میکاہ 2
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
وضاحت
میکاہ ۲ کا آغاز ایک ایسے منظر سے ہوتا ہے جو حیرت انگیز حد تک ذاتی ہے: کوئی رات کے وقت اپنے بستر پر لیٹا ہے اور سو نہیں رہا، بلکہ سوچ رہا ہے۔ لیکن وہ اپنے مستقبل یا کسی خواب کے بارے میں نہیں سوچ رہا، وہ منصوبے باندھ رہا ہے کہ کل کس کو نقصان پہنچائے گا۔ ”اُن پر افسوس جو دوسروں کو نقصان پہنچانے کے منصوبے باندھتے اور اپنے بستر پر ہی سازشیں کرتے ہیں۔“ اور پھر وہ فقرہ جو سب سے زیادہ چبھتا ہے: ”کیونکہ وہ یہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔“ یہ بدمعاش نہیں ہیں جو گلی کے کونے پر کھڑے ہیں۔ یہ باعزت لوگ ہیں، طاقتور لوگ، جن کے پاس رقم، رسوخ اور قانونی راستے ہیں۔ اُن کے پاس اختیار ہے، اِس لیے وہ کر سکتے ہیں، اِس لیے وہ کرتے ہیں۔
وہ کیا کرتے ہیں؟ زمین اور مکان چھین لیتے ہیں۔ اسرائیل میں زمین صرف جائیداد نہیں تھی، وہ ”موروثی ملکیت“ تھی، خدا کی طرف سے ہر خاندان کو دیا گیا حصہ، اُن کی حفاظت اور اُن کی شناخت۔ کسی کا کھیت لُوٹ لینا اُس خاندان کی آنے والی نسلوں کو مٹا دینے کے برابر تھا۔ اور خداوند جواب دیتے ہیں، بالکل اُسی زبان میں: ”مَیں اِس قوم پر آفت کا منصوبہ باندھ رہا ہوں۔“ وہ منصوبے باندھتے ہیں، خدا بھی منصوبہ باندھتے ہیں۔ جو پھندا وہ دوسروں کے لیے بچھاتے تھے، اب اُن کی گردن میں ہے۔ ایک دن اُن کے بارے میں گیت گائے جائیں گے، مگر تعریف کے نہیں، ماتم اور مذاق کے: ”ہائے، ہم سراسر تباہ ہو گئے ہیں!“ جو زمین اُنہوں نے چھینی تھی، وہ اُن سے چھین لی جائے گی، اور جماعت میں قرعہ ڈال کر زمین بانٹنے والا کوئی باقی نہ رہے گا۔
آیت ۶ میں مخالفت شروع ہوتی ہے۔ لوگ میکاہ کو ٹوکتے ہیں: ”نبوّت مت کرو! . . . یہ صحیح نہیں کہ ہماری رُسوائی ہو جائے گی۔“ یعنی: ایسی باتیں نہ کرو، یہ ہمیں بُری لگتی ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں، ”کیا رب ناراض ہے؟ کیا وہ ایسا کام کرے گا؟“ خدا کا جواب صاف ہے: میری باتیں اُس کے لیے مہربان ہیں جو صحیح راہ پر چلے۔ مسئلہ پیغام میں نہیں، سننے والوں کے راستے میں ہے۔
پھر تفصیل اور بھی تیز ہوتی ہے۔ وہ اُن لوگوں سے چادر تک چھین لیتے ہیں جو بےخبر، خود کو محفوظ سمجھ کر گزر رہے ہیں۔ عورتوں کو اُن کے خوش نما گھروں سے بھگا دیا جاتا ہے، اور بچے خدا کی برکتوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اِس لیے فیصلہ آتا ہے: ”اب اُٹھ کر چلے جاؤ! آئندہ تمہیں یہاں سکون حاصل نہیں ہو گا۔“ اور آیت ۱۱ ایک تلخ طنز ہے: یہ قوم دراصل ایسا نبی چاہتی ہے جو جھوٹ بول کر کہے، ”تمہیں کثرت کی مَے اور شراب حاصل ہو گی!“ ایک ایسا پیغام جو نشہ دے اور کچھ نہ مانگے۔
اور پھر، بغیر کسی وارننگ کے، باب پلٹ جاتا ہے۔ ”ایک دن مَیں تم سب کو یقیناً جمع کروں گا۔“ بھیڑیں باڑے میں، ریوڑ چراگاہ میں، شور اور ہجوم۔ ایک راہنما آگے آگے چلے گا اور راستہ کھولے گا، دروازہ ٹوٹ جائے گا، اور بادشاہ خود آگے چلے گا: ”رب خود اُن کی راہنمائی کرے گا۔“
اِس کا مطلب کیا ہے؟
اِس باب کا سب سے غیر آرام دہ لفظ ”اختیار“ ہے۔ گناہ یہاں جذبات کی رَو میں بہہ جانا نہیں ہے، بلکہ ٹھنڈے دماغ سے سوچا گیا منصوبہ ہے، جو ممکن ہے کیونکہ کوئی روکنے والا نہیں۔ خدا ایسے گناہ کو نظرانداز نہیں کرتے۔ جن لوگوں کے پاس دفاع نہیں، جن ”کا جنگ کرنے سے تعلق ہی نہیں“، وہی خدا کے سب سے قریب ہیں۔ اور جو خود کو مذہبی سمجھتے تھے، اُن کے بارے میں خدا کہتے ہیں: میری قوم دشمن بن کر اُٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ مذہب اور ظلم ایک ہی چھت کے نیچے رہ سکتے ہیں، اور یہی سب سے خطرناک صورت ہے۔
دوسرا مطلب یہ ہے: ہم وہ آواز چُننا چاہتے ہیں جو ہمیں سکون دے۔ آیت ۱۱ کی قوم جھوٹ کو ترجیح دیتی ہے، کیونکہ سچ اُن کی رُسوائی کھول دے گا۔ یہ صرف قدیم اسرائیل کا مسئلہ نہیں۔ ہم بھی ایسے ہی اساتذہ، ایسے ہی اکاؤنٹ، ایسے ہی دوست چُنتے ہیں جو ہمیں ہمارے موجودہ راستے پر شاباش دیں۔
بڑی کہانی کا سلسلہ
آیت ۱۳ کا وہ راہنما جو دروازہ توڑ کر آگے نکلتا ہے، عبرانی میں ”پوریز“ کہلاتا ہے، یعنی وہ جو دیوار میں شکاف ڈالتا ہے۔ جلاوطنی کے شہر کے دروازے بند تھے، مگر ایک آنے والا ہے جو باہر کا راستہ کھول دیتا ہے۔ نئے عہد نامے کی روشنی میں ہم اُس کا چہرہ جانتے ہیں۔ خداوند یسوع مسیح خود کو اچھا چرواہا کہتے ہیں جو بھیڑوں کو جمع کرتا اور آگے آگے چلتا ہے۔ وہ اُس دروازے سے گزرے جو کوئی اَور نہیں توڑ سکتا تھا، موت کا دروازہ، اور اُس میں شکاف ڈال دیا۔ میکاہ ۲ کا خدا وہی خدا ہے: وہ ظالموں کے سامنے جھکتے نہیں، اور بچے ہوئے حصے کو چھوڑتے بھی نہیں۔ فیصلہ آخری لفظ نہیں ہے۔ چرواہا آخری لفظ ہے۔
تمہارے لیے
سب سے پہلے یہ سوال: تمہارے پاس کہاں اختیار ہے؟ تیرہ سے بیس سال کی عمر میں بھی طاقت ہوتی ہے۔ کلاس میں کس کا مذاق بنے گا اور کس کا نہیں، یہ فیصلہ کوئی کرتا ہے۔ گروپ چیٹ میں کس کی تصویر آگے بھیجی جائے گی، یہ بھی۔ میکاہ اُن لوگوں کے بارے میں نہیں لکھ رہا جو کمزور ہیں، بلکہ اُن کے بارے میں جو کر سکتے ہیں اور اِس لیے کرتے ہیں۔ رات کو بستر پر جو منصوبے بنتے ہیں، خدا وہ بھی سنتے ہیں۔
دوسرا: غور کرو کہ تم کس کی آواز سنتے ہو۔ وہ ہر پیغام جو تمہیں صرف اچھا محسوس کراتا ہے اور کبھی توبہ کی طرف نہیں لے جاتا، آیت ۱۱ کا نبی ہے۔ سچی آواز کی پہچان یہ ہے کہ وہ تمہیں پہلے تکلیف دیتی ہے اور پھر آزاد کرتی ہے۔
اور تیسرا: اگر تم آج خود اُن میں سے ہو جن کی چادر چھین لی گئی ہے، جن کا مذاق بنا ہے، جو تنہا ہیں، تو آیت ۱۲ تمہارے لیے ہے۔ خدا اپنے بچے ہوئے حصے کو جمع کرتے ہیں۔ کوئی بھی گم نہیں ہوتا۔
اِس پر بات کرو
میکاہ ۲ میں گناہ سوچا سمجھا اور منصوبہ بند ہے۔ تمہاری زندگی میں ایسی کوئی بات ہے جسے تم صرف اِس لیے کرتے ہو کہ تم کر سکتے ہو اور کوئی روکنے والا نہیں؟
آیت ۱۱ کا نبی وہ کہتا ہے جو لوگ سننا چاہتے ہیں۔ آخری بار کب کسی نے تمہیں ایسی سچی بات کہی جو تمہیں بُری لگی، اور تم نے اُس کے ساتھ کیا کیا؟
مل کر دعا
خداوند، آپ ہماری رات کی سوچ بھی جانتے ہیں۔ ہمیں دکھائیں جہاں ہم اپنے اختیار سے دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور ہمیں ایسی سچائی سننے کی ہمت دیں جو خوشامد نہ کرے۔ اور آپ کا شکر ہے کہ آپ چرواہے ہیں جو ہمیں جمع کرتے ہیں اور آگے آگے چل کر راستہ کھولتے ہیں۔ ہمیں اپنے پیچھے چلنا سکھائیں۔ آمین۔
میکاہ 2 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
میکاہ 2 کس بارے میں ہے؟
میکاہ 2 کیا کہتا ہے؟
میکاہ 2 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان میکاہ 2 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
میکاہ 2 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
لوگ چاہتے تھے کہ نبی خاموش رہے، کیونکہ اُس کی باتیں چبھتی تھیں۔ رب کا جواب سیدھا ہے: "کیا میری باتیں اُس کے لئے فائدہ مند نہیں جو سیدھی راہ پر چلتا ہے؟" کلام نہیں بدلا، دل بدل گئے تھے۔ جب خدا کی بات تجھے کڑوی لگے تو سوال یہ نہیں کہ وہ سخت ہے، بلکہ یہ کہ تُو کس راہ پر کھڑا ہے۔
رات کا وقت عام طور پر آرام کا ہوتا ہے، لیکن میکاہ ایسے لوگوں کو دیکھتا ہے جو بستر پر لیٹے لیٹے منصوبے باندھ رہے ہیں: "اُن پر افسوس جو بستر پر لیٹے لیٹے شرارتیں اور بُرے منصوبے باندھتے ہیں۔" اور صبح ہوتے ہی وہ اُنہیں پورا کر ڈالتے ہیں، کیونکہ اُن کے پاس طاقت ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ گناہ یہاں جذبات کی رَو میں نہیں، بلکہ ٹھنڈے دل سے ترتیب دیا گیا ہے۔
جب تُو رات کو جاگتا ہے، تیرا دل کیا بُنتا ہے؟ بدلہ لینے کی ترکیب، یا خدا کے حضور خاموش دعا؟ صبح وہی نکلے گا جو رات کو بویا گیا۔
وہ کھیتوں کا لالچ کر کے اُنہیں چھین لیتے، گھروں پر لالچ کی نگاہ ڈال کر اُن پر قبضہ کر لیتے ہیں۔" غور کریں کہ سب کچھ ایک نگاہ سے شروع ہوا۔ پہلے آنکھ نے دیکھا، پھر دل نے چاہا، اور آخر میں ہاتھ نے چھین لیا۔ وہ زمین جو خدا نے کسی خاندان کو وراثت میں دی تھی، اب کسی طاقتور کے قبضے میں تھی۔ آپ کی نگاہ آج کہاں ٹھہری ہوئی ہے؟ جو چیز آپ کے دل میں چپکے سے پل رہی ہے، وہ کل آپ کے ہاتھوں سے کیا کروائے گی؟
تم میری قوم کی عورتوں کو اُن کے آرام دہ گھروں سے نکال دیتے ہو اور اُن کے بچوں سے میری شان و شوکت ہمیشہ کے لئے چھین لیتے ہو۔" غور کریں، خدا بےگھر ہونے والی بیواؤں کو "میری قوم" کہتا ہے، اور بچوں کی محفوظ چھت کو اپنی شان کہتا ہے۔ جس گھر سے کسی کمزور کو زبردستی نکالا جائے، وہاں سے خدا کی عزت بھی نکال دی جاتی ہے۔ آپ کے ہاتھ کسی کا گھر بناتے ہیں یا اُجاڑتے ہیں؟
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں