فِلپّیوں 4
متن
فلپی کی کلیسیا میں خط پڑھا جا رہا ہے، اور اچانک دو نام فضا میں گونجتے ہیں: یوؤدیہ اور سنتخے۔ پولس اُنہیں مصالحت کی دعوت دیتا ہے، پھر پوری جماعت کو خوشی منانے، فکر کے بجائے دعا کرنے، اور جو کچھ سچا اور عمدہ ہے اُس پر ذہن جمانے کی تاکید کرتا ہے۔ آخر میں وہ اُن کے مالی ہدیے کی رسید دیتا ہے اور قید کی کوٹھری سے قیصر کے گھرانے کا سلام بھیجتا ہے۔
مرکزی نکتہ
اِس باب کا دل آیت 7 ہے: "اللہ کی سلامتی جو سمجھ سے باہر ہے آپ کے دلوں اور خیالات کو مسیح عیسیٰ میں محفوظ رکھے گی۔" یہاں جو لفظ "محفوظ رکھے گی" کے لیے استعمال ہوا ہے، یونانی میں وہ فوجی اصطلاح ہے: پہرہ دینا، شہر کی فصیل پر سنتری کھڑا کرنا۔ پولس یہ بات ایک رومی قید میں بیٹھ کر لکھ رہا ہے جہاں اصل سنتری اُس کے دروازے پر کھڑا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ اصل قید خانہ اور اصل حفاظت دونوں کہیں اور ہیں۔ خدا پریشانی کو ہٹا نہیں دیتا؛ وہ دل کے گرد پہرہ بٹھا دیتا ہے۔ یہ سلامتی سمجھ سے باہر ہے، یعنی یہ حالات کے حساب کتاب سے نہیں نکلتی، وہ اِس سے بڑی ہے۔
سلسلۂ کلام
پرانے عہدنامے میں قربانی کی "خوشبو" وہ نشان تھی کہ خدا نے قبول کر لیا۔ پولس فلپیوں کے بھیجے ہوئے پیسوں کو بالکل یہی نام دیتا ہے: "یہ خوشبودار اور قابلِ قبول قربانی اللہ کو پسندیدہ ہے۔" ایک تھیلی سکّے، جو ایپَفرُدِتس سینکڑوں میل پیدل اُٹھا کر لایا، مذبح پر رکھی گئی قربانی بن جاتی ہے۔ یہ اتفاق نہیں۔ مسیح نے صلیب پر وہ واحد قربانی چڑھا دی جس کے بعد گناہ کے لیے کوئی اور قربانی درکار نہیں، اور اب اُس کے لوگوں کی سخاوت، محنت اور مصالحت خدا کے حضور خوشبو بن کر اُٹھتی ہے۔ عبادت مندر سے نکل کر ایک دوسرے کی ضرورت پوری کرنے میں منتقل ہو گئی ہے۔
آئینہ
آپ کے چہرے پر بھی کوئی نام ہے۔ کوئی یوؤدیہ، کوئی سنتخے: وہ شخص جس کے ساتھ آپ نے برسوں خدمت کی اور اب واٹس ایپ گروپ میں اُس کے پیغام پر آپ کی انگلی رُک جاتی ہے۔ پولس اِس جھگڑے کو "معمولی بات" کہہ کر نہیں ٹالتا، نہ وہ فیصلہ سناتا ہے کہ کون صحیح تھا۔ وہ صرف ایک ہی چیز مانگتا ہے: "خداوند میں ایک جیسی سوچ رکھیں۔" اور آیت 6 آپ کی راتوں کے اُس حصے کو چھوتی ہے جہاں آپ بجٹ، بچّوں، رپورٹ اور جسم کی تکلیف کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ پولس کہتا ہے: فکر کو دعا میں تبدیل کرو، اور شکرگزاری کے ساتھ۔ شکرگزاری اِس لیے کہ وہی وہ چیز ہے جو ہماری درخواستوں کو مطالبے بننے سے روکتی ہے۔
سامعین کا خاکہ
فلپی ایک رومی کالونی تھا، ریٹائرڈ فوجیوں کا شہر، جہاں لوگ رومی شہریت پر فخر کرتے تھے اور شہنشاہ کو "سلامتی دینے والا" کہا جاتا تھا۔ رومی امن کا نعرہ سب جانتے تھے۔ اب اُنہیں ایک قیدی لکھ رہا ہے کہ اصل سلامتی مسیح عیسیٰ میں دلوں پر پہرہ دیتی ہے۔ آخری سطر میں چھرا اَور گہرا اُترتا ہے: "خاص کر شہنشاہ کے گھرانے کے بھائی اور بہنیں" آپ کو سلام کہتے ہیں۔ یعنی قیصر کے اپنے محل کے غلاموں اور ملازموں میں انجیل پہنچ چکی ہے۔ فلپی کے سننے والوں کے لیے یہ محض ایک سلام نہیں تھا، یہ خبر تھی کہ بادشاہی سلطنت کی جڑوں میں سرایت کر رہی ہے۔
ایک مشکل سوال
آیت 13 دیواروں پر لکھی جاتی ہے: "مسیح میں مَیں سب کچھ کرنے کے قابل ہوں۔" مگر سیاق و سباق اِسے کامیابی کا وعدہ نہیں بننے دیتا۔ اِس سے پہلے کی سطر بھوک، محرومی اور دبائے جانے کی ہے۔ پولس یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ ہر مقصد حاصل کر لے گا؛ وہ کہہ رہا ہے کہ وہ ہر حالت میں زندہ رہ سکتا ہے۔ پھر بھی سوال باقی رہتا ہے: اگر تقویت مسیح دیتا ہے، تو کیوں پولس کہتا ہے کہ اُس نے یہ راز "سیکھ لیا"؟ فضل سیکھنے کی چیز کیسے ہوئی؟ اِس کا آسان جواب نہیں۔ شاید یہی کہ خدا اپنی طاقت ہمیں تجربے کے راستے سے دیتا ہے، اور اُس راستے کے پتھر ہٹائے نہیں جاتے۔ راز کوئی فارمولا نہیں؛ وہ ایک لمبی رفاقت کا حاصل ہے۔
مرکزی کردار
پولس اِس باب میں عجیب طور پر نازک نظر آتا ہے۔ وہ فلپیوں کو "میری مسرت کا باعث اور میرا تاج" کہتا ہے، جیسے کوئی بوڑھا باپ اپنے بچوں کی طرف دیکھ رہا ہو۔ وہ ہدیے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے بار بار وضاحت کرتا ہے کہ اُسے پیسوں کی حرص نہیں، مگر ساتھ ہی چھپا نہیں پاتا کہ اُن کی فکرمندی نے اُسے کتنی خوشی دی: "اب آخرکار آپ کی میرے لئے فکرمندی دوبارہ جاگ اُٹھی ہے۔" اِس جملے میں ایک ہلکی سی چبھن بھی ہے اور فوراً معافی بھی۔ یہ آدمی مضبوط ہے مگر بےنیاز نہیں۔ اُس کی روحانیت اُسے انسانوں سے بےپروا نہیں بناتی، بلکہ زیادہ محتاج اور زیادہ شکرگزار۔ یہی مسیحی پختگی کی اصل شکل ہے۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سا نام ہے جسے پولس آج کے خط میں لکھ دیتا، اور اُس کی طرف پہلا قدم کیسا دکھائی دے گا؟
پچھلے ہفتے کی آپ کی سب سے بڑی فکر اگر شکرگزاری کے ساتھ کی گئی دعا میں بدل جاتی، تو اُس دعا کے الفاظ کیا ہوتے؟
Philippians 4 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
فِلپّیوں 4 کا کیا مطلب ہے؟
فِلپّیوں 4 کس بارے میں ہے؟
فِلپّیوں 4 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
فِلپّیوں 4 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
فِلپّیوں 4 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Philippians 4 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
پولس یہ الفاظ کسی آرام دہ کمرے سے نہیں بلکہ قید سے لکھتا ہے: ”خداوند میں ہر وقت خوش رہیں۔ ایک بار پھر کہتا ہوں، خوش رہیں۔“ دو بار کہنا اس لیے ضروری تھا کہ پہلی بار سن کر دل یقین نہیں کرتا۔ غور کریں، خوشی حالات میں نہیں، خداوند میں ہے۔ زنجیریں ہاتھ باندھ سکتی ہیں، مگر اُس رشتے کو نہیں جو آپ کی خوشی کا سرچشمہ ہے۔ آج آپ کی زنجیر کون سی ہے؟
پولس یہ بات کسی آرام دہ گھر سے نہیں لکھ رہا تھا بلکہ قید سے۔ اور وہ کہتا ہے، "کسی بھی بات کے بارے میں پریشان نہ ہوں بلکہ ہر حالت میں دعا اور التماس کرتے ہوئے شکرگزاری کے ساتھ اپنی درخواستیں خدا کو پیش کریں۔"
غور کریں، شکرگزاری جواب ملنے کے بعد نہیں بلکہ درخواست کے ساتھ ہی۔ آپ کی فکر خدا کے لیے بوجھ نہیں، مگر کیا آپ اُسے بتاتے ہیں یا صرف رات بھر اکیلے اُسے اُلٹتے پلٹتے رہتے ہیں؟
پولس صرف یہ نہیں کہتا کہ جو تم نے مجھ سے سنا، بلکہ ”جو مجھ میں دیکھا ہے“۔ اُس کی زندگی قیدخانے میں بھی کھلی کتاب تھی۔ اور پھر وہ کہتا ہے: ”اُس پر عمل کریں۔ پھر سلامتی کا خدا آپ کے ساتھ ہو گا۔“ جاننا کافی نہیں، کرنا ضروری ہے۔ آج سوچ لے، کیا کوئی تیری زندگی دیکھ کر مسیح کی راہ سیکھ سکتا ہے؟
خداوند، تیرا شکر ہے کہ تُو نے وعدہ کیا ہے کہ "میرا خدا اپنی جلالی دولت کے موافق مسیح عیسیٰ میں آپ کی ہر ضرورت پوری کرے گا۔" شکر ہے اُس روٹی کا جو آج میری میز پر تھی، اُس کام کا جو تُو نے دیا، اور اُن ہاتھوں کا جنہیں تُو نے میری مدد کے لیے بھیجا۔ تُو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
