نوحہ 1
چھوٹے اور اسکول سے پہلے کے بچے (3 تا 6 سال) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
وضاحت
یروشلم ایک شہر تھا۔ بڑا اور پیارا شہر۔ پہلے وہاں گانے ہوتے تھے۔ لوگ ہنستے تھے۔ بازاروں میں روٹی کی خوشبو آتی تھی۔ شہر کے دروازے کھلے رہتے تھے۔ بچے گلیوں میں دوڑتے تھے۔
لیکن ایک دن سب بدل گیا۔ دشمن آئے۔ بڑے اور ڈراونے۔ انہوں نے دروازے توڑ دیے۔ لوگ بھاگ گئے۔ دور، دور ملکوں میں۔
اب شہر خالی تھا۔ بہت خالی۔ گلیاں سنسان تھیں۔ کوئی عید منانے نہیں آتا تھا۔ جیسے ایک ماں اکیلی بیٹھی ہو۔ اُس کے بچے چلے گئے تھے۔
راتوں کو وہ روتی تھی۔ آہستہ آہستہ۔ اُس کے گال آنسوؤں سے بھیگے رہتے تھے۔ کوئی اُسے گلے نہیں لگاتا تھا۔ کوئی نہیں کہتا تھا، "رو مت۔"
امام آہیں بھرتے تھے۔ کنواریاں غم کھاتی تھیں۔ سب کچھ اداس تھا۔ سب کچھ خالی تھا۔
اس کا مطلب کیا ہے؟
شہر نے کہا، "اے رب، میری طرف دیکھ۔ دیکھ، مجھے کتنا دُکھ ہے۔" یہ اداس دل کی بات تھی۔ لیکن یہ خدا سے کی گئی بات تھی۔
دُکھ میں بھی، شہر خدا کو نہیں بھولا۔ اُس نے کہا، "میری آہیں سن۔ کوئی مجھے تسلی نہیں دیتا۔" جب کوئی تسلی نہیں دیتا، تب بھی خدا کے پاس جانا اچھا ہے۔
بڑی کہانی سے تعلق
خدا نے یروشلم کی بات سنی۔ خدا کبھی اپنا منہ نہیں پھیرتا۔ جب کوئی رو رہا ہو، وہ سنتا ہے۔
بہت بعد میں، خدا نے یسوع کو بھیجا۔ یسوع بھی کبھی رویا۔ یسوع بھی تنہا محسوس کرتا تھا۔ لیکن یسوع نے کہا، "میں تمہارے پاس آؤں گا۔"
خدا اپنے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ کبھی نہیں۔
تمہارے لیے
کبھی تم بھی اداس ہوتے ہو؟ جب کوئی تمہیں تسلی نہ دے؟ جب تمہارا دل بھاری ہو، رونے جیسا ہو؟
تم بھی وہی کر سکتے ہو جو یروشلم نے کیا۔ خدا سے کہو، "خدا، میری طرف دیکھ۔" خدا سنتا ہے۔ ہر بچے کی بات سنتا ہے۔ چاہے آہستہ سے بولو، وہ سنتا ہے۔
بات چیت کریں
یروشلم شہر اکیلا کیوں تھا؟ جب تم اداس ہوتے ہو، تم کیا کہتے ہو؟
آئیں دعا کریں
پیارے خدا، یروشلم بہت دُکھی تھی۔ اُس نے تجھے پکارا۔ جب میں بھی اداس ہوں، میری آواز سن۔ میرے پاس آ جا۔ مجھے مت چھوڑ۔ آمین۔
نوحہ 1 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
نوحہ 1 کس بارے میں ہے؟
نوحہ 1 کیا کہتا ہے؟
نوحہ 1 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
چھوٹے بچے نوحہ 1 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
نوحہ 1 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
یروشلم ملبے میں بیٹھی ہے اور راہ گیروں کو پکارتی ہے: "اے یہاں سے گزرنے والو، کیا تمہیں کوئی پروا نہیں؟" سب سے بڑا زخم تباہی نہیں، بلکہ یہ کہ لوگ دیکھے بغیر گزر جاتے ہیں۔ آج بھی کوئی تمہارے قریب ایسے ہی بیٹھا ہے۔ ذرا رُک کر پوچھو۔ اور اگر تم خود وہ بیٹھنے والے ہو، تو جان لو کہ صلیب پر ایک ایسا تھا جس نے یہی درد سہا، اور وہ تمہیں دیکھے بغیر نہیں گزرتا۔
اُس کے بزرگ ہرنوں کی مانند ہیں جنہیں کہیں بھی چراگاہ نہیں ملتی۔“ جو لوگ قوم کو راہ دکھاتے تھے، اب خود بھوکے اور نڈھال ہو کر بھاگ رہے ہیں۔ شان و شوکت ایک دن میں نہیں گئی، اندر ہی اندر چراگاہ ختم ہوتی گئی اور کسی نے دھیان نہ دیا۔ ذرا سوچ، تیری روح آخری بار کب سیر ہوئی تھی؟ خالی پیٹ دوڑتے رہنا بہادری نہیں، خطرے کی گھنٹی ہے۔
صیون اپنے ہاتھ پھیلائے کھڑی ہے، مگر "کوئی نہیں ہے جو اُسے تسلی دے۔" یہ بھیک مانگنے والے ہاتھ ہیں، بچے کے اُٹھے ہوئے بازو، جو کسی گود کے منتظر ہیں۔ کبھی سوچا ہے کہ ایک اَور نے بھی صلیب پر یونہی ہاتھ پھیلائے تھے، اور اُس وقت اُسے بھی کسی نے تسلی نہ دی؟ تیرے خالی ہاتھ اُس سے اجنبی نہیں۔ وہ اُس جگہ سے گزر چکا ہے۔
ہاں، رب نے کنواری بیٹی یہوداہ کو حوض میں انگور کی طرح کچل دیا ہے۔“ یرمیاہ اپنے درد کو چھپاتا نہیں، اور نہ کسی اور کو الزام دیتا ہے۔ وہ سیدھا خدا سے بات کرتا ہے، اُسی خدا سے جس کا ہاتھ اُسے بھاری لگ رہا ہے۔ کیا تُو بھی اپنی سب سے کڑوی شکایت اُس کے سامنے رکھ سکتا ہے؟ جو دل ٹوٹ کر بھی مخاطب رہتا ہے، وہ ابھی ایمان میں کھڑا ہے۔
ذرا بڑے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس ابتدائی عمر (7 تا 12) اور نوعمروں (12 اور اس سے اوپر) کے لیے بھی خاص نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں