زکریاہ 11
ابتدائی عمر (6-12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
زکریاہ نبی کو ایک عجیب اور دکھ بھرا نظارہ دکھایا جاتا ہے۔ پہلے لبنان کے دیودار کے بڑے درخت جل جاتے ہیں، گھنے جنگل کاٹے جاتے ہیں، اور چرواہے اپنی چراگاہوں کی بربادی پر روتے ہیں۔ یہ تصویر بتاتی ہے کہ ملک پر کوئی بڑی تباہی آنے والی ہے۔
پھر خداوند زکریاہ سے کہتے ہیں کہ وہ خود ایک گلہ بان بن جائے، اُن بھیڑبکریوں کا جنہیں ذبح ہونے کے لئے خریدا بیچا جا رہا ہے۔ یہ بھیڑبکریاں دراصل خدا کے لوگ ہیں۔ اُن کے اپنے راہنما اُن پر رحم نہیں کرتے بلکہ صرف اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔ زکریاہ دو لاٹھیاں اٹھاتا ہے، ایک کا نام ’مہربانی‘ اور دوسری کا نام ’یگانگت‘ یعنی بھائی چارہ۔ وہ کچھ عرصہ ریوڑ کی گلہ بانی کرتا ہے، مگر بھیڑبکریاں اُسے حقیر جانتی ہیں اور وہ خود بھی اُن سے تنگ آ جاتا ہے۔
آخر میں وہ اپنی ذمہ داری چھوڑ دینے کا اعلان کرتا ہے اور پہلی لاٹھی ’مہربانی‘ کو توڑ دیتا ہے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عہد، یعنی وہ وعدہ جو خدا نے قوموں کے ساتھ باندھا تھا، منسوخ ہو گیا ہے۔ جب وہ اپنی مزدوری مانگتا ہے تو اُسے صرف چاندی کے تیس سکے دیئے جاتے ہیں، ایک غلام کی قیمت۔ وہ طنزیہ انداز میں کہتا ہے، ”کتنی شاندار رقم ہے، یہ میری اِتنی ہی قدر کرتے ہیں!“ اور وہ سکے کمہار کے سامنے پھینک دیتا ہے۔ پھر وہ دوسری لاٹھی ’یگانگت‘ بھی توڑ دیتا ہے، یہوداہ اور اسرائیل کے درمیان بھائی چارہ ختم ہو جاتا ہے۔
آخر میں خدا زکریاہ سے کہتے ہیں کہ وہ ایک احمق چرواہے کا روپ دھار لے، ایسا چرواہا جو ریوڑ کی پروا نہیں کرتا بلکہ اُسے کھا جاتا ہے۔ اِس بے کار چرواہے پر افسوس کا اعلان ہوتا ہے۔
What Does This Mean?
یہ باب ہمیں دکھاتا ہے کہ خدا کے لوگوں کے راہنما ہمیشہ اچھے چرواہے نہیں ہوتے۔ کچھ صرف اپنا فائدہ دیکھتے ہیں، لوگوں کو ایسے استعمال کرتے ہیں جیسے کوئی چیز بیچی خریدی جاتی ہے۔ زکریاہ خود ایک اچھا چرواہا بننے کی کوشش کرتا ہے، مگر لوگ اُس کی قدر نہیں کرتے۔ اُس کی خدمت کی قیمت صرف تیس چاندی کے سکے لگائی جاتی ہے، جو ایک زخمی غلام کے برابر تھی۔ یہ بہت تکلیف دہ بات ہے۔ خدا کا نبی، جو اُن کی بھلائی چاہتا تھا، اُسے اتنا حقیر سمجھا گیا۔
یہ باب یہ بھی دکھاتا ہے کہ جب لوگ محبت اور دیکھ بھال کو ٹھکرا دیتے ہیں تو رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، عہد منسوخ ہو جاتے ہیں، اتحاد ختم ہو جاتا ہے۔ یہ خدا کی طرف سے سزا نہیں بلکہ ایک نتیجہ ہے، لوگوں نے خود مہربانی کو ٹھکرایا۔
The Common Thread
یہ باب پڑھتے ہوئے ایک بات یاد آتی ہے جو بہت بعد میں ہوئی۔ ایک گلہ بان کو صرف تیس چاندی کے سکوں جتنی قیمت کا سمجھا گیا، گویا وہ ایک غلام سے زیادہ کچھ نہیں۔ صدیوں بعد، خداوند یسوع مسیح کو بھی اُن کے اپنے ایک ساتھی نے تیس چاندی کے سکوں کے عوض دشمنوں کے حوالے کر دیا۔ یہ کوئی اتفاق نہیں لگتا۔ خداوند یسوع مسیح وہ اچھا چرواہا ہیں جو اپنی بھیڑوں کے لئے اپنی جان دینے کو تیار تھے، پھر بھی لوگوں نے اُن کی اتنی ہی قدر کی جتنی زکریاہ کی ہوئی تھی۔ یہ سوچنا مشکل ہے کہ خدا کا سب سے بڑا تحفہ اتنی سستی قیمت پر بیچا گیا۔ اِس کا جواب آسانی سے نہیں ملتا، مگر یہ ہمیں دکھاتا ہے کہ خدا کی محبت اُس وقت بھی باقی رہتی ہے جب لوگ اُسے ٹھکرا دیتے ہیں۔
For You
کیا تم کبھی ایسا محسوس کرتے ہو کہ تمہاری اچھی نیت کی کوئی قدر نہیں کرتا؟ شاید تم نے کسی دوست کی مدد کی اور اُس نے شکریہ تک نہ کہا۔ زکریاہ کو بھی ایسا ہی محسوس ہوا۔ یہ کہانی ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ ہم مہربانی کرنا چھوڑ دیں کیونکہ لوگ ہماری قدر نہیں کرتے۔ بلکہ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خدا دیکھتا ہے جب ہم ٹھیک کام کرتے ہیں، چاہے باقی سب اُس کی قدر نہ کریں۔ اور یہ بھی سوچنے کی بات ہے، کیا ہم خود کبھی دوسروں کو صرف اپنے فائدے کے لئے استعمال کرتے ہیں؟
Talk About It
اگر تم زکریاہ کی جگہ ہوتے اور لوگ تمہاری مہربانی کو حقیر جانتے، تو تم کیا کرتے؟
زکریاہ نے کہا کہ تیس چاندی کے سکے ایک "شاندار" قیمت تھی، مگر دراصل یہ طنز تھا۔ کیا تم کبھی ایسی بات کہتے ہو جس کا مطلب اُلٹا ہوتا ہے؟
Praying Together
اے خداوند، ہمیں ایسا دل دے جو مہربانی کرنے سے نہ تھکے، چاہے کوئی اُس کی قدر نہ کرے۔ ہمیں یاد دلا کہ تو ہمیشہ دیکھتا ہے جب ہم ٹھیک کام کرتے ہیں۔ شکریہ کہ خداوند یسوع مسیح وہ چرواہا ہیں جنہوں نے ہمیں کبھی نہیں چھوڑا، چاہے لوگوں نے اُن کی قدر نہ کی۔ آمین۔
زکریاہ 11 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
زکریاہ 11 کس بارے میں ہے؟
زکریاہ 11 کیا کہتا ہے؟
زکریاہ 11 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے زکریاہ 11 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
زکریاہ 11 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
کبھی سوچا ہے کہ سب سے سخت سزا آگ یا سیلاب نہیں بلکہ یہ جملہ ہے: ”مَیں ہر ایک کو اُس کے پڑوسی اور بادشاہ کے حوالے کر دوں گا۔“ یعنی خدا پیچھے ہٹ جاتا ہے اور لوگ ایک دوسرے کے رحم و کرم پر رہ جاتے ہیں۔ جس اچھے چرواہے کو ہم ٹھکراتے ہیں، اُس کی جگہ کوئی نرم ہاتھ نہیں آتا۔ آج تُو کس کی آواز سن رہا ہے؟
غور کر کہ یہ گلہ بان کس ریوڑ کے پاس آیا: "ذبح ہونے والی بھیڑبکریوں" کے پاس، اور اُن میں بھی سب سے مظلوم کے پاس۔ وہ طاقتور اور موٹی تازی بھیڑوں کو نہیں چنتا۔ اُس کے ہاتھ میں دو لاٹھیاں ہیں، مہربانی اور اتحاد، نہ کہ کوڑا۔ اگر آج تُو خود کو سب سے کمزور محسوس کرتا ہے، تو جان لے کہ اُس کی نظر سب سے پہلے تجھ پر ہی پڑی ہے۔
اے جونیپر کے درخت، واویلا کر! کیونکہ دیودار کا درخت گر گیا ہے۔“ غور کریں، رونے کا حکم چھوٹے درخت کو ملتا ہے، اور وجہ یہ ہے کہ بڑا درخت گرا۔ جب بلند و بالا دیودار نہ بچ سکا تو باقی کس بھروسے پر کھڑے رہیں؟
یہاں زکریاہ اُن رہنماؤں کی بات کر رہا ہے جو اپنی شان میں مگن تھے۔ آپ کی زندگی میں بھی کوئی نہ کوئی ”دیودار“ ہے، کوئی سہارا، کوئی مضبوطی جس پر آپ ٹیک لگاتے ہیں۔ اگر وہ کل گر جائے تو کیا آپ کے پاس خدا باقی رہے گا؟
جھوٹے گلہ بان کی پہچان یہ ہے کہ وہ لینے آتا ہے، دینے نہیں۔ "بھٹکے ہوؤں کو نہیں ڈھونڈے گا، زخمیوں کو شفا نہیں دے گا۔" وہ موٹی بھیڑ کے پیچھے ہے، ٹوٹی ہوئی کے پیچھے نہیں۔ سوچ، تُو کس آواز کے پیچھے چل رہا ہے؟ اچھا چرواہا وہی ہے جو تیرے زخم پر جھکتا ہے اور تیرے لیے اپنی جان دیتا ہے۔
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3-5 سال) اور نوجوانوں (13 سال اور اس سے اوپر) کے لیے الگ نسخے بھی ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں