یرمیاہ 2
متن
خداوند یرمیاہ کو یروشلم کے کان میں پکارنے بھیجتا ہے، مگر شکایت سے نہیں بلکہ یاد سے شروع کرتا ہے: ”مجھے تیری جوانی کی وفاداری خوب یاد ہے۔“ اِس یاد کے فوراً بعد سوال آتا ہے کہ ایسی محبت کہاں گئی، اور قوم کے باپ دادا نے خدا میں کون سی ”ناانصافی“ پائی کہ وہ اُس سے دُور ہو گئے۔ باقی باب ایک عدالتی مقدمے کی طرح چلتا ہے: بُتوں کی بےفائدگی، مصر اور اسور پر بھروسا، بےقصور ہونے کا دعویٰ، اور وہ دو جرم جن پر آسمان کو بھی ہکا بکا رہ جانا چاہئے۔
مرکزی بات
یہ باب خدا کی ناراضی کا اعلان ضرور ہے، مگر اُس کا لہجہ کسی منصف کا نہیں، کسی مجروح شوہر کا ہے۔ گناہ یہاں محض قانون کی خلاف ورزی نہیں بلکہ رشتہ توڑنا ہے: ”اُنہوں نے مجھے ترک کیا، گو مَیں زندگی کے پانی کا سرچشمہ ہوں۔“ خدا اپنے آپ کو سرچشمہ کہتا ہے، یعنی وہ جو بہتا رہتا ہے، جسے بھرنا نہیں پڑتا۔ اور انسان؟ انسان کھودتا ہے، محنت کرتا ہے، اپنا حوض بناتا ہے، اور وہ حوض دراڑوں سے خالی ہو جاتا ہے۔ یہاں ٹھہریے۔ متن یہ نہیں کہتا کہ بُت بُرے ہیں کیونکہ وہ ممنوع ہیں؛ وہ کہتا ہے کہ وہ خالی ہیں۔ بےوفائی کی سزا کہیں باہر سے نہیں آتی: ”تیرا غلط کام تجھے سزا دے رہا ہے۔“ پیاس خود ہی عدالت بن جاتی ہے۔
سنہری دھاگا
باب کے شروع میں اسرائیل ”اُس کی فصل کا پہلا پھل“ ہے، مخصوص و مُقدّس، اور آیت 21 میں وہ انگور کی وہ ”مخصوص اور قابلِ اعتماد نسل کی پنیری“ ہے جسے خدا نے خود لگایا اور جو جنگلی بیل بن گئی۔ یہی تصویر یسوع مسیح اُٹھاتے ہیں جب وہ فرماتے ہیں کہ وہ حقیقی انگور کی بیل ہیں: جو کچھ اسرائیل ہو نہ سکا، وہ ایک شخص میں پورا ہوتا ہے، ایسا بیٹا جو باپ کے ساتھ وفادار رہتا ہے۔ اور سرچشمے کی پیاس؟ سامریہ کے کنویں پر ایک عورت سے وہی مسیح زندگی کے پانی کی بات کرتے ہیں۔ یرمیاہ 2 جواب نہیں دیتا کہ داغ کیسے اُترے گا؛ آیت 22 صاف کہتی ہے کہ کھاری سوڈا اور صابن ناکافی ہیں۔ باب سوال کھلا چھوڑتا ہے، اور انجیل اُس کھلے سوال میں داخل ہوتی ہے۔
آئینہ
ہم میں سے کم لوگ لکڑی کے بُت کو ”تُو میرا باپ ہے“ کہتے ہیں، مگر ہم سب کچھ نہ کچھ کھودتے ہیں۔ آپ کی ملازمت کا وہ درجہ جس کے بغیر آپ کو اپنی شناخت نامکمل لگتی ہے۔ وہ بچت کھاتہ جو آپ کے دل کو اطمینان دیتا ہے جو دعا نہیں دے پاتی۔ وہ رشتہ جس سے آپ اُتنی محبت مانگتے ہیں جتنی کوئی انسان دے ہی نہیں سکتا۔ اور مشکل بات یہ ہے: یہ حوض ہم نے محنت سے کھودے ہیں، اِسی لئے اُنہیں چھوڑنا اتنا کٹھن ہے۔ آیت 27 بےرحمی سے سچی ہے، جوں ہی آفت آتی ہے، ہم اُسی خدا سے التجا کرنے لگتے ہیں جس سے ہم نے منہ پھیرا تھا۔ آج ایک کاغذ پر وہ ایک چیز لکھیں جس کی طرف آپ پیاسے ہو کر سب سے پہلے بھاگتے ہیں، اور اُس کاغذ کو ہاتھ میں پکڑ کر اونچی آواز میں خدا سے کہیں: ”یہ میرا دراڑوں والا حوض ہے۔“
پس منظر
یرمیاہ کی خدمت یوسیاہ بادشاہ کے زمانے میں شروع ہوئی، ساتویں صدی قبلِ مسیح کے آخر میں، جب اسور کی طاقت ڈھل رہی تھی اور بابل اُٹھ رہا تھا۔ شمالی سلطنت اسرائیل تباہ ہو چکی تھی؛ یہوداہ باقی تھا اور اپنی بقا کے لئے بڑی طاقتوں سے معاہدے کرتا پھرتا تھا، کبھی اسور کے ساتھ، کبھی مصر کے ساتھ۔ آیت 18 کا طنز اِسی سیاست پر ہے: نیل کا پانی پیو یا فرات کا، پیاس نہیں بجھے گی۔ ساتھ ہی بلندیوں پر اور گھنے درختوں کے سائے میں کنعانی بعل پرستی زندہ تھی، ایک زرخیزی کا مذہب جو فصل اور اولاد کی ضمانت دیتا تھا۔ خدا کو چھوڑنا کوئی فلسفیانہ فیصلہ نہ تھا، بلکہ بقا کی حکمتِ عملی تھی۔
پہلے سننے والے
یروشلم کے شہری خود کو بےوفا نہیں سمجھتے تھے۔ ہیکل کھڑی تھی، قربانیاں جاری تھیں، امام موجود تھے۔ اِسی لئے آیت 35 کا جملہ اُن کے منہ سے بالکل قدرتی لگتا ہے: ”مجھ سے گناہ سرزد نہیں ہوا۔“ جو چیز اُنہیں چبھی ہوگی وہ آیت 8 ہے، جہاں الزام امام، شریعت کے عالم، گلہ بان اور نبی، یعنی پورے مذہبی نظام پر آتا ہے۔ اور آیت 11 کا موازنہ توہین کی حد تک تیز تھا: قبرص اور قیدار کی قومیں اپنے جھوٹے دیوتاؤں کے وفادار رہتی ہیں، مگر یہوداہ نے سچے خدا کو بدل ڈالا۔ سننے والوں نے یہ بھی سنا ہوگا کہ خدا کا مقدمہ صرف ماضی پر نہیں، ”آنے والی نسلوں“ پر بھی چل رہا ہے۔
ایک باریک نکتہ
آیت 12 پر رُکیے: ”اے آسمان، یہ دیکھ کر ہیبت زدہ ہو جا، تیرے رونگٹے کھڑے ہو جائیں، ہکا بکا رہ جا!“ خدا اِنسان سے نہیں، آسمان سے مخاطب ہوتا ہے۔ گویا اُس کے پاس الفاظ کم پڑ گئے ہوں اور وہ کائنات کو گواہ بلا رہا ہو۔ عہد کے قدیم معاہدوں میں آسمان اور زمین کو گواہ ٹھہرایا جاتا تھا، مگر یہاں گواہ صرف سنتا نہیں، کانپتا ہے۔ سوچئے کہ کیا چیز آسمان کو لرزا دیتی ہے: جنگ نہیں، قتل نہیں، بلکہ یہ کہ ایک قوم بہتے چشمے کو چھوڑ کر ٹوٹے حوض کے پاس بیٹھ گئی۔ شاید یہی اِس باب کی سب سے خاموش بات ہے: جسے ہم معمولی سمجھتے ہیں، وہ آسمان کے لئے ناقابلِ فہم ہے۔
غور و فکر کے سوالات
خدا نے اپنی شکایت آپ کی ”جوانی کی وفاداری“ کی یاد سے شروع کی ہے؛ آپ کے ساتھ چلنے کی وہ کون سی ابتدائی محبت ہے جو خدا کو یاد ہے اور آپ بھول چکے ہیں؟
آیت 22 کہتی ہے کہ داغ صابن سے نہیں اُترتا۔ آپ کس چیز سے اپنے آپ کو صاف کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، اور اُسے چھوڑ دینا آپ کو کیوں ڈراتا ہے؟
Jeremiah 2 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یرمیاہ 2 کا کیا مطلب ہے؟
یرمیاہ 2 کس بارے میں ہے؟
یرمیاہ 2 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یرمیاہ 2 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یرمیاہ 2 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Jeremiah 2 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، تیرا شکر کہ تُو نے صاف بتا دیا کہ مصر کا بھروسا رُسوائی ہی لاتا ہے۔ میمفِس اور تحفن ہیس کے باشندوں نے سر مُنڈوایا، مگر تُو نے وقت پر آنکھیں کھول دیں۔ شکر کہ میری عزت تیرے ہاتھ میں ہے اور تیری تنبیہ بھی محبت سے نکلتی ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
