بائبل کی تشریح

رومیوں 12:12

پڑھیں
یہ آیت grace church gujrat کی جانب سے منسوب ہے

متن

تصور کریں: رومہ کے کسی کرائے کے مکان کی تنگ بالائی منزل، دیے کی کانپتی روشنی، اور فیبی کے ہاتھ میں پولس کا طومار۔ کمرے میں بیٹھنے والوں میں کچھ غلام ہیں جن کی پیٹھ پر تازہ نشان ہیں، ایک بیوہ ہے جس کا بیٹا گزشتہ موسمِ سرما میں مر گیا۔ اور اب یہ تین فقرے پڑھے جاتے ہیں: ”اُمید میں خوش، مصیبت میں ثابت قدم اور دعا میں لگے رہیں۔“ نہ کوئی وضاحت، نہ کوئی تسلی بھرا حاشیہ۔ تین مختصر ہدایتیں، ایک ہی سانس میں جوڑی ہوئی: خوشی اُمید میں، جمے رہنا دباؤ میں، اور دعا میں مستقل مزاجی۔ یہی پوری آیت ہے۔ اِتنی چھوٹی کہ حفظ ہو جائے، اِتنی بھاری کہ ساری زندگی اُٹھانی پڑے۔

مرکزی بات

غور کریں کہ پولس یہ نہیں کہتے کہ ”حالات میں خوش رہیں“ بلکہ ”اُمید میں خوش“۔ خوشی کی جڑ موجودہ صورتِ حال میں نہیں، مستقبل میں ہے، اور وہ مستقبل خدا کے ہاتھ میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تین باتیں ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں: اگر خوشی اُمید سے آتی ہے، تو مصیبت اُسے چھین نہیں سکتی، صرف آزما سکتی ہے؛ اور جو آدمی آزمایا جا رہا ہو وہ دعا کے سوا کہاں جائے گا؟ یہاں ایمان کی کوئی رومانی تصویر نہیں بنائی جا رہی۔ باب کے شروع میں پولس نے بدن کو ”زندہ اور مُقدّس قربانی“ کہا تھا؛ یہ آیت بتاتی ہے کہ وہ قربانی روزمرہ میں کیسی دکھتی ہے۔ خدا اپنے لوگوں کو تکلیف سے باہر نہیں نکالتا، بلکہ اُس کے اندر اپنی موجودگی سے تھامے رکھتا ہے۔

سلسلۂ نجات

یہ تین ہدایتیں آسمان سے اچانک نہیں گریں؛ اِن کے پیچھے ایک پوری قوم کی تربیت ہے۔ اسرائیل نے جلاوطنی میں یہی سیکھا تھا: زمین چھن جائے، ہیکل گر جائے، پھر بھی وعدہ باقی رہتا ہے، اور اُس وعدے کے سہارے گانا سیکھنا پڑتا ہے۔ پولس اُسی تربیت کو مسیح کی روشنی میں دہراتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ اب اُمید کا مضمون مبہم نہیں: جی اُٹھا ہوا خداوند خود اِس بات کی ضمانت ہے کہ مصیبت آخری لفظ نہیں۔ اور ثابت قدمی کا نمونہ بھی وہی ہیں، کیونکہ اُنہوں نے دکھ سے راستہ نہیں بدلا بلکہ اُس میں سے گزر کر جلال تک پہنچے۔ اِس لیے یہ آیت محض اخلاقی مشورہ نہیں، بلکہ اُس ایک زندگی کی بازگشت ہے جس نے پہلے یہ تینوں کام ہمارے لیے کیے۔

آئینہ

یہ آیت ہمارے اندر ایک خاص قسم کی چالاکی کو بےنقاب کرتی ہے۔ ہم خوشی کو حالات کے ساتھ باندھ دیتے ہیں: تنخواہ بڑھے، رپورٹ صاف آ جائے، بیٹا راہ پر آ جائے، تو دل ہلکا ہو گا۔ اور جب یہ نہیں ہوتا تو ہم ثابت قدمی کی جگہ بےحسی اختیار کر لیتے ہیں، اور دعا کو خاموشی سے چھوڑ دیتے ہیں، اِس لیے نہیں کہ ہم نے خدا سے انکار کیا بلکہ اِس لیے کہ جواب دیر سے آیا۔ سب سے خطرناک لمحہ وہی ہے: دعا کا ٹھنڈا پڑ جانا۔ پولس اُسی جگہ ہاتھ رکھتے ہیں۔ آج ایک کام کریں: وہ ایک دعا جو آپ نے مانگنی چھوڑ دی تھی، اُسے کاغذ پر ایک جملے میں لکھیں اور بلند آواز سے خدا کے سامنے دہرائیں۔

ایک باریک نکتہ

”لگے رہیں“ کے پیچھے یونانی لفظ ہے پروسکارتیریو، جس کا مطلب ہے کسی چیز سے چمٹے رہنا، وہاں ڈٹ کر بیٹھ جانا جہاں سے جانے کا دل کرے۔ یہی لفظ اگلی آیت میں مہمان نوازی کے لیے بھی آتا ہے، اور یہ اتفاق نہیں۔ دعا اور دروازہ کھولنا، دونوں میں وہی مشقت ہے: بار بار وہی کام، بغیر تالیوں کے، بغیر فوری نتیجے کے۔ پولس کی نظر میں روحانی زندگی جذبے کے دھماکوں سے نہیں بنتی بلکہ ایسی وفاداری سے جو اُکتا جانے کے بعد بھی جاری رہے۔ اُس بالائی کمرے میں بیٹھے غلام کو یہ سمجھ آ گیا ہو گا: اُس کے پاس دینے کے لیے کوئی بڑی چیز نہیں تھی، سوائے اِس کے کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹا نہیں۔

مشکل سوال

لیکن کیا یہ حکم ظالمانہ نہیں؟ اُس بیوہ سے، جس کا بیٹا دفن ہو چکا ہے، ”خوش“ رہنے کا مطالبہ کرنا؟ ایمانداری سے کہوں تو یہ آیت اپنے آپ کو نرم نہیں کرتی۔ ہاں، ایک بات کھلی رہتی ہے: پولس یہ نہیں کہتے کہ غم محسوس نہ کریں۔ چند آیتوں بعد وہ حکم دیتے ہیں کہ رونے والوں کے ساتھ روئیں، یعنی آنسو ممنوع نہیں۔ پھر بھی سوال باقی رہتا ہے کہ خوشی اور غم ایک ہی دل میں کیسے سماتے ہیں۔ یہاں میں وضاحت نہیں کر سکتا، صرف گواہی دے سکتا ہوں کہ ایسے لوگ موجود ہیں جن کی آنکھیں بھیگی تھیں اور آواز میں پھر بھی گیت تھا۔ یہ منطق سے نہیں، رحم سے ہوتا ہے۔

کلام کی گواہی

اِسی خط کے پانچویں باب میں پولس ایک زنجیر بناتے ہیں: مصیبت ثابت قدمی پیدا کرتی ہے، اور ثابت قدمی سے اُمید جنم لیتی ہے۔ یعنی جو ترتیب باب بارہ میں حکم کی صورت آئی ہے، وہاں تجربے کی صورت میں بیان ہوئی ہے؛ پولس ایسی چیز کا حکم نہیں دے رہے جو اُنہوں نے خود نہ چکھی ہو۔ اور دوسری گواہی گتسمنی کے باغ سے آتی ہے۔ وہاں خداوند یسوع مسیح گھٹنوں پر ہیں، پسینہ بہہ رہا ہے، اور وہ ایک ہی درخواست تین بار دہراتے ہیں۔ یہ اُس آیت کی زندہ تصویر ہے: مصیبت میں ٹھہرے رہنا اور دعا سے چمٹے رہنا، اُس وقت بھی جب آسمان خاموش لگے۔ ہماری دعائیں اِسی راستے پر چلتی ہیں جو پہلے سے روندا ہوا ہے۔

غور و فکر کے سوالات

آپ کی خوشی اِس ہفتے کس چیز سے بندھی ہوئی تھی: حالات سے یا اُمید سے؟ فرق کہاں محسوس ہوا؟

کون سی دعا آپ نے خاموشی سے چھوڑ دی ہے، اور اُسے دوبارہ شروع کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Romans 12:12 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

رومیوں 12:12 کا کیا مطلب ہے؟
تصور کریں: رومہ کے کسی کرائے کے مکان کی تنگ بالائی منزل، دیے کی کانپتی روشنی، اور فیبی کے ہاتھ میں پولس کا طومار۔ کمرے میں بیٹھنے والوں میں کچھ غلام ہیں جن کی پیٹھ پر تازہ نشان ہیں، ایک بیوہ ہے جس کا بیٹا گزشتہ موسمِ سرما میں مر گیا۔ اور اب یہ تین فقرے پڑھے جاتے ہیں: ”اُمید میں خوش، مصیبت میں ثابت قدم اور دعا میں لگے رہیں۔“ نہ کوئی وضاحت، نہ کوئی تسلی بھرا حاشیہ۔ تین مختصر ہدایتیں، ایک ہی سانس میں جوڑی ہوئی: خوشی اُمید میں، جمے رہنا دباؤ میں، اور دعا میں مستقل مزاجی۔ یہی پوری آیت ہے۔ اِتنی چھوٹی کہ حفظ ہو جائے، اِتنی بھاری کہ ساری زندگی اُٹھانی پڑے۔
رومیوں 12:12 کس بارے میں ہے؟
یہ تین ہدایتیں آسمان سے اچانک نہیں گریں؛ اِن کے پیچھے ایک پوری قوم کی تربیت ہے۔ اسرائیل نے جلاوطنی میں یہی سیکھا تھا: زمین چھن جائے، ہیکل گر جائے، پھر بھی وعدہ باقی رہتا ہے، اور اُس وعدے کے سہارے گانا سیکھنا پڑتا ہے۔ پولس اُسی تربیت کو مسیح کی روشنی میں دہراتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ اب اُمید کا مضمون مبہم نہیں: جی اُٹھا ہوا خداوند خود اِس بات کی ضمانت ہے کہ مصیبت آخری لفظ نہیں۔ اور ثابت قدمی کا نمونہ بھی وہی ہیں، کیونکہ اُنہوں نے دکھ سے راستہ نہیں بدلا بلکہ اُس میں سے گزر کر جلال تک پہنچے۔ اِس لیے یہ آیت محض اخلاقی مشورہ نہیں، بلکہ اُس ایک زندگی کی بازگشت ہے جس نے پہلے یہ تینوں کام ہمارے لیے کیے۔
رومیوں 12:12 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
”لگے رہیں“ کے پیچھے یونانی لفظ ہے پروسکارتیریو، جس کا مطلب ہے کسی چیز سے چمٹے رہنا، وہاں ڈٹ کر بیٹھ جانا جہاں سے جانے کا دل کرے۔ یہی لفظ اگلی آیت میں مہمان نوازی کے لیے بھی آتا ہے، اور یہ اتفاق نہیں۔ دعا اور دروازہ کھولنا، دونوں میں وہی مشقت ہے: بار بار وہی کام، بغیر تالیوں کے، بغیر فوری نتیجے کے۔ پولس کی نظر میں روحانی زندگی جذبے کے دھماکوں سے نہیں بنتی بلکہ ایسی وفاداری سے جو اُکتا جانے کے بعد بھی جاری رہے۔ اُس بالائی کمرے میں بیٹھے غلام کو یہ سمجھ آ گیا ہو گا: اُس کے پاس دینے کے لیے کوئی بڑی چیز نہیں تھی، سوائے اِس کے کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹا نہیں۔
رومیوں 12:12 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اِسی خط کے پانچویں باب میں پولس ایک زنجیر بناتے ہیں: مصیبت ثابت قدمی پیدا کرتی ہے، اور ثابت قدمی سے اُمید جنم لیتی ہے۔ یعنی جو ترتیب باب بارہ میں حکم کی صورت آئی ہے، وہاں تجربے کی صورت میں بیان ہوئی ہے؛ پولس ایسی چیز کا حکم نہیں دے رہے جو اُنہوں نے خود نہ چکھی ہو۔ اور دوسری گواہی گتسمنی کے باغ سے آتی ہے۔ وہاں خداوند یسوع مسیح گھٹنوں پر ہیں، پسینہ بہہ رہا ہے، اور وہ ایک ہی درخواست تین بار دہراتے ہیں۔ یہ اُس آیت کی زندہ تصویر ہے: مصیبت میں ٹھہرے رہنا اور دعا سے چمٹے رہنا، اُس وقت بھی جب آسمان خاموش لگے۔ ہماری دعائیں اِسی راستے پر چلتی ہیں جو پہلے سے روندا ہوا ہے۔
رومیوں 12:12 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کون سی دعا آپ نے خاموشی سے چھوڑ دی ہے، اور اُسے دوبارہ شروع کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Romans 12 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

شکرگزاری ادارتی کو آیت 9

خداوند، شکر ہے کہ آپ کی محبت میں کبھی ریاکاری نہیں رہی، آپ نے مجھے بےلوث ہو کر گلے لگایا۔ شکریہ کہ آپ مجھے بُرائی سے نفرت کرنا اور نیکی کے ساتھ لپٹے رہنا سکھاتے ہیں، اور دل کی سچائی خود میرے اندر پیدا کرتے ہیں۔

بصیرت ادارتی کو آیت 1

پولس پہلے گیارہ باب اللہ کے رحم بیان کرتا ہے، اور پھر کہتا ہے، "اللہ کے رحم کے پیشِ نظر مَیں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے بدنوں کو اللہ کے لئے مخصوص و مُقدّس اور پسندیدہ قربانی کے طور پر پیش کریں۔" پہلے رحم، پھر قربانی۔ اور غور کریں، وہ دل نہیں بلکہ بدن مانگتا ہے۔ آپ کے ہاتھ، آپ کا وقت، آپ کی تھکاوٹ۔ یہی وہ عبادت ہے جو پیر کی صبح بھی جاری رہتی ہے۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network