مرقس 8
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
وضاحت
باب کے شروع میں یسوع مسیح ایک ویران جگہ پر چار ہزار لوگوں کے سامنے کھڑے ہیں جو تین دن سے اُن کے ساتھ ہیں اور بھوکے ہیں۔ شاگردوں کے پاس صرف سات روٹیاں اور چند چھوٹی مچھلیاں ہیں، مگر خداوند شکرگزاری کی دعا کر کے اُنہیں تقسیم کرتے ہیں اور سب سیر ہو جاتے ہیں، سات ٹوکرے بچ جاتے ہیں۔ یہ دوسری بار ہے کہ ایسا ہوتا ہے، پہلے پانچ ہزار کے ساتھ ہو چکا تھا۔
اِس کے بعد فریسی آتے ہیں اور ایک آسمانی نشان کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ یسوع کا اختیار ثابت ہو جائے۔ یسوع ٹھنڈی آہ بھرتے ہیں اور صاف انکار کر دیتے ہیں۔ کشتی میں جاتے ہوئے وہ شاگردوں کو فریسیوں اور ہیرودیس کے "خمیر" سے خبردار کرتے ہیں، یعنی اُن کی سوچ کے اثر سے۔ مگر شاگرد الجھے رہ جاتے ہیں، وہ سوچتے ہیں کہ بات روٹی کی کمی کی ہو رہی ہے۔ یسوع اُن سے سوال پر سوال کرتے ہیں: کیا تمہاری آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں؟ کیا تمہارے کان سن نہیں سکتے؟ کیا تمہیں یاد نہیں کتنی روٹیوں سے کتنے لوگ سیر ہوئے تھے؟ اُن کے پاس معجزے کا تجربہ تو ہے، مگر سمجھ اب تک نہیں آئی۔
بیت صیدا میں ایک اندھے آدمی کو لایا جاتا ہے۔ یسوع اُس کی آنکھوں پر تھوکتے ہیں، ہاتھ رکھتے ہیں، اور پہلی بار وہ صرف دھندلا دیکھ پاتا ہے، لوگ اُسے چلتے درختوں جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ یسوع دوبارہ ہاتھ رکھتے ہیں اور تب اُس کی نظر پوری طرح صاف ہو جاتی ہے۔
قیصریہ فلپی کے راستے میں یسوع پوچھتے ہیں کہ لوگ اُنہیں کون سمجھتے ہیں۔ جوابات آتے ہیں: یحییٰ، الیاس، یا کوئی نبی۔ پھر سوال ذاتی ہو جاتا ہے، "تم کیا کہتے ہو؟" پطرس کہتا ہے، "آپ مسیح ہیں۔" یہ درست جواب ہے، مگر فوراً بعد یسوع اپنی موت اور جی اُٹھنے کی خبر دیتے ہیں، اور پطرس اُنہیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ یسوع اُسے سخت جھڑکتے ہیں: "شیطان، میرے سامنے سے ہٹ جا۔" آخر میں یسوع صاف کہتے ہیں کہ اُن کے پیچھے چلنے کا مطلب اپنی صلیب اُٹھانا ہے، اپنی جان کو کھونا ہی اُسے بچانا ہے۔
اِس کا کیا مطلب ہے؟
یہ باب دو اندھے پن کی تصویریں دکھاتا ہے۔ ایک جسمانی، جو دو مرحلوں میں ٹھیک ہوتا ہے۔ دوسرا روحانی، شاگردوں کا اندھا پن، جو ابھی تک آدھا کھلا ہے۔ وہ یسوع کو مسیح مانتے ہیں، مگر یہ نہیں سمجھ پاتے کہ مسیح ہونے کا مطلب طاقت نہیں، دُکھ ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں پطرس کا اقرار بھی ناکام ہو جاتا ہے۔ صحیح جواب دینا کافی نہیں، اُس جواب کے نتائج کو قبول کرنا اصل امتحان ہے۔
فریسیوں کا نشان مانگنا بھی اسی مسئلے کا حصہ ہے۔ وہ ثبوت چاہتے ہیں جو اُن کی شرائط پر ہو۔ یسوع اُنہیں وہ نہیں دیتے، کیونکہ ایمان ثبوتوں کی فہرست پر کھڑا نہیں ہوتا، بلکہ اُس یسوع پر جو صلیب پر جاتا ہے۔
بڑی کہانی سے تعلق
روٹیوں کا معجزہ اور اندھے کی شفا اِس بات کی گواہی ہیں کہ خدا کا بادشاہ اپنے لوگوں کی جسمانی اور روحانی بھوک، دونوں کا خیال رکھتا ہے۔ مگر باب کا دل پطرس کے اقرار اور یسوع کی پیشین گوئی میں ہے۔ پرانے عہد نامے میں مسیح سے فتح، جلال، اور طاقت کی توقع تھی۔ یسوع اُس توقع کو الٹ دیتے ہیں: ابنِ آدم کو رد ہونا ہے، مارا جانا ہے، اور تیسرے دن جی اُٹھنا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر پوری بائبل کی کہانی مرکوز ہے، ایک بادشاہ جو تخت سے پہلے صلیب پر جاتا ہے۔ اور اُس کے پیچھے چلنے والوں کو وہی راستہ اپنانا ہے۔
آپ کے لئے
تم شاید کبھی محسوس کرتے ہو کہ تمہارا ایمان صرف الفاظ کی حد تک ہے، دل سے اُس کی گہرائی تک نہیں پہنچا۔ پطرس نے بھی صحیح بات کہی اور غلط سوچی۔ یہ عام بات ہے، مگر خطرناک بھی، کیونکہ جب یسوع کی راہ مشکل، شرمناک، یا کمزور نظر آتی ہے تو ہم بھی اُسے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے پطرس نے کی۔
اپنی جان کھونے کی بات آج کے دور میں عجیب لگتی ہے جہاں ہر چیز خود کو محفوظ رکھنے، خود کو ثابت کرنے، اور خود کو بہترین دکھانے کے گرد گھومتی ہے۔ یسوع کہتے ہیں کہ اصل زندگی اُس وقت ملتی ہے جب تم اپنے آپ کو، اپنی عزت کو، اپنے تحفظ کو اُن کے ہاتھ میں دے دو۔ یہ کوئی نعرہ نہیں، یہ روزمرہ کا فیصلہ ہے، اُس وقت جب سچ بولنا مہنگا پڑتا ہے، جب یسوع کے بارے میں بات کرنا تمہیں عجیب یا کمزور بنا دیتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کیا تم یسوع کو مسیح مانتے ہو، سوال یہ ہے کہ کیا تم اُس مسیح کے پیچھے چلنے کو تیار ہو جو صلیب کی طرف جاتا ہے۔
بات کریں
پطرس نے صحیح جواب دیا مگر غلط سمجھا۔ کیا تمہاری زندگی میں ایسی کوئی جگہ ہے جہاں تمہارا ایمان الفاظ میں درست ہے مگر عمل میں ابھی سمجھ نہیں آیا؟
یسوع کہتے ہیں، اپنی جان کھونا ہی اُسے بچانا ہے۔ اِس وقت تمہاری زندگی میں وہ کیا چیز ہے جس کو چھوڑنا سب سے زیادہ مشکل لگتا ہے؟
ساتھ دعا کریں
اے خدا، ہمارے دل بھی اکثر اُس اندھے آدمی کی طرح آدھے کھلے رہتے ہیں، ہم دیکھتے ہیں مگر پوری طرح سمجھتے نہیں۔ ہمیں وہ ہمت دے جو پطرس میں کمی تھی، تیری راہ کو قبول کرنے کی ہمت، چاہے وہ صلیب کی طرف ہی جاتی ہو۔ ہمیں یاد دلا کہ اصل زندگی اُس دن نہیں ملتی جب ہم اپنے آپ کو بچا لیتے ہیں، بلکہ اُس دن ملتی ہے جب ہم اپنے آپ کو تیرے ہاتھ میں کھو دیتے ہیں۔ آمین۔
مرقس 8 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
مرقس 8 کس بارے میں ہے؟
مرقس 8 کیا کہتا ہے؟
مرقس 8 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان مرقس 8 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
مرقس 8 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
کشتی میں صرف ایک روٹی تھی اور شاگردوں کا سارا دھیان اُسی کمی پر اٹکا رہا، حالانکہ ابھی کل ہی اُن کے ہاتھوں سے ہزاروں لوگ سیر ہوئے تھے۔ عیسیٰ نے پوچھا، ”کیا تم اب تک نہ جانتے، نہ سمجھتے ہو؟ کیا تمہارا دل بےحس ہو گیا ہے؟“ بےحسی ہمیشہ انکار نہیں ہوتی، کبھی کبھی وہ بھول ہوتی ہے۔ آج ذرا رُک کر گنو کہ خدا نے پچھلے سال تمہارے لیے کیا کیا۔ وہی خدا آج بھی وہیں کھڑا ہے۔
پطرس نے صحیح جواب دیا، "آپ مسیح ہیں،" اور پھر بھی عیسیٰ نے اُنہیں منع کیا کہ کسی کو نہ بتائیں۔ کیوں؟ کیونکہ ابھی صلیب باقی تھی۔ صحیح لفظ ادھورے دل کے ساتھ بولے جائیں تو لوگ غلط مسیح کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ کیا تُو بھی اُسے جانتا ہے، یا صرف اُس کے بارے میں درست باتیں کہنا سیکھ گیا ہے؟
یسوع نے کھل کر بات کی، کچھ چھپایا نہیں۔ اور پطرس نے کیا کیا؟ "اِس پر پطرس اُسے ایک طرف لے جا کر سمجھانے لگا۔" ایک طرف، تاکہ کوئی سنے نہ۔ محبت میں بھی ہم یہی کرتے ہیں، خدا کی صاف بات کو الگ لے جا کر اُس سے بحث کرتے ہیں۔ سوچ کر بتا، کون سی بات ہے جو وہ تجھ سے کھل کر کہہ چکا ہے اور تُو اب تک اُسے سمجھانے میں لگا ہے؟
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں