نوحہ 5
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
یہ باب یروشلم کی تباہی کے بعد کی ایک دعا ہے۔ لوگوں کا شہر تباہ ہو گیا ہے، اور وہ خداوند سے کہتے ہیں: "یاد کر کہ ہمارے ساتھ کیا کچھ ہوا! غور کر کہ ہماری کیسی رُسوائی ہوئی ہے۔" ان کی زمین اجنبیوں کے ہاتھ میں چلی گئی ہے، بچے یتیم ہو گئے ہیں، مائیں بیواؤں کی طرح غیرمحفوظ ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اپنا ہی پانی اور اپنی ہی لکڑی کے لیے پیسے دینے پڑتے ہیں، حالانکہ یہ چیزیں ان کی اپنی تھیں۔
لوگ روٹی کی خاطر مصر اور اسور کے سامنے جھک گئے، اور اب کہتے ہیں کہ ان کے باپ دادا نے گناہ کیا تھا، مگر وہ خود اس کی سزا بھگت رہے ہیں۔ غلام ان پر حکومت کرتے ہیں، جوان چکّی کا بوجھ اٹھاتے ہیں، لڑکے لکڑی کے نیچے گر پڑتے ہیں۔ عورتوں کے ساتھ ظلم ہوا، بزرگوں کی عزت نہیں رہی، ساز خاموش ہو گئے، ناچ آہ و زاری میں بدل گیا۔ وہ خود اقرار کرتے ہیں: "ہم سے گناہ سرزد ہوا ہے۔" شہر اتنا ویران ہے کہ لومڑیاں اس کی گلیوں میں پھرتی ہیں۔
پھر اچانک لہجہ بدلتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں: "تیرا راج ابدی ہے، تیرا تخت پشت در پشت قائم رہتا ہے۔" یعنی، خدا تعالیٰ کی بادشاہت ختم نہیں ہوئی، چاہے شہر تباہ ہو گیا ہو۔ لیکن اس کے بعد سوال آتا ہے جس کا سیدھا جواب نہیں ملتا: "تُو ہمیں ہمیشہ تک کیوں بھولنا چاہتا ہے؟" کتاب کا آخری فقرہ بھی ایک سوال ہے: "کیا تُو نے ہمیں حتمی طور پر مسترد کر دیا ہے؟" کوئی جواب نہیں لکھا۔ کتاب یہیں رک جاتی ہے۔
What Does This Mean?
یہ باب ہمیں سکھاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے لوگ اپنا درد چھپاتے نہیں۔ وہ جھوٹی خوشی نہیں دکھاتے۔ وہ سیدھا خدا کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ زندگی مشکل ہے، اور یہ بھی مانتے ہیں کہ ان کا اپنا گناہ اس مشکل کی ایک وجہ ہے۔ یہ سچائی آسان نہیں ہے۔ کبھی ہمارے اپنے فیصلے ہمیں تکلیف میں ڈالتے ہیں، اور کبھی ہمیں ایسی چیزوں کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے جو پہلے لوگوں نے کی تھیں۔ یہ باب اس تلخ حقیقت کو چھپاتا نہیں۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی بادشاہی پر یقین رکھتے ہیں، پھر بھی پوچھتے ہیں "کیوں؟" یہ دونوں باتیں ایک ساتھ رہ سکتی ہیں: یقین بھی، اور سوال بھی۔
The Common Thread
عہد یعنی خدا تعالیٰ کا اپنے لوگوں کے ساتھ کیا گیا وعدہ، اس باب کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان سے محبت کا وعدہ کیا تھا، اسی لیے وہ اس سے شکایت کر سکتے ہیں۔ اگر وعدہ نہ ہوتا تو شکایت کرنے کا کوئی مطلب نہ ہوتا۔
بہت بعد میں، صلیب پر، عیسیٰ مسیح نے بھی ایک ایسا سوال پوچھا جس کا فوری جواب نہ ملا: "میرے خدا، میرے خدا، تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟" یعنی خدا تعالیٰ کا اپنا بیٹا بھی اسی طرح کے تاریک لمحے سے گزرا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے واقعی چھوڑ دیا تھا، بلکہ یہ کہ درد میں سوال پوچھنا ایمان کے خلاف نہیں، بلکہ ایمان کا حصہ ہو سکتا ہے۔
For You
جب تمہاری زندگی میں کچھ ٹوٹ جائے، یا تم کسی ایسی بات سے تنگ ہو جس کی وجہ تم خود نہیں تھے، تو تمہیں خدا تعالیٰ سے سچ بولنے کی اجازت ہے۔ تمہیں مصنوعی طور پر خوش دکھنے کی ضرورت نہیں۔ لامنٹیشنز کا یہ آخری باب دکھاتا ہے کہ ایماندار سوال پوچھ سکتا ہے، شکایت کر سکتا ہے، اور پھر بھی خدا تعالیٰ کے تخت کو ابدی مان سکتا ہے۔
Talk About It
کیا تم نے کبھی خدا تعالیٰ سے کوئی ایسا سوال پوچھا ہے جس کا جواب فوراً نہیں ملا؟ اس وقت تمہارا کیا حال تھا؟
یہ لوگ ایک طرف کہتے ہیں "تیرا راج ابدی ہے" اور دوسری طرف پوچھتے ہیں "کیوں بھول گیا؟" کیا یہ دونوں باتیں ایک ساتھ کہنا ممکن ہے؟
Praying Together
اے خداوند، ہمیں بھی یہ ہمت دے کہ ہم اپنا دکھ اور اپنے سوال تیرے سامنے کھلے دل سے رکھ سکیں۔ ہم مانتے ہیں کہ تیرا تخت ابدی ہے، چاہے ہماری زندگی میں کچھ بھی مشکل ہو۔ ہمیں اپنے پاس واپس لا، جیسے تیرے پرانے لوگوں نے دعا کی تھی۔ آمین۔
نوحہ 5 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
نوحہ 5 کس بارے میں ہے؟
نوحہ 5 کیا کہتا ہے؟
نوحہ 5 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے نوحہ 5 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
نوحہ 5 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
ہمارے دل کی خوشی جاتی رہی، ہمارا ناچنا ماتم میں بدل گیا ہے۔" غور کریں کہ یہ الفاظ کس کے سامنے کہے جا رہے ہیں۔ یہ شکایت کسی انسان سے نہیں، خدا سے کی جا رہی ہے۔ ماتم کرنے والے نے دعا کرنا نہیں چھوڑا۔ آپ کے دل کا جو گیت خاموش ہو گیا ہے، اُسے چھپانے کی ضرورت نہیں۔ اُسی کے سامنے رکھ دیں جو ٹوٹے دلوں کو سنتا ہے۔
تاج ہمارے سر سے گر گیا ہے۔ ہم پر افسوس، ہم نے گناہ کیا ہے!" غور کر، وہ یہ نہیں کہتے کہ دشمن نے تاج چھینا۔ وہ اپنی ذلت کا الزام کسی اور پر نہیں ڈالتے۔ ٹوٹے دل کی یہی نشانی ہے، جب ہم بہانے بنانا چھوڑ دیتے ہیں۔ کیا تُو بھی اپنے گرے ہوئے تاج کے بارے میں اتنی سچائی سے بات کر سکتا ہے؟
یرمیاہ نوحہ کی پوری کتاب میں روتا رہا۔ یروشلیم کھنڈر ہو چکا تھا، ہیکل جل چکی تھی، بچے بھوک سے مر رہے تھے۔ اور آخری آیت میں وہ ایک ایسا سوال چھوڑ جاتا ہے جو دل چیر دیتا ہے: "کیا تُو نے ہمیں بالکل رد کر دیا ہے؟ کیا تُو ہم سے نہایت ناراض ہے؟"
غور کرو، کتاب یہاں ختم ہوتی ہے۔ کوئی خوشخبری نہیں، کوئی وعدہ نہیں، بس ایک ادھورا سوال۔ کبھی کبھی ایمان کی زندگی بھی ایسی ہوتی ہے۔ ہر دُعا کا جواب فوراً نہیں ملتا۔ کچھ راتیں سوال کے ساتھ ہی گزارنی پڑتی ہیں۔ مگر یاد رکھ، سوال کو خدا کے سامنے رکھنا بھی ایمان ہے۔
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں