۱-پطرس 4
متن
پطرس اپنے قارئین سے کہتے ہیں کہ مسیح نے جسم میں دُکھ اُٹھایا، اِس لئے وہ بھی اُسی سوچ سے مسلح ہو جائیں اور اپنی باقی زندگی خدا کی مرضی پوری کرنے میں گزاریں، نہ کہ اُس پرانے طرزِ زندگی میں جس سے اُن کے ہم وطن اب بھی چمٹے ہوئے ہیں۔ چونکہ سب چیزوں کا خاتمہ قریب ہے، اِس لئے وہ دعا میں ہوش مند رہیں، ایک دوسرے سے لگاتار محبت رکھیں، بڑبڑائے بغیر مہمان نوازی کریں اور اپنی نعمتوں سے ایک دوسرے کی خدمت کریں۔ اور جب ایذا رسانی کی آگ آئے تو تعجب نہ کریں بلکہ اُسے مسیح کے دُکھوں میں شراکت سمجھیں اور اپنی جان اُس وفادار خالق کے حوالے کر دیں۔
اصل بات
تیسری آیت کی فہرست کو محض اخلاقی وعظ نہ سمجھیں۔ ”عیاشی، شہوت پرستی، نشہ بازی، شراب نوشی، رنگ رلیوں، ناچ رنگ اور گھنونی بُت پرستی“ اُس زمانے کے ایشیائے کوچک میں الگ الگ گناہ نہیں تھے بلکہ ایک ہی سماجی نظام کے پہلو تھے: پیشہ ورانہ انجمن کی ضیافت، جس میں دیوی کے مندر سے گوشت آتا، شراب بہتی اور رات دیر تک جلوس نکلتے۔ پطرس جو کہہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ مسیح کا صلیبی دُکھ ایک نئی وفاداری پیدا کرتا ہے جو پرانی وفاداریوں کو کاٹ دیتی ہے۔ نجات یہاں محض اندرونی تسلی نہیں، بلکہ ایک نئے مالک کے ماتحت زندگی ہے، اور اُس نئی وفاداری کی قیمت ہمیشہ سماجی ہوتی ہے۔
سنہری تار
آیت 17 میں پطرس ایک پرانی گونج سنا رہے ہیں: ”پہلے اُس کے گھر والوں کی عدالت کی جائے گی۔“ اسرائیل کے نبیوں نے یہی کہا تھا کہ خدا کی عدالت غیرقوموں سے نہیں بلکہ اُس کے ہیکل اور اپنی قوم سے شروع ہوتی ہے۔ پطرس اِس نمونے کو بکھری ہوئی، بےعزت، چھوٹی چھوٹی جماعتوں پر لاگو کرتے ہیں: تمہاری تکلیف بےمقصد افراتفری نہیں، یہ خدا کے گھر کی صفائی ہے جو مسیح میں شروع ہو چکی ہے۔ اور یہ صفائی سب سے پہلے مسیح پر آئی، جس نے جسمانی طور پر دُکھ اُٹھایا۔ جو اُس کے دُکھوں میں شریک ہوتے ہیں وہ اُس کے جلال میں بھی شریک ہوں گے؛ یہی وہ تار ہے جو صلیب سے آخری دن تک تنی ہوئی ہے۔
آئینہ
چوتھی آیت کا لفظ ”تعجب“ آج بھی کاٹتا ہے۔ آپ کے پرانے دوست حیران ہیں کہ آپ کیوں شامل نہیں ہوتے؛ دفتر کی وہ محفل، وہ سودا جس میں سب تھوڑا سا جھوٹ بولتے ہیں، خاندان کی وہ رسم جس پر سوال اُٹھانا بےادبی سمجھی جاتی ہے۔ آپ کے پیچھے ہٹنے کو وہ تقویٰ نہیں بلکہ حقارت سمجھتے ہیں، اور یہی سب سے زیادہ چبھتا ہے: آپ کو برا نہیں، بلکہ عجیب اور مغرور سمجھا جاتا ہے۔ پطرس اِس تکلیف کو نرم نہیں کرتے۔ وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ فیصلہ اُن کے ہاتھ میں نہیں، اور کہ آپ کی خاموش موجودگی خود ایک گواہی ہے، اگر آپ ”نیک کام کرنے سے باز نہ آئیں“۔
ایک تفصیل
آیت 10 میں ایک لفظ چھپا ہے: یونانی میں ”اویکونوموس“، یعنی گھر کا منتظم۔ رومی دنیا میں یہ عہدہ عام طور پر ایک غلام کا ہوتا تھا، ایک ایسا شخص جس کی اپنی کوئی ملکیت نہ تھی مگر جس کے ہاتھ میں مالک کی چابیاں، اناج کے بورے اور حساب کی کتابیں تھیں۔ پطرس یہی تصویر جماعت پر لگاتے ہیں: ”فضل کا یہ انتظام وفاداری سے چلاتے ہوئے ایک دوسرے کی خدمت کریں۔“ آپ کی نعمت آپ کی جائیداد نہیں، آپ کے سپرد کیا گیا مال ہے۔ اور غور کریں کہ جن جماعتوں میں حقیقی غلام بیٹھے تھے، اُن کے کان میں یہ بات کیسی لگی ہوگی: تم دنیا کی نظر میں کچھ نہیں، مگر خدا کے گھر میں تمہارے ہاتھ میں چابیاں ہیں۔
ایک سوال
چھٹی آیت آسانی سے حل نہیں ہوتی: خوش خبری اُنہیں بھی سنائی گئی ”جو اب مُردہ ہیں“۔ کچھ سمجھتے ہیں کہ یہ وہ ایمان دار ہیں جو انجیل سننے کے بعد مر گئے اور دنیا نے اُن کے جسم پر فیصلہ سنا دیا؛ کچھ اِسے تیسرے باب کے اُس اشارے سے جوڑتے ہیں کہ مسیح نے قید روحوں میں منادی کی۔ میں یقین سے فیصلہ نہیں کر سکتا، اور پطرس نے ہمیں فیصلہ کرنے کے لئے کافی نہیں دیا۔ جو صاف ہے وہ یہ ہے: موت کے بعد بھی خدا کی عدالت اور خدا کا فضل ایک دوسرے سے جدا نہیں، اور ایمان دار کی موت دشمن کی جیت نہیں۔ باقی حصہ اندھیرے میں ہے، اور اُس اندھیرے کو زبردستی روشن کرنا ایمانداری نہیں۔
پہلے سننے والے
تصور کریں: بِتُھنیہ کے کسی شہر کا ایک تنگ مکان، اوپر کی منزل، بیس پچیس لوگ، اِن میں کچھ غلام، کچھ کاریگر، دو تین بیوہ عورتیں۔ باہر گلی میں دیوی کے جلوس کے ڈھول بج رہے ہیں۔ اُن کے پڑوسی اُنہیں دیوتاؤں کا منکر اور شہر کی خیر کا دشمن کہتے ہیں؛ اِس دور میں سرائیں محفوظ نہیں تھیں، اِس لئے سفر کرنے والے ایمان دار اِنہی گھروں میں ٹھہرتے، اور اناج مہنگا تھا۔ اِسی لئے پطرس کہتے ہیں: ”بڑبڑائے بغیر ایک دوسرے کی مہمان نوازی کریں۔“ یہ رومانی خیال نہیں، ایک مہنگا حکم ہے۔ اور اِسی تنگی میں وہ سنتے ہیں کہ اُن کی بےعزتی اصل میں برکت ہے، کیونکہ ”اللہ کا جلالی روح آپ پر ٹھہرا ہوا ہے“۔
غور و فکر کے سوالات
کون سی پرانی وفاداری آپ کی زندگی میں اب بھی چابی رکھتی ہے، اور اُس سے ہٹنے پر لوگ آپ کو کیا کہیں گے؟
خدا نے آپ کے ہاتھ میں جو نعمت سونپی ہے، آپ اُسے ملکیت کی طرح برتتے ہیں یا منتظم کی طرح؟
1 Peter 4 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۱-پطرس 4 کا کیا مطلب ہے؟
۱-پطرس 4 کس بارے میں ہے؟
۱-پطرس 4 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۱-پطرس 4 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۱-پطرس 4 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 1 Peter 4 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو نے مجھے ایسے لوگ دیئے جنہوں نے بغیر بڑبڑائے اپنے دروازے اور دسترخوان میرے لیے کھولے۔ تیری روٹی، تیری چھت، تیری محبت۔ شکر ہے کہ تُو نے مجھے بھی کچھ دیا ہے جو میں دوسروں کے ساتھ بانٹ سکوں۔
اے باپ، جب پرانے ساتھی میری تبدیلی پر حیران ہوتے ہیں اور طعنے دیتے ہیں، تو دل بجھ جاتا ہے۔ مجھے ہمت دے کہ میں شرمندہ نہ ہوں، بلکہ خوشی سے تیری راہ پر چلتا رہوں۔ تیری منظوری میرے لیے کافی ہو، اور میرا دل اُن کے لیے نرم رہے۔
خداوند، شکر ہے کہ مسیح نے جسمانی طور پر دُکھ اُٹھایا اور یوں مجھے گناہ کی غلامی سے آزادی ملی۔ شکر کہ تُو مجھے وہی سوچ عطا کرتا ہے، تاکہ جب تکلیف آئے تو میں پیچھے نہ ہٹوں بلکہ تیری مرضی پر قائم رہوں۔ تیری قربانی میری اُمید ہے۔
پطرس دُکھ اُٹھانے والے ایمان داروں کو لکھتا ہے: "اگر کوئی خدمت کرے تو اُس طاقت سے جو اللہ دیتا ہے۔" یعنی جو کچھ تُو دوسروں کے لیے کرتا ہے، وہ تیرے اپنے ذخیرے سے نہیں نکلتا۔ شاید تُو اِسی لیے تھک چکا ہے کہ اپنی طاقت سے خدمت کر رہا ہے۔ اور اِس کا انجام بھی سادہ ہے: تعریف تیری نہیں، اُس کی ہو گی۔ کیا تُو اِس پر راضی ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
