۱-یوحنا 1:1
متن
یوحنا اپنی چٹھی کا آغاز کسی سلام یا نام سے نہیں کرتا بلکہ ایک ایسے جملے سے جو سانس روک لینے پر مجبور کرتا ہے: جو کچھ ہم آپ کو سنا رہے ہیں وہ کوئی نیا فلسفہ نہیں، وہ ہستی ہے جو ابتدا سے موجود تھی۔ اور پھر وہ گواہی کے چار درجے گنواتا ہے، جیسے عدالت میں کھڑا کوئی بوڑھا چشم دید گواہ اپنے حواس ایک ایک کر کے پیش کر رہا ہو: "جسے ہم نے اپنے کانوں سے سنا، اپنی آنکھوں سے دیکھا، جس کا مشاہدہ ہم نے کیا اور جسے ہم نے اپنے ہاتھوں سے چھوا۔" آخر میں وہ اس سارے تجربے کو ایک نام دیتا ہے: "وہی زندگی کا کلام ہے۔" ازلی حقیقت اور انسانی انگلیوں کا لمس، ایک ہی جملے میں جوڑ دیے گئے ہیں۔
مرکزی بات
اِس آیت کا اصل زور اُس ماحول میں کھلتا ہے جہاں یہ لکھی گئی۔ پہلی صدی کے آخر میں افسس جیسے شہر کی کلیسیاؤں میں ایسے اُستاد اُٹھ کھڑے ہوئے تھے جو کہتے تھے کہ روح پاک ہے اور مادّہ گندا؛ لہٰذا خدا کا کلام کبھی سچ مچ گوشت پوست میں نہیں آ سکتا، کبھی پسینے میں نہیں بھیگ سکتا، کبھی کسی ماہی گیر کے کھردرے ہاتھوں کے نیچے نہیں آ سکتا۔ یوحنا اُن کے سامنے دلیل نہیں رکھتا، وہ اپنے ہاتھ رکھ دیتا ہے۔ "چھوا" وہ لفظ ہے جو ساری بحث ختم کر دیتا ہے۔ خدا نے ہمیں بچانے کے لیے فاصلہ نہیں رکھا بلکہ فاصلہ مٹا دیا۔ نجات کسی خیال سے نہیں، ایک جسم رکھنے والے شخص سے آئی ہے، اور اسی لیے وہ ہماری اُس زندگی کو چھو سکتی ہے جو خود ہڈی، مٹی اور آنسو سے بنی ہے۔
سلسلۂ کلام
یوحنا کا "ابتدا سے" کہنا اتفاقی نہیں۔ وہ جانتا ہے کہ اُس کے پڑھنے والوں کے کانوں میں پیدائش کی کتاب کا پہلا جملہ بجتا ہے، وہ ہی "ابتدا" جہاں خدا نے بولا اور روشنی ہو گئی۔ کلام سے دنیا بنی؛ اب وہی کلام خود دنیا میں داخل ہوا ہے۔ عہدِ عتیق میں خدا کی آواز خیمے کے پردے کے پیچھے سے آتی تھی، اور جو ہاتھ اُس کے صندوق کو بے سوچے چھو لیتا وہ زندہ نہ بچتا۔ اب یوحنا لکھتا ہے کہ ہم نے چھوا، اور مرے نہیں، بلکہ زندہ ہوئے۔ یہی نجات کے سارے قصے کا رخ ہے: خدا آدمی کے قریب سے قریب تر آتا چلا آیا، جب تک کہ وہ ایک ماں کی گود میں، اور پھر ایک صلیب پر، ہاتھ بھر کے فاصلے پر نہ آ گیا۔
آئینہ
یہ آیت اُس خواہش کو بے نقاب کرتی ہے جو ہم میں سے کئی چھپائے پھرتے ہیں: کہ ایمان صرف ذہن کا معاملہ رہے، ایک خوبصورت خیال جو دفتر کی سیاست، بیمار جسم، بینک کے قرض یا رات کے جھگڑے کو چھوئے بغیر اپنی جگہ محفوظ رہے۔ ہم روحانیت کو صاف ستھری چاہتے ہیں کیونکہ گوشت پوست کی زندگی گندی ہے۔ یوحنا اجازت نہیں دیتا۔ جسے اُس نے چھوا وہ آپ کے کچن، آپ کے علاج کے کمرے، آپ کی تنخواہ کی پرچی میں بھی داخل ہوتا ہے۔ اور دوسری بات: یہ ایمان ایک گواہی کی زنجیر سے آپ تک پہنچا، ایک منہ سے دوسرے کان تک۔ آج ہی اُس شخص کو ایک مختصر پیغام بھیجیں جس سے آپ نے پہلی بار مسیح کے بارے میں سنا تھا، اور اُسے صاف لفظوں میں بتائیں کہ اُس کی سنائی ہوئی بات آپ نے تھام رکھی ہے۔
مشکل سوال
مگر ایک کھٹک باقی رہ جاتی ہے۔ یوحنا کہتا ہے: ہم نے سنا، دیکھا، چھوا۔ اُس نے چھوا؛ میں نے نہیں۔ اُس کے پاس یادداشت تھی، میرے پاس صرف کاغذ ہے۔ کیا میرا ایمان اُس کے ایمان سے کمتر ہے؟ یوحنا اِس فرق کو مٹاتا نہیں، وہ اُسے تسلیم کرتا ہے اور پھر ایک پُل بناتا ہے: "تاکہ آپ بھی ہماری رفاقت میں شریک ہو جائیں۔" یعنی جو چیز اُس کے ہاتھ میں تھی وہ اب رفاقت کی صورت میں آپ تک پہنچتی ہے، نہ کہ لمس کی صورت میں۔ یہ کوئی سستی تسلی نہیں۔ رہ جاتا ہے ایک خلا، ایک ایسی حسرت جو دیانت دار ایمان کے ساتھ چلتی ہے: کاش میں بھی وہاں ہوتا۔ کلیسیا صدیوں سے اُسی حسرت کے ساتھ روٹی توڑتی آئی ہے۔
مرکزی کردار
اِس آیت کا کردار ایک بوڑھا آدمی ہے جو کبھی جھیل کے کنارے جال دھوتا تھا۔ اُس کی زبان یونانی ہے مگر سادہ، جیسے کوئی اپنی مادری زبان میں نہ سوچ رہا ہو۔ وہ فلسفیانہ اصطلاحوں سے نہیں لڑتا، وہ اپنے حواس گنواتا ہے، کیونکہ اُس کے پاس یہی ہے اور یہی کافی ہے۔ اُس کے لہجے میں دو چیزیں ایک ساتھ ہیں: ایک بزرگ کی نرمی اور ایک گواہ کی ضد۔ جن لوگوں نے اُس کی کلیسیا میں پھوٹ ڈالی، اُن کے خلاف وہ گالی نہیں دیتا، وہ صرف اپنی یادداشت کھول کر رکھ دیتا ہے۔ اور اِس یاد کے پیچھے، آیت کے مرکز میں، وہ ہستی کھڑی ہے جسے چھوا جا سکا: خدا، جس نے چھوئے جانے کا خطرہ مول لیا۔
کلامِ مقدّس کی گونج
دو مقامات اِس آیت کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ پہلا یوحنا کی انجیل کا آغاز، جہاں وہی مصنف لکھتا ہے کہ کلام ابتدا میں تھا اور پھر مجسم ہو کر ہمارے درمیان بسا؛ چٹھی اُسی جملے کو دہراتی نہیں بلکہ اُس پر ہاتھ رکھ دیتی ہے۔ دوسرا مقام لوقا کی انجیل کے آخر میں ہے، جب جی اُٹھا ہوا خداوند اپنے خوفزدہ شاگردوں سے کہتا ہے کہ مجھے چھو کر دیکھو، روح کے گوشت اور ہڈیاں نہیں ہوتیں۔ یوحنا وہاں کمرے میں موجود تھا۔ جو لفظ اُس شام اُس کے کانوں میں پڑا، وہی لفظ ساٹھ برس بعد اُس کے قلم سے نکلتا ہے۔ گواہی بوڑھی ہو جاتی ہے، مگر کمزور نہیں پڑتی۔
غور و فکر
آپ کے ایمان کا کون سا حصہ اب تک صرف خیال ہے، اور کون سا حصہ واقعی آپ کے جسم، وقت اور پیسے کو چھوتا ہے؟
جس گواہی کی زنجیر سے یہ پیغام آپ تک پہنچا، اُس میں آپ کے بعد کی کڑی کون ہے، اور آپ نے پچھلی بار اُس سے کب بات کی؟
1 John 1:1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۱-یوحنا 1:1 کا کیا مطلب ہے؟
۱-یوحنا 1:1 کس بارے میں ہے؟
۱-یوحنا 1:1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۱-یوحنا 1:1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۱-یوحنا 1:1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 1 John 1 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اللہ نور ہے اور اُس میں تاریکی ہے ہی نہیں۔“ یوحنا نے یہ کسی کتاب سے نہیں سیکھا تھا، اُس نے یہ یسوع سے سنا اور اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ غور کریں: وہ یہ نہیں کہتا کہ خدا کے پاس نور ہے، بلکہ وہ خود نور ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ اُس کے حضور آپ کا کوئی گوشہ چھپا نہیں رہ سکتا۔ ڈر لگتا ہے؟ لیکن یاد رکھیں، نور چھپانے نہیں بلکہ شفا دینے کے لیے آتا ہے۔
شکر ہے کہ تُو نے ابدی زندگی کو چھپائے نہیں رکھا بلکہ ظاہر کر دیا۔ تیرے گواہوں نے اُسے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ہم تک خبر پہنچائی، اِس لیے آج ہم اندازوں پر نہیں بلکہ ٹھوس گواہی پر بھروسا کرتے ہیں۔ تیرا شکر کہ وہ زندگی جو باپ کے ساتھ تھی، ہم پر بھی ظاہر ہوئی۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو کوئی دُور کا خیال نہیں بلکہ وہ زندگی کا کلام ہے جسے شاگردوں نے سنا، اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے ہاتھوں سے چھوا۔ شکریہ کہ اُن کی گواہی ہم تک پہنچی اور آج میرا ایمان ٹھوس سچائی پر کھڑا ہے۔
اگر ہم کہیں کہ ہم نے گناہ نہیں کیا تو ہم اُسے جھوٹا ٹھہراتے ہیں اور اُس کا کلام ہم میں نہیں ہے۔“
غور کریں: اپنے گناہ سے انکار کرتے وقت ہم خود کو نہیں، خدا کو جھوٹا کہہ رہے ہوتے ہیں۔ صفائیاں پیش کرنا ہمیں پاک نہیں کرتا، صرف ہمیں اُس کی روشنی سے دُور لے جاتا ہے۔ آج کس بات کو آپ ”وہ تو کوئی بڑی بات نہیں تھی“ کہہ کر ٹال رہے ہیں؟ اُسے نام لے کر اُس کے سامنے رکھ دیں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں