فلیمون 1
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
فلیمون کا خط نئے عہد نامے کا سب سے چھوٹا خط ہے۔ صرف پچیس آیتیں، ایک بیٹھک میں پڑھ لیں تو ختم۔ لیکن ان چند سطروں میں ایک ایسی کہانی چھپی ہے جو انصاف، معافی اور انسانی وقار کے بارے میں ہمارے تصورات کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔
پولس رسول یہ خط قید میں لکھ رہا ہے۔ وہ فلیمون نام کے ایک دولت مند مسیحی کو مخاطب کر رہا ہے، جس کے گھر میں کلیسیا جمع ہوتی تھی۔ فلیمون کا ایک غلام تھا، اُنیسمس، جو غالباً کچھ چوری کر کے بھاگ گیا تھا۔ رومی قانون کے تحت بھاگے ہوئے غلام کو موت کی سزا بھی دی جا سکتی تھی۔ لیکن اپنی فرار کے دوران اُنیسمس کسی طرح پولس سے ملا، اور پولس کے ذریعے مسیح پر ایمان لے آیا۔
اب پولس اُنیسمس کو واپس فلیمون کے پاس بھیج رہا ہے، لیکن اس خط کے ساتھ۔ وہ فلیمون کو حکم نہیں دیتا، حالانکہ رسول ہونے کے ناطے دے سکتا تھا۔ وہ محبت کی بنیاد پر منت کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے، "اب وہ نہ صرف غلام ہے بلکہ غلام سے کہیں زیادہ۔ اب وہ ایک عزیز بھائی ہے۔" اور جو نقصان اُنیسمس نے کیا ہے، اُس کا معاوضہ پولس خود ادا کرنے کو تیار ہے۔
What Does This Mean?
یہ خط ایک عجیب سا میدانِ جنگ ہے۔ یہاں پولس غلامی کے خلاف براہِ راست فتویٰ نہیں دیتا، لیکن وہ کچھ ایسا کرتا ہے جو اُس نظام کی جڑیں ہلا دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے: یہ غلام اب تمہارا بھائی ہے۔ سماجی حیثیت میں شاید فرق باقی رہے، لیکن مسیح میں دونوں ایک ہی خاندان کے فرد ہیں۔
اور یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں۔ اِس کے پیچھے ایک ٹھوس عمل ہے۔ پولس کہتا ہے، "اگر اُس نے آپ کو کوئی نقصان پہنچایا یا آپ کا قرض دار ہوا تو مَیں اِس کا معاوضہ دینے کے لئے تیار ہوں۔" یعنی معافی مفت نہیں ملتی۔ کسی کو قیمت چکانی پڑتی ہے۔ پولس اپنے آپ کو درمیان میں ڈال رہا ہے۔
فلیمون کے سامنے اب ایک انتخاب ہے۔ وہ اپنے قانونی حق کے مطابق اُنیسمس کو سزا دے سکتا ہے۔ یا وہ انجیل کی منطق کو مانتے ہوئے اُسے بھائی کے طور پر گلے لگا سکتا ہے۔ پولس اُس پر زبردستی نہیں کرتا۔ وہ چاہتا ہے کہ فیصلہ خوشی سے آئے، مجبوری سے نہیں۔
The Common Thread
اگر آپ غور کریں تو پولس کے الفاظ میں انجیل کی پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔ ایک انسان جو مالک کا مقروض ہے، جس نے نقصان پہنچایا ہے، جو سزا کا حقدار ہے۔ اور ایک تیسرا شخص جو کہتا ہے، "میرے حساب میں لکھ لو۔ مَیں ادا کروں گا۔"
یہ بالکل وہی ہے جو مسیح نے ہمارے لیے کیا۔ ہم خدا کے قرض دار تھے۔ ہمارا گناہ ایک اصل قرضہ تھا، کوئی خیالی چیز نہیں۔ اور مسیح صلیب پر آ کر کھڑا ہو گیا اور کہا: "اِن کا حساب میرے نام لکھ دو۔" اُس نے وہ قیمت چکائی جو ہمیں چکانی چاہیے تھی۔
پولس نے شاید یہ خط لکھتے وقت اِس مماثلت کو محسوس کیا ہو۔ وہ اُنیسمس کے لیے وہی کر رہا ہے جو مسیح نے اُس کے لیے کیا تھا۔ اور یہی مسیحی زندگی کا اصل نمونہ ہے، ہم دوسروں کے ساتھ وہی کریں جو خدا نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔
اِس کے علاوہ، اِس خط میں ایک اَور بات نظر آتی ہے۔ انجیل صرف روحوں کو نہیں بدلتی، وہ رشتوں کو بدلتی ہے۔ وہ سماجی درجہ بندی کو چیلنج کرتی ہے۔ فلیمون اور اُنیسمس ایک ہی میز پر روٹی توڑ رہے تھے، ایک ہی مقدس کا نام لے رہے تھے۔ رومی سلطنت کے لیے یہ ایک انقلاب تھا، چاہے آہستہ اور خاموش سا۔
For You
آپ کی زندگی میں کوئی اُنیسمس ہو گا۔ کوئی ایسا شخص جس نے آپ کو نقصان پہنچایا۔ کوئی جس کے بارے میں آپ کا حق بنتا ہے کہ ناراض رہیں۔ شاید ایک دوست جس نے پیٹھ میں چھرا مارا۔ شاید کوئی گھر والا جس نے ایسی بات کہی جو آپ کبھی نہیں بھول سکے۔ شاید سوشل میڈیا پر کسی نے آپ کی عزت خاک میں ملا دی۔
اِس خط کا سوال یہ نہیں ہے کہ کیا وہ سزا کے حقدار ہیں۔ شاید ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ کوئی ایسا شخص بننے کے لیے تیار ہیں جو کسی اَور کی طرف سے قیمت اُٹھانے پر آمادہ ہے؟ کیونکہ معافی اِسی طرح کام کرتی ہے۔ وہ کبھی مفت نہیں ہوتی۔ کوئی نہ کوئی وہ درد اپنے کندھوں پر اٹھاتا ہے۔
اور دوسری طرف، ہو سکتا ہے آپ اِس کہانی میں اُنیسمس ہوں۔ آپ کہیں سے بھاگے ہوئے ہیں، شاید خدا سے، شاید اپنے گھر والوں سے، شاید اپنے آپ سے۔ آپ کو لگتا ہے کہ واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ لیکن انجیل کہتی ہے کہ ایک راستہ ہے۔ اور اُس راستے پر مسیح آپ کے ساتھ کھڑا ہے، جو کہتا ہے، "اِس کا حساب میرے نام۔"
Talk About It
کیا کوئی ایسا شخص ہے جسے معاف کرنا آپ کے لیے سب سے مشکل ہے؟ اگر پولس اُس شخص کے بارے میں آپ کو خط لکھتا، تو کیا اُس کی باتیں آپ کو ٹھیک لگتیں یا آپ اُس سے بحث کرنا چاہتے؟
*پولس نے فلیمون پر زبردستی نہیں کی، وہ خوشی سے فیصلہ چاہتا تھا۔ کیا
فلیمون 1 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
فلیمون 1 کس بارے میں ہے؟
فلیمون 1 کیا کہتا ہے؟
فلیمون 1 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان فلیمون 1 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
فلیمون 1 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
پولس کے پاس اختیار تھا۔ وہ لکھ سکتا تھا، "گو مَیں مسیح میں دلیری سے آپ کو حکم دے سکتا ہوں کہ آپ کا فرض کیا ہے،" مگر اُس نے حکم نہیں دیا، منت کی۔ محبت کو زبردستی کی اطاعت پسند نہیں۔ سوچیں، جہاں آپ کے پاس طاقت ہے، گھر میں، کام پر، کیا آپ دباؤ ڈالتے ہیں یا دل جیتتے ہیں؟
پولس صرف فلیمون کو نہیں لکھتا۔ وہ لکھتا ہے، ”اور اپنی بہن اپفیہ، اپنے ہم سپاہی ارخپس اور اُس جماعت کے نام جو تیرے گھر میں جمع ہوتی ہے۔“ ایک بھاگے ہوئے غلام کو معاف کرنے کا معاملہ گھر کی چاردیواری میں دبا نہیں رہتا، پوری جماعت اُسے سنتی ہے۔ سوچ، تیرے دل کی وہ کڑواہٹ جسے تُو نجی سمجھتا ہے، کیا وہ واقعی نجی ہے؟ ایمان کا خاندان تیرے فیصلوں کے ساتھ جیتا ہے۔
پولس قید میں ہے اور اُنیسمس اُس کا سہارا بن چکا ہے، پھر بھی وہ لکھتا ہے، "اب مَیں اُسے تیرے پاس واپس بھیج رہا ہوں، گو وہ میرے دل کا ٹکڑا ہے۔" جسے دل سے لگایا، اُسی کو جانے دینا سب سے مہنگا سودا ہے۔ کیا تُو بھی کسی کو تھامے بیٹھا ہے کیونکہ وہ تیری ضرورت پوری کرتا ہے؟ سچی محبت قید نہیں کرتی، وہ صحیح جگہ پر بھیج دیتی ہے۔
پولس زنجیروں میں ہے، پھر بھی وہ حکم نہیں دیتا۔ وہ لکھتا ہے، ”مَیں یہ لکھ کر آپ کی فرمانبرداری پر بھروسا کرتا ہوں، اور جانتا ہوں کہ آپ میری توقع سے کہیں زیادہ کریں گے۔“ کسی پر ایسا اعتماد کرنا اُسے بدل دیتا ہے۔ سوچیں، کیا کوئی آپ کے بارے میں یہ کہہ سکتا ہے؟ اور کیا آپ کسی کو اِتنی محبت سے یہ کہنے کو تیار ہیں؟
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں