واعظ 4
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
تشریح
واعظ کی کتاب لکھنے والا ایک ایسا آدمی ہے جو غور سے دیکھنا جانتا ہے۔ وہ اپنی آنکھیں بند نہیں کرتا۔ باب ۴ کے شروع میں وہ کہتا ہے: ”مَیں نے ایک بار پھر نظر ڈالی تو مجھے وہ تمام ظلم نظر آیا جو سورج تلے ہوتا ہے۔“ اور جو اُس نے دیکھا وہ خوبصورت نہیں تھا۔ مظلوموں کے آنسو بہ رہے ہیں، اور تسلی دینے والا کوئی نہیں۔ وہ یہ بات دو بار لکھتا ہے، جیسے وہ خود بھی یقین نہ کر پا رہا ہو۔
پھر وہ ایسی بات کہتا ہے جو ہمیں چونکا دیتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جو لوگ مر چکے ہیں وہ زندہ لوگوں سے بہتر ہیں، اور اُن سے بھی بہتر وہ ہے جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوا، کیونکہ اُس نے یہ ساری بُرائی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی۔ یہ اُمید کی بات نہیں ہے۔ یہ ایک تھکے ہوئے آدمی کی ایمان دار بات ہے۔ اور خدا نے اِس بات کو اپنی کتاب میں رہنے دیا ہے۔
اِس کے بعد وہ لوگوں کے کام کاج کو دیکھتا ہے۔ اُسے پتا چلتا ہے کہ بہت سے لوگ اِس لیے دن رات محنت کرتے ہیں کہ وہ دوسروں سے حسد کرتے ہیں۔ کوئی نہ کوئی اُن سے آگے ہے، اِس لیے وہ اَور تیز دوڑتے ہیں۔ واعظ اِسے ”ہَوا کو پکڑنے کے برابر“ کہتا ہے۔ ذرا سوچو، تم مٹھی بند کر کے ہَوا پکڑنے کی کوشش کرو۔ ہاتھ کھولو گے تو کچھ بھی نہیں۔
پھر وہ ایک اکیلے آدمی کی کہانی سناتا ہے۔ اُس کا کوئی بیٹا نہیں، کوئی بھائی نہیں۔ وہ کماتا رہتا ہے، کماتا رہتا ہے، مگر اُس کی آنکھیں کبھی مطمئن نہیں ہوتیں۔ ایک دن وہ رُک کر خود سے پوچھتا ہے: ”مَیں اِتنی سرتوڑ کوشش کس کے لئے کر رہا ہوں؟“ اور اُس کے پاس اِس سوال کا جواب نہیں ہے۔
یہاں کتاب کا لہجہ نرم ہو جاتا ہے۔ ”دو ایک سے بہتر ہیں۔“ اگر ایک گر جائے تو دوسرا اُسے اُٹھا لے گا۔ سردی کی رات میں دو مل کر گرم رہتے ہیں۔ ایک آدمی پر قابو پایا جا سکتا ہے، مگر دو مل کر اپنا دفاع کرتے ہیں۔ اور پھر وہ ایک ایسی تصویر دیتا ہے جو یاد رہ جاتی ہے: ”تین لڑیوں والی رسّی جلدی سے نہیں ٹوٹتی۔“
باب کے آخر میں ایک عجیب کہانی ہے۔ ایک غریب مگر دانش مند لڑکا جیل سے نکل کر بادشاہ بن جاتا ہے، اور وہ اُس بوڑھے احمق بادشاہ سے بہتر ہے جو کسی کی نصیحت سننے کو تیار نہیں۔ لوگ بےشمار تعداد میں اُس نئے بادشاہ کے پیچھے ہو لیتے ہیں۔ لیکن واعظ کہتا ہے: جو بعد میں آئیں گے وہ اُس سے بھی خوش نہیں ہوں گے۔ بھیڑ آج تالیاں بجاتی ہے اور کل بھول جاتی ہے۔
اِس کا مطلب کیا ہے؟
یہ باب ہمیں سکھاتا ہے کہ خدا کی کتاب دنیا کو خوبصورت بنا کر پیش نہیں کرتی۔ ظلم واقعی ہوتا ہے۔ تنہائی واقعی تکلیف دیتی ہے۔ حسد واقعی لوگوں کو تھکا دیتا ہے۔ بائبل یہ سب لکھ دیتی ہے، کیونکہ خدا ہمارے ساتھ جھوٹی تسلی نہیں کرتے۔
اور اِسی اندھیرے میں ایک روشنی جلتی ہے: تم اکیلے جینے کے لیے نہیں بنائے گئے۔ خدا نے تمہیں دوسروں کے ساتھ بندھا ہوا بنایا ہے۔ ایک دھاگا آسانی سے ٹوٹ جاتا ہے، تین مل کر بَٹے ہوئے دھاگے نہیں ٹوٹتے۔
سنہری تار
باب کے پہلے حصے میں ایک فقرہ دو بار آتا ہے: ”تسلی دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔“ یہ اِس پورے باب کا سب سے دُکھ بھرا جملہ ہے۔ اور بائبل کی بڑی کہانی میں خدا اِس جملے کا جواب دیتے ہیں۔ خداوند یسوع مسیح آئے، اور وہ ٹھیک اُن لوگوں کے پاس گئے جن کے پاس تسلی دینے والا کوئی نہ تھا۔ وہ خود بھی غریب پیدا ہوئے، بھیڑ نے پہلے اُن کے پیچھے چل کر بعد میں اُنہیں چھوڑ دیا، بالکل جیسے واعظ نے لکھا ہے۔ وہ دانش مند بادشاہ ہیں جو حکومت کرنے کے لیے آئے، مگر اُن کا تخت کوئی اَور تخت ہے۔
خدا کا وعدہ یہ ہے کہ وہ ہمیں چھوڑے نہیں گے۔ جب کوئی گرتا ہے، وہ اُٹھانے والے ہیں۔ رسّی کی تیسری لڑی، سب سے مضبوط لڑی، وہ خود ہیں۔
تمہارے لیے
اگلی بار جماعت میں یا محلے میں ذرا نظر ڈالو، جیسے واعظ نے نظر ڈالی۔ کون اکیلا کھیل رہا ہے؟ کس کے آنسو کوئی نہیں پونچھ رہا؟ تم کسی کے لیے ”دوسرا“ بن سکتے ہو، وہی جو گرے ہوئے کو اُٹھاتا ہے۔
اور اپنے دل سے یہ سوال بھی پوچھو: مَیں کوئی کام کیوں کرتا ہوں؟ کیا صرف اِس لیے کہ کسی سے آگے نکلوں؟ وہ دوڑ ہَوا پکڑنے جیسی ہے۔ جو خدا کے لیے کیا جائے، وہ ہاتھ سے نہیں پھسلتا۔
اور اگر کبھی تم خود اکیلے ہو، تو مانگنا سیکھو۔ مدد مانگنا کمزوری نہیں۔ خدا نے تمہیں دوسروں کی ضرورت کے ساتھ بنایا ہے، اور یہ شرم کی بات نہیں۔
اِس پر بات کیجیے
واعظ کہتا ہے کہ مُردے زندہ لوگوں سے بہتر ہیں۔ تمہیں یہ بات سُن کر کیسا لگتا ہے؟ کیا خدا کی کتاب میں ایسی مایوس بات لکھی ہونی چاہیے؟
تمہاری زندگی میں وہ کون ہے جو تمہیں گرنے پر اُٹھاتا ہے؟ اور تم کس کے لیے ایسا بن سکتے ہو؟
مل کر دعا
اے خداوند، آپ اُس دنیا کو جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں، اُس کے آنسو بھی اور اُس کا ظلم بھی۔ شکر کہ آپ نظریں نہیں پھیرتے۔ ہمیں ایسی آنکھیں دیجیے جو اکیلے لوگوں کو دیکھ سکیں، اور ایسے ہاتھ جو اُٹھانے کے لیے تیار ہوں۔ اور جب ہم خود گریں، تو یاد دلائیے کہ آپ ہمیں تھامے ہوئے ہیں۔ آمین۔
واعظ 4 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
واعظ 4 کس بارے میں ہے؟
واعظ 4 کیا کہتا ہے؟
واعظ 4 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے واعظ 4 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
واعظ 4 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
سلیمان نے ابھی اُس آدمی کا ذکر کیا تھا جو دن رات کماتا رہا مگر کبھی نہ پوچھا، "مَیں کس کے لئے محنت کر رہا ہوں؟" اِسی کے بعد وہ کہتا ہے، "دو ایک سے بہتر ہیں، کیونکہ محنت کرتے وقت اُنہیں اچھا اجر ملتا ہے۔" سوچ، تیری ساری بھاگ دوڑ کس کے لئے ہے؟ اگر کوئی تیرے ساتھ چلنے والا نہیں تو کامیابی بھی تنہائی کا دوسرا نام بن جاتی ہے۔
بےشمار لوگ اُس کے پیچھے چلے، مگر اگلی نسل نے اُسے یاد بھی نہ رکھا۔ "توبھی جو بعد میں آئے وہ اُس سے خوش نہ ہوئے۔ یہ بھی باطل اور ہوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔" تالیاں دیر تک نہیں گونجتیں۔ سوچ کہ تُو کس کی واہ واہ کے لیے جی رہا ہے؟ جو خدا تجھے نام سے جانتا ہے، اُس کی نظر بھیڑ کے چلے جانے کے بعد بھی تجھ پر ٹکی رہتی ہے۔
احمق ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھا رہتا ہے اور یوں اپنا ہی گوشت کھا لیتا ہے۔" سست آدمی کسی اور کو نقصان نہیں پہنچاتا، وہ خود کو اندر ہی اندر کھا جاتا ہے۔ سلیمان دوڑ دھوپ کی بےچینی کو بھی رد کرتا ہے اور بےکاری کو بھی۔ سوال یہ ہے: تُو آج کس چیز سے بھاگ رہا ہے، اور وہ ٹالنا تیرے دل کو کتنا خالی کر رہا ہے؟
قاتب یہ بات اُس آدمی کو دیکھ کر لکھتا ہے جو حسد کی آگ میں دن رات کماتا رہتا ہے اور جس کا کوئی بیٹا، کوئی بھائی نہیں۔ اِسی لیے وہ کہتا ہے، "ایک ہاتھ بھر آرام اِس سے بہتر ہے کہ دونوں ہاتھ محنت مشقت سے بھرے ہوں۔" ذرا سوچ، تیرے دونوں ہاتھ اِس وقت کس چیز سے بھرے ہیں؟ اگر وہ اِتنے بھرے ہوں کہ کسی کا ہاتھ تھام نہ سکیں، تو یہ کمائی نہیں، نقصان ہے۔
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں