یونس 3
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
تشریح
یونس کی کہانی میں یہ تیسرا باب ہے، اور یہاں سے کہانی دوبارہ شروع ہوتی ہے۔ پہلے دو ابواب میں یونس بھاگ چکا ہے، سمندر میں پھینکا جا چکا ہے، اور مچھلی کے پیٹ میں تین دن گزار چکا ہے۔ اب رب دوبارہ اُس سے ہم کلام ہوتا ہے، بالکل وہی الفاظ دہراتا ہے جو باب ایک میں تھے: نینوہ جا اور وہ پیغام سنا جو مَیں دوں گا۔ خدا دوسری بار موقع دیتا ہے، یہ خود ایک بات ہے جس پر رکنا چاہیے۔
اِس دفعہ یونس جاتا ہے۔ نینوہ اُس زمانے کا ایک بہت بڑا شہر تھا، اتنا بڑا کہ اُس میں سے گزرنے میں تین دن لگتے تھے۔ یونس صرف ایک دن چلتا ہے اور ایک ہی جملہ سناتا ہے: چالیس دن کے بعد نینوہ تباہ ہو جائے گا۔ کوئی لمبی تقریر نہیں، کوئی نرمی نہیں، کوئی وضاحت نہیں کہ خدا کتنا رحیم ہے۔ صرف ایک سخت اعلان۔
اور پھر کچھ حیران کن ہوتا ہے۔ پورا شہر ایمان لے آتا ہے۔ روزہ رکھا جاتا ہے، ٹاٹ اوڑھا جاتا ہے، چھوٹے سے بڑے تک۔ بادشاہ خود اپنے تخت سے اُتر آتا ہے، شاہی لباس اُتار کر خاک میں بیٹھ جاتا ہے۔ یہ کوئی رسمی مذہبی عمل نہیں تھا۔ بادشاہ کا فرمان صاف کہتا ہے کہ ہر ایک اپنی بُری راہوں اور ظلم و تشدد سے باز آئے۔ یہ محض افسوس نہیں تھا، یہ سمت کی تبدیلی تھی۔
آخری آیت میں لکھا ہے کہ خدا نے اُن کا رویہ دیکھا، کہ وہ واقعی باز آئے، اور وہ پچھتایا اور وہ آفت نہ لایا۔ یہ لفظ پچھتانا عجیب لگ سکتا ہے، جیسے خدا نے غلطی کی ہو۔ لیکن یہاں اِس کا مطلب ہے کہ خدا کا رویہ اُن کے رویے کے جواب میں بدلا۔ فیصلہ حتمی نہیں تھا بلکہ ایک انتباہ تھا، اور انتباہ کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ سنا جائے۔
اس کا مطلب کیا ہے؟
یہ باب اُن لوگوں کی کہانی ہے جن کے بارے میں یونس کو کوئی امید نہیں تھی۔ نینوہ اسرائیل کا دشمن تھا، ایک ظالم سلطنت کا دارالحکومت۔ یونس یہ پیغام سنانے پر مجبور تھا، خوشی سے نہیں (یہ بات باب چار میں کھل کر سامنے آتی ہے، مگر یہاں بھی اُس کی مختصر اور بے دلی سے دی گئی تبلیغ اِس کی طرف اشارہ کرتی ہے)۔ اور پھر بھی، وہی لوگ جن سے کوئی امید نہیں تھی، سب سے زیادہ فوری اور مکمل طور پر پلٹتے ہیں۔
یہ بات چبھنے والی ہے۔ اکثر ہم سوچتے ہیں کہ کچھ لوگ، کچھ حالات، خدا کی پہنچ سے باہر ہیں۔ کوئی بہت دور جا چکا ہے، بہت زیادہ نقصان کر چکا ہے، بہت زیادہ سخت ہو چکا ہے۔ نینوہ کی کہانی اِس سوچ کو توڑ دیتی ہے۔ ایک سخت پیغام، ایک ناراض نبی کے ذریعے، ایک بادشاہ اور پورے شہر کو گھٹنوں پر لے آتا ہے۔ خدا کا کلام کمزور نہیں ہوتا، چاہے وہ اُس شخص کے ذریعے آئے جو خود اُس پر یقین نہیں رکھتا۔
اور یہ بات بھی اہم ہے کہ خدا کا فیصلہ حتمی سزا نہیں بلکہ ایک دعوت تھی۔ چالیس دن کا وقت دیا گیا، تاکہ کچھ بدل سکے۔ یہ خدا کی سختی نہیں بلکہ اُس کا صبر ظاہر کرتا ہے۔
مشترکہ دھاگہ
یسوع مسیح نے خود انجیل میں نینوہ کا ذکر کیا اور کہا کہ نینوہ کے لوگ یونس کی تبلیغ پر توبہ کر گئے، حالانکہ یہاں اُن سے بڑا موجود ہے۔ یعنی یسوع خود کو یونس سے بڑا نبی، بلکہ نبی سے بھی زیادہ، کہتے ہیں۔ جو پیغام یونس نے بادل نخواستہ سنایا، وہ یسوع نے اپنی جان دے کر پورا کیا۔
نینوہ کی توبہ اور خدا کا پچھتانا اُس بڑی سچائی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو پوری بائبل میں دہرائی جاتی ہے: خدا سزا دینے میں خوش نہیں ہوتا، وہ واپسی چاہتا ہے۔ صلیب پر یہی حقیقت اپنی انتہا کو پہنچتی ہے۔ خدا کا غضب جھوٹا نہیں تھا، نہ نینوہ پر نہ ہم پر، مگر خدا نے اُس غضب کا راستہ خود اپنے بیٹے پر ڈال کر ہمیں وہ چالیس دن، وہ مہلت، ہمیشہ کے لیے دے دی۔
آپ کے لئے
تم شاید اپنی زندگی میں کسی ایسی جگہ کھڑے ہو جہاں لگتا ہے کہ بہت دیر ہو چکی ہے، کہ تمہاری کوئی عادت، کوئی رشتہ، کوئی سوچ اتنی جڑ پکڑ چکی ہے کہ اب بدلنا ممکن نہیں۔ نینوہ کا بادشاہ اپنے تخت سے اُترا، اپنی شان چھوڑی، خاک میں بیٹھا۔ یہ آسان نہیں تھا، مگر یہی حقیقی توبہ کی شکل ہے، محض معافی مانگنا نہیں بلکہ سمت بدلنا۔
یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ خدا کا کلام اُس وقت بھی کام کرتا ہے جب اُسے سنانے والا خود پوری طرح دل سے شامل نہ ہو۔ یونس ناراض تھا، بددل تھا، پھر بھی خدا نے اُس کے الفاظ استعمال کیے۔ اِس سے یہ حوصلہ ملتا ہے کہ خدا کا کام تمہاری کمزوری یا شک کے باوجود آگے بڑھ سکتا ہے، مگر یہ بہانہ نہیں ہونا چاہیے کہ تم اپنے دل کی حالت سے لاپروا رہو۔
بات چیت کریں
کیا تم کسی ایسے شخص یا حالت کو جانتے ہو جسے تم دل ہی دل میں "بدلنے کے قابل نہیں" سمجھتے ہو؟ نینوہ کی کہانی اُس سوچ پر کیا سوال اٹھاتی ہے؟
بادشاہ نے اپنی شان اور تخت چھوڑ کر خاک میں بیٹھنا مناسب سمجھا۔ تمہاری زندگی میں توبہ کی وہ قیمت کیا ہو سکتی ہے جو محض الفاظ سے آگے جائے؟
ساتھ دعا کریں
خداوند، تیرا کلام آج بھی اُتنا ہی طاقتور ہے جتنا نینوہ کے دنوں میں تھا۔ ہمیں وہ دلیری دے جو بادشاہ نے دکھائی، اپنی شان چھوڑ کر تیرے سامنے جھکنے کی۔ ہمیں یاد دلا کہ تیرا فیصلہ صبر سے بھرا ہے، اور تیری چاہت ہماری تباہی نہیں بلکہ ہماری واپسی ہے۔ یسوع مسیح کے نام میں، آمین۔
یونس 3 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
یونس 3 کس بارے میں ہے؟
یونس 3 کیا کہتا ہے؟
یونس 3 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان یونس 3 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
یونس 3 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
نینوہ کے بادشاہ نے صرف روزے اور ٹاٹ کا حکم نہیں دیا۔ اُس نے کہا، ”ہر ایک اپنی بُری راہ اور اپنے ہاتھوں کے ظلم سے باز آئے۔“ توبہ آنسوؤں پر ختم نہیں ہوتی، وہ ہاتھوں تک پہنچتی ہے۔ سوچ کر دیکھ: تیری دعا کے بعد تیرے ہاتھ کیا کر رہے ہیں؟ کیا وہی پرانا کام، وہی پرانی سختی؟ خدا نیت کے ساتھ ساتھ راستہ بدلا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔
اُٹھ! بڑے شہر نینوہ جا کر اُس میں وہ پیغام سنا جو مَیں تجھے دوں گا۔“ غور کریں، خدا نے یہ دوسری بار کہا۔ جو بھاگ چکا تھا، اُسے وہی کام دوبارہ سونپا گیا۔ اور پیغام پہلے سے ہاتھ میں نہیں تھا، ”جو مَیں تجھے دوں گا“۔ پہلے قدم اُٹھانا پڑتا ہے، پھر بات ملتی ہے۔ کیا آپ اِتنا بھروسا رکھتے ہیں کہ خالی ہاتھ چل پڑیں؟
نینوہ کا بادشاہ تخت سے اُترا، شاہی لباس اُتارا، اور ٹاٹ اوڑھ کر راکھ میں بیٹھ گیا۔ پھر اُس نے کہا، "کون جانے کہ خُدا پچھتا کر اپنے قہرِشدید سے باز آئے تاکہ ہم ہلاک نہ ہوں؟"
غور کریں، "کون جانے" میں کتنی عاجزی ہے۔ نہ کوئی سودا، نہ کوئی یقین دہانی۔ صرف ایک اُمید کہ شاید رحم مل جائے۔
کبھی کبھار توبہ ایسی ہی ہوتی ہے، بغیر گارنٹی کے خُدا کی طرف جھکنا۔ آپ کیا ابھی بھی سودے کر رہے ہیں، یا "کون جانے" کہہ کر اُس کے قدموں میں گر سکتے ہیں؟
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں