے۔
مرکزی نکتہ
یہ باب فہرستوں سے بھرا ہوا ہے، اور پہلی نظر میں خشک لگتا ہے۔ لیکن اِس کی روح ایک ہی جملے میں چھپی ہے: "جتنے لوگ اپنی خوشی سے یروشلم جا بسے اُنہیں دوسروں نے مبارک باد دی۔" یہاں خدا کی قوم کو ایک نئے سرے سے تعمیر ہوتے شہر میں آباد ہونا ہے، اور یہ آبادکاری صرف حکم سے نہیں بلکہ رضامندی سے مکمل ہوتی ہے۔ خدا کا مقصد ایک ایسی جماعت ہے جو اُس کے حضور میں رہنے کو بوجھ نہیں بلکہ اعزاز سمجھے۔ فہرستیں یاد دلاتی ہیں کہ خدا کی نجات مبہم اجتماع نہیں، وہ نام سے پہچانتا ہے۔
مشترکہ دھاگا
یروشلم میں بسنے کے لیے قرعہ ڈالنا اُس قدیم روایت کی یاد دلاتا ہے جب یشوع نے قرعہ ڈال کر قبائل کو زمین بانٹی تھی۔ یعنی یہ محض دوبارہ آبادکاری نہیں، بلکہ ایک دوسری وراثت ہے، ایک نئی تقسیم۔ اور جب ہم اِس دھاگے کو مسیح تک کھینچتے ہیں، تو عبرانیوں 12 کا وہ منظر ابھرتا ہے جہاں مومنین "زندہ خدا کے شہر، آسمانی یروشلم" کے پاس پہنچے ہیں۔ نحمیاہ کا مُقدّس شہر ایک سائے کی طرح آگے اشارہ کرتا ہے: خدا کی قوم ہمیشہ ایک شہر کی طرف بلائی جاتی ہے۔ اور اُس اصلی شہر کے شہری وہ ہیں جن کے نام برّہ کی کتابِ حیات میں لکھے ہیں، جیسا کہ مکاشفہ کی کتاب گواہی دیتی ہے۔
آئینہ
یہاں سوال یہ اُٹھتا ہے کہ آپ خدا کے کام کے کن حصوں میں "قرعہ" سے جاتے ہیں اور کن میں "اپنی خوشی سے"؟ کلیسیا میں خدمت، پڑوسی کی مدد، بچوں کی تربیت، مالی سخاوت، یہ سب کاموں میں مجبوری اور رضامندی کا فرق نمایاں ہوتا ہے۔ یروشلم میں بسنا آسان نہیں تھا؛ دیواریں نئی تھیں، دشمن قریب تھے، معیشت غیر یقینی تھی۔ ایسی جگہ خوشی سے جانا قربانی تھی۔ آپ کی زندگی میں وہ "یروشلم" کہاں ہے، جہاں جانا مہنگا ہے مگر جہاں خدا کی موجودگی زیادہ قریب ہے؟ اور کیا آپ اُن لوگوں کو مبارک باد دیتے ہیں جو ایسی قربانی دیتے ہیں، یا خاموشی سے حسد کرتے ہیں؟
بین المتن
آیت 2 کی رضامندی سیدھی خروج 35 سے گونجتی ہے، جہاں لوگ خیمۂ اجتماع کے لیے "دل کی خوشی سے" ہدیے لاتے تھے۔ خدا ہمیشہ ایسی قوم چاہتا ہے جو دباؤ سے نہیں، محبت سے دے۔ پھر آیت 1 میں "مُقدّس شہر" کی اصطلاح یسعیاہ 52 سے مستعار ہے، جہاں یروشلم کو کہا گیا "اے مُقدّس شہر، اپنے شاندار کپڑے پہن لے۔" نحمیاہ کے دن میں یہ پیشین گوئی ایک محدود پیمانے پر پوری ہو رہی ہے۔ اور فہرستوں کا خدا وہی ہے جو لوقا 10 میں شاگردوں سے کہتا ہے، "خوش ہو کہ تمہارے نام آسمان پر لکھے ہیں۔" ناموں کی فہرست خدا کی یادداشت کی علامت ہے۔
سیاق و سباق
یہ باب جلاوطنی کے بعد کا منظر ہے، تقریباً 445 قبل مسیح۔ نحمیاہ نے دیوار مکمل کر لی ہے، عزرا نے شریعت پڑھی ہے، قوم نے عہد کی تجدید کی ہے۔ لیکن ایک مسئلہ باقی ہے: یروشلم اندر سے خالی ہے۔ دیوار ہے مگر باشندے کم۔ اُس زمانے میں شہر میں بسنا تجارتی طور پر نقصان دہ تھا؛ زیادہ تر لوگ اپنی آبائی زمینوں پر رہنا چاہتے تھے جہاں کھیتی باڑی ممکن تھی۔ شہر میں بسنے کا مطلب تھا سامری، عمّونی اور عرب دشمنوں کے قریب رہنا، اور فارسی حکومت کی نظر میں براہِ راست آنا۔ اِس لیے قرعہ ڈالنا انصاف کا طریقہ تھا، اور خوشی سے آنا اضافی وفاداری کی علامت۔
ایک باریک نکتہ
آیت 17 پر رُکیے: متنیاہ، آسف کی نسل سے، "دعا کرتے وقت حمد و ثنا کی راہنمائی کرتا تھا۔" لفظ چھوٹا ہے مگر اہم۔ دیوار کے بعد، فہرستوں کے درمیان، خدا کے گھر میں ایک آدمی مقرر ہے جس کا کام صرف شکرگزاری کی راہنمائی ہے۔ آسف داؤد کے زمانے کا گلوکار تھا، اور اُس کی نسل صدیوں بعد بھی وہی خدمت کر رہی ہے۔ یعنی جب دیواریں گر گئیں، ہیکل جل گئی، قوم جلاوطن ہوئی، تب بھی خدا نے حمد کی روایت زندہ رکھی۔ ایک قوم کی صحت اِس سے ناپی جاتی ہے کہ آیا اُس کے پاس کوئی ہے جو باقاعدگی سے شکر گزاری کی راہنمائی کرے۔ یہ
Nehemiah 11 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
نحمیاہ 11 کا کیا مطلب ہے؟
نحمیاہ 11 کس بارے میں ہے؟
نحمیاہ 11 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
نحمیاہ 11 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نحمیاہ 11 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Nehemiah 11 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
دروازوں پر پہرہ دینے والے 172 آدمی۔ نہ کوئی کارنامہ لکھا گیا، نہ کوئی تقریر۔ بس یہ کہ "جو دروازوں کی پہرہ داری کرتے تھے۔" مگر خدا نے عقّوب اور طلمون کے نام قلمبند کروا دیے۔ تیری خدمت شاید کسی کو نظر نہ آتی ہو، دن بھر ایک ہی جگہ کھڑے رہنا، وفاداری سے۔ لیکن جو دیوار کے اندر سب کچھ محفوظ ہے، وہ تیرے کھڑے رہنے کی وجہ سے ہے۔ اور آسمان پر تیرا نام لکھا جا چکا ہے۔
یروشلیم میں بسنے والوں کی فہرست میں ایک نام آتا ہے، "عتایاہ بن عزیاہ بن زکریاہ۔" یہوداہ کے قبیلے سے ایک شخص، جس نے مقدس شہر میں رہنا قبول کیا۔ شہر ابھی ویران تھا، دیواریں نئی نئی کھڑی ہوئی تھیں، خطرات باقی تھے۔ آرام دہ گاؤں چھوڑ کر یہاں بسنا آسان نہ تھا۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ خدا نے آپ کا نام بھی کسی ایسی جگہ لکھا ہے جہاں رہنا مشکل ہے؟ شاید وہ گھر، وہ رشتہ، وہ ذمہ داری، جہاں آپ ہیں، وہی آپ کا "یروشلیم" ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
