بائبل کی تشریح

زبور 22:1

بائبل
یہ آیت Assembly of Believers Church کی جانب سے منسوب ہے

متن

زبور کا یہ آغاز ایک چیخ ہے، کسی تمہید کے بغیر: ”اے میرے خدا، اے میرے خدا، تُو نے مجھے کیوں ترک کر دیا ہے؟“ دعا کرنے والا خدا کو پکارتا ہے اور اُسی سانس میں شکایت کرتا ہے کہ وہی خدا دُور ہو گیا ہے۔ وہ خاموش نہیں بیٹھا، چیخ رہا ہے، مگر جواب میں صرف خلا ہے: ”میری نجات نظر نہیں آتی۔“ اور اِس سب کے اوپر ایک سرخی لکھی ہے، موسیقی کے راہنما کے لئے، طرز: طلوعِ صبح کی ہرنی۔ یعنی یہ نالہ کسی کونے میں دبا کر نہیں رکھا گیا بلکہ جماعت کے سامنے گایا جانے والا گیت بنا دیا گیا۔ ایک ایسی چیخ جسے عبادت میں شامل کر لیا گیا ہو، یہ خود ایک حیران کن بات ہے۔

مرکزی بات

غور کیجئے کہ یہ آیت دو باتیں ایک ساتھ کہتی ہے جو عام منطق میں اکٹھی نہیں رہ سکتیں۔ ”تُو نے مجھے ترک کر دیا“ اور ”اے میرے خدا“۔ اگر خدا واقعی چھوڑ چکا ہے تو وہ ”میرا“ کیسے رہا؟ اور اگر وہ اب بھی ”میرا“ ہے تو یہ ویرانی کیا ہے؟ عبرانی لفظ عَزَبْتَنِی کا مطلب محض دُوری نہیں بلکہ چھوڑ دینا، بےیارومددگار پھینک دینا ہے۔ کلام اِس تضاد کو حل نہیں کرتا، اُسے کھلا رکھتا ہے۔ اور یہی اُس کی تعلیم ہے: ایمان کی زبان میں شکایت بغاوت نہیں، بلکہ رشتے کا سب سے کچا اور سب سے سچا لہجہ ہے۔ خدا ایسی دعا سے ناراض نہیں ہوتا؛ اُس نے خود اِسے اپنی کتاب میں جگہ دی ہے۔ کیا ہم اپنی عبادت میں اتنی گنجائش رکھتے ہیں؟

مشترکہ دھاگا

یہ چیخ آگے چل کر کسی اور کے ہونٹوں پر آئی۔ صلیب پر لٹکے ہوئے خداوند یسوع مسیح نے اِسی زبور کا پہلا مصرع بلند آواز سے پکارا، اور اُس لمحے یہ قدیم نالہ اپنی آخری گہرائی تک اُتر گیا۔ غور کیجئے کہ اُنہوں نے کوئی نئی دعا ایجاد نہیں کی؛ اُنہوں نے اپنی قوم کی دعا کی کتاب میں سے وہ سطر اُٹھائی جو صدیوں سے دُکھ اُٹھانے والوں کے گلے میں اٹکی ہوئی تھی۔ اور یہی اِس زبور کا دھاگا ہے: یہ محض پیشین گوئی نہیں، یہ ایک راستہ ہے۔ آیت 18 میں کپڑوں پر قرعہ، آیت 16 میں چھدے ہوئے ہاتھ پاؤں، اور پھر آیت 27 میں دنیا کی انتہا تک قوموں کا رجوع۔ تاریکی سے شروع ہو کر یہ گیت کل زمین پر خدا کی بادشاہی تک پہنچتا ہے۔ مگر پہلی آیت میں ابھی یہ سب نظر نہیں آتا۔ وہاں صرف سوال ہے۔

آئینہ

ہم نے دعا کو شائستہ بنا لیا ہے۔ بیمار بچے کے بستر کے پاس، نوکری چھوٹ جانے کے بعد، اُس رشتے کی موت پر جس کے لئے برسوں دعا کی تھی، ہم اکثر وہی جملے دہراتے ہیں جو محفوظ لگتے ہیں: ”تیری مرضی پوری ہو۔“ کہنا غلط نہیں، مگر کبھی کبھی یہ ڈھال ہوتا ہے، اِس خوف کی ڈھال کہ اگر مَیں نے سچ کہہ دیا تو خدا برا مان جائے گا۔ یہ آیت اُس خوف کو توڑتی ہے۔ ”مَیں چیخ رہا ہوں، لیکن میری نجات نظر نہیں آتی“ ایک مومن کی زبان ہے، کسی منکر کی نہیں۔ اور آپ جو دوسروں کی رہنمائی کرتے ہیں، آپ کے گروہ میں کوئی ایسا بیٹھا ہے جو برسوں سے مسکرا کر جھوٹ بول رہا ہے۔

آج ہی تنہائی میں، بلند آواز سے، خدا کے سامنے وہ ایک جملہ کہہ دیجئے جو آپ نے اب تک دعا میں کہنے سے گریز کیا ہے۔ اُسے سنوارئیے نہیں۔

بین المتون

اِس زبور کو ایوب کی کتاب کے پہلو میں رکھ کر پڑھئے۔ ایوب بھی خدا سے لڑتا ہے، خدا ہی سے، اور آخر میں خدا اُس کے دوستوں کے بارے میں فرماتا ہے کہ اُنہوں نے ٹھیک بات نہیں کی، جبکہ شکایت کرنے والا ایوب درست ٹھہرا۔ مذہبی طور پر صاف ستھرے جواب خدا کو پسند نہیں آئے؛ کھردرا سچ آیا۔ دوسری طرف خود اِسی زبور کی آیت 24 کو دیکھئے: ”نہ اُس نے مصیبت زدہ کا دُکھ حقیر جانا، نہ اُس کی تکلیف سے گھن کھائی۔ اُس نے اپنا منہ اُس سے نہ چھپایا۔“ یہ اُسی شخص کی گواہی ہے جس نے آیت 1 میں ترک کئے جانے کی بات کی تھی۔ دونوں سچ ہیں۔ تجربہ اور حقیقت ایک وقت میں مختلف ہو سکتے ہیں، اور کلام ہمیں دونوں کہنے کی اجازت دیتا ہے۔

مرکزی کردار

اِس آیت میں دو کردار ہیں، اور ایک خاموش ہے۔ دعا کرنے والا بولتا ہے، پکارتا ہے، دہراتا ہے، اور خدا کچھ نہیں کہتا۔ یہ خاموشی اتفاق نہیں؛ آیت 2 اِسے اور کھولتی ہے، دن کو چلّانا، رات کو پکارنا، اور جواب ندارد۔ لیکن غور کیجئے کہ یہ شخص چیخنا بند نہیں کرتا۔ اُس کا ایمان اِس میں نہیں کہ اُسے تسلی ملی، بلکہ اِس میں کہ وہ خاموش خدا سے مخاطب ہے۔ وہ اُس سے منہ موڑ کر کسی اور دیوتا کے پاس نہیں جاتا، نہ ہی لاتعلق ہوتا ہے۔ اور خدا؟ اِس آیت میں وہ غیرحاضر لگتا ہے، مگر اُس نے یہ چیخ اپنی کتاب میں رکھ لی۔ خاموش رہنے والا خدا اور سننے والا خدا ایک ہی ہے۔ ہم یہ سمجھا نہیں سکتے۔ ہم صرف اِس میں ٹھہر سکتے ہیں۔

باریک بات

”کیوں؟“ پر رُکئے۔ یہ لفظ ”کب تک؟“ سے مختلف ہے۔ ”کب تک“ وقت کی شکایت ہے، ”کیوں“ معنی کی تلاش ہے۔ دعا کرنے والا مہلت نہیں مانگ رہا، وہ وجہ مانگ رہا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پورے زبور میں اِس سوال کا جواب کبھی نہیں آتا۔ آیت 21 میں وہ کہتا ہے، ”اے رب، تُو نے میری سنی ہے!“ مگر ”کیوں“ کی وضاحت کہیں نہیں۔ نجات آتی ہے، تشریح نہیں۔ شاید یہی سب سے سخت اور سب سے رحم بھری بات ہے جو یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے: خدا ہمیں اپنے دُکھ کا مطلب سمجھانے کا وعدہ نہیں کرتا، وہ خود کو دینے کا وعدہ کرتا ہے۔ اور کبھی کبھی وہ دیر سے آتا ہے، صبح کی پہلی روشنی کی طرح۔

غوروفکر

آپ نے آخری بار خدا سے کب کچھ ایسا کہا جو آپ کسی انسان کے سامنے کہنے سے شرماتے؟ اور اگر کبھی نہیں، تو کیا چیز آپ کو روکتی ہے؟

اگر خدا آپ کی تکلیف کا ”کیوں“ کبھی نہ بتائے مگر اپنی حضوری دے، تو کیا یہ آپ کے لئے کافی ہوگا؟ ایمانداری سے جواب دیجئے۔

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Psalms 22:1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

زبور 22:1 کا کیا مطلب ہے؟
زبور کا یہ آغاز ایک چیخ ہے، کسی تمہید کے بغیر: ”اے میرے خدا، اے میرے خدا، تُو نے مجھے کیوں ترک کر دیا ہے؟“ دعا کرنے والا خدا کو پکارتا ہے اور اُسی سانس میں شکایت کرتا ہے کہ وہی خدا دُور ہو گیا ہے۔ وہ خاموش نہیں بیٹھا، چیخ رہا ہے، مگر جواب میں صرف خلا ہے: ”میری نجات نظر نہیں آتی۔“ اور اِس سب کے اوپر ایک سرخی لکھی ہے، موسیقی کے راہنما کے لئے، طرز: طلوعِ صبح کی ہرنی۔ یعنی یہ نالہ کسی کونے میں دبا کر نہیں رکھا گیا بلکہ جماعت کے سامنے گایا جانے والا گیت بنا دیا گیا۔ ایک ایسی چیخ جسے عبادت میں شامل کر لیا گیا ہو، یہ خود ایک حیران کن بات ہے۔
زبور 22:1 کس بارے میں ہے؟
یہ چیخ آگے چل کر کسی اور کے ہونٹوں پر آئی۔ صلیب پر لٹکے ہوئے خداوند یسوع مسیح نے اِسی زبور کا پہلا مصرع بلند آواز سے پکارا، اور اُس لمحے یہ قدیم نالہ اپنی آخری گہرائی تک اُتر گیا۔ غور کیجئے کہ اُنہوں نے کوئی نئی دعا ایجاد نہیں کی؛ اُنہوں نے اپنی قوم کی دعا کی کتاب میں سے وہ سطر اُٹھائی جو صدیوں سے دُکھ اُٹھانے والوں کے گلے میں اٹکی ہوئی تھی۔ اور یہی اِس زبور کا دھاگا ہے: یہ محض پیشین گوئی نہیں، یہ ایک راستہ ہے۔ آیت 18 میں کپڑوں پر قرعہ، آیت 16 میں چھدے ہوئے ہاتھ پاؤں، اور پھر آیت 27 میں دنیا کی انتہا تک قوموں کا رجوع۔ تاریکی سے شروع ہو کر یہ گیت کل زمین پر خدا کی بادشاہی تک پہنچتا ہے۔ مگر پہلی آیت میں ابھی یہ سب نظر نہیں آتا۔ وہاں صرف سوال ہے۔
زبور 22:1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
آج ہی تنہائی میں، بلند آواز سے، خدا کے سامنے وہ ایک جملہ کہہ دیجئے جو آپ نے اب تک دعا میں کہنے سے گریز کیا ہے۔ اُسے سنوارئیے نہیں۔
زبور 22:1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اِس آیت میں دو کردار ہیں، اور ایک خاموش ہے۔ دعا کرنے والا بولتا ہے، پکارتا ہے، دہراتا ہے، اور خدا کچھ نہیں کہتا۔ یہ خاموشی اتفاق نہیں؛ آیت 2 اِسے اور کھولتی ہے، دن کو چلّانا، رات کو پکارنا، اور جواب ندارد۔ لیکن غور کیجئے کہ یہ شخص چیخنا بند نہیں کرتا۔ اُس کا ایمان اِس میں نہیں کہ اُسے تسلی ملی، بلکہ اِس میں کہ وہ خاموش خدا سے مخاطب ہے۔ وہ اُس سے منہ موڑ کر کسی اور دیوتا کے پاس نہیں جاتا، نہ ہی لاتعلق ہوتا ہے۔ اور خدا؟ اِس آیت میں وہ غیرحاضر لگتا ہے، مگر اُس نے یہ چیخ اپنی کتاب میں رکھ لی۔ خاموش رہنے والا خدا اور سننے والا خدا ایک ہی ہے۔ ہم یہ سمجھا نہیں سکتے۔ ہم صرف اِس میں ٹھہر سکتے ہیں۔
زبور 22:1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
آپ نے آخری بار خدا سے کب کچھ ایسا کہا جو آپ کسی انسان کے سامنے کہنے سے شرماتے؟ اور اگر کبھی نہیں، تو کیا چیز آپ کو روکتی ہے؟

Psalms 22 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟

اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟