زبور 133
متن
داؤد کا یہ مختصر زیارت کا گیت ایک ہی سانس میں تین تصویریں کھول دیتا ہے۔ پہلے ایک سادہ مگر گہرا اعلان: ”جب بھائی مل کر اور یگانگت سے رہتے ہیں یہ کتنا اچھا اور پیارا ہے۔“ پھر اچانک ہم مقدِس میں کھڑے ہیں، جہاں ہارون امام کے سر پر نفیس تیل اُنڈیلا جا رہا ہے اور وہ ٹپک ٹپک کر داڑھی سے ہوتا ہوا لباس کے گریبان تک پہنچ رہا ہے۔ اور پھر، بغیر کسی وضاحت کے، ہم کھلے آسمان کے نیچے ہیں: شمال کے برفانی کوہِ حرمون کی اوس صیون کے پہاڑوں پر گر رہی ہے۔ آخری سطر سب کچھ سمیٹ لیتی ہے: ”وہیں ہمیشہ تک برکت اور زندگی ملے گی۔“ تین منظر، ایک ہی حقیقت۔
مرکزی بات
غور کیجیے کہ دونوں تصویروں میں حرکت کی سمت ایک ہی ہے: نیچے کی طرف۔ تیل سر سے داڑھی پر، داڑھی سے گریبان پر۔ اوس بلند پہاڑ سے نیچے کی ڈھلانوں پر۔ زبور نویس یہ نہیں کہتا کہ یگانگت بھائیوں کی کوشش سے اوپر اُٹھتی ہے؛ وہ کہتا ہے کہ یہ اُترتی ہے۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ ہم اتحاد کو عموماً ایک انتظامی مسئلہ سمجھتے ہیں: بہتر مواصلت، کم تنازعہ، زیادہ رواداری۔ مگر یہاں یگانگت مسح کی مانند ہے، یعنی خدا کی اپنی چیز، جو اُس کے حضور سے بہتی ہے اور جس پر گرتی ہے اُسے مخصوص کر دیتی ہے۔ اور پھر وہ آخری لفظ، جو تقریباً حکم کی طرح ہے: رب نے برکت کو ”فرمایا“ ہے۔ برکت یہاں خواہش نہیں، فیصلہ ہے۔ سوال باقی رہتا ہے: کیا ہم اسے پیدا کرتے ہیں، یا صرف اُس جگہ کھڑے ہوتے ہیں جہاں وہ گرتی ہے؟
بڑی کہانی کا دھاگا
ہارون کے سر پر اُنڈیلا جانے والا تیل محض خوشبو نہیں تھا؛ وہ مخصوص کرنے کی رسم تھی، اور جس پر یہ گرتا وہ ”مسیح“ یعنی ممسوح کہلاتا۔ زبور نویس نے شاید سوچا بھی نہ ہو گا کہ وہ کس سمت اشارہ کر رہا ہے، مگر تصویر خود بولتی ہے: تیل سر پر گرتا ہے، اور پھر نیچے، لباس کے کنارے تک، پورے جسم کو ڈھانپتا ہوا۔ نئے عہد نامے میں کلیسیا کو بدن کہا گیا ہے اور مسیح کو اُس کا سر۔ کیا یہ اتفاق ہے کہ جو کچھ سر پر اُنڈیلا جاتا ہے وہ بدن تک پہنچتا ہے؟ یگانگت اِس ترتیب میں کوئی اخلاقی کامیابی نہیں رہتی، وہ ایک وراثت بن جاتی ہے۔ اور اوس؟ وہ شمال سے جنوب تک، فاصلہ عبور کر کے گرتی ہے، جیسے وہ روح جو عیدِ پنتکُست کے دن اُن پر اُنڈیلا گیا جو ایک جگہ اکٹھے تھے۔
آئینہ
یہ زبور ہمیں وہاں چھوتا ہے جہاں ہم سب سے زیادہ دکھتے ہیں: رشتوں میں۔ والدین کے انتقال کے بعد زمین یا مکان کی تقسیم پر خاموش ہو جانے والے بھائی۔ کلیسیا کی کمیٹی جہاں سب مؤدب ہیں مگر کوئی کسی پر بھروسا نہیں کرتا۔ وہ واٹس ایپ گروپ جس میں ایک نام کئی مہینوں سے کچھ نہیں لکھتا۔ ہم اپنے آپ سے کہتے ہیں کہ ہم اصول پر کھڑے ہیں، مگر اکثر ہم صرف درست ثابت ہونا چاہتے ہیں۔ یہ زبور ہمیں بے بس نہیں چھوڑتا، مگر وہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم یگانگت بناتے نہیں، ہم اُس کے نیچے کھڑے ہوتے ہیں، جیسے کوئی اوس کے لیے کھلے میں کھڑا ہو۔ سوال یہ ہے: کیا آپ وہاں کھڑے ہونے کو تیار ہیں جہاں بھیگنے کا خطرہ ہے؟ آج اُس ایک شخص کو ایک مختصر پیغام بھیجیں جس کے ساتھ آپ کی خاموشی لمبی ہو چکی ہے؛ کوئی شکایت نہیں، کوئی صفائی نہیں، صرف یہ پوچھیں کہ وہ کیسے ہیں۔
کلامِ مقدّس کی گونج
خروج کی کتاب میں مسح کے تیل کا نسخہ درج ہے، اور ساتھ ہی سخت حکم کہ یہ عام استعمال کے لیے نہیں؛ جو بھی اسے اپنے لیے بنائے وہ قوم سے کاٹ دیا جائے۔ یعنی داؤد یہاں جو تشبیہ چنتا ہے وہ مقدّس ترین چیز ہے جو اسرائیل جانتا تھا۔ بھائیوں کا ساتھ رہنا اُس درجے پر رکھا گیا ہے۔ دوسری طرف، یوحنا کی انجیل میں خداوند یسوع اپنی آخری دعا میں باپ سے یہی مانگتے ہیں کہ اُن کے شاگرد ایک ہوں، اور اُس اتحاد کو دنیا کے لیے گواہی قرار دیتے ہیں۔ دونوں جگہ ایک ہی بات: یگانگت نجی سکون کا معاملہ نہیں، وہ ایک عوامی نشان ہے کہ خدا موجود ہے۔ اور دونوں جگہ وہ مانگی جاتی ہے، بنائی نہیں جاتی۔
پس منظر
یہ ”زیارت کا گیت“ ہے، اُن پندرہ زبوروں میں سے ایک جو زائرین عیدوں کے موقع پر یروشلم کی طرف چڑھتے ہوئے گاتے تھے۔ تصور کیجیے: دھول بھرے راستے، قافلے، مختلف قبیلوں کے لوگ جو سال بھر الگ الگ رہتے ہیں اور اب ایک ہی صحن میں ایک ساتھ سوتے ہیں۔ پرانی رنجشیں سفر میں ساتھ چلتی ہیں۔ ”بھائی مل کر رہنا“ محض جذباتی بات نہیں تھی؛ قدیم اسرائیل میں اس کا مطلب اکثر یہ ہوتا تھا کہ وارث باپ کی زمین تقسیم کیے بغیر اکٹھے رہیں، جو عملاً خاصا مشکل تھا۔ اور کوہِ حرمون؟ وہ شمال میں بہت دور ہے، صیون سے تقریباً دو سو کلومیٹر۔ اُس کی اوس صیون پر گر ہی نہیں سکتی۔ یہ جغرافیائی غلطی نہیں، یہ شاعری ہے: پورا ملک، شمال سے جنوب تک، ایک ہی نمی میں بھیگا ہوا۔
مرکزی کردار
زبور کا بیشتر حصہ بھائیوں کے بارے میں ہے، مگر آخری سطر پردہ اُٹھا دیتی ہے: ”کیونکہ رب نے فرمایا ہے۔“ وہی اصل کردار ہیں، اور وہ پورے گیت میں خاموش رہے ہیں، جیسے اوس خاموشی سے گرتی ہے۔ یہاں خدا فیاضی کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں، حساب کے ساتھ نہیں: اتنا تیل کہ وہ ٹپکتا ہے، بہتا ہے، گریبان تک پہنچ جاتا ہے۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ ضائع ہو رہا ہے۔ اور اوس بھی مانگی نہیں جاتی؛ وہ رات کو، جب سب سو رہے ہوتے ہیں، چپکے سے آتی ہے۔ ایسا خدا جو فاصلے عبور کرتا ہے، جو زیادہ دیتا ہے، جو برکت کو ”فرماتا“ ہے۔ کیا ہم اُس کی اِس خاموش سخاوت کو پہچاننا سیکھ سکتے ہیں، یا ہم صرف وہی مانتے ہیں جو ہم خود بناتے ہیں؟
غور و فکر کے سوالات
کون سی یگانگت آپ کی زندگی میں ٹوٹی ہوئی ہے جس کے بارے میں آپ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب یہ ممکن نہیں؟ اگر برکت واقعی اوپر سے اُترتی ہے، تو کیا یہ فیصلہ آپ کا کرنے کا تھا؟
تیل گریبان تک پہنچا اور اوس دو سو کلومیٹر کا فاصلہ عبور کر گئی۔ آپ کی زندگی میں وہ کون سا کنارہ ہے جہاں تک آپ سمجھتے ہیں کہ خدا کی برکت نہیں پہنچتی؟
Psalms 133 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
زبور 133 کا کیا مطلب ہے؟
زبور 133 کس بارے میں ہے؟
زبور 133 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
زبور 133 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
زبور 133 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Psalms 133 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
