اِستِثنا 14
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
تشریح
استثنا کی کتاب موسیٰ کی آخری تقریریں ہیں۔ اسرائیل چالیس سال بیابان میں رہ چکا ہے اور اب ملکِ کنعان کی سرحد پر خیمہ زن ہے۔ ایک ایسی سرزمین میں داخل ہونے والا ہے جہاں دوسری قومیں دوسرے دیوتاؤں کے لیے جیتی ہیں۔ اور اِس نازک موڑ پر خدا حکم دینے سے پہلے ایک بات یاد دلاتے ہیں: ”تم رب اپنے خدا کے فرزند ہو۔“
پہلی ہدایت ماتم سے متعلق ہے۔ ارد گرد کی قوموں میں رواج تھا کہ کسی کے مرنے پر لوگ اپنے جسم کو کاٹتے، خون بہاتے اور سر کے سامنے والے بال منڈواتے تھے، گویا اپنی بےبسی کو گوشت پر لکھ دیتے تھے۔ خدا فرماتے ہیں: تم ایسا نہ کرو، ”کیونکہ تُو رب اپنے خدا کے لئے مخصوص و مُقدّس قوم ہے۔“
پھر ایک لمبی فہرست آتی ہے: کون سے جانور کھائے جا سکتے ہیں اور کون سے نہیں۔ بَیل، بھیڑبکری، ہرن، غزال، پہاڑی بکری۔ اصول یہ ہے کہ کھُر چِرے ہوئے ہوں اور جانور جگالی کرتا ہو۔ اونٹ، خرگوش اور سؤر منع ہیں کیونکہ وہ دونوں شرطیں پوری نہیں کرتے۔ پانی کے جانوروں میں پَر اور چھلکے لازم ہیں۔ پھر پرندوں کی ایک ایسی فہرست جو پڑھتے ہوئے عجیب لگتی ہے: عقاب، گِدھ، چیل، کوّا، طرح طرح کے اُلّو، لق لق، ہُد ہُد، چمگادڑ۔ زیادہ تر شکاری یا مُردار خور پرندے۔ آخر میں: خود بہ خود مرا ہوا جانور نہ کھانا، اور بکری کے بچے کو اُس کی ماں کے دودھ میں نہ پکانا۔
اِس کے بعد موضوع اچانک بدل جاتا ہے۔ ہر سال پیداوار کا دسواں حصہ خدا کے لیے الگ کرنا ہے اور اُس مقام پر لے جانا ہے جو رب اپنے نام کی سکونت کے لیے چنیں گے۔ اور وہاں؟ وہاں اُسے کھانا ہے۔ اگر راستہ بہت دُور ہو تو اُسے بیچ کر پیسے لے جاؤ اور وہاں ”جو جی چاہے“ خریدو، گائےبَیل، بھیڑبکری، مَے، اور اپنے گھرانے کے ساتھ مل کر خدا کے حضور خوشی مناؤ۔ ساتھ ہی لاویوں کا خیال رکھنا، جن کے حصے میں زمین نہیں آئی۔ اور ہر تیسرے سال یہ دسواں حصہ شہر میں جمع کرنا ہے تاکہ لاوی، پردیسی، یتیم اور بیوائیں کھا کر سیر ہو جائیں۔
اِس کا مطلب کیا ہے؟
ترتیب پر غور کرو۔ خدا یہ نہیں فرماتے: ”یہ سب کرو، پھر تم میرے بچے بن جاؤ گے۔“ وہ فرماتے ہیں: تم میرے فرزند ہو، اِس لیے ایسے جیو۔ پاکیزگی یہاں کوئی امتحان نہیں جس میں پاس ہونا ہے، بلکہ اُس تعلق کا نتیجہ ہے جو پہلے سے موجود ہے۔ یہ ہمارے دور کے اُلٹ ہے، جہاں تمہاری قیمت تمہارے نمبروں، تمہاری شکل اور تمہاری کارکردگی سے ناپی جاتی ہے۔
اور پھر یہ عجیب فہرستیں۔ ایمانداری سے کہوں تو متن خود ہر پابندی کی وجہ نہیں بتاتا۔ سؤر کیوں نہیں؟ چمگادڑ کیوں نہیں؟ خدا سائنسی وضاحت نہیں دیتے۔ لیکن جو بات صاف ہے وہ یہ ہے: اسرائیل کو دن میں تین بار، ہر کھانے پر یاد آتا تھا کہ وہ ایک الگ قوم ہے۔ ایمان مندر تک محدود نہیں تھا، وہ باورچی خانے تک، پلیٹ تک، جسم تک پہنچتا تھا۔ کوئی چیز غیرجانبدار نہیں تھی۔
ماتم کے بارے میں حکم بھی سنگدل نہیں ہے۔ خدا رونے سے منع نہیں فرماتے۔ وہ اُس مایوسی سے منع فرماتے ہیں جو انسان کو خود اپنے خلاف کر دیتی ہے۔ اردگرد کی قومیں مُردوں کے لیے اپنا خون بہاتی تھیں کیونکہ اُن کے پاس اُمید نہ تھی۔ خدا کے فرزندوں کے پاس اُمید ہے، اور اِس لیے اُن کا غم اپنے آپ کو زخمی کرنے پر ختم نہیں ہوتا۔
اور دسواں حصہ؟ یہ حیران کن ہے۔ ہم عام طور پر سوچتے ہیں کہ مذہبی ٹیکس کا مطلب محرومی ہے۔ لیکن یہاں خدا حکم دیتے ہیں کہ دعوت کرو، خوشی مناؤ، مَے خریدو، خاندان کے ساتھ بیٹھ کر کھاؤ۔ اور یہ سب اِس مقصد سے کہ ”تُو عمر بھر رب اپنے خدا کا خوف ماننا سیکھے“۔ خدا کا خوف ماننا خوشی سے سیکھا جاتا ہے، خشک اطاعت سے نہیں۔ اور ہر تیسرے سال یہ خوشی باہر کی طرف مُڑ جاتی ہے: اُن لوگوں کی طرف جن کے پاس زمین نہیں، رشتہ نہیں، تحفظ نہیں۔
بڑی کہانی کا سلسلہ
نئے عہد نامے میں خداوند یسوع مسیح نے صاف فرمایا کہ انسان کو ناپاک وہ نہیں کرتا جو منہ میں جاتا ہے، بلکہ وہ جو دل سے نکلتا ہے۔ اور پطرس کو ایک رویا میں خدا نے سکھایا کہ جسے خدا نے پاک ٹھہرایا ہے اُسے ناپاک نہ کہو۔ یہ اُس دیوار کا ٹوٹنا تھا جو کھانے کے ذریعے اسرائیل کو قوموں سے الگ رکھتی تھی، کیونکہ اب قومیں اندر آنے والی تھیں۔ پاکیزگی پلیٹ سے دل میں منتقل ہو گئی، اور یہ آسان نہیں ہوا، بلکہ زیادہ گہرا ہو گیا۔
لیکن باب کا مرکز باقی ہے: خدا کے حضور بیٹھ کر کھانا اور خوشی منانا۔ مسیح نے ہمیں ایک میز دی ہے جہاں ہم اُس کے حضور کھاتے ہیں۔ اور جو یتیم، بیوہ اور پردیسی اِس باب میں دعوت پاتے ہیں، وہی لوگ ہیں جنہیں یسوع نے سب سے پہلے بلایا۔ خدا کا دل اِس باب سے صلیب تک ایک ہی رہا۔
تمہارے لیے
پہلا سوال یہ نہیں کہ تم کیا کرو، بلکہ یہ کہ تم کون ہو۔ اگر تم خدا کے فرزند ہو، تو اسکرین پر ملنے والی رائے تمہاری شناخت طے نہیں کر سکتی۔
دوسرا: اسرائیل کے پاس پلیٹ تھی، تمہارے پاس فون ہے۔ تم دن میں سو بار کچھ ”کھاتے“ ہو، اپنی آنکھوں سے۔ کیا اُس میں کوئی فرق نظر آتا ہے کہ تم کس کے ہو؟ یہ سوال شرمندہ کرنے کے لیے نہیں، جاگنے کے لیے ہے۔
تیسرا، اور یہ اصل چیلنج ہے: اگلے تین مہینے اپنی آمدنی کا، جیب خرچ کا یا کمائی کا دسواں حصہ الگ رکھو، اور اُسے کسی ایسے شخص پر خرچ کرو جس کے پاس ”زمین نہیں“ ہے: کوئی جو تنہا ہے، نیا ہے، پیچھے رہ گیا ہے۔ اور اِسے فرض کی طرح نہ نپٹاؤ۔ اِس باب کے مطابق دینا ایک دعوت ہے۔ اُس کے ساتھ بیٹھ کر کھاؤ۔
اور اگر تم اِن دنوں غم میں ہو: اپنے آپ کو زخمی نہ کرو۔ خدا کے فرزند بھی روتے ہیں، لیکن وہ اکیلے نہیں روتے۔ کسی سے بات کرو، آج ہی۔
بات کرو اِس پر
کون سی چیز، ایماندارانہ طور پر، تمہاری شناخت زیادہ طے کرتی ہے: یہ کہ تم خدا کے فرزند ہو، یا لوگوں کی رائے؟ اِس کا ثبوت تمہارے ہفتے میں کہاں نظر آتا ہے؟
خدا حکم دیتے ہیں کہ دینا خوشی کے ساتھ ہو۔ تمہارے لیے دینا مشکل کیوں ہے، اور کیا واقعی پیسہ ہی مسئلہ ہے؟
مل کر دعا
اے خدا، آپ نے پہلے ہمیں اپنا کہا، پھر ہم سے کچھ مانگا۔ ہمیں یہ ترتیب بھولنے نہ دیں۔ ہمیں سکھائیں کہ جو ہم دیکھتے، سنتے اور کھاتے ہیں، اُس میں بھی آپ کے ہوں۔ ہمارے غم میں ہمارے پاس رہیں، اور ہمارے ہاتھ اُن کے لیے کھول دیں جن کا حصہ کوئی نہیں۔ ہمیں خوشی کے ساتھ آپ کا خوف ماننا سکھائیں۔ آمین۔
اِستِثنا 14 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
اِستِثنا 14 کس بارے میں ہے؟
اِستِثنا 14 کیا کہتا ہے؟
اِستِثنا 14 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان اِستِثنا 14 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
اِستِثنا 14 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
جن جانوروں کے کُھر یا پاؤں بالکل چِرے ہوئے ہیں اور جو جگالی کرتے ہیں اُنہیں تم کھا سکتے ہو۔“ دو نشانیاں، ایک ساتھ۔ چلنے کا انداز اور کھانے کو بار بار چبانا۔ ایک ظاہری، ایک باطنی۔ کیا تُو بھی کلام کو صرف نگل لیتا ہے، یا دن بھر اُسے دوبارہ دل میں لاتا ہے؟ چال اور گہرائی، خدا دونوں مانگتا ہے۔
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں