فکر چھوڑ کر اللہ کے سکون میں
سکون اور برکت
مختصر غور و فکر جن کے ساتھ خاموشی سے وقت گزاریں، بائبل کے اقتباسات سے لیے گئے فلپیوں 4:6-7, متی 6:34, 2 کرنتھیوں 4:8-9 and گنتی 6:24-26.
☀ صبح کا لمحہ
اپنی کسی بھی فکر میں اُلجھ کر پریشان نہ ہو جائیں بلکہ ہر حالت میں دعا اور التجا کر کے اپنی درخواستیں اللہ کے سامنے پیش کریں۔ دھیان رکھیں کہ آپ یہ شکرگزاری کی روح میں کریں۔ پھر اللہ کی سلامتی جو سمجھ سے باہر ہے آپ کے دلوں اور خیالات کو مسیح عیسیٰ میں محفوظ رکھے گی۔
فلپیوں 4:6-7
آپ کی فکر ایک نامکمل دعا ہے۔
صبح آنکھ کھلنے سے پہلے ہی ذہن فہرست بنانے لگتا ہے: جمعہ ہے، ہفتے کا آخری کام کا دن، وہ کال جو ابھی کرنی ہے، وہ بل، وہ بات جو کسی نے کل کہی تھی۔ ہم اس فہرست کو دل ہی دل میں بار بار دہراتے رہتے ہیں۔ یہ دہرانا ایک طرح کا بولنا ہے، مگر کسی کو مخاطب کیے بغیر۔ شام تک ہم تھک جاتے ہیں اور سمجھ بھی نہیں پاتے کہ کس چیز سے۔
پولس رسول یہ نہیں کہتا کہ فہرست پھینک دو۔ وہ کہتا ہے کہ اسے کسی کے سامنے رکھ دو۔ ”ہر بات میں“، یعنی کوئی بات اتنی چھوٹی نہیں کہ خدا کے لیے غیر اہم ہو، اور کوئی بات اتنی بڑی نہیں کہ اُس کے ہاتھ سے باہر ہو۔
شکرگزاری کا لفظ یہاں اتفاقاً نہیں آیا۔ وہ یاد دلاتی ہے کہ یہ پہلی صبح نہیں جس میں آپ کو مدد کی ضرورت ہے، اور نہ یہ پہلی بار ہے کہ وہ وقت پر پہنچے ہیں۔
اور غور کریں کہ وعدہ کیا ہے۔ خدا یہ نہیں کہتا کہ آج شام تک ہر مسئلہ حل ہو جائے گا۔ وہ کہتا ہے کہ اُس کا اطمینان آپ کے دل اور خیالات کی پہرہ داری کرے گا۔ پہرہ دار دیوار نہیں ہٹاتا، وہ دروازے پر کھڑا رہتا ہے تاکہ اندر کا سکون لُٹ نہ جائے۔
تو آج کی فہرست اٹھائیے اور اُسے دعا میں بدل دیجیے۔ ایک ایک نام، ایک ایک کام۔ اونچی آواز میں نہیں، بس سچائی سے۔ پھر دن میں قدم رکھیے، اکیلے نہیں۔
یہ دن منسوب کریں →✦ دوپہر کا لمحہ
اِس لئے کل کے بارے میں فکر کرتے کرتے پریشان نہ ہو کیونکہ کل کا دن اپنے لئے آپ فکر کر لے گا۔ ہر دن کی اپنی مصیبتیں کافی ہیں۔
متی 6:34
کام کی دنیا میں سب سے قابلِ تعریف خوبی یہی سمجھی جاتی ہے کہ آدمی دو قدم آگے کا سوچ لے۔ کیلنڈر اگلے ہفتے تک بھرا ہوا، ذہن پیر کی میٹنگ میں اُلجھا ہوا، اور جسم یہاں اِسی کرسی پر بیٹھا ہوا۔ مگر جو ذہن مسلسل اگلے ہفتے میں رہتا ہے، وہ آج کہیں موجود ہی نہیں۔
خداوند یسوع منصوبہ بندی کے خلاف نہیں بولتے۔ وہ اُس بوجھ کے خلاف بولتے ہیں جو ابھی آیا ہی نہیں۔ آپ کل کا کام آج نہیں کر سکتے، لیکن کل کی فکر آج بخوبی اُٹھا سکتے ہیں۔ اور یہی وہ وزن ہے جو دوپہر تک آپ کو نچوڑ دیتا ہے۔
غور کیجیے کہ وہ دن کو کیسے ناپتے ہیں۔ ہر دن کے لیے اُسی دن کا دُکھ کافی ہے۔ نہ کم، نہ زیادہ۔ خدا نے آج کی طاقت آج کے حساب سے ناپی ہے، کل کے حساب سے نہیں۔
فکر ایک عجیب قرض ہے۔ سود آپ آج ادا کرتے ہیں، اور جس مصیبت سے ڈر رہے تھے وہ اکثر آتی ہی نہیں۔ اور جو واقعی آتی ہے، اُس کے ساتھ اُس کا فضل بھی آ جاتا ہے۔
تو اِس آدھے کھلے ای میل کے سامنے ایک سوال: آج کے باقی گھنٹوں میں اصل میں کیا کرنا ہے؟ بس وہی کیجیے۔ باقی سب اپنے وقت پر آئے گا، اور آپ کے پہنچنے سے پہلے خدا وہاں موجود ہوں گے۔
جمعہ کی دوپہر ہے۔ ایک گہرا سانس لیجیے۔ آج کا دن آج کے لیے کافی ہے۔
یہ دن منسوب کریں →◐ دوپہر کا لمحہ
we are pressed on every side, yet not crushed; perplexed, yet not to despair; pursued, yet not forsaken; struck down, yet not destroyed;
2 کرنتھیوں 4:8-9
چراغ کے تیل کی بو، قلم کی کھرچن، اور اُس ہاتھ پر ایک پرانا نشان جو کوڑوں نے چھوڑا تھا۔ پولس بولتا جا رہا ہے اور لکھنے والا لکھتا جا رہا ہے۔ آواز میں تھکن ہے، مگر ہار نہیں۔
غور کریں کہ وہ کیا نہیں کہتا۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ دباؤ ختم ہو گیا، کہ اُلجھن سلجھ گئی، کہ پیچھا کرنے والے تھک کر بیٹھ گئے۔ وہ ہر بار وہی سچ دہراتا ہے: دباؤ ہے، مگر کچلا نہیں گیا۔ گویا خدا نے حالات نہیں بدلے، صرف ایک حد کھینچ دی ہے جس سے آگے حالات نہیں بڑھ سکتے۔
جمعہ کی دوپہر ہے۔ ہفتہ ختم ہونے کو ہے اور فہرست ادھوری ہے۔ جسم کہتا ہے بس، اور کام کہتا ہے ابھی نہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں یہ آیت آ کر بیٹھتی ہے، کسی آسان تسلی کے ساتھ نہیں، بلکہ ایک سخت وعدے کے ساتھ۔
اور پھر سوال رہ جاتا ہے: خدا وہ بوجھ اُٹھا کر پرے کیوں نہیں رکھ دیتا، جب وہ ایسا کر سکتا ہے؟ اِس کا جواب پولس یہاں نہیں دیتا۔ آج ہم بھی اُسے کھلا چھوڑ دیں۔
بس اُن چار لفظوں کو تھامے رہیں: کچلا نہیں، مایوس نہیں، چھوڑا نہیں، ہلاک نہیں۔ یہ آپ کی مضبوطی کی گواہی نہیں، اُس کی وفاداری کی گواہی ہے۔
یہ دن منسوب کریں →☾ شام کا لمحہ
’رب تجھے برکت دے اور تیری حفاظت کرے۔ رب اپنے چہرے کا مہربان نور تجھ پر چمکائے اور تجھ پر رحم کرے۔ رب کی نظرِ کرم تجھ پر ہو، اور وہ تجھے سلامتی بخشے۔‘
گنتی 6:24-26
چہرہ۔ ذرا اِس ایک لفظ کو روشنی میں تھام کر دیکھیے۔ برکت میں یہ نہیں کہا گیا کہ خدا کوئی نعمت بھیجے یا دور سے اپنا ہاتھ بڑھائے، بلکہ یہ کہ وہ اپنا چہرہ آپ کی طرف اُٹھائے۔ دن بھر ہم نے بہت چہرے دیکھے، سکرین پر، دفتر میں، بازار میں، مگر اُن میں سے کتنے واقعی ہماری طرف مڑے ہوئے تھے؟
یہ الفاظ ہارون اور اُس کے بیٹوں کو دیے گئے تھے تاکہ وہ خدا کے لوگوں پر بولے جائیں۔ اور یہ لوگ بیابان میں سفر کر رہے تھے، تھکے ہوئے، منزل سے ابھی دور۔ اُن کے کانوں میں سب سے پہلی بات یہ ڈالی گئی: میں تمہاری طرف دیکھ رہا ہوں۔
جمعہ کی شام ہے۔ ہفتے کا کام آپ کے پیچھے ہے، اور غالباً کچھ ادھورا بھی رہ گیا ہے۔ وہ فہرست جو پوری نہ ہو سکی، وہ بات جو کہنی چاہیے تھی مگر نہ کہی گئی، وہ تھکن جو صرف آپ جانتے ہیں۔
مگر یہ برکت کمائی نہیں جاتی۔ آپ کے کارناموں کی بنیاد پر نہیں، اُس کی مہربانی کی بنیاد پر آپ پر بولی جاتی ہے۔ وہ آپ کو دیکھ رہا ہے، آپ کی کارکردگی کو نہیں۔
آج رات تین چیزیں گِن لیجیے جن کے لیے آپ شکرگزار ہیں، خواہ چھوٹی ہوں۔ اور جو ادھورا رہ گیا، اُسے اُسی کے ہاتھ میں چھوڑ دیجیے۔ پھر آرام سے سو جائیے، اُس چہرے کی روشنی میں جو آپ کی طرف مڑا ہوا ہے، اور جو آپ کو سلامتی دیتا ہے۔
یہ دن منسوب کریں →یہ حصے Urdu Geo Version میں پڑھیں
مکمل متن یہیں پڑھنے کے لیے کسی حوالے پر ٹیپ کریں۔
6اپنی کسی بھی فکر میں اُلجھ کر پریشان نہ ہو جائیں بلکہ ہر حالت میں دعا اور التجا کر کے اپنی درخواستیں اللہ کے سامنے پیش کریں۔ دھیان رکھیں کہ آپ یہ شکرگزاری کی روح میں کریں۔
7پھر اللہ کی سلامتی جو سمجھ سے باہر ہے آپ کے دلوں اور خیالات کو مسیح عیسیٰ میں محفوظ رکھے گی۔
34اِس لئے کل کے بارے میں فکر کرتے کرتے پریشان نہ ہو کیونکہ کل کا دن اپنے لئے آپ فکر کر لے گا۔ ہر دن کی اپنی مصیبتیں کافی ہیں۔
24’رب تجھے برکت دے اور تیری حفاظت کرے۔
25رب اپنے چہرے کا مہربان نور تجھ پر چمکائے اور تجھ پر رحم کرے۔
26رب کی نظرِ کرم تجھ پر ہو، اور وہ تجھے سلامتی بخشے۔‘
مزید گہرائی میں جانا چاہتے ہیں؟
ان غور و فکر میں شامل ہر آیت کے لیے آپ سیاق و سباق، پس منظر اور اطلاق کے ساتھ تفصیلی بائبل وضاحت حاصل کر سکتے ہیں۔
گہرائی سے مطالعہ شروع کریں