طِطُس 2
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
پولُس رسول نے تِطُس کو ایک خط لکھا۔ تِطُس ایک جزیرے پر کلیسیا کی رہنمائی کر رہا تھا۔ اس باب میں پولُس بتاتے ہیں کہ مختلف لوگوں کو کیسی زندگی گزارنی چاہیے: بزرگ مرد ہوش مند اور سمجھ دار ہوں، ان کا ایمان اور محبت مضبوط ہو۔ بزرگ خواتین ایسی زندگی گزاریں جو دوسروں کے لیے بھلائی کی مثال ہو، اور جوان عورتوں کو سکھائیں کہ اپنے گھروں سے کیسے محبت رکھیں۔ جوان مردوں کو کہا جاتا ہے کہ سمجھ داری سے رہیں۔ غلاموں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے مالکوں کی عزت کریں اور امانت دار ثابت ہوں۔ آخر میں پولُس اصل وجہ بتاتے ہیں: اللہ کا فضل ظاہر ہوا ہے، اور مسیح نے اپنی جان دی تاکہ ہمیں ایک پاک قوم بنائے۔
What Does This Mean?
یہ باب پڑھ کر شاید آپ سوچیں، یہ تو صرف اصول ہیں، بزرگوں کے لیے، عورتوں کے لیے، غلاموں کے لیے۔ لیکن دراصل پولُس یہ کہہ رہے ہیں کہ ایمان صرف دل میں نہیں رہتا، وہ ہماری روزمرہ زندگی میں نظر آنا چاہیے۔ گھر میں، کام کی جگہ پر، دوستوں کے ساتھ۔ اس زمانے میں غلامی ایک تلخ حقیقت تھی، اور پولُس اسے ٹھیک نہیں کہتے، مگر وہ غلاموں کو کہتے ہیں کہ ایسے حالات میں بھی امانت داری سے رہیں، تاکہ لوگ مسیح کی تعلیم کے بارے میں غلط بات نہ کہہ سکیں۔ یہ سوچنے والی بات ہے۔ کیا آپ کو یہ بات آسان لگتی ہے؟ مجھے نہیں لگتی۔ پولُس چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی اتنی خوبصورت ہو کہ لوگ خدا کے کلام کی طرف کھنچے چلے آئیں، نہ کہ اس سے دور بھاگیں۔
The Common Thread
اس باب کا سب سے گہرا حصہ آخر میں آتا ہے۔ پولُس لکھتے ہیں کہ "اللہ کا نجات بخش فضل تمام انسانوں پر ظاہر ہوا ہے۔" فضل کا مطلب ہے وہ محبت جو ہم نے کمائی نہیں، جو خدا نے مفت میں دی۔ اور یہ فضل صرف ایک خیال نہیں، وہ ایک شخص میں ظاہر ہوا: یسوع مسیح۔ پولُس کہتے ہیں کہ مسیح نے ہمارے لیے اپنی جان دے دی، تاکہ فدیہ دے کر، یعنی قیمت چکا کر، ہمیں ہر بدی سے چھڑا کر اپنے لیے ایک خاص قوم بنائے۔ یہ پرانے عہد نامے کی وہ بات یاد کراتی ہے جب خدا نے اسرائیل کو مصر کی غلامی سے آزاد کیا اور انہیں اپنی خاص قوم بنایا۔ اب مسیح میں وہی کام دوبارہ ہو رہا ہے، مگر اس بار گناہ کی غلامی سے آزادی ملتی ہے۔ اور پولُس یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم اس "مبارک دن" کا انتظار کر رہے ہیں جب مسیح کا جلال ظاہر ہوگا۔ ہم ابھی اُس دن اور اُس دن کے درمیان کھڑے ہیں، منتظر۔
For You
آپ ابھی بزرگ مرد یا بزرگ عورت نہیں ہیں، اور امید ہے کہ غلام بھی نہیں۔ لیکن یہ باب آپ سے بھی بات کرتا ہے۔ پولُس جوان لوگوں سے کہتے ہیں کہ سمجھ داری سے زندگی گزاریں، یعنی سوچ سمجھ کر فیصلے کریں، صرف اپنی خواہش کے پیچھے نہ بھاگیں۔ سوچیں کہ آپ کے گھر میں، سکول میں، دوستوں کے ساتھ آپ کا رویہ کیا ظاہر کرتا ہے۔ کیا آپ کی بات پر بھروسا کیا جا سکتا ہے؟ کیا آپ چوری چھپے کچھ لیتے ہیں یا ایمانداری سے پیش آتے ہیں؟ یہ چھوٹی باتیں لگتی ہیں، مگر پولُس کہتے ہیں کہ یہی چھوٹی باتیں دکھاتی ہیں کہ خدا کا فضل ہمیں اندر سے بدل رہا ہے۔ اور یاد رہے، آخری آیت کہتی ہے "کوئی بھی آپ کو حقیر نہ جانے۔" آپ کی عمر کم ہو سکتی ہے، مگر آپ کی ایمانداری اور محبت کسی سے کم نہیں۔
Talk About It
پولُس کہتے ہیں کہ مسیح نے ہمیں "بدی سے چھڑا کر" آزاد کیا۔ آپ کے خیال میں کن باتوں سے آزادی ملنا سب سے ضروری ہے؟
اس باب میں غلاموں کو مالکوں کی بات ماننے کا کہا گیا ہے، حالانکہ غلامی خود ٹھیک نہیں تھی۔ اس بارے میں آپ کے دل میں کیا سوال اٹھتا ہے؟
Praying Together
اے خدا، آپ کا شکریہ کہ آپ کا فضل ہم سب پر ظاہر ہوا ہے، بزرگوں پر بھی اور بچوں پر بھی۔ ہمیں سکھائیں کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں، گھر میں اور دوستوں کے ساتھ، ایمانداری اور محبت سے رہیں۔ ہمیں اُس مبارک دن کا انتظار کرنے میں مدد دیں جب یسوع مسیح کا جلال ظاہر ہوگا۔ آمین۔
طِطُس 2 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
طِطُس 2 کس بارے میں ہے؟
طِطُس 2 کیا کہتا ہے؟
طِطُس 2 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے طِطُس 2 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
طِطُس 2 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
غلاموں کو سکھا کہ وہ ہر بات میں اپنے مالکوں کے تابع رہ کر اُنہیں پسند آئیں۔ وہ جواب دیتے وقت بحث نہ کریں۔“ پولس اُس وقت کے سب سے کمزور لوگوں سے مخاطب ہے، اور اُنہیں چھوٹی سی بات یاد دلاتا ہے: زبان۔ نہ بڑے کارنامے، نہ اونچے عہدے، بس ہر جواب میں نرمی۔ کیا آج تیرا لہجہ بھی مسیح کی تعلیم کو خوبصورت بنا رہا ہے؟
اُس نے اپنے آپ کو ہمارے لئے قربان کر دیا تاکہ فدیہ دے کر ہمیں ہر طرح کی بےدینی سے چھڑائے اور ہمیں پاک صاف کر کے اپنی ملکیت بنائے۔" غور کریں، وہ آپ کو صرف آزاد کر کے چھوڑ نہیں دیتا۔ وہ آپ کو اپنے لئے لیتا ہے۔ جس چیز کی اِتنی بڑی قیمت ادا کی گئی ہو، وہ بےکار نہیں سمجھی جاتی۔ کیا آپ خود کو اُسی نظر سے دیکھتے ہیں جس نظر سے وہ آپ کو دیکھتا ہے؟
غلاموں کو، یعنی اُن لوگوں کو جن کی کوئی سماجی حیثیت نہ تھی، پولس کہتا ہے کہ وہ اپنی چھوٹی سی دیانت داری سے "ہمارے نجات دہندہ خدا کی تعلیم کو سجائیں۔" سوچیں، خدا کی تعلیم کا زیور آپ کا وہ لمحہ ہے جب کوئی دیکھ نہیں رہا اور آپ پھر بھی ایمان دار رہتے ہیں۔ آپ کے کام کی جگہ، آپ کا حساب کتاب، آپ کا وعدہ، یہی وہ جگہیں ہیں جہاں انجیل خوبصورت دکھائی دیتی ہے یا بدنما۔
پولس ابھی ابھی بوڑھوں، جوانوں اور غلاموں کو ہدایتیں دے چکا ہے، اور پھر کہتا ہے، ”کیونکہ اللہ کا وہ فضل ظاہر ہوا ہے جو تمام انسانوں کو نجات دیتا ہے۔“ یعنی نیک چال چلن فضل کی قیمت نہیں، اُس کا پھل ہے۔ آپ اپنی روزمرہ کی چھوٹی وفاداری سے خدا کا دل نہیں خریدتے، وہ پہلے ہی ظاہر ہو چکا ہے۔
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں