۱-تیمُتھیُس 2
متن
پولس رسول تیمُتھیُس کو ہدایت دیتا ہے کہ جماعت میں سب سے پہلے دعا کی روح قائم ہو، بادشاہوں اور حکمرانوں کے لئے بھی، تاکہ ایمانداروں کی زندگی پُرسکون ہو۔ پھر وہ عبادت کے وقت مردوں کے رویّے اور خواتین کے لباس، سیکھنے کے انداز اور کردار کے بارے میں سخت اور آج کے کان کو کھٹکنے والی ہدایات دیتا ہے، جن کی بنیاد وہ پیدائش کی کہانی سے لیتا ہے۔
مرکزی بات
اِس باب کا دل آیت 5 اور 6 میں دھڑکتا ہے: "ایک ہی خدا ہے اور اللہ اور انسان کے بیچ میں ایک ہی درمیانی ہے یعنی مسیح عیسیٰ۔" یہ کوئی خشک عقیدہ نہیں، بلکہ اُس دُنیا میں ایک بم دھماکہ تھا جہاں ہر شہر کا اپنا دیوتا، ہر پیشے کا اپنا سرپرست اور ہر بادشاہ کا اپنا آسمانی رتبہ تھا۔ پولس کہتا ہے: صرف ایک۔ اور وہ ایک "سب کے لئے" اپنے آپ کو فدیہ کر چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دعا "سب" کے لئے ہو، حتیٰ کہ اُن بادشاہوں کے لئے بھی جن کے ہاتھ مسیحیوں کے خون سے رنگے تھے۔ نجات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ جماعت کی دعا بھی تنگ نہیں رہ سکتی۔
مشترکہ دھاگا
"درمیانی" کا لفظ پرانے عہدنامے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ موسیٰ کوہِ سینا پر خدا اور قوم کے بیچ کھڑا ہوا، کاہن قربان گاہ پر خون لے کر داخل ہوتا رہا، مگر یہ سب اشارے تھے، اصل نہیں۔ پولس نہایت احتیاط سے کہتا ہے: مسیح "وہ انسان" ہے جو درمیانی ہوا۔ اُس کی انسانیت اہم ہے، کیونکہ خدا اور آدمی کے بیچ کوئی فرشتہ، کوئی سنت، کوئی امام پُل نہیں بن سکتا، سوائے اُس کے جس نے دونوں کناروں کو اپنے جسم میں جوڑ دیا۔ صلیب پر دیا گیا فدیہ اُس تمام قربانی کے نظام کی تکمیل ہے جو پیدائش سے ملاکی تک بہتا آیا۔
آئینہ
اِس باب کا آئینہ سب سے پہلے ہماری دعا کی فہرست پر پڑتا ہے۔ ہم کس کے لئے دعا کرتے ہیں؟ اپنے بچوں، اپنی نوکری، اپنی بیماری کے لئے۔ اور اُس سیاست دان کے لئے جس سے ہمیں نفرت ہے؟ اُس پڑوسی کے لئے جو ہمیں تنگ کرتا ہے؟ پولس کہتا ہے کہ جماعت کی روحانی صحت کا پہلا پیمانہ یہ ہے کہ ہم اپنے دشمنوں کے لئے بھی خدا کے سامنے ہاتھ اُٹھائیں۔ اور آیت 8 اُس روح کو ننگا کرتی ہے جسے ہم مذہبی لبادے میں چھپاتے ہیں: "غصے یا بحث مباحثہ کی حالت میں ایسا نہ کریں۔" کتنی بار ہم دعا کے کمرے میں بھی جھگڑا لے جاتے ہیں، بس زبان بدل کر۔
پہلے سامعین کا نقشہ
اِفسس کا تصور کریں: آرتمس کا عظیم مندر شہر کا مرکز، جہاں سونے چاندی سے لدی خواتین کاہنائیں دیوی کی خدمت کرتی تھیں، جہاں گُندھے ہوئے بالوں اور موتیوں کی نمائش دولت اور مذہبی رتبہ دونوں کا اعلان تھی۔ نئی مسیحی جماعت اُسی شہر میں گھروں میں جمع ہوتی۔ کچھ عورتیں امیر گھرانوں سے آئیں، شاید اپنی پرانی مذہبی عادات ساتھ لائیں: بھڑکیلا لباس، شاگرد اکٹھے کرنا، اپنی حیثیت جتانا۔ کچھ نے شاید یہ سکھایا کہ حوا پہلے بنی، یا کہ روحانی علم مردوں پر برتری دیتا ہے، جیسا کہ بعد کی گنوسی تحریکوں میں ہوا۔ پولس کی سختی خلا میں نہیں لکھی گئی، وہ ایک مخصوص انتشار کا جواب ہے۔ پہلے سامعین کو یہ ہدایات آزاد کرنے والی محسوس ہوئیں: تمہاری قدر تمہارے زیور میں نہیں، نیک کاموں میں ہے۔
ایک تفصیل
آیت 8: "مُقدّس ہاتھ اُٹھا کر دعا کریں۔" یہ صرف جسمانی حرکت نہیں۔ قدیم دُنیا میں ہاتھ اُٹھانا کھلے پن کی علامت تھا، مانگنے والے کی حالت، چھپانے کو کچھ نہیں۔ مگر پولس ایک شرط لگاتا ہے: وہ ہاتھ "مُقدّس" ہوں۔ یعنی وہ ہاتھ جو دن بھر اپنے بھائی کی گردن پکڑنے کو تیار رہے، شام کو دعا میں اُٹھائے نہیں جا سکتے۔ عبادت اور اخلاقیات یہاں ایک ہی جسم کے دو اعضا ہیں۔ یہ اُس دعا کے خلاف تنبیہ ہے جو صرف رسم ہے، جس میں دل اور ہاتھ الگ سمتوں میں چل رہے ہیں۔
بین المتن
جب پولس کہتا ہے کہ خدا "چاہتا ہے کہ تمام انسان نجات پا کر سچائی کو جان لیں،" تو یہ حزقی ایل 18 کی گونج ہے، جہاں خداوند فرماتا ہے کہ وہ گنہگار کی موت میں خوش نہیں ہوتا۔ اور آیت 15 کا مشکل جملہ "خواتین بچے جنم دینے سے نجات پائیں گی" پیدائش 3:15 سے جڑا ہے، جہاں عورت کی نسل سے سانپ کا سر کچلنے والا آنا تھا۔ پولس شاید یہی کہہ رہا ہے: حوا کے ذریعے گناہ آیا، مگر اُسی عورت کی نسل کے ذریعے، آخرکار، مسیح آیا۔ ما
1 Timothy 2 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۱-تیمُتھیُس 2 کا کیا مطلب ہے؟
۱-تیمُتھیُس 2 کس بارے میں ہے؟
۱-تیمُتھیُس 2 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۱-تیمُتھیُس 2 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۱-تیمُتھیُس 2 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 1 Timothy 2 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
پولس یہ بات اُس موقع پر لکھتا ہے جب وہ ایمان داروں کو بادشاہوں اور حکمرانوں کے لئے دعا کرنے کو کہہ رہا ہے، اُنہی حکمرانوں کے لئے جو کلیسیا کو ستا رہے تھے۔ اور دلیل یہ ہے: "جس نے اپنے آپ کو سب کے لئے فدیہ میں دے دیا۔" سب کے لئے۔ سوچ، کیا کوئی ایسا نام ہے جسے تُو اِس "سب" سے باہر رکھنا چاہتا ہے؟ مسیح نے اُس کے لئے بھی قیمت ادا کی۔
پولس کا زور کپڑوں پر نہیں، دلوں پر ہے۔ افسس کی جماعت میں سونا اور مہنگا لباس یہ اعلان کرتا تھا کہ میں تم سے بڑی ہوں۔ اِسی لیے وہ لکھتا ہے، ”خواتین مناسب لباس پہن کر شرم و حیا اور پرہیزگاری کا اظہار کریں۔“ اگلی آیت میں وہ اصل زینت بتاتا ہے، نیک اعمال۔ سوچ کر دیکھ، عبادت میں آتے ہوئے تُو کیا دکھانا چاہتی ہے؟ اپنی حیثیت، یا مسیح؟
پولس نے یہ اُس وقت لکھا جب رومی بادشاہ ایمان داروں کا دشمن تھا۔ پھر بھی وہ کہتا ہے: "بادشاہوں اور تمام حکمرانوں کے لئے بھی، تاکہ ہم اطمینان اور سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔" دعا اُن کے خلاف نہیں، اُن کے لئے۔ سوچ کر دیکھ، جس حاکم سے تُو شکایت کرتا ہے، کیا کبھی تُو نے اُس کا نام دعا میں لیا ہے؟
اے خدا، تُو ہمارا نجات دہندہ ہے اور تیرا دل سب لوگوں کے لیے کھلا ہے۔ مجھے سکھا کہ میں اُن کے لیے بھی دعا کروں جو مجھ سے مختلف سوچتے ہیں، اور جو مجھے پسند نہیں۔ میرا دل تنگ ہے، تُو اِسے کشادہ کر دے تاکہ جو تجھے اچھا لگتا ہے وہی مجھ سے ہو۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
