۱-یوحنا 1
متن
یوحنا اپنی چٹھی کسی سلام یا نام کے بغیر شروع کرتے ہیں، جیسے کوئی بوڑھا آدمی سانس روکے ہوئے کمرے میں داخل ہو کر فوراً بات پر آ جائے: جو ابتدا سے تھا، جسے ہم نے سنا، دیکھا، اور اپنے ہاتھوں سے چھوا، وہی زندگی کا کلام ہے، اور ہم اُسی کی منادی آپ سے کرتے ہیں تاکہ آپ ہماری رفاقت میں شریک ہوں۔ پھر وہ اُس پیغام کا نچوڑ رکھتے ہیں جو اُنہوں نے مسیح سے سنا: "اللہ نور ہے اور اُس میں تاریکی ہے ہی نہیں۔" اِس کے بعد تین دعوے جھوٹے ٹھہرائے جاتے ہیں: تاریکی میں چلتے ہوئے رفاقت کا دعویٰ، گناہ سے پاک ہونے کا دعویٰ، اور یہ دعویٰ کہ ہم نے گناہ ہی نہیں کیا۔
مرکزی سچائی
پہلی صدی کی آخری دہائیوں میں اِفسس جیسے شہروں میں یہ خیال فیشن بن چکا تھا کہ روحانی چیز پاک ہے اور جسم گندا؛ لہٰذا خدا کا کلام کسی گوشت پوست کے آدمی میں کیسے سما سکتا ہے؟ اور اگر روح کو بلندی مل جائے تو جسم کے گناہوں کی گنتی بےمعنی ہے۔ یوحنا اِن دونوں باتوں کے خلاف ایک ہی وار کرتے ہیں۔ خدا کے بارے میں اُن کا اعلان یہ ہے کہ وہ نور ہے، یعنی وہ خود کو کھولتا ہے اور ساتھ ہی سب کچھ کھول دیتا ہے؛ اُس کی موجودگی میں کوئی سایہ باقی نہیں رہتا جہاں ہم اپنی صفائی کا اداکاری والا چہرہ سنبھال کر رکھ سکیں۔ اور انسان کے بارے میں اُن کا اعلان یہ ہے کہ نجات معافی سے شروع ہوتی ہے، نہ کہ اِس ڈھونگ سے کہ معافی کی ضرورت ہی نہیں۔
بڑی کہانی کا دھاگا
"جو ابتدا سے تھا" کے الفاظ سُن کر پہلے قاری کا ذہن پیدائش کی پہلی سطروں کی طرف جاتا: بےترتیبی، اندھیرا، اور خدا کی آواز جو روشنی کو بلاتی ہے۔ یوحنا کہہ رہے ہیں کہ وہی آواز، وہی کلام، اب سنائی دینے، دیکھے جانے اور چھوئے جانے کے دائرے میں آ گئی ہے۔ خدا کی پوری کہانی اِسی رُخ پر چلتی ہے: ایک خدا جو دور رہنا پسند نہیں کرتا، جو خیمے میں بستا ہے، جو قربانی کے خون سے پاکیزگی دیتا ہے۔ اِسی لیے آیت 7 میں نور میں چلنے کی بات کے فوراً بعد خون کا ذکر آتا ہے۔ ہیکل کے صحن میں لہو چھڑکنے والے کاہن کا کام مسیح میں اپنے انجام کو پہنچا: "اُس کے فرزند عیسیٰ کا خون ہمیں تمام گناہوں سے پاک صاف کر دیتا ہے۔"
آئینہ
ہم اُن لوگوں سے زیادہ دور نہیں جو تاریکی میں چلتے ہوئے رفاقت کا دعویٰ کرتے تھے۔ آپ اتوار کو گیت گاتے ہیں اور پیر کو دفتر میں وہ ای میل بھیجتے ہیں جس میں سچائی کو ذرا سا موڑ دیا گیا ہے۔ آپ گھر میں دعا کرواتے ہیں اور اُسی گھر میں کسی کے ساتھ مہینوں سے سرد جنگ چلی آ رہی ہے۔ آپ فون کی سکرین پر رات کو جو کچھ دیکھتے ہیں، اُس کا ذکر کسی سے نہیں کرتے۔ یوحنا اِسے کمزوری نہیں، جھوٹ کہتے ہیں: "ہم جھوٹ بول رہے اور سچائی کے مطابق زندگی نہیں گزار رہے۔" مگر آیت 9 دروازہ کھلا رکھتی ہے، اور شرط صرف اقرار ہے۔ آج ہی، کاغذ کے ایک ٹکڑے پر وہ ایک گناہ لکھیں جسے آپ نے آج تک کسی کے سامنے نام لے کر نہیں مانا، اُسے بلند آواز میں خدا کے سامنے پڑھیں، پھر کاغذ پھاڑ دیں۔
مرکزی کردار
یوحنا کا خدا اُس تصویر سے بہت مختلف ہے جو اُن کے زمانے کے مذہبی رجحانات پیش کرتے تھے: نہ وہ دور بیٹھا ہوا خالص نور ہے جسے مادی دنیا سے گھن آتی ہے، نہ وہ نرم دل بزرگ ہے جو ہر بات پر آنکھ بند کر لے۔ آیت 9 میں اُس کی معافی کی بنیاد اُس کا مزاج نہیں بلکہ اُس کا کردار ہے: "وہ وفادار اور راست ثابت ہو گا۔" یعنی معاف کرنا اُس کی طرف سے اپنے وعدے کی پاسداری ہے، اور صلیب کے بعد یہ اُس کے انصاف کے خلاف نہیں بلکہ اُس کے عین مطابق ہے۔ ایسا خدا آپ کو اپنے گناہ چھپانے کی ضرورت سے آزاد کر دیتا ہے، کیونکہ اُس کے سامنے سچ بولنا خطرہ نہیں، پناہ ہے۔
دیگر کلام کی گونج
جی اُٹھنے کی شام کو خداوند یسوع نے خوف زدہ شاگردوں سے کہا تھا کہ آ کر مجھے چھو لو، کیونکہ روح کے ہڈی اور گوشت نہیں ہوتے۔ یوحنا اُس کمرے میں موجود تھے، اور دہائیوں بعد وہ ٹھیک وہی لفظ دہراتے ہیں: "جسے ہم نے اپنے ہاتھوں سے چھوا۔" یہ محض یاد نہیں، دلیل ہے۔ دوسری گونج داؤد کے اُس زبور سے آتی ہے جس میں وہ اپنی خاموشی کو ہڈیوں کے گلنے سے تشبیہ دیتے ہیں، اور اقرار کے لمحے کو رہائی کہتے ہیں (زبور 32)۔ یوحنا کوئی نئی تعلیم نہیں دے رہے؛ وہ اُس پرانے راستے کو مسیح کے خون کی روشنی میں دکھا رہے ہیں۔
ایک تفصیل
آیت 4 کا فقرہ عجیب ہے: "تاکہ ہماری خوشی پوری ہو جائے۔" ہم توقع کرتے کہ لکھنے والا کہے، تاکہ آپ کی خوشی پوری ہو۔ مگر یوحنا اپنی خوشی کو اُن لوگوں سے جوڑ دیتے ہیں جنہیں وہ لکھ رہے ہیں۔ ایسی جماعت میں جہاں کچھ لوگ نکل چکے تھے اور رفاقت پھٹ رہی تھی، یہ چھوٹا سا جملہ ایک بوڑھے گواہ کا دل کھول دیتا ہے: میری خوشی ادھوری رہے گی جب تک آپ اُسی رفاقت میں شامل نہ ہوں۔ ایمان یہاں انفرادی کامیابی نہیں؛ نور میں چلنے کا پہلا ثبوت یہی ہے کہ "ہم ایک دوسرے کے ساتھ رفاقت رکھتے ہیں۔"
غور و فکر
کون سا ایسا گوشہ میری زندگی میں ہے جسے میں روشنی میں لانے سے کتراتا ہوں، اور میں کس بات سے ڈرتا ہوں کہ اگر یہ سامنے آ گیا تو کیا ہو گا؟
کیا میری خوشی دوسروں کی رفاقت سے جڑی ہوئی ہے، جیسے یوحنا کی تھی، یا میں نے ایمان کو ایک نجی معاملہ بنا لیا ہے؟
1 John 1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۱-یوحنا 1 کا کیا مطلب ہے؟
۱-یوحنا 1 کس بارے میں ہے؟
۱-یوحنا 1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۱-یوحنا 1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۱-یوحنا 1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 1 John 1 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو کوئی دُور کا خیال نہیں بلکہ وہ زندگی کا کلام ہے جسے شاگردوں نے سنا، اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے ہاتھوں سے چھوا۔ شکریہ کہ اُن کی گواہی ہم تک پہنچی اور آج میرا ایمان ٹھوس سچائی پر کھڑا ہے۔
اگر ہم کہیں کہ ہم نے گناہ نہیں کیا تو ہم اُسے جھوٹا ٹھہراتے ہیں اور اُس کا کلام ہم میں نہیں ہے۔“
غور کریں: اپنے گناہ سے انکار کرتے وقت ہم خود کو نہیں، خدا کو جھوٹا کہہ رہے ہوتے ہیں۔ صفائیاں پیش کرنا ہمیں پاک نہیں کرتا، صرف ہمیں اُس کی روشنی سے دُور لے جاتا ہے۔ آج کس بات کو آپ ”وہ تو کوئی بڑی بات نہیں تھی“ کہہ کر ٹال رہے ہیں؟ اُسے نام لے کر اُس کے سامنے رکھ دیں۔
غور کریں کہ یوحنا یہ نہیں کہتا کہ خدا "مہربان" ہے، بلکہ "وفادار اور راست ہے۔" یعنی معافی اُس کے موڈ پر نہیں، اُس کے کردار پر ٹکی ہے۔ آپ کا اقرار اتنا خوبصورت نہیں ہونا چاہئے کہ اُسے قائل کرے۔ بس سچ بولیں۔ جس گناہ کو آپ برسوں سے چھپا رہے ہیں، اُسے نام دے کر اُس کے سامنے رکھ دیں۔ وہ صرف معاف نہیں کرتا، وہ "ہر ناراستی سے پاک صاف" بھی کر دیتا ہے۔
اے خدا، تُو نور ہے اور مجھے بھی اُسی روشنی میں چلنا سکھا۔ جو کچھ میں چھپاتا رہا ہوں، اُسے تیرے سامنے کھول دیتا ہوں۔ یسوع کے خون سے مجھے صاف کر، اور میرے دل کو ایسا بنا کہ میں دوسروں کے ساتھ سچائی اور محبت میں جی سکوں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
